• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بے وطن شامی مائیں

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,822
پوائنٹ
1,069
بے وطن شامی مائیں


بشریٰ امیر

آہ! یہ شامی بچے اور عورتیں.... بے وطن اور بے سروسامان، بے آسرا اور بے گھر خاندان، آہ! عرصہ دراز سے شام میں ہونے والی خانہ جنگی نے بمباری سے تباہ شدہ گھروں کے شامی بچوں اور عورتوں کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر دھکے کھانے پر مجبور کر دیا۔ کچھ مجبور و مظلوم خاندان یورپ کے لگائے کیمپوں میں بے کسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنی انتخابی کے دوران میں امریکی منتخب صدر ٹرمپ نے تارکین وطن کے خلاف مہم چلائی جس کے بعد شامی پناہ گزینوں کے پاس سوائے یورپ کے اور کوئی امید نہیں بچی ہے۔ ان بے وطنوں کی کہانیاں دکھوں سے بھری پڑی ہیں۔ پچاس لاکھ شامی بے وطن ہو گئے ہیں۔ شام کے علاقے ادلب کا ثائر اور اس کی بیوی سواد عیسیٰ کا ایک خوشحال گھرانہ تھا۔ ان کا زیتون کا کاروبار تھا۔ ایک آسائش کیمپ اور دو کاریں تھیں۔ ان کے پاس دو بچے تھے۔ اعلیٰ ڈاکٹر کی زیرنگرانی ان کے بچے پیدا ہوئے۔ اب بھی سواد تیسرے بچے کو جنم دینے والی تھی، شام کی جنگی کیفیت میں انہیں تحفظ حاصل کرنے کے لئے ہجرت کرنا پڑی۔ انہوں نے یونان کے ایک مہاجر کیمپ میں پناہ لی۔ اسی کشمکش میں اس کے نو ماہ مکمل ہو گئے۔ بچے کی پیدائش کا وقت قریب آ گیا۔ وہ ایسے مہاجر کیمپ میں موجود تھے جہاں ہر طرح کی سہولتوں کا فقدان تھا۔ وہ یونان کے جنرل ہسپتال میں معائنہ کروانے گئی تو الٹراساؤنڈ کے ذریعہ پتہ چلا کہ اسے کئی قسم کی پیچیدگیاں ہیں، 100 فیصد خطرات ہیں۔ خیر اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی۔ ماں اور بچی کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔ چار گھنٹے تک وہ آپریشن تھیٹر میں پڑی رہی۔ اسی دوران ثائر پریشانی کے عالم میں شامی صدر بشار الاسد کو کوستا رہا، ملامت کرتا رہا کہ وہی شام کی اس بدترین صورتحال کا ذمہ دار ہے۔ وہ مہاجرین کے لئے کیے گئے انتظام سے بھی ناخوش تھا۔ وہ ہر اس چیز کو برا بھلا کہہ رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ ایک بے وطن کی حیثیت سے ہسپتال میں اپنی بیوی کو زندگی اور موت کی کشمکش میں دیکھ رہا تھا۔ وہ فریادیں کر رہا تھا کہ میں پہلے ہی مہاجر کی زندگی گزارتے ٹوٹ چکا ہوں، مجھے مزید دکھی اور مایوس نہ کرنا۔ شام کا ایک کامیاب کاروباری شخص اور اس کا خاندان یونان کے ایک مہاجر کیمپ میں غیروں کے رحم و کرم پر پڑا تھا اس غیرملک میں کوئی ان کی زبان نہیں سمجھتا تھا اور وہ ان کی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے۔ اب وہ ایک بے وطن بچی کا باپ بن چکا تھا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے تینوں بچے کس طرح بڑے ہوں گے۔ ان کی زبان کیا ہو گی۔ وہ افسردہ کیفیت میں اپنی گود میں نئی پیدا ہونے والی بچی کو اٹھائے اس کے ننھے وجود کو اپنے ساتھ چمٹائے انتہائی مضطرب تھا کہ پتہ نہیں یہ اپنی ماں کو زندہ دیکھ بھی پائے گی کہ نہیں۔ وہ اپنی بیوی سواد کے لیے بھی بے حد پریشان تھا۔

انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اسی طرح ہزاروں شامی گھرانے بے وطن اور بے گھر ہیں اور سواد کی طرح رواں برس یونان میں ایک ہزار سے زائد مہاجر عورتوں نے بچوں کو جنم دیا۔ ان بے وطن ماؤں نے اپنے بچوں کو خیموں میں جنم دیا۔ گفٹ آئے ہوئے کمبلوں کو ادھیڑ ادھیڑ کر ان سے اپنے نومولود بچوں کے کپڑے سیئے اور ان کے تن ڈھانپے۔ اب یہ ننھے ان کیمپوں میں اپنی اوائل کمزور زندگی کا وقت گزاریں گے۔ اب یہ ننھے وجود حالات کے تھپیڑوں میں پلیں گے۔ اللہ ان کا روزی رساں ہے۔ یہ بے وطن مائیں یونان کے خیموں میں نومولود جنتی ہیں۔ جہاں ان کے لئے مسائل ہی مسائل اور مشکلات ہی مشکلات ہیں، وہ ان وقتوں کو یاد کر کے روتی ہیں کہ جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوتا تو گھر میں کتنی خوشیاں ہوتیں اور ساتھ ہی ایک بکرا ذبح ہوتا۔ شامی روایت کے مطابق نومولود کے کپڑے نانی کے گھر سے آتے۔ اب کیمپ میں مقیم نور کی دکھی حالت کو ہی دیکھ لیجئے کہ وہ ہسپتال سے بیٹی کو لے کر خیمے میں لوٹ رہی ہے۔ وہاں جا کر خیمے میں مقیم وہ دوسری عورتوں کو چائے پر بلائے گی۔ شام کی روایت کے مطابق تو تین دن کی بچی کو کان چھدوا کر سونے کے ٹاپس ڈال دیئے جاتے ہیں۔ نور دکھی ہے کہ اس کے پاس سونے کے لیے پیسے نہیں، اگر کسی طرح سے اس کے پاس پیسے آ بھی جائیں تو ہسپتال میں اس کے کان چھدوانے کی اجازت ہی نہیں ہو گی۔

اسی طرح الہام کا بیٹا ہوا اور وہ اس پریشانی میں ہے کہ اس کے ختنے کروانے کے لئے وہ اسے کہاں لے کر جائے، بچے کو مسلمان بنانے کے لئے ختنہ فرض بھی ہے، لیکن یونان کے عوامی صحت کے نظام میں ایسا کوئی بندوبست نہیں۔ پرائیویٹ کلینک میں 1700 ڈالر فیس ہے، جس کی ادائیگی الہام کے لئے مشکل ترین ہے، اس لئے وہ بچے کی اس فرض کی ادائیگی سے پریشان حال ہے۔

بہرحال بچے تو جہاں پلیں بڑھیں، جس ملک میں ہوں جیسی بھی زبان بولی جائے، اسی حالت میں ڈھل جاتے ہیں وہی زبان سیکھنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن مسئلہ ان کی بود و باش اختیار کرنے کا ہے کہ وہ کہاں جائیں۔ مہاجر شامی، بے وطن ماؤں اور ان کے بچوں کا محفوظ مستقبل کہاں ہے۔ اللہ ان دکھی مہاجروں، بے وطن ماؤں، بے آسرا اور بے گھر بچوں کو اس اجنبی دنیا کی بجائے ایک پر رحمت جگہ عطا فرما دے۔ شامی خاندان اللہ کی امید سے مایوس نہیں، ان کا کہنا ہے کہ جلد ہی اللہ انہیں اچھی جگہ دے گا جہاں ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو گا۔

اللہ شامی ماؤں کی مدد فرما، الٰہی ان کی غیبی مدد فرما، قرآن مجید کی سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

”میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کروں گا کیونکہ تم دونوں ایک دوسرے کا حصہ ہو، لہٰذا جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں دکھ اٹھائے نیز جن لوگوں نے جہاد کیا اور شہید ہو گئے، میں ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کر دوں گا اور ایسے باغات میں ضرور داخل کر دوں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اللہ کے ہاں ان کا یہی بدلہ ہے اور اللہ کے ہاں جو بدلہ ہے وہ بہت ہی اچھا بدلہ ہے“۔ (آل عمران: 195)

اے شامی بہن بھائیو! اللہ تعالیٰ ان ہجرت کی قربانیوں کا تمہیں ضرور صلہ عطا فرمائیں گے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

اے ہجرت کی تکلیف اٹھانے والی سواد! اللہ تیری لغزشوں کو معاف فرمائے گا۔ اے الہام! تیری ہجرت کی صعوبتوں کو اللہ رائیگاں نہیں کرے گا۔ دنیا میں بھی جگہ عطا فرمائے گا اور آخرت میں بھی اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔

اے بے وطن نور! نہ پریشان ہو کہ ہجرت میں گزاری گئی گھڑیاں نوید سعید ہیں، اللہ ضرور مدد کرے گا اور ان خیموں سے نکال کر تمہیں وسیع جگہ میں پُرامن جگہیں عطا فرمائے گا۔ صبر، کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں۔ ان شاءاللہ۔

اللہ تمام مسلمانوں کو متحد کر کے جسد واحد بنا دے کہ وہ شامی مسلمانوں کا حل سوچیں۔ شامی بے وطن ماؤں کو وطن دلا دیں، ان کے بچوں کا مستقبل روشن اور محفوظ کر دیں۔ اللہ دلوں کو نرم کر دے۔ آمین

https://www.facebook.com/jarrarofficial/posts/569955253202699:0
 
Top