• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّ‌بًا لِّيَرْ‌بُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْ‌بُو عِندَ اللَّـهِ ۖ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِ‌يدُونَ وَجْهَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ﴿٣٩﴾
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ (١) اور جو کچھ صدقہ زکوٰۃ تم اللہ تعالیٰ کا منہ دیکھنے (اور خوشنودی کے لیے) دو تو ایسے لوگ ہی ہیں اپنا دوچند کرنے والے ہیں۔ (٢)
٣٩۔١ یعنی سود سے بظاہر اضافہ معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی نحوست بالآخر دنیا و آخرت میں تباہی کا باعث ہے۔ حضرت ابن عباس اور متعدد صحابہ و تابعین رضی الله عنہم نےاس آیت میں ربا سے مراد سود (بیاج) نہیں، بلکہ وہ ہدیہ اور تحفہ لیا ہے جو کوئی غریب آدمی کسی مالدار کو یا رعایا کا کوئی فرد بادشاہ یا حکمران کو اور ایک خادم اپنے مخدوم کو اس نیت سے دیتا ہے کہ وہ اس کے بدلے میں مجھے اس سے زیادہ دے گا۔ اسے ”ربا“ سے اس لیے تعبیرکیا گیا ہے کہ دیتے وقت اس میں زیادتی کی نیت ہوتی ہے۔ یہ اگرچہ مباح ہے تاہم اللہ کے ہاں اس پر اجر نہیں ملے گا، ﴿فَلا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ﴾ سے اسی اخروی اجر کی نفی ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہو گا جو تم عطیہ دو، اس نیت سے کہ واپسی کی صورت میں زیادہ ملے، پس اللہ کے ہاں اس کا ثواب نہیں۔ (ابن کثیر، ایسر التفاسیر)۔
٣٩۔٢ زکوٰۃ و صدقات سے ایک تو روحانی و معنوی اضافہ ہوتا ہے یعنی بقیہ مال میں اللہ کی طرف سے برکت ڈال دی جاتی ہے۔ دوسرے، قیامت والے دن اس کا اجر و ثواب کئی کئی گنا ملے گا، جس طرح حدیث میں ہے کہ حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بڑھ بڑھ کر احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گا۔ (صحیح مسلم،کتاب الزکوٰۃ)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَ‌زَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۖ هَلْ مِن شُرَ‌كَائِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَيْءٍ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ ﴿٤٠﴾
اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زندہ کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں۔

ظَهَرَ‌ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿٤١﴾
خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔ (١)
٤١۔١ خشکی سے مراد، انسانی آبادیاں اور تری سے مراد سمندر، سمندری راستے اور ساحلی آبادیاں ہیں۔ فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہے جس سے انسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن و سکون تہ و بالا اور ان کے عیش و آرام میں خلل واقع ہو۔ اس لیے اس کا اطلاق معاصی و سیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں، اللہ کی حدوں کو پامال اور اخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل و خونریزی عام ہو گئی ہے اور ان ارضی و سماوی آفات پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے۔ جو اللہ کی طرف سے بطور سزا و تنبیہ نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط، کثرت موت، خوف اور سیلاب وغیرہ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی نافرمانیوں کو اپنا وطیرہ بنا لیں تو پھر مکافات عمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے اعمال و کردار کا رخ برائیوں کی طرف پھر جاتا ہےاور زمین فساد سے بھر جاتی ہے امن و سکون ختم اور اس کی جگہ خوف و دہشت، سلب و نہب اور قتل و غارت گری عام ہو جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض دفعہ آفات ارضی و سماوی کا بھی نزول ہوتا ہے۔ مقصد اس سے یہی ہوتا ہے کہ اس عام بگاڑ یا آفات الہیہٰ کو دیکھ کر شاید لوگ گناہوں سے باز آ جائیں، توبہ، کر لیں اور ان کا رجوع اللہ کی طرف ہو جائے۔ اس کے برعکس جس معاشرے کا نظام اطاعت الٰہی پر قائم ہو اور اللہ کی حدیں نافذ ہوں، ظلم کی جگہ عدل کا دور دورہ ہو۔ وہاں امن و سکون اور اللہ کی طرف سے خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے۔ جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے زمین میں اللہ کی ایک حد کا قائم کرنا، وہاں کے انسانوں کے لیے چالیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ (النسائی، كتاب قطع يد السارق، باب الترغيب في إقامة الحد - وابن ماجہ) اسی طرح یہ حدیث ہے کہ جب ایک بدکار (فاجر) آدمی فوت ہو جاتا ہے تو بندے ہی اس سے راحت محسوس نہیں کرتے شہر بھی اور درخت اور جانور بھی آرام پاتے ہیں۔ (صحيح بخاری، كتاب الرقاق، باب سكرات الموت- مسلم، كتاب الجنائز، باب ما جاء في مستريح ومستراح منه)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ سِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَانظُرُ‌وا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُ‌هُم مُّشْرِ‌كِينَ ﴿٤٢﴾
زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اگلوں کا انجام کیا ہوا۔ جن میں اکثر لوگ مشرک تھے۔ (١)
٤٢۔١ شرک کا خاص طور پر ذکر کیا، کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ علاوہ ازیں اس میں دیگر سیئات و معاصی بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ ان کا ارتکاب بھی انسان اپنے نفس کی بندگی ہی اختیار کرکے، کرتا ہے، اسی لیے اسے بعض لوگ عملی شرک سے تعبیر کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَ‌دَّ لَهُ مِنَ اللَّـهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ ﴿٤٣﴾
پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں، (١) اس دن سب متفرق (٢) ہو جائیں گے۔
٤٣۔١ یعنی اس دن کے آنے کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس لیے اس دن (قیامت) کے آنے سے پہلے پہلے اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کر لیں اور نیکیوں سے اپنا دامن بھر لیں۔
٤٣۔٢ یعنی دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے، ایک مومنوں کا دوسرا کافروں کا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَن كَفَرَ‌ فَعَلَيْهِ كُفْرُ‌هُ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ ﴿٤٤﴾
کفر کرنے والوں پر ان کے کفر کا وبال ہو گا اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاہ سنوار رہے ہیں۔ (۱)
٤٤۔١ مَهْدٌ کے معنی ہیں راستہ ہموار کرنا، فرش بچھانا، یعنی یہ عمل صالح کے ذریعے سے جنت میں جانے اور وہاں اعلیٰ منازل حاصل کرنے کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِن فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿٤٥﴾
تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان لائے اور نیک (١) اعمال کیے وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔
٤٥۔١ یعنی محض نیکیاں دخول جنت کے لیے کافی نہیں ہوں گی، جب تک ان کے ساتھ اللہ کا فضل بھی شامل حال نہ ہو گا۔ پس وہ اپنے فضل سے ایک ایک نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے زیادہ بھی دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْ‌سِلَ الرِّ‌يَاحَ مُبَشِّرَ‌اتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّ‌حْمَتِهِ وَلِتَجْرِ‌يَ الْفُلْكُ بِأَمْرِ‌هِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿٤٦﴾
اس کی نشانیوں میں سے خوشخبریاں دینے والی (١) ہواؤں کو چلانا بھی ہے اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے، (٢) اور اس لیے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں (۳) اور اس لیے کہ اس کے فضل کو تم ڈھونڈو (٤) اور اس لیے کہ تم شکر گزاری کرو۔ (۵)
٤٦۔١ یعنی یہ ہوائیں بارش کی پیامبر ہوتی ہیں۔
٤٦۔٢ یعنی بارش سے انسان بھی لذت و سرور محسوس کرتا ہے اور فصلیں بھی لہلا اٹھتی ہیں۔
٤٦۔۳ یعنی ان ہواؤں کے ذریعے سے کشتیاں بھی چلتی ہیں۔ مراد بادبانی کشتیاں ہیں۔ اب انسان نے اللہ کی دی ہوئی دماغی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال سے دوسری کشتیاں اور جہاز ایجاد کر لیے ہیں جو مشینوں کے ذریعے سے چلتے ہیں۔ تاہم ان کے لیے بھی موافق اور مناسب ہوائیں ضروری ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی طوفانی موجوں کے ذریعے سے غرق آب کر دینے پر قادر ہے۔
