• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَبَرًّ‌ا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارً‌ا عَصِيًّا ﴿١٤﴾
اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا وہ سرکش اور گناہ گار نہ تھا۔ (١)
١٤۔١ یعنی اپنے ماں باپ کی یا اپنے رب کی نافرمانی کرنے والا نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں والدین کے لیے شفقت و محبت کا اور ان کی اطاعت و خدمت اور حسن سلوک کا جذبہ اللہ تعالیٰ پیدا فرما دے تو یہ اس کا خاص فضل و کرم ہے اور اس کے برعکس جذبہ یا رویہ، یہ اللہ تعالیٰ کے فضل خاص سے محرومی کا نتیجہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا ﴿١٥﴾
اس پر سلام ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔ (١)
١٥۔١ تین مواقع انسان کے لیے سخت و دہشت ناک ہوتے ہیں، ۱۔ جب انسان رحم مادر سے باہر آتا ہے، ۲۔ جب موت کا شکنجہ اسے اپنی گرفت میں لیتا ہے، ۳۔ اور جب اسے قبر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو وہ اپنے کو میدان محشر کی ہولناکیوں میں گھرا ہوا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تینوں جگہوں میں اس کے لئے ہماری طرف سے سلامتی اور امان ہے۔ بعض اہل بدعت اس آیت سے یوم ولادت پر ”عید میلاد“ کا جواز ثابت کرتے ہیں لیکن کوئی ان سے پوچھے تو پھر یوم وفات پر ”عید وفات“ یا ”عید ممات“ بھی منانی ضروری ہوئی کیونکہ جس طرح یوم ولادت کے لیے سلام ہے یوم وفات کے لیے بھی سلام ہے اگر محض لفظ ”سلام“ سے عید میلاد کا اثبات ممکن ہے تو پھر اسی لفظ سے عید وفات کا بھی اثبات ہوتا ہے لیکن یہاں وفات کی عید تو کجا، سرے سے وفات و ممات ہی کا انکار ہے یعنی وفات نبوی ﷺ کا انکار کر کے نص قرآنی کا تو انکار کرتے ہی ہیں خود اپنے استدلال کی رو سے بھی آیت کے ایک جز کو تو مانتے ہیں اور اسی آیت کے دوسرے جز سے ان ہی کے استدلال کی روشنی میں جو ثابت ہوتا ہے اس کا انکار ہے۔ ﴿اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ﴾ (البقرۃ: ۸۵) ”کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟“۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاذْكُرْ‌ فِي الْكِتَابِ مَرْ‌يَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْ‌قِيًّا ﴿١٦﴾
اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔ جبکہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی جانب آئیں۔

فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْ‌سَلْنَا إِلَيْهَا رُ‌وحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرً‌ا سَوِيًّا ﴿١٧﴾
اور ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا، (١) پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔ (٢)
١٧۔١ یہ علیحدگی اور حجاب (پردہ) اللہ کی عبادت کی غرض سے تھا تاکہ انہیں کوئی نہ دیکھے اور یکسوئی حاصل رہے یا طہارت حیض کے لئے۔ اور مشرقی مکان سے مراد بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔
١٧۔٢ رُوْح سے مراد حضرت جبرائیل عليہ السلام ہیں، جنہیں کامل انسانی شکل میں حضرت مریم کی طرف بھیجا گیا، حضرت مریم نے جب دیکھا کہ ایک شخص بے دھڑک اندر آ گیا ہے تو ڈر گئیں کہ یہ بری نیت سے نہ آیا ہو۔ حضرت جبرائیل عليہ السلام نے کہا میں وہ نہیں ہوں جو تو گمان کر رہی ہے بلکہ تیرے رب کا قاصد ہوں اور یہ خوشخبری دینے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھے لڑکا عطا فرمائے گا، بعض قراءتوں میں لِیَھَبَ صیغہ غائب ہے۔ متکلم کا صیغہ (جو موجودہ قراءت میں ہے) اس لئے بولا کہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے حضرت جبرائیل عليہ السلام نے ان کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے باذن اللہ ان کو حمل ٹھہر گیا تھا۔ اس لئے ہبہ کا تناسب اپنی طرف منسوب کر لیا۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کا قول ہو اور یہاں حکایتًا نقل ہوا ہو۔ اس اعتبار سے تقدیر کلام یوں ہو گی۔ ’’أَرْسَلَنِي، يَقُولُ لَكِ أَرْسَلْتُ رَسُولِي إِلَيْكِ لأَهَبَ لَكِ‘‘ (أيسر التفاسير) ”یعنی اللہ نے مجھے تیرے لئے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ میں نے تیری طرف اپنا قاصد یہ بتلانے کے لئے بھیجا ہے کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بچہ عطا کروں گا“ اس طرح حذف اور تقدیر کلام قرآن میں کئی جگہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّ‌حْمَـٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا ﴿١٨﴾
یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔

قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَ‌سُولُ رَ‌بِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا ﴿١٩﴾
اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔

قَالَتْ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ‌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا ﴿٢٠﴾
کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ میں بدکار ہوں۔

قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَ‌بُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ۖ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ وَرَ‌حْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ أَمْرً‌ا مَّقْضِيًّا ﴿٢١﴾
اس نے کہا بات تو یہی ہے، (١) لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے (٢) اور اپنی خاص رحمت، (٣) یہ تو ایک طے شدہ بات ہے۔ (٤)
٢١۔١ یعنی یہ بات تو صحیح ہے کہ تجھے مرد سے مقاربت کا کوئی موقع نہیں ملا ہے، جائز طریقے سے نہ ناجائز طریقے سے۔ جب کہ حمل کے لئے عادتًا یہ ضروری ہے۔
٢١۔٢ یعنی میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں، میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور ہم اسے اپنی قدرت تخلیق کے لئے نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے تمہارے باپ آدم کو مرد اور عورت کے بغیر، اور تمہاری ماں حوا کو صرف مرد سے پیدا کیا اور اب عیسیٰ عليہ السلام کو پیدا کر کے چوتھی شکل میں بھی پیدا کرنے پر اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے صرف عورت کے بطن سے، بغیر مرد کے پیدا کر دینا۔ ہم تخلیق کی چاروں صورتوں پر قادر ہیں۔
٢١۔٣ اس سے مراد نبوت ہے جو اللہ کی رحمت خاص ہے اور ان کے لئے بھی جو اس نبوت پر ایمان لائیں گے۔
٢١۔٤ یہ اسی کلام کا تمتہ ہے جو جبرائیل عليہ السلام نے اللہ کی طرف سے نقل کیا ہے۔ یعنی یہ اعجازی تخلیق تو اللہ کے علم اور اس کی قدرت و مشیت میں مقدر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا ﴿٢٢﴾
پس وہ حمل سے ہو گئیں اور اسی وجہ سے وہ یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔

فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَـٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا ﴿٢٣﴾
پھر درد زہ اسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی۔ (١)
٢٣۔١ موت کی آرزو اس ڈر سے کی کہ میں بچے کے مسئلے پر لوگوں کو کس طرح مطمئن کر سکوں گی، جب کہ میری بات کی کوئی تصدیق کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوگا۔ اور یہ تصور بھی روح فرسا تھا کہ کہاں شہرت ایک عابدہ و زاہدہ کے طور پر ہے اور اس کے بعد لوگوں کی نظروں میں بدکار ٹھہروں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَ‌بُّكِ تَحْتَكِ سَرِ‌يًّا ﴿٢٤﴾
اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزردہ خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔

وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُ‌طَبًا جَنِيًّا ﴿٢٥﴾
اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے تر و تازہ پکی کھجوریں گرا دے گا۔ (١)
٢٥۔١ سَرِیّاَ چھوٹی نہر یا پانی کا چشمہ۔ یعنی بطور کرامت اور خرق عادت، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے پاؤں تلے پینے کے لیے پانی کا اور کھانے کے لئے ایک سوکھے ہوئے درخت میں پکی ہوئی تازہ کھجوروں کا انتطام کر دیا۔ نداء دینے والے حضرت جبرائیل عليہ السلام تھے، جنہوں نے وادی کے نیچے سے آواز دی اور کہا جاتا ہے کہ سَرِیّ بمعنی سردار ہے اور اس سے مراد عیسیٰ عليہ السلام ہیں اور انہی نے حضرت مریم کو نیچے سے آواز دی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَكُلِي وَاشْرَ‌بِي وَقَرِّ‌ي عَيْنًا ۖ فَإِمَّا تَرَ‌يِنَّ مِنَ الْبَشَرِ‌ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْ‌تُ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا ﴿٢٦﴾
اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ (١) اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ (٢) دینا کہ میں نے اللہ رحمان کے نام کا روزہ رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی۔
٢٦۔١ یعنی کھجوریں کھا، چشمے کا پانی پی اور بچے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر۔
٢٦۔٢ یہ کہنا بھی اشارے سے تھا، زبان سے نہیں، علاوہ ازیں ان کے ہاں روزے کا مطلب ہی کھانے اور بولنے سے پرہیز ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ ۖ قَالُوا يَا مَرْ‌يَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِ‌يًّا ﴿٢٧﴾
اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لئے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئیں۔ سب کہنے لگے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی۔

يَا أُخْتَ هَارُ‌ونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَ‌أَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا ﴿٢٨﴾
اے ہارون کی بہن! (١) نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی۔
٢٨۔١ ہارون سے مراد ممکن ہے ان کا کوئی عینی یا علاتی بھائی ہو، یہ بھی ممکن ہے ہارون سے مراد ہارون رسول (برادر موسیٰ علیہ السلام) ہی ہوں اور عربوں کی طرح ان کی نسبت اخوت ہارون کی طرف کر دی، جیسے کہا جاتا ہے يَا أَخَاتَمِيمٍ! يا أخا العرب!، وغیرہ یا تقویٰ و پاکیزگی اور عبادت میں حضرت ہارون عليہ السلام کی طرح انہیں سمجھتے ہوئے، انہیں کی مثل اور مشابہت میں اخت ہارون کہا ہو، اس کی مثالیں قرآن کریم میں بھی موجود ہیں (ایسر التفاسیر وابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَشَارَ‌تْ إِلَيْهِ ۖ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا ﴿٢٩﴾
مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں؟

قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّـهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا ﴿٣٠﴾
بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا (١) ہے۔
٣٠۔١ یعنی قضا و قدر ہی میں اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ مجھے کتاب اور نبوت سے نوازے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلَنِي مُبَارَ‌كًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا ﴿٣١﴾
اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے (١) جہاں بھی میں ہوں، اور اس نے مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں۔
٣١۔١ اللہ کے دین میں ثابت قدم، یا ہر چیز میں زیادتی، برتری اور کامیابی میرا مقدر ہے یا لوگوں کے لئے نافع، نیکی کے کام کرنے کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا۔ (فتح القدیر)
 
Top