ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 887
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
تجارت کی فضیلت اور ملازمت پر اس کی ترجیح احادیث نبویہ کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد!
دین اسلام نے جس طرح عبادات، معاملات اور اخلاق کی اصلاح فرمائی ہے، اسی طرح کسب معاش کے پاکیزہ ذرائع کی بھی ترغیب دی ہے۔ شریعت مطہرہ نے محنت، خود کفالت، دیانت داری اور حلال روزی کو پسند فرمایا اور حرام کمائی، خیانت، دھوکا دہی اور باطل طریقہ معاش سے منع فرمایا ہے۔
اسی باب میں تجارت ایک نہایت باعظمت اور بابرکت ذریعہ معاش ہے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اہل تجارت کے لیے متعدد فضائل وارد ہوئے ہیں، خصوصا اس تاجر کے لیے جو صدق و امانت کو لازم پکڑے، حرام سے بچے اور لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «التَّاجِرُ الأَمِينُ الصَّدُوقُ المُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ القِيَامَةِ» یعنی مسلمان، امانت دار اور سچا تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔ [سنن ابن ماجه، حديث: ٢١٣٩]
اور دوسری روایت میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ» یعنی سچا اور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ [الجامع الكبير «سنن الترمذي»، حدیث: ١٢٥١]
یہ الفاظ معمولی نہیں۔ غور کیجئے کہ تجارت کے میدان میں جہاں انسان کو نفع کا لالچ، مال کی محبت اور دنیاوی منفعت اپنی طرف کھینچتی ہے، وہاں جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے سچ بولتا، امانت ادا کرتا اور حرام سے اجتناب کرتا ہے، اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر بلند مرتبہ بیان فرمایا۔
پس معلوم ہوا کہ تجارت بذات خود کوئی مذموم دنیا داری نہیں، بلکہ اگر نیت درست ہو اور طریقہ شرعی ہو تو یہی تجارت مسلمانوں کے لیے آخرت کا ذریعہ سعادت بن سکتی ہے۔
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا: «يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الكَسْبِ أَطْيَبُ؟» اے اللہ کے رسول! کون سی کمائی سب سے پاکیزہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ» یعنی آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر وہ خرید و فروخت جو شرعی طریقے کے مطابق ہو۔ [مسند الإمام أحمد بن حنبل، حدیث: ١٧٢٦٥]
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے جو کاشت کاری (زراعت)، غلہ بانی (مال مویشی پالنا) اور کاروبار کو حقیر سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ عزت صرف کسی عہدے یا سرکاری نوکری میں ہے۔ اسلام نے عزت کو عہدے کے ساتھ نہیں باندھا، بلکہ تقویٰ، حلال کمائی، صدق اور امانت کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔
تجارت کا ایک بڑا فائدہ آزادی اور خود کفالت ہے کہ آدمی اپنی محنت، عقل اور تجربہ استعمال کرکے اپنے معاش کا ذریعہ خود قائم کرسکتا ہے۔ ملازمت میں انسان عموما کسی ادارے، کمپنی یا مالک کے مقرر کردہ اوقات، ضوابط اور تنخواہ کا پابند ہوتا ہے، جبکہ تجارت میں آدمی اپنے کاروبار کو اپنی صلاحیت کے مطابق بڑھا سکتا ہے۔
اسی لیے سلف کے ہاں تجارت اور کسب حلال کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے بزرگ گزرے ہیں جو تجارت کرتے تھے، خرید و فروخت کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے رزق حاصل کرتے تھے۔
لہٰذا جو شخص تجارت کی صلاحیت رکھتا ہو، اسے محض اس وجہ سے کاروبار سے گریز نہیں کرنا چاہیے کہ لوگ کارپوریٹ یا سرکاری نوکری کو زیادہ معزز سمجھتے ہیں۔ لوگوں کی نظر میں عزت کا معیار کچھ اور ہوسکتا ہے، لیکن شریعت کے نزدیک اصل معیار حلال و حرام، صدق و امانت اور تقویٰ ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم بات یاد رکھنی چاہیے۔ تجارت کی فضیلت ہر قسم کی تجارت کے لیے نہیں، بلکہ اس تجارت کے لیے ہے جو حلال ہو اور جس میں خیانت، دھوکا، جھوٹ، سود، رشوت، اور حرام اشیاء کی خرید و فروخت نہ ہو۔
جو شخص تجارت کے نام پر جھوٹ بولے، عیب چھپائے، ناپ تول میں کمی کرے، جعلی چیز کو اصلی کہہ کر فروخت کرے یا حرام مال کمائے، وہ ان احادیث کی فضیلت کا مستحق نہیں۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر «الصَّدُوقُ الأَمِينُ» فرمایا؛ یعنی تاجر کے لیے صرف کاروباری ذہانت کافی نہیں، بلکہ صدق اور امانت بھی ضروری ہے۔
پس ان نصوص کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حلال تجارت ایک نہایت فضیلت والا ذریعہ معاش ہے اور جس شخص میں تجارت کی صلاحیت ہو، وہ اسے اختیار کرکے بڑی خیر حاصل کرسکتا ہے۔
البتہ ملازمت بھی اگر حلال ہو، نیت درست ہو تو وہ بھی کسب حلال ہے۔ لیکن جہاں ایک شخص کے سامنے تجارت کا ایسا موقع ہو جس میں وہ اپنی محنت سے آزادانہ طور پر رزق کما سکتا ہو، لوگوں کو نفع پہنچا سکتا ہو، صدق و امانت کے ساتھ کاروبار کرسکتا ہو اور حرام امور سے محفوظ رہ سکتا ہو، وہاں تجارت اختیار کرنا ایک نہایت عمدہ اور قابل ترغیب راستہ ہے۔
اے اہل اسلام! دنیا میں رزق کے بہت سے دروازے ہیں، مگر سعادت مند وہ ہے جو حلال دروازہ اختیار کرے۔ تجارت اگر صدق و امانت کے ساتھ ہو تو محض دنیا کمانے کا ذریعہ نہیں رہتی، بلکہ آخرت کی کامیابی کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے اور امانت دار تاجر کے لیے انبیاء، صدیقین اور شہداء کی معیت کا ذکر فرمایا؛ پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تجارت کی صلاحیت عطا فرمائی ہو، اسے چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کرے، شریعت کے احکام سیکھے، حرام سے بچے، دھوکے اور خیانت سے دور رہے اور اپنے کاروبار کو رزق حلال، خدمت خلق اور رضائے الٰہی کا ذریعہ بنائے۔
اصل فضیلت صرف تاجر ہونے میں نہیں، بلکہ سچا، امانت دار اور متقی تاجر ہونے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تجارت کے ذریعے حلال روزی کمانے، تجارت میں صدق و امانت اختیار کرنے، حرام سے بچنے اور اپنے مال و اعمال کے ذریعے آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