• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ أَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قُرُ‌ونًا آخَرِ‌ينَ ﴿٤٢﴾
ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں۔ (١)
٤٢۔١ اس سے مراد حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام کی قومیں ہیں۔ کیونکہ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں اسی ترتیب سے ان کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بعض کے نزدیک بنو اسرائیل مراد ہیں۔ قرون، قرن کی جمع ہے اور یہاں بمعنی امت استعمال ہوا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا تَسْبِقُ مِنْ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسْتَأْخِرُ‌ونَ ﴿٤٣﴾
نہ تو کوئی امت اپنے وقت مقرہ سے آگے بڑھی اور نہ پیچھے رہی۔ (١)
٤٣۔١ یعنی سب امتیں بھی قوم نوح اور عاد کی طرح، جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو تباہ اور برباد ہو گئیں، ایک لمحہ آگے پیچھے نہ ہوئیں۔ جیسے فرمایا ﴿إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلا يَسْتَقْدِمُونَ﴾ (یونس: ۴۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ أَرْ‌سَلْنَا رُ‌سُلَنَا تَتْرَ‌ىٰ ۖ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّ‌سُولُهَا كَذَّبُوهُ ۚ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ ﴿٤٤﴾
پھر ہم نے لگاتار رسول بھیجے (١) جب جب جس امت کے پاس اس کا رسول آیا اس نے جھٹلایا، پس ہم نے ایک کو دوسرے کے پیچھے لگا دیا (٢) اور انہیں افسانہ (٣) بنا دیا۔ ان لوگوں کو دوری ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے۔
٤٤۔١ تَتْرَا کے معنی ہیں یکے بعد دیگرے، متواتر، لگا تار۔
٤٤۔٢ ہلاکت و بربادی میں۔ یعنی جس طرح یکے بعد دیگرے رسول آئے، اسی طرح تکذیب رسالت پر یہ قومیں یکے بعد دیگرے، عذاب سے دوچار ہو کر ہست سے نیست ہوتی رہیں۔
٤٤۔٣ جس طرح اَعَاجِیْبُ، اُعْجُوبَۃ کی جمع ہے (تعجب انگیز چیز یا بات) اسی طرح اَحَادیْثُ اُحْدُوْثَۃ کی جمع ہے بمعنی زبان زد خلائق واقعات و قصص۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ أَرْ‌سَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُ‌ونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿٤٥﴾
پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل (١) کے ساتھ بھیجا۔
٤٥۔١ آیات سے مراد وہ نو آیات ہیں، جن کا ذکر سورہ اعراف میں ہے، جن کی وضاحت گزر چکی ہے اور سُلْطَانٍ مُبِیْنٍ سے مراد حجت واضحہ اور دلیل و برہان ہے، جس کا کوئی جواب فرعون اور اس کے درباریوں سے نہ بن پڑا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاسْتَكْبَرُ‌وا وَكَانُوا قَوْمًا عَالِينَ ﴿٤٦﴾
فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وہ سرکش لوگ۔ (١)
٤٦۔١ استکبار اور اپنے کو بڑا سمجھنا، اس کی بنیادی وجہ بھی وہی عقیدہ آخرت سے انکار اور اسباب دنیا کی فروانی ہی تھی، جس کا ذکر پچھلی قوموں کے واقعات میں گزرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَ‌يْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ ﴿٤٧﴾
کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان لائیں؟ حالانکہ خود ان کی قوم (بھی) ہمارے ماتحت (١) ہے۔
٤٧۔١ یہاں بھی انکار کے لیے دلیل انہوں نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی "بشریت" ہی پیش کی اور اسی بشریت کی تاکید کے لیے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اسی قوم کے افراد ہیں جو ہماری غلام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ ﴿٤٨﴾
پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا آخر وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں مل گئے۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ﴿٤٩﴾
ہم نے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (بھی) دی کہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔ (١)
٤٩۔١ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات، فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد دی گئی۔ اور نزول تورات کے بعد اللہ نے کسی قوم کو عذاب عام سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ مومنوں کو حکم دیا جاتا رہا کہ وہ کافروں سے جہاد کریں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْ‌يَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَ‌بْوَةٍ ذَاتِ قَرَ‌ارٍ‌ وَمَعِينٍ ﴿٥٠﴾
