• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِن كُلٌّ لَّمَّا جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُ‌ونَ ﴿٣٢﴾
اور نہیں ہے کوئی جماعت مگر یہ کہ وہ جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کی جائے گی۔ (١)
٣٢۔١ اس میں إِنْ نافیہ ہے اور لَمَّا، إِلا کے معنی میں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام لوگ گزشتہ بھی اور آئندہ آنے والے بھی، سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے جہاں ان کا حساب کتاب ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْ‌ضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَ‌جْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ ﴿٣٣﴾
اور ان کے لیے ایک نشانی (١) (خشک) زمین ہے جس کو ہم نے زندہ کر دیا اور اس سے غلہ نکالا جس میں سے وہ کھاتے ہیں۔
٣٣۔١ یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی قدرت تامہ اور مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر نشانی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْ‌نَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ ﴿٣٤﴾
اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگور کے باغات پیدا کر دیئے، (١) اور جن میں ہم نے چشمے بھی جاری کر دیئے ہیں۔
٣٤۔١ یعنی مردہ زمین کو زندہ کر کے ہم اس سے ان کی خوراک کے لیے صرف غلہ ہی نہیں اگاتے، بلکہ ان کے کام و دہن کی لذت کے لیے انواع و اقسام کے پھل بھی کثرت سے پیدا کرتے ہیں، یہاں صرف دو پھلوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ کثیر المنافع بھی ہیں اور عربوں کو مرغوب بھی، نیز ان کی پیداوار بھی عرب میں زیادہ ہے۔ پھر غلے کا ذکر پہلے کیا کیونکہ اس کی پیداوار بھی زیادہ ہے اور خوراک کی حیثیت سے اس کی اہمیت بھی مسلمہ۔ جب تک انسان روٹی یا چاول وغیرہ خوراک سے اپنا پیٹ نہیں بھرتا، محض پھل فروٹ سے اس کی غذائی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِ‌هِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُ‌ونَ ﴿٣٥﴾
تاکہ (لوگ) اس کے پھل کھائیں، (١) اور اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا۔ (٢) پھر کیوں شکر گزاری نہیں کرتے۔
٣٥۔١ یعنی بعض جگہ بھی چشمے جاری کرتے ہیں، جس کے پانی سے پیدا ہونے والے پھل لوگ کھائیں۔
٣٥۔٢ امام ابن جریر کے نزدیک یہاں ما نافیہ ہے یعنی غلوں اور پھلوں کی یہ پیداوار، اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے۔ اس میں ان کی سعی ومحنت، کد و کاوش اور تصرف کا دخل نہیں ہے۔ پھر بھی یہ اللہ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ اور بعض کے نزدیک (مَا) موصولہ ہےجو الَّذِي کے معنی میں ہے یعنی تاکہ وہ اس کا پھل کھائیں اور ان چیزوں کو جن کو ان کے ہاتھوں نے بنایا۔ ہاتھوں کا عمل ہے، زمین کو ہموار کر کے بیج بونا، اسی طرح پھلوں کے کھانے کے مختلف طریقے ہیں، مثلاً انہیں نچوڑ کر ان کا رس پینا، مختلف فروٹوں کو ملا کر چاٹ بنانا، وغیرہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْ‌ضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٦﴾
وہ پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواہ خود ان کے نفوس ہوں خواہ وہ (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں۔ (١)
٣٦۔١ یعنی انسانوں کی طرح زمین کی ہر پیداوار میں بھی ہم نے نر اور مادہ دونوں پیدا کیے ہیں۔ علاوہ ازیں آسمانوں میں اور زمین کی گہرائیوں میں بھی جو چیزیں تم سے غائب ہیں، جن کا علم تم نہیں رکھتے، ان میں بھی زوجیت (نر اور مادہ) کا یہ نظام ہم نے رکھا ہے، پس تمام مخلوق جوڑا جوڑا ہے، نباتات میں بھی نر اور مادے کا یہی نظام ہے۔ حتیٰ کہ آخرت کی زندگی، دنیا کی زندگی کے لیے بمنزلۂ زوج ہے اور یہ حیات آخرت کے لیے ایک عقلی دلیل بھی ہے۔ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو مخلوق کی اس صفت سے اور دیگر تمام کوتاہیوں سے پاک ہے۔ وہ وتر (فرد) ہے، زوج نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ‌ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ ﴿٣٧﴾
اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھنچ دیتے ہیں تو وہ یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ (١)
