- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿٥٣﴾
پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لئے، ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر اترا رہا ہے۔
فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ حَتَّىٰ حِينٍ ﴿٥٤﴾
پس آپ (بھی) انہیں ان کی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں۔ (۲)
٥٤۔١ غَمرَةِِ، ماء کثیر کو کہتے ہیں جو زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عُمرۃ سے مراد حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور تہدید ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔
پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لئے، ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر اترا رہا ہے۔
فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ حَتَّىٰ حِينٍ ﴿٥٤﴾
پس آپ (بھی) انہیں ان کی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں۔ (۲)
٥٤۔١ غَمرَةِِ، ماء کثیر کو کہتے ہیں جو زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ گمراہی کی تاریکیاں بھی اتنی گمبھیر ہوتی ہیں کہ اس میں گھرے ہوئے انسان کی نظروں سے حق اوجھل ہی رہتا ہے عُمرۃ سے مراد حیرت، غفلت اور ضلالت ہے۔ آیت میں بطور تہدید ان کو چھوڑنے کا حکم ہے، مقصود وعظ و نصیحت سے روکنا نہیں ہے۔