ہم نے ابن مریم اور اس کی والدہ کو ایک نشانی بنایا (١) اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی (٢) والی جگہ میں پناہ دی۔
٥٠۔١ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بغیر باپ کے ہوئی، جو رب کی قدرت کی ایک نشانی ہے، جس طرح آدم علیہ السلام کو بغیر ماں اور باپ کے اور ہوا کو بغیر مادہ کے حضرت آدم علیہ السلام سے اور دیگر تمام انسانوں کو ماں اور باپ سے پیدا کرنا اس کی نشانیوں میں سے ہے۔
٥٠۔٢ رَبْوَۃٍ (بلند جگہ) سے بیت المقدس اور مَعِیْنٍ (چشمہ جاری) سے وہ چشمہ مراد ہے جو ایک قول کے مطابق ولادت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت اللہ نے بطور خرق عادت، حضرت مریم کے پیروں کے نیچے سے جاری فرمایا تھا۔ جیسا کہ سورہ مریم میں گزرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الرُّ‌سُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ﴿٥١﴾
اے پیغمبر! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو (١) تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔
٥١۔١ طَيِّبَاتٌ‌ سے مراد پاکیزہ اور لذت بخش چیزیں ہیں، بعض نے اس کا ترجمہ حلال چیزیں کیا ہے۔ دونوں ہی اپنی جگہ صحیح ہیں کیونکہ ہر پاکیزہ چیز اللہ نے حلال قرار دی ہے اور ہر حلال چیز پاکیزہ اور لذت بخش ہے۔ خبائث کو اللہ نے اسی لئے حرام کیا ہے کہ وہ اثرات و نتائج کے لحاظ سے پاکیزہ نہیں ہیں۔ گو خبائث خور قوموں کو اپنے ماحول اور عادت کی وجہ سے ان میں ایک گونہ لذت ہی محسوس ہوتی ہو۔ عمل صالح وہ ہے جو شریعت یعنی قرآن و حدیث کے موافق ہو، نہ کہ وہ جسے لوگ اچھا سمجھیں کیوں کہ لوگوں کو تو بدعات بھی بہت اچھی لگتی ہیں بلکہ اہل بدعت کے ہاں جتنا اہتمام بدعات کا ہے، اتنا فرائض اسلام اور سنن و مستحبات کا بھی نہیں ہے۔ اکل حلال کے ساتھ عمل صالح کی تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ ایک دوسر کے معاون ہیں۔ اکل حلال سے عمل صالح آسان اور عمل صالح انسان کو اکل حلال پر آمادہ اور اسی پر قناعت کرنے کا سبق دیتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے تمام پیغمبروں کو ان دونوں باتوں کا حکم دیا۔ چنانچہ تمام پیغمبر محنت کر کے حلال روزی کمانے اور کھانے کا اہتمام کرتے رہے، جس طرح حضرت داود عليہ السلام کے بارے میں آتا ہے كَانَ يَأْكُلُ مِنْ كَسْبِ يَدِهِ (صحیح بخاری، کتاب البیوع باب کسب الرجل وعمله بیده) ”کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے“ اور نبی ﷺ نے فرمایا "ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں، میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قراریط کے عوض چراتا رہا ہوں"۔ (صحیح بخاری، کتاب الاجارة، باب رعی الغنم علی قراریط) آج کل بلیک میلروں، سمگلروں، رشوت و سود خوروں اور دیگر حرام خوروں نے محنت کرکے حلال روزی کھانے والوں کو حقیر اور پست طبقہ بنا کر رکھ دیا ہے دراں حالیکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں حرام خوروں کے لئے عزت و شرف کا کوئی مقام نہیں، چاہے وہ قارون کے خزانوں کے مالک ہوں، احترام و تکریم کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جو محنت کرکے حلال کی روزی کھاتے ہیں چاہے روکھی سوکھی ہی ہو۔ اس لئے نبی ﷺ نے اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ حرام کمائی والے کا صدقہ قبول فرماتا ہے نہ ہی اس کی دعا“۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب قبول الصدقة من الکسب الطیب)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاتَّقُونِ ﴿٥٢﴾
یقیناً تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے (١) اور میں ہی تم سب کا رب ہوں، پس تم مجھ سے ڈرتے رہو۔
٥٢۔١ اُمَّۃ سے مراد دین ہے، اور ایک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سب انبیاء نے ایک اللہ کی عبادت ہی کی دعوت پیش کی ہے۔ لیکن لوگ دین توحید چھوڑ کر الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنے عقیدہ و عمل پر خوش ہے، چاہے وہ حق سے کتنا بھی دور ہو۔
 
Top