٣٧۔١ یعنی اللہ کی قدرت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ دن کو رات سے الگ کر دیتا ہے، جس سے فوراً اندھیرا چھا جاتا ہے۔ سلخ کے معنی ہوتے ہیں جانور کی کھال کا اس کے جسم سے علیحدہ کرنا، جس سے اس کا گوشت ظاہر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ دن کو رات سے الگ کر دیتا ہے۔ أَظْلَمَ کے معنی ہیں، اندھیرے میں داخل ہونا۔ جیسے أَصْبحَ اور أَمْسَىٰ اور أَظْهَرَ کے معنی ہیں، صبح، شام اور ظہر کے وقت میں داخل ہونا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالشَّمْسُ تَجْرِ‌ي لِمُسْتَقَرٍّ‌ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ‌ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿٣٨﴾
اور سورج کے لیے جو مقررہ راہ ہے وہ اسی پر چلتا رہتا ہے۔ (۱) یہ ہے مقرر کردہ غالب، باعلم اللہ تعالیٰ کا۔
٣٨۔١ یعنی اپنے اس مدار (فلک) پر چلتا رہتا ہے، جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہے، اسی سے اپنی سیر کا آغاز کرتا ہے اور وہیں پر ختم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے ذرا ادھر ادھر نہیں ہوتا، کہ کسی دوسرے سیارے سے ٹکرا جائے۔ دوسرے معنی ہیں (اپنے ٹھہرنے کی جگہ تک) اور اس کا یہ مقام قرار عرش کے نیچے ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے جو ص۹۱۶ (سورۃ الحج، آیت ۱۸ کا حاشیہ) پر گزر چکی ہے کہ سورج روزانہ غروب کے بعد عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتا ہے اور پھر وہاں سے طلوع ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے (صحیح بخاری، تفسیر سورۂ یسں) دونوں مفہوم کے اعتبار سے لِمُسْتقَرٍّ میں لام، علت کے لئے ہے۔ أي: لأجل مُسْتقَرٍّ لَّهَا بعض کہتے ہیں کہ لام، الٰی کے معنی میں ہے، پھر مستقر یوم قیامت ہو گا۔ یعنی سورج کا یہ چلنا قیامت کے دن تک ہے، قیامت والے دن اس کی حرکت ختم ہو جائے گی۔ یہ تینوں مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالْقَمَرَ‌ قَدَّرْ‌نَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْ‌جُونِ الْقَدِيمِ ﴿٣٩﴾
اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں، (١) یہاں تک کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے۔ (٢)
٣٩۔١ چاند کی ۲۸ منزلیں ہیں، روزانہ ایک منزل طے کرتا ہے، پھر دو راتیں غائب رہ کر تیسری رات کو نکل آتا ہے۔
٣٩۔٢ یعنی جب آخری منزل پر پہنچتا ہے تو بالکل باریک اور چھوٹا ہو جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی ہو، جو سوکھ کر ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ چاند کی انہی گردشوں سے سکان ارض اپنے دنوں، مہینوں اور سالوں کا حساب اور اپنے اوقات عبادات کا تعین کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِ‌كَ الْقَمَرَ‌ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ‌ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ﴿٤٠﴾
نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے (١) اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے، (٢) اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں۔ (٣)
٤٠۔١ یعنی سورج کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے جس سے اس کی روشنی ختم ہو جائے بلکہ دونوں کا اپنا اپنا راستہ اور الگ الگ حد ہے۔ سورج دن ہی کو اور چاند رات ہی کو طلوع ہوتا ہے اس کے برعکس کبھی نہیں ہوا، جو ایک مدبر کائنات کے وجود پر ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
٤٠۔٢ بلکہ یہ بھی ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں اور ایک، دوسرے کے بعد آتے ہیں۔
٤٠۔٣ كُلٌّ سے سورج، چاند یا اس کے دوسرے کواکب مراد ہیں، سب اپنے اپنے مدار پر گھومتے ہیں، ان کا باہمی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّ‌يَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ﴿٤١﴾
ان کے لیے ایک نشانی (یہ بھی) ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ (١)
٤١۔١ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کا تذکرہ فرما رہا ہے کہ اس نے تمہارے لیے سمندر میں کشتیوں کا چلنا آسان فرما دیا، حتیٰ کہ تم اپنے ساتھ بھری ہوئی کشتیوں میں اپنے بچوں کو بھی لے جاتے ہو۔ دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ذُرِّيَّةٌ سے مقصود آبائے ذریت ہیں۔ اور کشتی سے مراد کشتی نوح (عليہ السلام) ہے۔ یعنی سفینۂ نوح (عليہ السلام) میں ان لوگوں کو بٹھایا جن سے بعد میں نسل انسانی چلی۔ گویا نسل انسانی کے آبا اس میں سوار تھے۔
 
Top