• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ لَهُ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُ‌شْدًا ﴿٦٦﴾
اس سے موسیٰ نے کہا کہ میں آپ کی تابعداری کروں؟ کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔

قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرً‌ا ﴿٦٧﴾
اس نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔

وَكَيْفَ تَصْبِرُ‌ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرً‌ا ﴿٦٨﴾
اور جس چیز کو آپ نے اپنے علم میں (١) نہ لیا ہو اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں؟
٦٨۔١ یعنی جس کا پورا علم نہ ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ صَابِرً‌ا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرً‌ا ﴿٦٩﴾
موسٰی نے جواب دیا کہ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور کسی بات میں میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔

قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرً‌ا ﴿٧٠﴾
اس نے کہا اچھا اگر آپ میرے ساتھ ہی چلنے پر اصرار کرتے ہیں تو یاد رہے کسی چیز کی نسبت مجھ سے کچھ نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود اس کی نسبت کوئی تذکرہ نہ کروں۔

فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا رَ‌كِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَ‌قَهَا ۖ قَالَ أَخَرَ‌قْتَهَا لِتُغْرِ‌قَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرً‌ا ﴿٧١﴾
پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے، تو اس نے اس کے تختے توڑ دیئے، موسیٰ نے کہا کیا آپ اسے توڑ رہے ہیں تاکہ کشتی والوں کو ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑی (خطرناک) بات کر دی۔ (١)
٧١۔١ حضرت موسیٰ عليہ السلام کو چونکہ اس علم خاص کی خبر نہیں تھی جس کی بنا پر خضر نے کشتی کے تختے توڑ دیئے تھے، اس لئے صبر نہ کر سکے اور اپنے علم و فہم کے مطابق اسے نہایت ہولناک کام قرارا دیا۔ إِمْرًا کے معنی ہیں الدَّاهِيَةُ الْعَظِيمَةُ، ”بڑا ہیبت ناک کام“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرً‌ا ﴿٧٢﴾
اس نے جواب دیا میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکے گا۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْ‌هِقْنِي مِنْ أَمْرِ‌ي عُسْرً‌ا ﴿٧٣﴾
موسٰی نے جواب دیا کہ میری بھول پر مجھے نہ پکڑیئے اور مجھے اپنے کام میں تنگی نہ ڈالیے۔ (١)
٧٣۔١ یعنی میرے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں، سختی کا نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ‌ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرً‌ا ﴿٧٤﴾
پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک (١) لڑکے کو پایا، خضر نے اسے مار ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا؟ بیشک آپ نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی۔ (٢)
٧٤۔١ غلام سے مراد بالغ جوان بھی ہو سکتا ہے اور نابالغ بچہ بھی۔
٧٤۔٢ نُكْرًا یعنی ”فَظِيعًا مُنْكَرًا لا يُعْرَفُ فِي الشَّرْعِ“ کہ ایسا بڑا برا کام جس کی شریعت میں گنجائش نہیں، بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی ہیں ”أَنْكَرُ مِنَ الأَمْرِ الأَوَّلِ“ پہلے کام (کشتی کے تختے توڑنے) سے زیادہ برا کام۔ اس لئے کہ قتل، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ ممکن نہیں۔ جبکہ کشتی کے تختے اکھیڑ دینا، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ عليہ السلام کو جو علم شریعت حاصل تھا، اس کی رو سے حضرت خضر کا یہ کام بہرحال خلاف شرع تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اعتراض کیا اور اسے نہایت برا کام قرار دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پارہ 16
قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرً‌ا ﴿٧٥﴾
وہ کہنے لگے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔

قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرً‌ا ﴿٧٦﴾
موسٰی (علیہ السلام) نے جواب دیا اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً آپ میری طرف سے (حد) عذر (١) کو پہنچ چکے۔
٧٦۔١ یعنی اب اگر سوال کروں تو اپنی مصاحبت کے شرف سے مجھے محروم کر دیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا، اس لئے کہ آپ کے پاس معقول عذر ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْ‌يَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارً‌ا يُرِ‌يدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرً‌ا ﴿٧٧﴾
پھر دونوں چلے ایک گاؤں والوں کے پاس آکر ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے مہمانداری سے صاف انکار کر دیا، (١) دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا ہی چاہتی تھی، اس نے اسے ٹھیک اور درست (٢) کر دیا، موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے۔ (٣)
٧٧۔١ یعنی یہ بخیلوں کی بستی تھی کہ مہمانوں کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا، دراں حالیکہ مسافروں کو کھانا کھلانا اور مہمان نوازی کرنا ہر شریعت کی اخلاقی تعلیمات کا اہم حصہ رہا ہے۔ نبی ﷺ نے بھی مہمان نوازی اور اکرام ضیف کو ایمان کا تقاضا قرار دیا ہے۔ فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ (فيض القدير شرح الجامع الصغير: ۵/۲۰۹) ”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ مہمان کی عزت و تکریم کرے“۔
٧٧۔٢ حضرت خضر نے اس دیوار کو ہاتھ لگایا اور اللہ کے حکم سے معجزانہ طور پر سیدھی ہو گئی۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت سے واضح ہے۔
٧٧۔٣ حضرت موسیٰ عليہ السلام، جو اہل بستی کے رویے سے پہلے ہی کبیدہ خاطر تھے، حضرت خضر کے بلا معاوضہ احسان پر خاموش نہ رہ سکے اور بول پڑے کہ جب ان بستی والوں نے ہماری مسافرت، ضرورت مندی اور شرف و فضل کسی چیز کا بھی لحاظ نہیں کیا تو یہ لوگ کب اس لائق ہیں کہ ان کے ساتھ احسان کیا جائے؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ هَـٰذَا فِرَ‌اقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرً‌ا ﴿٧٨﴾
اس نے کہا بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان، (١) اب میں تجھے ان باتوں کی اصلیت بھی بتا دوں گا جس پر تجھ سے صبر نہ ہو سکا۔ (٢)
٧٨۔١ حضرت خضرنے کہا کہ موسیٰ عليہ السلام، یہ تیسرا موقعہ ہے کہ تو صبر نہیں کر سکا اور اب خود تیرے کہنے کے مطابق میں تجھے ساتھ رکھنے سے معذور ہوں۔
٧٨۔٢ لیکن جدائی سے قبل حضرت خضر نے تینوں واقعات کی حقیقت سے انہیں آگاہ اور باخبر کرنا ضروری خیال کیا تاکہ موسیٰ عليہ السلام کسی مغالطے کا شکار نہ رہیں اور وہ یہ سمجھ لیں کہ علم نبوت اور ہے، جس سے انہیں نوازا گیا ہے اور بعض اہم امور کا علم اور ہے جو اللہ کی حکمت و مشیت کے تحت، حضرت خضر کو دیا گیا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے ایسے کام کیے جو علم شریعت کی رو سے جائز نہیں تھے اور اسی لئے حضرت موسیٰ عليہ السلام بجا طور پر ان پر خاموش نہیں رہ سکے تھے۔ انہی اہم امور کی انجام دہی کی وجہ سے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ حضرت خضر انسانوں میں سے نہیں تھے اور اسی لئے وہ ان کی نبوت و رسالت یا دلائل کے بیچ میں نہیں پڑتے کیونکہ یہ سارے مناصب تو انسانوں کے ساتھ ہی خاص ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ فرشتہ تھے، لیکن اگر اللہ تعالی اپنے کسی نبی کو بعض اہم امور سے مطلع کر کے ان کے ذریعے سے کام کروا لے، تو اس میں بھی کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔ جب وہ صاحب وحی خود اس امر کی وضاحت کر دے کہ میں نے یہ کام اللہ کے حکم سے ہی کئے ہیں تو گو بظاہر وہ خلاف شریعت ہی نظر آتے ہوں، لیکن جب ان کا تعلق ہی اہم امور سے ہے تو وہاں جواز اور عدم جواز کی حیثیت غیر ضروری ہے۔ جیسے تکوینی احکامات کے تھے کوئی بیمار ہوتا ہے، کوئی مرتا ہے، کسی کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے، قوموں پر عذاب آتا ہے، ان میں سے بعض کام بعض دفعہ بہ اذن الٰہی فرشتے ہی کرتے ہیں، تو جس طرح یہ امور آج تک کسی کو خلاف شریعت نظر نہیں آئے۔ اسی طرح حضرت خضر کے ذریعے سے وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا تعلق بھی چوں کہ اہم امور سے ہے اس لئے انہیں شریعت کی ترازو میں تولنا ہی غیر صحیح ہے۔ البتہ اب وحی و نبوت کا سلسلہ ختم ہو جانے کے بعد کسی شخص کا اس قسم کا دعویٰ ہرگز صحیح اور قابل تسلیم نہیں ہو گا جیسا کہ حضرت خضر سے منقول ہے کیونکہ حضرت خضر کا معاملہ تو آیت قرآنی سے ثابت ہے، اس لئے مجال انکار نہیں۔ لیکن اب جو بھی اس قسم کا دعویٰ یا عمل کرے گا، اس کا انکار لازمی اور ضروری ہے کیونکہ اب وہ یقینی ذریعہ علم موجود نہیں ہے جس سے اس کے دعوے اور عمل کی حقیقت واضح ہو سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ‌ فَأَرَ‌دتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَ‌اءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا ﴿٧٩﴾
کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے۔ میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کا ارادہ کر لیا کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک (صحیح سالم) کشتی کو جبراً ضبط کر لیتا تھا۔

وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْ‌هِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرً‌ا ﴿٨٠﴾
اور اس لڑکے کے ماں باپ ایمان والے تھے، ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز و پریشان نہ کر دے۔

فَأَرَ‌دْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَ‌بُّهُمَا خَيْرً‌ا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَ‌بَ رُ‌حْمًا ﴿٨١﴾
اس لئے ہم نے چاہا کہ انہیں ان کا پروردگار اس کے بدلے اس سے بہتر پاکیزگی والا اور اس سے زیادہ محبت اور پیار والا بچہ عنایت فرمائے۔

وَأَمَّا الْجِدَارُ‌ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَ‌ادَ رَ‌بُّكَ أَن يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِ‌جَا كَنزَهُمَا رَ‌حْمَةً مِّن رَّ‌بِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِ‌ي ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرً‌ا ﴿٨٢﴾
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے، ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا، (١) یہ تھی اصل حقیقت اور ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔
٨٢۔١ حضرت خضر کی نبوت کے قائلین کی یہ دوسری دلیل ہے جس سے وہ نبوت خضر کا اثبات کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی غیر نبی کے پاس اس قسم کی وحی نہیں آتی کہ وہ اتنے اتنے اہم کام کسی اشارہ غیبی پر کر دے، نہ کسی غیر نبی کا ایسا اشارہ غیبی قابل عمل ہی ہے۔ نبوت خضر کی طرح حیات خضر بھی ایک حلقے میں مختلف ہے اور حیات خضر کے قائل بہت سے لوگوں کی ملاقاتیں حضرت خضر سے ثابت کرتے ہیں اور پھر ان سے ان کے اب تک زندہ ہونے پر دلیل پیش کرتے ہیں لیکن جس طرح حضرت خضر کی زندگی پر کوئی آیت شرعی نہیں ہے، اسی طریقے سے لوگوں کے مکاشفات یا حالت بیداری یا نیند میں حضرت خضر سے ملنے کے دعوے بھی قابل تسلیم نہیں۔ جب ان کا حلیہ ہی معقول ذرائع سے بیان نہیں کیا گیا ہے تو ان کی شناخت کس طرح ممکن ہے؟ اور کیوں کر یقین کیا جا سکتا ہے، کہ جن بزرگوں نے ملنے کے دعوے کئے ہیں، واقعی ان کی ملاقات خضر موسیٰ عليہ السلام سے ہی ہوئی ہے، خضر کے نام سے انہیں کسی نے دھوکہ اور فریب نے مبتلا نہیں کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَسْأَلُونَكَ عَن ذِي الْقَرْ‌نَيْنِ ۖ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُم مِّنْهُ ذِكْرً‌ا ﴿٨٣﴾
آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ یہ لوگ دریافت کر رہے ہیں، (١) آپ کہہ دیجئے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔
٨٣۔١ یہ مشرکین کے اس تیسرے سوال کا جواب ہے جو یہودیوں کے کہنے پر انہوں نے نبی ﷺ سے کیے تھے، ذوالقرنین کے لفظی معنی دو سینگوں والے کے ہیں۔ یہ نام اس لئے پڑا کہ فی الواقع اس کے سر پر دو سینگ تھے یا اس لیے کہ اس نے مشرق و مغرب دنیا کے دونوں کناروں پر پہنچ کر سورج کی قرن یعنی شعاع کا مشاہدہ کیا، بعض کہتے ہیں کہ اس کے سر پر بالوں کی دو لٹیں تھیں، قرن بالوں کی لٹ کو بھی کہتے ہیں۔ یعنی دو لٹوں دو مینڈھیوں یا دو زلفوں والا۔ قدیم مفسرین نے بالعموم اس کا مصداق سکندر رومی کو قرار دیا ہے جس کی فتوحات کا دائرہ مشرق و مغرب تک پھیلا ہوا تھا۔ لیکن جدید مفسرین جدید تاریخی معلومات کی روشنی میں اس سے اتفاق نہیں کرتے بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم نے اس پر جو داد تحقیق دی ہے اور اس شخص کی دریافت میں جو محنت و کاوش کی ہے، وہ نہایت قابل قدر ہے۔ ان کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے ۱۔ کہ اس ذوالقرنین کی بابت قرآن نے صراحت کی ہے کہ وہ ایسا حکمران تھا، جس کو اللہ نے اسباب و وسائل کی فراوانی سے نوازا تھا۔ ۲۔ وہ مشرقی اور مغربی ممالک کو فتح کرتا ہوا، ایک ایسے پہاڑی درے پر پہنچا جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے۔ ۳۔ اس نے وہاں یاجوج ماجوج کا راستہ بند کرنے کے لئے ایک نہایت محکم بند تعمیر کیا۔ ۴۔ وہ عادل، اللہ کو ماننے والا اور آخرت پر ایمان رکھنے والا تھا۔ ۵۔ وہ نفس پرست اور مال و دولت کا حریص نہیں تھا۔ مولانا مرحوم فرماتے ہیں کہ ان خصوصیات کا حامل صرف فارس کا وہ عظیم حکمران ہے جسے یونانی سائرس، عبرانی خورس، اور عرب کیخسرو کے نام سے پکارتے ہیں، اس کا دور حکمرانی ۵۳۹ قبل مسیح ہے۔ نیز فرماتے ہیں ۱۸۳۸ء میں سائرس کے ایک مجسّمے کا بھی انکشاف ہوا جس میں سائرس کا جسم، اس طرح دکھایا گیا ہے کہ اس کے دونوں طرف عقاب کی طرح پر نکلے ہوئے ہیں اور سر پر مینڈھے کی طرح دو سینگ ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر ”ترجمان القرآن“ ج۱، ص۳۹۹-۴۳۰، طبع قدیم) واللہ اعلم بالصواب۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْ‌ضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا ﴿٨٤﴾
ہم نے اس زمین میں قوت عطا فرمائی تھی اور اسے ہر چیز کے (١) سامان بھی عنایت کر دیے تھے۔
٨٤۔١ ہم نے اسے ایسے ساز و سامان اور وسائل مہیا کیے، جن سے کام لے کر اس نے فتوحات حاصل کیں، دشمنوں کا غرور خاک میں ملایا اور ظالم حکمرانوں کو نیست و نابود کیا۔
 
Top