• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ ﴿١٠١﴾
البتہ بیشک جن کے لئے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے۔ وہ سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے۔ (١)
١٠١۔١ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو سکتا تھا یا مشرکین کی طرف سے پیدا کیا جا سکتا تھا، جیسا کہ فی الواقع کیا جاتا ہے کہ عبادت تو حضرت عیسیٰ و عزیر علیہما السلام، فرشتوں اور بہت سے صالحین کی بھی کی جاتی ہے۔ تو کیا یہ بھی اپنے عابدین کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے؟ اس آیت میں اس کا ازالہ کر دیا گیا ہے کہ یہ لوگ تو اللہ کے نیک بندے تھے جن کی نیکیوں کی وجہ سے اللہ کی طرف سے ان کے لئے نیکی یعنی سعادت ابدی یا بشارت جنت ٹھہرائی جا چکی ہے۔ یہ جہنم سے دور ہی رہیں گے۔ انہی الفاظ سے یہ مفہوم بھی واضح طور پر نکلتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں یہ خواہش رکھتے ہوں گے کہ ان کی قبروں پر بھی قبے بنیں اور لوگ انہیں قاضی الحاجات سمجھ کر ان کے نام کی نذر و نیاز دیں اور ان کی پرستش کریں، یہ بھی پتھر کی مورتیوں کی طرح جہنم کا ایندھن ہوں گے، کیونکہ غیر اللہ کی پرستش کے داعی "سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى" میں یقینا نہیں آتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ ﴿١٠٢﴾
وہ تو دوزخ کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور اپنی من بھاتی چیزوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔

لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ‌ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَـٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ﴿١٠٣﴾
وہ بڑی گھبراہٹ (١) (بھی) انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کہ یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم وعدہ دیئے جاتے رہے۔
١٠٣۔١ بڑی گھبراہٹ سے موت یا صور اسرافیل مراد ہے یا وہ لمحہ جب دوزخ اور جنت کے درمیان موت کو ذبح کر دیا جائے گا۔ دوسری بات یعنی صور اسرافیل اور قیام قیامت سیاق کے زیادہ قریب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ﴿١٠٤﴾
جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں، (١) جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کرکے (ہی) رہیں گے۔
١٠٤۔١ یعنی جس طرح کاتب لکھنے کے بعد اوراق یا رجسٹر لپیٹ کر رکھ دیتا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ (الزمر: ۸۷) "آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے" سِجِل کے معنی صحیفے یا رجسٹر کے ہیں لِلْکُتُبِ کے معنی ہیں عَلَی الْکِتَابِ بِمَعْنَی الْمَکْتُوْبِ (تفسیر ابن کثیر) مطلب یہ ہے کہ کاتب کے لیے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ لینا جس طرح آسان ہے، اسی طرح اللہ کے لیے آسمان کی وسعتوں کو اپنے ہاتھ میں سمیٹ لینا کوئی مشکل امر نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ‌ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ‌ أَنَّ الْأَرْ‌ضَ يَرِ‌ثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ﴿١٠٥﴾
ہم زبور میں پندو نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (١) (ہی) ہوں گے۔
١٠٥۔١ زبور سے مراد یا تو زبور ہی ہے اور ذکر سے مراد پندو نصیحت، جیسا کہ ترجمہ میں درج ہے یا پھر زبور سے مراد گزشتہ آسمانی کتابیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی پہلے تو لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اور اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہوں گے۔ زمین سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک جنت ہے اور بعض کے نزدیک ارض کفار۔ یعنی اللہ کے نیک بندے زمین میں اقتدار اور سرخرو رہے، اور آئندہ بھی جب کبھی وہ اس صفت کے حامل ہوں گے، اس وعدہ الٰہی کے مطابق، زمین کا اقتدار انہی کے پاس ہو گا۔ اس لیے مسلمانوں کی محرومی اقتدار کی موجودہ صورت، حال کسی اشکال کا باعث نہیں بننی چاہیے یہ وعدہ مشروط ہے صالحیت عباد کے ساتھ۔ اور إِذَا فَاتَ الشَّرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوطُ کے مطابق جب مسلمان اس خوبی سے محروم ہو گئے تو اقتدار سے بھی محروم کردیئے گئے۔ اس میں گویا حصول اقتدار کا طریقہ بتلایا گیا ہے اور وہ ہے صالحیت، یعنی اللہ رسول کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا اور اس کے حدود و ضابطوں پر کاربند رہنا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ فِي هَـٰذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ ﴿١٠٦﴾
عبادت گزار بندوں کے لئے تو اس میں ایک بڑا پیغام ہے۔ (١)
١٠٦۔١ فی ‌ھذا سے مراد، وہ وعظ و تنبیہ ہے جو اس سورت میں مختلف انداز سے بیان کی گئی ہے۔ بلاغ سے مراد کفایت و منفعت ہے، یعنی وہ کافی اور مفید ہے یا اس سے مراد قرآن مجید ہے جس میں مسلمانوں کے لئے بڑا فائدہ اور کفایت ہے۔ عابدین سے مراد، خشوع خضوع سے اللہ کی عبادت کرنے والے، اور شیطان اور خواہشات نفس پر اللہ کی اطاعت کو ترجیح دینے والے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَرْ‌سَلْنَاكَ إِلَّا رَ‌حْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴿١٠٧﴾
اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
١٠٧۔١ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئے گا، اس نے گویا اس رحمت کو قبول کر لیا اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا، نتیجتًا دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہم کنار ہو گا اور اور چونکہ آپ ﷺ کی رسالت پورے جہان کے لیے ہے، اس لیے آپ ﷺ پورے جہان کے لیے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعے سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہم کنار کرنے کے لیے آئے ہیں بعض لوگوں نے اس اعتبار سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جہان والوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے کہ آپ ﷺ کی وجہ سے یہ امت، بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کر دی گئی۔ جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں، امت محمدیہ (جو امت اجابت اور امت دعوت کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے) پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے گا۔ اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے لیے بد دعا نہ کرنا یہ بھی آپ ﷺ کی رحمت کا ایک حصہ تھا۔ إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا بُعِثْتُ رَحْمَة (صحيح مسلم نمبر۲۰۰۶) اسی طرح غصے میں کسی مسلمان کو لعنت یا سب و شتم کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا، آپ ﷺ کی رحمت کا حصہ ہے (مسند أحمد ۵/ ۴۳۷ أبو داود نمبر ۴۶۵۹ والأحاديث الصحيحة للألباني نمبر۱۷۵۸) اسی لیے ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا، إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ (صحيح الجامع الصغير نمبر۲۳۵۴) "میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں، جو اللہ کی طرف سے اہل جہان کے لیے ایک ہدیہ ہے"۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٠٨﴾
کہہ دیجئے! میرے پاس تو پس وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، تو کیا تم بھی اس کی فرمانبرداری کرنے والے ہو؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۖ وَإِنْ أَدْرِ‌ي أَقَرِ‌يبٌ أَم بَعِيدٌ مَّا تُوعَدُونَ ﴿١٠٩﴾
پھر اگر یہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ میں نے تمہیں یکساں طور پر خبردار کر دیا ہے۔ (١) مجھے علم نہیں کہ جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور۔ (٢)
١٠٩۔١ یعنی جس طرح میں جانتا ہوں کہ تم میری دعوت توحید و اسلام سے منہ موڑ کر میرے دشمن ہو، اسی طرح تمہیں بھی معلوم ہونا چاہیے کہ میں بھی تمہارا دشمن ہوں اور ہماری تمہاری آپس میں کھلی جنگ ہے۔
١٠٩۔٢ اس وعدے سے مراد قیامت ہے یا غلبہ اسلام و مسلمین کا وعدہ یا وہ وعدہ جب اللہ کی طرف سے تمہارے خلاف جنگ کرنے کی مجھے اجازت دی جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ‌ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ ﴿١١٠﴾
البتہ اللہ تعالیٰ تو کھلی اور ظاہر بات کو بھی جانتا ہے اور جو تم چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔

وَإِنْ أَدْرِ‌ي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ﴿١١١﴾
مجھے اس کا بھی علم نہیں، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک مقرر وقت تک کا فائدہ (پہنچانا) ہے۔

قَالَ رَ‌بِّ احْكُم بِالْحَقِّ ۗ وَرَ‌بُّنَا الرَّ‌حْمَـٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ﴿١١٢﴾
خود نبی نے کہا (١) اے رب! انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے ان باتوں پر جو تم بیان کرتے ہو۔ (٢)
١١٢۔١ یعنی اس وعدہ الٰہی میں تاخیر، میں نہیں جانتا کہ تمہاری آزمائش کے لئے ہے یا ایک خاص وقت تک فائدہ اٹھانے کے لئے مہلت دینا ہے۔
١١٢۔٢ یعنی میری بابت جو تم مختلف باتیں کرتے رہتے ہو، یا اللہ کے لئے اولاد ٹھہراتے ہو، ان سب باتوں کے مقابلے میں وہ رب ہی مہربانی کرنے والا اور وہی مدد کرنے والا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الحج

(سورة الحج مدنی ہے اور اس کی اٹھتر آیتیں اور دس رکوع ہیں۔)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سب سے زیادہ مہربان بہت رحم والے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَ‌بَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ ﴿١﴾
لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔

يَوْمَ تَرَ‌وْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْ‌ضِعَةٍ عَمَّا أَرْ‌ضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَ‌ى النَّاسَ سُكَارَ‌ىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَ‌ىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ ﴿٢﴾
جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش، دکھائی دیں گے، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (١)
٢۔١ آیت مذکورہ میں جس زلزلے کا ذکر ہے، جس کے نتائج دوسری آیت میں بتلائے گئے ہیں۔ جس کا مطلب لوگوں پر سخت خوف، دہشت اور گھبراہٹ کا طاری ہونا، یہ قیامت سے قبل ہو گا اور اس کے ساتھ دنیا فنا ہو جائے گی۔ یا یہ قیامت کے بعد اس وقت ہو گا جب قبروں سے اٹھ کر میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ بہت سے مفسرین پہلی رائے کے قائل ہیں۔
جبکہ بعض مفسرین دوسری رائے کے اور اس کی تائید میں وہ احادیث پیش کرتے ہیں مثلا اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو حکم دے گا کہ وہ اپنی ذریت میں سے ہزار میں ۹۹۹ جہنم کے لیے نکال دے۔ یہ بات سن کر حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے، بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور لوگ مدہوش سے نظر آئیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے، صرف عذاب کی شدت ہو گی۔ یہ بات صحابہ رضی اللہ عنہم پر بڑی گراں گزری، ان کے چہرے متغیر ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا، (گھبراؤ نہیں) یہ ۹۹۹ یاجوج و ماجوج میں سے ہوں گے اور تم میں سے صرف ایک ہو گا۔ تمہاری (تعداد) لوگوں میں اس طرح ہو گی جیسے سفید رنگ کے بیل کے پہلو میں، کالے بال یا کالے رنگ کے بیل کے پہلو میں سفید بال ہوں۔ اور مجھے امید ہے کہ اہل جنت میں تم چوتھائی، یا تہائی یا نصف ہو گے، جسے سن کر صحابہ کرام رضی عنہم نے بطور مسرت کے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا (صحیح بخاری تفسیر سورۃ الحج) پہلی رائے بھی بے وزن نہیں ہے۔ بعض ضعیف احادیث سے ان کی بھی تائید ہوتی ہے۔ اس لئے زلزلہ اور اس کی کیفیات سے مراد اگر فزع اور ہولناکی کی شدت ہے (اور بظاہر یہی ہے) تو سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی یہ کیفیت دونوں موقعوں پر ہی ہو گی۔ اس لیے دونوں ہی رائیں صحیح ہو سکتی ہیں، کیونکہ دونوں موقعوں پر لوگوں کی کیفیت ایسی ہو گی، جیسی اس آیت میں اور صحیح بخاری کی روایت میں بیان کی گئی ہے۔
 
Top