• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَزَكَرِ‌يَّا إِذْ نَادَىٰ رَ‌بَّهُ رَ‌بِّ لَا تَذَرْ‌نِي فَرْ‌دًا وَأَنتَ خَيْرُ‌ الْوَارِ‌ثِينَ ﴿٨٩﴾
اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِ‌عُونَ فِي الْخَيْرَ‌اتِ وَيَدْعُونَنَا رَ‌غَبًا وَرَ‌هَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ ﴿٩٠﴾
ہم نے اس کی دعا کو قبول فرما کر اسے یحییٰ (علیہ السلام) عطا فرمایا (١) اور ان کی بیوی کو ان کے لئے درست کر دیا۔ (٢) یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔ (٣)
٩٠۔١ حضرت زکریا علیہ السلام کا بڑھاپے میں اولاد کے لئے دعا کرنا اور اللہ کی طرف سے اس کا عطا کیا جانا، اس کی ضروری تفصیل سورہ آل عمران اور سورہ طہٰ میں گزر چکی ہے۔ یہاں بھی اس کی طرف اشارہ ان الفاظ میں کیا ہے۔
٩٠۔٢ یعنی وہ بانجھ اور ناقابل اولاد تھی، ہم نے اس کے اس نقص کا ازالہ فرما کر اسے نیک بچہ عطا فرمایا۔
٩٠۔٣ گویا قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے کہ ان باتوں کا اہتمام کیا جائے جن کا بطور خاص یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً الحاح و زاری کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں دعا و مناجات، نیکی کے کاموں میں سبقت، خوف و طمع کے ملے جلے جذبات کے ساتھ رب کو پکارنا اور اس کے سامنے عاجزی اور خشوع خضوع کا اظہار۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْ‌جَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّ‌وحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴿٩١﴾
اور وہ پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہم نے اس کے اندر اپنی روح سے پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا۔ (١)
٩١۔١ یہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا تذکرہ ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ ﴿٩٢﴾
یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، (١) اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔
٩٢۔١ امۃ سے مراد یہاں دین یا ملت یعنی تمہارا دین یا ملت ایک ہی ہے اور وہ دین ہے دینِ توحید، جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی اور ملت، ملتِ اسلام ہے جو تمام انبیاء کی ملت رہی۔ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ہم انبیاء کی جماعت اولاد علات ہیں، (جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوں) ہمارا دین ایک ہی ہے"۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتَقَطَّعُوا أَمْرَ‌هُم بَيْنَهُمْ ۖ كُلٌّ إِلَيْنَا رَ‌اجِعُونَ ﴿٩٣﴾
مگر لوگوں نے آپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کر لیں، سب کے سب ہمارے ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (١)
٩٣۔١ یعنی دینِ توحید اور عبادتِ رب کو چھوڑ کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ تو مشرکین اور کفار کا ہو گیا اور انبیاء و رسل کے ماننے والے بھی احزاب بن گئے، کوئی یہودی ہو گیا، کوئی عیسائی، کوئی کچھ اور۔ اور بد قسمتی سے یہ فرقہ بندیاں خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہو گئیں اور یہ بھی بیسیوں فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ان سب کا فیصلہ، جب یہ بارگاہ الٰہی میں لوٹ کر جائیں گے۔ تو وہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَ‌انَ لِسَعْيِهِ وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ ﴿٩٤﴾
پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وہ مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی۔ ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں۔

وَحَرَ‌امٌ عَلَىٰ قَرْ‌يَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْ‌جِعُونَ ﴿٩٥﴾
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس پر لازم ہے کہ وہاں کے لوگ پلٹ کر نہیں آئیں گے۔ (١)