٤٦۔٤ یعنی ان کے ذریعے سے مختلف ممالک میں آجا کر تجارت و کاروبار کرکے۔
٤٦۔۵ ان ظاہری و باطنی نعمتوں پر، جن کا کوئی شمار ہی نہیں۔ یعنی یہ ساری سہولتیں اللہ تعالیٰ تمہیں اس لیے بہم پہنچاتا ہے کہ تم اپنی زندگی میں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اللہ کی بندگی و اطاعت بھی کرو!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُ‌سُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَ‌مُوا ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ‌ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٤٧﴾
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس دلیلیں لائے۔ پھر ہم نے گناہ گاروں سے انتقام لیا۔ ہم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہے۔ (١)
٤٧۔١ یعنی اے محمد! ﷺ جس طرح ہم نے آپ کو رسول بنا کر آپ کی قوم کی طرف بھیجا ہے، اسی طرح آپ سے پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے، ان کےساتھ دلائل اور معجزات بھی تھے، لیکن قوموں نے ان کی تکذیب کی، ان پر ایمان نہیں لائے، بالآخر ان کےاس جرم تکذیب اور ارتکاب معصیت پر ہم نے انہیں اپنی سزا و تعزیر کا نشانہ بنایا اور اہل ایمان کی نصرت و تائید کی جو ہم پر لازم ہے۔ یہ گویا نبی ﷺ اور ان پر ایمان لانے والے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار و مشرکین کی روش تکذیب سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر نبی کے ساتھ اس کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ نیز کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان کا حشر بھی وہی ہو گا جو گزشتہ قوموں کا ہو چکا ہے۔ کیونکہ اللہ کی مدد تو بالآخر مومنوں ہی کو حاصل ہو گی، جس میں پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے سب شامل ہیں۔ حَقًّا کان کی خبر ہے، جو مقدم ہے نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ اس کا اسم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ الَّذِي يُرْ‌سِلُ الرِّ‌يَاحَ فَتُثِيرُ‌ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَ‌ى الْوَدْقَ يَخْرُ‌جُ مِنْ خِلَالِهِ ۖ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُ‌ونَ ﴿٤٨﴾
اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وہ ابر کو اٹھاتی ہیں (١) پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے (٢) اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے (٣) پھر آپ دیکھتے ہیں اس کے اندر سے قطرے نکلتے ہیں، (٤) اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر وہ پانی برساتا ہے تو وہ خوش خوش ہو جاتے ہیں۔
٤٨۔١ یعنی وہ بادل جہاں بھی ہوتے ہیں، وہاں سے ہوائیں ان کو اٹھا کر لے جاتی ہیں۔
٤٨۔٢ کبھی چلا کر، کبھی ٹھہرا کر، کبھی تہ بہ تہ کرکے، کبھی دور دراز تک۔ یہ آسمان پر بادلوں کی مختلف کیفیتیں ہوتی ہیں۔
٤٨۔٣ یعنی ان کو آسمان پر پھیلانے کے بعد، کبھی ان کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔
٤٨۔٤ وَدْقٌ کے معنی بارش کے ہیں، یعنی ان بادلوں سے اللہ اگر چاہتا ہے تو بارش ہو جاتی ہے، جس سے بارش کے ضرورت مند خوش ہو جاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِن كَانُوا مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْهِم مِّن قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ ﴿٤٩﴾
یقین ماننا کہ بارش ان پر برسنے سے پہلے پہلے تو وہ نا امید ہو رہے تھے۔

فَانظُرْ‌ إِلَىٰ آثَارِ‌ رَ‌حْمَتِ اللَّـهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْ‌ضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٥٠﴾
پس آپ رحمت الٰہی کے آثار دیکھیں کہ زمین کی موت کے بعد کس طرح اللہ تعالیٰ اسے زندہ کر دیتا ہے؟ کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، (١) اور وہ ہر ہر چیز پر قادر ہے۔
٥٠۔١ آثار رحمت سے مراد وہ غلہ جات اور میوے ہیں جو بارش سے پیدا ہوتے اور خوش حالی و فراغت کا باعث ہوتے ہیں۔ دیکھنے سے مراد نظر عبرت سے دیکھنا ہے تاکہ انسان اللہ کی قدرت کا اور اس بات کا قائل ہو جائے کہ وہ قیامت والے دن اسی طرح مردوں کو زندہ فرما دے گا۔
 
Top