• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ ﴿٨﴾
ہم نے انکی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وہ ٹھوڑیوں تک ہیں، جس سے انکے سر اوپر الٹ گئے ہیں۔ (١)
٨۔١ جس کی وجہ سے وہ ادھر ادھر دیکھ سکتے ہیں، نہ سر جھکا سکتے ہیں، بلکہ وہ سر اوپر اٹھائے اور نگاہیں نیچی کیے ہوئے ہیں۔ یہ ان کے عدم قبول حق کی اور عدم انفاق کی تمثیل ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان کی سزائے جہنم کی کیفیت کا بیان ہو۔ (ایسرالتفاسیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُ‌ونَ ﴿٩﴾
اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کر دی اور ایک آڑ ان کے پیچھے کر دی، (١) جس سے ہم نے ان کو ڈھانک دیا (٢) سو وہ نہیں دیکھ سکتے۔
٩۔١ یعنی دنیا کی زندگی ان کے لیے مزین کر دی گئی، یہ گویا ان کے سامنے کی آڑ ہے، جس کی وجہ سے وہ لذائذ دنیا کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتے اور یہی چیز ان کے اور ایمان کے درمیان مانع اور حجاب ہے اور آخر کا تصور ان کے ذہنوں میں ناممکن الوقوع کر دیا گیا، یہ گویا ان کے پیچھے کی آڑ ہے جس کی وجہ سے وہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں، کیونکہ آخرت کا کوئی خوف ہی ان کے دلوں میں نہیں ہے۔
۹۔۲ یا ان کی آنکھوں کو ڈھانک دیا یعنی رسول ﷺ سے عداوت اور اس کی دعوت حق سے نفرت نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی، یا انہیں اندھا کر دیا ہے جس سے وہ دیکھ نہیں سکتے۔ یہ ان کے حال کی دوسری تمثیل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَسَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْ‌تَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْ‌هُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿١٠﴾
اور آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں دونوں برابر ہیں، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
١٠۔١ یعنی جو اپنے کرتوتوں کی وجہ سے گمراہی کے اس مقام پر پہنچ جائیں، ان کے لیے انذار بے فائدہ رہتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا تُنذِرُ‌ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ‌ وَخَشِيَ الرَّ‌حْمَـٰنَ بِالْغَيْبِ ۖ فَبَشِّرْ‌هُ بِمَغْفِرَ‌ةٍ وَأَجْرٍ‌ كَرِ‌يمٍ ﴿١١﴾
بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں (١) جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے بے دیکھے ڈرے، سو آپ اس کو مغفرت اور باوقار اجر کی خوش خبریاں سنا دیجئے۔
١١۔١ یعنی انذار سے صرف اس کو فائدہ پہنچتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَ‌هُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ ﴿١٢﴾
بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے، (١) اور ہم لکھتے جاتے ہیں اور وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں (٢) اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے۔ (٣)
١٢۔١ یعنی قیامت والے دن۔ یہاں احیائے موتیٰ کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں میں سے جس کا دل چاہتا ہے، زندہ کر دیتا ہے جو کفر و ضلالت کی وجہ سے مردہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ پس وہ ہدایت اور ایمان کو اپنا لیتے ہیں۔
١٢۔٢ مَا قَدَّمُوا سے وہ اعمال مراد ہیں جو انسان خود اپنی زندگی میں کرتا ہے اور آثَارَهُمْ سے وہ اعمال جن کے عملی نمونے (اچھے یا برے) وہ دنیا میں چھوڑ جاتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی اقتدا میں لوگ وہ اعمال بجا لاتے ہیں۔ جس طرح حدیث میں ہے ”جس نےاسلام میں کوئی نیک طریقہ جاری کیا، اس کے لیے اس کا اجر بھی ہے اور اس کا بھی ہے جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا۔ بغیر اس کے کہ ان میں سے کسی کے اجر میں کمی ہو اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا، اس پر اس کے اپنے گناہ کا بھی بوجھ ہو گا اور اس کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا، بغیر اس کے کہ ان میں کسی کے بوجھ میں کمی ہو“۔ (صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب الحث على الصدقة ولو بشق تمرة) اسی طرح یہ حدیث ہے ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ سوائے تین چیزوں کے۔ ایک علم، جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ۲- نیک اولاد جو مرنے والے کے لیے دعا کرے ۳- یا صدقہ جاریہ، جس سے اس کے مرنے کے بعد بھی لوگ فیض یاب ہوں“۔ (صحيح مسلم، كتاب الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته) دوسرا مطلب آثَارَهُمْ کا نشانات قدم ہے۔ یعنی انسان نیکی یا بدی کے لیے جو سفر کرتا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو قدموں کے یہ نشانات بھی لکھے جاتے ہیں۔ جیسے عہد رسالت میں مسجد نبوی کے قریب کچھ جگہ خالی تھی تو بنو سلمہ نے ادھر منتقل ہونے کا ارادہ کیا، جب نبی کریم ﷺ کے علم میں یہ بات آئی تو آپ ﷺ نے انہیں مسجد کے قریب منتقل ہونے سے روک دیا اور فرمایا: دَيَاركُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ (دو مرتبہ فرمایا) یعنی تمہارے گھر اگرچہ دور ہیں، لیکن وہیں رہو، جتنے قدم تم چل کر آتے ہو، وہ لکھے جاتے ہیں۔ (صحيح مسلم، كتاب المساجد، باب فضل كثرة الخطى إلى المساجد) امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں مفہوم اپنی جگہ صحیح ہیں، ان کے درمیان منافات نہیں ہے۔ بلکہ اس دوسرے مفہوم میں سخت تنبیہ ہے، اس لیے کہ جب قدموں کے نشانات تک لکھے جاتے ہیں، تو انسان جو اچھا یا برا نمونہ چھوڑ جائے جس کی لوگ بعد میں پیروی کریں تو وہ بطریق ادنیٰ لکھے جائیں گے۔
١٢۔٣ اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے صحائف اعمال مراد لیے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاضْرِ‌بْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْ‌يَةِ إِذْ جَاءَهَا الْمُرْ‌سَلُونَ ﴿١٣﴾
اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک) بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجئے جبکہ اس بستی میں (کئی) رسول آئے۔ (١)
١٣۔١ تاکہ اہل مکہ یہ سمجھ لیں کہ آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں، بلکہ رسالت و نبوت کا یہ سلسلہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذْ أَرْ‌سَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْ‌سَلُونَ ﴿١٤﴾
جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے (اول) دونوں کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی سو ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں (١)
١٤۔١ یہ تین رسول کون تھے؟ مفسرین نے ان کے مختلف نام بیان کیے ہیں، لیکن نام مستند ذریعے سے ثابت نہیں ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ عليہ السلام کے فرستادہ تھے، جو انہوں نے اللہ کے حکم سے ایک بستی میں تبلیغ و دعوت کے لیے بھیجے تھے۔ بستی کا نام انطاکیہ تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا مَا أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُنَا وَمَا أَنزَلَ الرَّ‌حْمَـٰنُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ ﴿١٥﴾
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو اور رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم نرا جھوٹ بولتے ہو۔

