- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٢﴾
کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ (بھی)، ایمان لانے والوں کے لیے اس میں (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں۔ (۱)
٤٩۔١ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں بھی اللہ کی توحید کے دلائل ہیں یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا حکم و تصرف چلتا ہے، اسی کی تدبیر موثر اور کارگر ہے، اسی لیے وہ جس کو چاہتا ہے، رزق فراواں سے نواز دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فقر و تنگ دستی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے ان فیصلوں میں، جو اس کی حکمت و مشیت پر مبنی ہوتے ہیں ، کوئی دخل انداز ہو سکتا ہے نہ ان میں رد و بدل کر سکتا ہے۔ تاہم یہ نشانیاں صرف اہل ایمان ہی کے لیے ہیں کیونکہ وہی ان پر غور و فکر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کی مغفرت حاصل کرتے ہیں۔
کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ (بھی)، ایمان لانے والوں کے لیے اس میں (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں۔ (۱)
٤٩۔١ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں بھی اللہ کی توحید کے دلائل ہیں یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا حکم و تصرف چلتا ہے، اسی کی تدبیر موثر اور کارگر ہے، اسی لیے وہ جس کو چاہتا ہے، رزق فراواں سے نواز دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فقر و تنگ دستی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے ان فیصلوں میں، جو اس کی حکمت و مشیت پر مبنی ہوتے ہیں ، کوئی دخل انداز ہو سکتا ہے نہ ان میں رد و بدل کر سکتا ہے۔ تاہم یہ نشانیاں صرف اہل ایمان ہی کے لیے ہیں کیونکہ وہی ان پر غور و فکر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کی مغفرت حاصل کرتے ہیں۔