٩٥۔١ حرام، واجب کے معنی میں ہے، جیسا کہ ترجمے میں واضح ہے۔ یا پھر لَا یَرْجِعُوْنَ میں لَا زائد ہے، یعنی جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا، اس کا دنیا میں پلٹ کر آنا حرام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ ﴿٩٦﴾
یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ (١)
٩٦۔١ یاجوج و ماجوج کی ضروری تفصیل سورہ کہف کے آخر میں گزر چکی ہے۔ حضرت عیسیٰ عليہ السلام کی موجودگی میں قیامت کے قریب ان کا ظہور ہو گا اور اتنی تیزی اور کثرت سے یہ ہر طرف پھیل جائیں گے کہ ہر اونچی جگہ یہ دوڑتے ہوئے محسوس ہوں گے۔ ان کی فساد انگیزیوں اور شرارتوں سے اہل ایمان تنگ آ جائیں گے حتٰی کی حضرت عیسیٰ عليہ السلام اہل ایمان کو ساتھ لے کر کوہ طور پر پناہ گزین ہو جائیں گے، پھر حضرت عیسیٰ عليہ السلام کی بد دعا سے یہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اور ان کی لاشوں کی سڑاند اور بدبو ہر طرف پھیلی ہو گی، حتٰی کہ اللہ تعالیٰ پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں گے۔ پھر ایک زور دار بارش نازل فرمائے گا، جس سے ساری زمین صاف ہو جائے گی۔ (یہ ساری تفصیلات صحیح حدیث میں بیان کی گئی ہیں تفصیل کے لئے تفسیر ابن کثیر ملاحطہ ہو)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاقْتَرَ‌بَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ‌ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَـٰذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ ﴿٩٧﴾
اور سچا وعدہ قریب آ لگے گا اس وقت کافروں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، (١) کہ ہائے افسوس! ہم اس حال سے غافل تھے بلکہ فی الواقع ہم قصور وار تھے۔
٩٧۔١ یعنی یاجوج و ماجوج کے خروج کے بعد قیامت کا وعدہ، جو برحق ہے، بالکل قریب آجائے گا اور جب یہ قیامت برپا ہو جائے گی شدت ہولناکی کی وجہ سے کافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِ‌دُونَ ﴿٩٨﴾
تم اور اللہ کے سوا جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب دوزخ کا ایندھن بنو گے، تم سب دوزخ میں جانے والے ہو۔ (١)
٩٨۔١ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو لات و منات اور عزیٰ و ہبل کی پوجا کرتے تھے۔ یہ سب پتھر کی مورتیاں تھیں۔ جو جمادات یعنی غیر عاقل تھیں، اس لئے آیت میں مَا تَعْبُدُوْنَ، کے الفاظ ہیں اور عربی میں "مَا" غیر عاقل کے لئے آتا ہے۔ یعنی کہا جا رہا ہے کہ تم بھی اور تمہارے یہ معبود بھی جن کی مورتیاں بنا کر تم نے عبادت کے لئے رکھی ہوئی ہیں، سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ پتھر کی مورتیوں کا اگرچہ کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ وہ تو غیر عاقل اور بے شعور ہیں۔ لیکن انہیں پجاریوں کے ساتھ جہنم میں صرف مشرکوں کو مزید ذلیل و رسوا کرنے کے لئے ڈالا جائے گا کہ جن معبودوں کو تم اپنا سہارا سمجھتے تھے، وہ بھی تمہارے ساتھ ہی جہنم میں، جہنم کا ایندھن ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَ‌دُوهَا ۖ وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٩٩﴾
اگر یہ (سچے) معبود ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے، اور سب کے سب اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ (١)
٩٩۔١ یعنی اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو با اختیار ہوتے اور تمہیں جہنم میں جانے سے روک لیتے۔ لیکن وہ تو خود بھی جہنم میں بطور عبرت کے جا رہے ہیں۔ تمہیں جانے سے کس طرح روک سکتے ہیں۔ نتیجتاََ عابد و معبود دونوں ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ‌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ ﴿١٠٠﴾
وہ وہاں چلا رہے ہوں گے اور وہاں کچھ بھی نہ سن سکیں گے۔ (١)
١٠٠۔١ یعنی سارے کے سارے شدت غم و الم سے چیخ اور چلا رہے ہوں گے، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی آواز بھی نہیں سن سکیں گے۔
 
Top