• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يَبْسُطُ الرِّ‌زْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ‌ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٢﴾
کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ (بھی)، ایمان لانے والوں کے لیے اس میں (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں۔ (۱)
٤٩۔١ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں بھی اللہ کی توحید کے دلائل ہیں یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا حکم و تصرف چلتا ہے، اسی کی تدبیر موثر اور کارگر ہے، اسی لیے وہ جس کو چاہتا ہے، رزق فراواں سے نواز دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے فقر و تنگ دستی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے ان فیصلوں میں، جو اس کی حکمت و مشیت پر مبنی ہوتے ہیں ، کوئی دخل انداز ہو سکتا ہے نہ ان میں رد و بدل کر سکتا ہے۔ تاہم یہ نشانیاں صرف اہل ایمان ہی کے لیے ہیں کیونکہ وہی ان پر غور و فکر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کی مغفرت حاصل کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّ‌حْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ‌ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ‌ الرَّ‌حِيمُ ﴿٥٣﴾
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔ (١)
٥٣۔١ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت کا بیان ہے۔ اسراف کے معنی ہیں گناہوں کی کثرت اور اس میں افراط۔ ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو“ کا مطلب ہے کہ ایمان لانے سے قبل یا تو استغفار کا احساس پیدا ہونے سے پہلے کتنے بھی گناہ کیے ہوں، انسان یہ نہ سمجھے کہ میں تو بہت زیادہ گناہ گار ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ کیونکر معاف کرے گا؟ بلکہ سچے دل سے اگر ایمان قبول کر لے گا یا توبہ النصوح کر لے گا تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ شان نزول کی روایت سے بھی یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے۔ کچھ کافر و مشرک تھے جنہوں نے کثرت سے قتل اور زنا کاری کا ارتکاب کیا تھا، یہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ ﷺ کی دعوت، صحیح ہے لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطا کار ہیں، اگر ہم ایمان لے آئے تو کیا وہ سب معاف ہو جائیں گے، جس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۂ زمر) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ، اس کے احکام و فرائض کی مطلق پرواہ نہ کرو اور اس کے حدود اور ضابطوں کو بے دردی سے پامال کرو۔ اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت نادانش مندی اور خام خیالی ہے۔ یہ تخم حنظل بو کر ثمرات و فواکہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنے بندوں کے لیے غَفُورٌ رَحِيمٌ ہے، وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ بھی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا، مثلاً ﴿نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ﴾ (الحجر: ۴۹-۵۰) غالباً یہی وجہ ہے کہ یہاں آیت کا آغاز يَا عِبَادِي (میرے بندوں) سے فرمایا، جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو ایمان لا کر یا سچی توبہ کر کے صحیح معنوں میں اس کا بندہ بن جائے گا، اس کے گناہ اگر سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں گے تو وہ معاف فرما دے گا، وہ اپنے بندوں کے لیے یقیناً غفور رحیم ہے۔ جیسے حدیث میں سو آدمیوں کے قاتل کے توبہ کا واقعہ ہے۔ (صحيح بخاری، كتاب الأنبياء- مسلم، كتاب التوبة، باب قبول توبة القاتل وإن كثر قتله)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَ‌بِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُ‌ونَ ﴿٥٤﴾
تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آجائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔

وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ ﴿٥٥﴾
اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو۔ (١)
٥٥۔١ یعنی عذاب آنے سے قبل توبہ اور عمل صالح کا اﮨتمام کر لو، کیونکہ جب عذاب آئے گا تو اس کا تمہیں علم و شعور بھی نہیں ہو گا، اس سے مراد دنیوی عذاب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَ‌تَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّ‌طتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِ‌ينَ ﴿٥٦﴾
(ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی (١) بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں رہا۔
٥٦۔١ ﴿فِي جَنْبِ اللهِ ﴾ کا مطلب، اللہ کی اطاعت یعنی قرآن اور اس پر عمل کرنے میں کوتاہی ہے۔ یا جَنْبٌ کے معنی قرب اور جوار کے ہیں۔ یعنی اللہ کا قرب اور اس کا جوار (یعنی جنت) طلب کرنے میں کوتاہی کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿٥٧﴾
یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا۔ (١)
٥٧۔١ یعنی اگر اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں شرک اور معاصی سے بچ جاتا۔ یہ اس طرح ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر مشرکین کا قول نقل کیا گیا ہے، ﴿لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا﴾ (الأنعام: ۱۴۸) ”اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے“ ان کا یہ قول (كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا الْبَاطِلُ . .) کا مصداق ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَ‌ى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّ‌ةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ﴿٥٨﴾
یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش! کہ کسی طرح میرا لوٹ جانا ہو جاتا تو میں بھی نیکو کاروں میں ہو جاتا۔

بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْ‌تَ وَكُنتَ مِنَ الْكَافِرِ‌ينَ ﴿٥٩﴾
ہاں (ہاں) بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں۔ (١)
٥٩۔١ یہ اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے جواب میں فرمائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَ‌ى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّـهِ وُجُوهُهُم مُّسْوَدَّةٌ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِ‌ينَ ﴿٦٠﴾
اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاہ ہو گئے ہوں گے (١) کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں۔ (۲)
٦٠۔١ جس کی وجہ عذاب کی ہولناکیاں اور اللہ کے غضب کا مشاہدہ ہو گا۔
٦٠۔١ حدیث میں ہے [الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ] (حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنا، کبر ہے) یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی اللہ کی اطاعت سے تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيُنَجِّي اللَّـهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦١﴾
اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا (١) لے گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وہ کسی طرح غمگین ہوں گے۔ (٢)
٦١۔١ مَفَازَةٌ، مصدر میمی ہے۔ یعنی فَوْزٌ (کامیابی) شر سے بچ جانا اور خیر اور سعادت سے ہم کنار ہو جانا، مطلب ہے، اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو اس فوز و سعادت کی وجہ سے نجات عطا فرما دے گا، جو اللہ کے ہاں ان کے لیے پہلے سے ثبت ہے۔
٦١۔٢ وہ دنیا میں جو کچھ چھوڑ آئے ہیں، اس پر انہیں کوئی غم نہیں ہو گا، وہ چونکہ قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ ہوں گے، اس لیے انہیں کسی بات کا غم نہ ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اللَّـهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴿٦٢﴾
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔۔ (۱)
٦٢۔١ یعنی ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے اورمالک بھی وہی، وہ جس طرح چاہے، تصرف اور تدبیر کرے۔ ہر چیز اس کے ماتحت اور زیر تصرف ہے۔ کسی کو سرتابی یا انکار کی مجال نہیں۔ وکیل، بمعنی محافظ اور مدبر۔ ہر چیز اس کے سپرد ہے اور وہ بغیر کسی کی مشارکت کے ان کی حفاطت اور تدبیرکر رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا بِآيَاتِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُ‌ونَ ﴿٦٣﴾
آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کا مالک وہی ہے، (١) جن جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی خسارہ پانے والے ہیں۔ (٢)
٦٣۔١ مَقَالِيدُ، مِقْلِيدٌ اور مِقْلادٌ کی جمع ہے (فتح القدیر) بعض نے اس کا ترجمہ ”چابیاں“ اور بعض نے ”خزانے“ کیا ہے، مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ تمام معاملات کی باگ دوڑ اسی کے ہاتھ میں ہے۔
٦٣۔٢ یعنی کامل خسارہ۔ کیونکہ اس کفر کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلے گئے۔
 
Top