• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَتَقَطَّعُوا أَمْرَ‌هُم بَيْنَهُمْ زُبُرً‌ا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِ‌حُونَ ﴿٥٣﴾
پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لئے، ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر اترا رہا ہے۔

فَذَرْ‌هُمْ فِي غَمْرَ‌تِهِمْ حَتَّىٰ حِينٍ ﴿٥٤﴾
پس آپ (بھی) انہیں ان کی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں۔ (۲)
٥٤۔١ غَمرَةِِ، ماء کثیر کو کہتے ہیں جو زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عُمرۃ سے مراد حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور تہدید ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ ﴿٥٥﴾
کیا یہ (یوں) سمجھ بیٹھے ہیں؟ کہ ہم جو بھی ان کے مال و اولاد بڑھا رہے ہیں۔

نُسَارِ‌عُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَ‌اتِ ۚ بَل لَّا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿٥٦﴾
وہ ان کے لئے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں۔

إِنَّ الَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَ‌بِّهِم مُّشْفِقُونَ ﴿٥٧﴾
یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔

وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِ رَ‌بِّهِمْ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٨﴾
یقیناً جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

وَالَّذِينَ هُم بِرَ‌بِّهِمْ لَا يُشْرِ‌كُونَ ﴿٥٩﴾
اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔

وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَ‌بِّهِمْ رَ‌اجِعُونَ ﴿٦٠﴾
اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (١)
٦٠۔١ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن اللہ سے ڈرتے ہیں کہ کسی کوتاہی کی وجہ سے ہمارا عمل یا صدقہ نامقبول قرار نہ پائے۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا "ڈرنے والے کون ہیں؟ وہ جو شراب پیتے، بدکاری کرتے اور چوریاں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ نامقبول نہ ٹھہریں"۔ (ترمذی تفسیر سورہ المومنون۔ مسند احمد ٦۔١٩٥۔١٦٠)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أُولَـٰئِكَ يُسَارِ‌عُونَ فِي الْخَيْرَ‌اتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ ﴿٦١﴾
یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں۔

وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنطِقُ بِالْحَقِّ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ‎﴿٦٢﴾
ہم کسی نفس کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، (١) اور ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، ان کے اوپر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔
٦٢۔١ ایسی ہی آیت سورہ بقرہ کے آخر میں گزر چکی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَلْ قُلُوبُهُمْ فِي غَمْرَ‌ةٍ مِّنْ هَـٰذَا وَلَهُمْ أَعْمَالٌ مِّن دُونِ ذَٰلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ ﴿٦٣﴾
بلکہ ان کے دل اس طرف سے غفلت میں ہیں اور ان کے لئے اس کے سوا بھی بہت سے اعمال ہیں (١) جنہیں وہ کرنے والے ہیں۔
٦٣۔١ یعنی شرک کے علاوہ دیگر کبائر یا وہ اعمال مراد ہیں، جو مومنوں کے اعمال (خشیت الٰہی، ایمان با توحید وغیرہ) کے برعکس ہیں۔ تاہم مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حَتَّىٰ إِذَا أَخَذْنَا مُتْرَ‌فِيهِم بِالْعَذَابِ إِذَا هُمْ يَجْأَرُ‌ونَ ﴿٦٤﴾
یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے آسودہ حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیا (١) تو بلبلانے لگے۔
٦٤۔١ مُترَفِین سے مراد آسودہ حال (متنعمین) ہیں۔ عذاب تو آسودہ اور غیر آسودہ حال دونوں کو ہی ہوتا ہے۔ لیکن آسودہ حال لوگوں کا نام خصوصی طور پر شاید اس لئے لیا گیا کہ قوم کی قیادت بالعموم انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، وہ جس طرف چاہیں قوم کا رخ پھیر سکتے ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کا راستۃ اختیار کریں اور اس پر ڈٹے رہیں تو انہی کی دیکھا دیکھی قوم بھی ٹس سے مس نہیں ہوتی اور توبہ و ندامت کی طرف نہیں آتی۔ یہاں مترفین سے مراد وہ کفار ہیں، جنہیں مال و دولت کی فراوانی اور اولاد و احفاد سے نواز کر مہلت دی گئی۔ جس طرح کہ چند آیات قبل ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ یا مراد چودھری اور سردار قسم کے لوگ ہیں۔ اور عذاب سے مراد اگر دنیاوی ہے، تو جنگ بدر میں کفار مکہ مارے گئے بلکہ نبی ﷺ کی بد دعا کے نتیجے میں بھوک اور قحط سالی کا عذاب مسلط ہوا تھا، وہ مراد ہے یا پھر مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مگر یہ سیاق سے بعید ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَا تَجْأَرُ‌وا الْيَوْمَ ۖ إِنَّكُم مِّنَّا لَا تُنصَرُ‌ونَ ﴿٦٥﴾
آج مت بلبلاؤ یقیناً تم ہمارے مقابلہ پر مدد نہ کئے جاؤ گے۔ (١)
٦٥۔١ یعنی دنیا میں عذاب الٰہی سے دوچار ہو جانے کے بعد کوئی چیخ پکار اور جزع فزع انہیں اللہ کی گرفت سے چھڑا نہیں سکتی۔ اسی طرح عذاب آخرت سے بھی انہیں چھڑانے والا یا مدد کرنے والا، کوئی نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَدْ كَانَتْ آيَاتِي تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَكُنتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ تَنكِصُونَ ﴿٦٦﴾
میری آیتیں تو تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں (١) پھر بھی تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے۔ (٢)
٦٦۔١ یعنی قرآن مجید یا کلام الٰہی، جن میں پیغمبر کے فرمودات بھی شامل ہیں۔
٦٦۔٢ نُکُوص کے معنی ہیں رَجعَت قَھقَرَیٰ (الٹے پاؤں لوٹنا) لیکن بطور استعارہ اعراض اور روگردانی کے معنی و مفہوم میں استمعمال ہوتا ہے۔ یعنی آیات و احکام الٰہی سن کر تم منہ پھیر لیتے تھے اور ان سے بھا گتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مُسْتَكْبِرِ‌ينَ بِهِ سَامِرً‌ا تَهْجُرُ‌ونَ ﴿٦٧﴾
اکڑتے اینٹھتے (١) افسانہ گوئی کرتے اسے چھوڑ دیتے تھے۔ (٢)
٦٧۔١ به کا مرجع جمہور مفسرین نے ”البَیتُ العَتِیق“ (خانہ کعبہ) یا حرم لیا ہے۔ یعنی انہیں اپنی تولیت خانہ کعبہ اور اس کا خادم و نگران ہونے کا جو غرہ تھا، اس کی بنا پر آیات الٰہی کا انکار کیا اور بعض نے اس کا مرجع قرآن کو بنایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل میں کبر و نخوت پیدا ہو جاتی جو انہیں قرآن پر ایمان لانے سے روک دیتی۔
٦٧۔٢ سَمَر کے معنی ہیں رات کی گفتگو یہاں اس کے معنی خاص طور پر ان باتوں کے ہیں جو قرآن کریم اور نبی ﷺ کے بارے میں وہ کرتے تھے اور اس کی بنا پر وہ حق کی بات سننے اور قبول کرنے سے انکار کر دیتے یعنی چھوڑ دیتے۔ اور بعض نے ہجر کے معنی ہذیان گوئی اور بعض نے فحش گوئی کے کئے ہیں۔ یعنی راتوں کی گفتگو میں تم قرآن کی شان میں ہذیان بکتے ہو یا بے ہودہ اور فحش باتیں کرتے ہو جن میں کوئی بھلائی نہیں۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَلَمْ يَدَّبَّرُ‌وا الْقَوْلَ أَمْ جَاءَهُم مَّا لَمْ يَأْتِ آبَاءَهُمُ الْأَوَّلِينَ ﴿٦٨﴾
کیا انہوں نے اس بات میں غور و فکر ہی نہیں کیا؟ (١) بلکہ ان کے پاس وہ آیا جو ان کے اگلے باپ دادوں کے پاس نہیں آیا تھا؟ (٢)
٦٨۔١ بات سے مراد قرآن کریم ہے۔ یعنی اس میں غور کر لیتے تو انہیں اس پر ایمان لانے کی توفیق نصیب ہو جاتی۔
٦٨۔٢ یہ أَم منقطعہ یا انتقالیہ یعنی بل کے معنی میں ہے، یعنی ان کے پاس وہ دین اور شریعت آئی ہے جس سے ان کے آبا و اجداد، زمانہ جاہلیت میں محروم رہے۔ جس پر انہیں اللہ کا شکر ادا کرنا اور دین اسلام کو قبول کر لینا چاہیے تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ لَمْ يَعْرِ‌فُوا رَ‌سُولَهُمْ فَهُمْ لَهُ مُنكِرُ‌ونَ ﴿٦٩﴾
یا انہوں نے اپنے پیغمبر کو پہچانا نہیں کہ اس کے منکر ہو رہے ہیں۔ (١)
٦٩۔١ یہ بطور توبیخ کے ہے، کیونکہ وہ پیغمبر کے نسب، خاندان اور اسی طرح اس کی صداقت و امانت، راست بازی اور اخلاق و کردار کی بلندی کو جانتے تھے اور اس کا اعتراف کرتے تھے۔
 
Top