قَالُوا رَ‌بُّنَا يَعْلَمُ إِنَّا إِلَيْكُمْ لَمُرْ‌سَلُونَ ﴿١٦﴾
ان (رسولوں) نے کہا ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بیشک ہم تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٧﴾
اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔

قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرْ‌نَا بِكُمْ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا لَنَرْ‌جُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٨﴾
انہوں نے کہا کہ ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ (١) اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کر دیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔
١٨۔١ ممکن ہے کچھ لوگ ایمان لے آئے ہوں اور ان کی وجہ سے قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ہو، جس کو انہوں نے رسولوں کی نَعُوذُ بِاللهِ نحوست قرار دیا۔ یا بارش کا سلسلہ موقوف رہا، تو وہ سمجھے ہوں کہ یہ ان رسولوں کی نحوست ہے۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ، جیسے آج کل بھی بد نہاد اور دین و شریعت سے بے بہرہ لوگ، اہل ایمان و تقویٰ کو ہی (منحوس) سمجھتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا طَائِرُ‌كُم مَّعَكُمْ ۚ أَئِن ذُكِّرْ‌تُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِ‌فُونَ ﴿١٩﴾
ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے (١)، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔
١٩۔١ یعنی وہ تو تمہارے اپنے اعمال بد کا نتیجہ ہے جو تمہارے ساتھ ہی ہے نہ کہ ہمارے ساتھ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَ‌جُلٌ يَسْعَىٰ قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿٢٠﴾
اور ایک شخص(اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم! ان رسولوں کی راہ پر چلو (١)
٢٠۔١ یہ شخص مسلمان تھا، جب اسے پتہ چلا کہ قوم پیغمبروں کی دعوت کو نہیں اپنا رہی ہے، تو اس نے آکر رسولوں کی حمایت اور ان کے اتباع کی ترغیب دی۔
 
Top