• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنَجَّيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ﴿١٨﴾
اور (ہاں) ایمان دار اور پارساؤں کو ہم نے (بال بال) بچا لیا۔

وَيَوْمَ يُحْشَرُ‌ أَعْدَاءُ اللَّـهِ إِلَى النَّارِ‌ فَهُمْ يُوزَعُونَ ﴿١٩﴾
اور جس دن (١) اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف لائے جائیں گے اور ان (سب) کو جمع کر دیا جائے گا۔ (۲)
١٩۔١ یہاں اذْكُرْ محذوف ہے، وہ وقت یاد کرو جب اللہ کے دشمنوں کو جہنم کے فرشتے جمع کریں گے یعنی اول سے آخر تک کے دشمنوں کا اجتماع ہو گا۔
١٩۔١ أَيْ: يُحْبَسُ أَوَّلُهُم عَلَى آخِرِهِمْ لِيُلاحِقُوا (فتح القدیر) یعنی ان کو روک روک کر اول و آخر کو باہم جمع کیا جائے گا۔ (اس لفظ کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورۃ النمل آیت نمبر ۱۷ کا حاشیہ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُ‌هُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٠﴾
یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کے پاس آجائیں گے ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ (١)
٢٠۔١ یعنی جب وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا، تو اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے اعضاء بول کر گواہی دیں گے کہ یہ فلاں فلاں کام کرتے رہے۔ ﴿إِذَا مَا جَاءُواهَا ﴾ میں مَا زائد ہے تاکید کے لیے۔ انسان کے اندر پانچ حواس ہیں۔ یہاں دو کا ذکر ہے۔ تیسری جلد (کھال) کا ذکر ہے جو مس یا لمس کا آلہ ہے۔ یوں حواس کی تین قسمیں ہو گئیں۔ باقی دو حواس کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ ذوق (چکھنا) بوجوہ لمس میں داخل ہے، کیونکہ یہ چکھنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس شے کو زبان کی جلد پر نہ رکھا جائے۔ اسی طرح سونگھنا (شم) اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ شئے ناک کی جلد پر نہ گزرے۔ اس اعتبار سے جلود کے لفظ میں تین حواس آجاتے ہیں۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّـهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ ﴿٢١﴾
یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی، (١) وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے، اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔ (۲)
٢١۔١ یعنی جب مشرکین اور کفار دیکھیں گے کہ خود ان کے اپنے اعضا ان کے خلاف گواہی دے رہے ہیں، تو ازراہ تعجب یا بطور عتاب اور ناراضی کے، ان سے یہ کہیں گے۔
٢١۔١ بعض کے نزدیک وَهُوَ سے اللہ کا کلام مراد ہے۔ اس لحاظ سے یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اور بعض کے نزدیک جلود انسانی ہی کا۔ اس اعتبار سے یہ انہی کے کلام کا تتمہ ہے۔ قیامت والے دن انسانی اعضا کے گواہی دینے کا ذکر اس سے قبل سورۂ نور: ۴۲، سورۂ یسٰین: ۶۵ میں بھی گزر چکا ہے اور صحیح احادیث میں بھی اسے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً جب اللہ کے حکم سے انسانی اعضا بول کر بتلائیں گے تو بندہ کہے گا، [بُعْدًا لَّكُنَّ وَسُحْقًا؛ فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ] (صحيح مسلم، كتاب الزهد) "تمہارے لیے ہلاکت اور دوری ہو، میں تو تمہاری ہی خاطر جھگڑ رہا اور مدافعت کر رہا تھا" اسی روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ بندہ کہے گا کہ میں اپنے نفس کے سوا کسی کی گواہی نہیں مانوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا میں اور میرے فرشتے کراماً کاتبین گواہی کے لیے کافی نہیں۔ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضا کو بولنے کا حکم دیا جائے گا، (حوالہ مذکور)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُ‌ونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُ‌كُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّـهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرً‌ا مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿٢٢﴾
اور تم (اپنی بد اعمالیوں) اس وجہ سے پوشیدہ رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی، (١) ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اس میں سے بہت سے اعمال سے اللہ بے خبر ہے۔ (۲)
٢٢۔١ اس کا مطلب ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے تو چھپنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اس بات کا کوئی خوف تمہیں نہیں تھا کہ تمہارے خلاف خود تمہارے اپنے اعضا بھی گواہی دیں گے کہ جن سے چھپنے کی تم ضرورت محسوس کرتے۔ اس کی وجہ ان کا بعث و نشور سے انکار اور اس پر عدم یقین تھا۔
٢٢۔١ اس لیے تم اللہ کی حدیں توڑنے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بے باک تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم بِرَ‌بِّكُمْ أَرْ‌دَاكُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنَ الْخَاسِرِ‌ينَ ﴿٢٣﴾
تمہاری اس بد گمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا (۳) اور بالآخر تم زیاں کاروں میں ہو گئے۔
۲۳۔۱ یعنی تمہارے اس اعتقاد فاسد اور گمان باطل نے کہ اللہ کو ہمارے بہت سے عملوں کا عمل نہیں ہوتا، تمہیں ہلاکت میں ڈال دیا، کیونکہ اس کی وجہ سے تم ہر قسم کا گناہ کرنے میں دلیر اور بے خوف ہو گئے تھے۔ اس کی شان نزول میں ایک روایت ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قرشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قرشی جمع ہوئے۔ فربہ بدن، قلیل الفہم۔ ان میں سے ایک نے کہا کیا تم سمجھتے ہو، ہماری باتیں اللہ سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا ہماری جہری باتیں سنتا ہے اور سری باتیں نہیں سنتا ایک اور نے کہا اگر وہ ہماری جہری (اونچی) باتیں سنتا ہے تو ہماری سری (پوشیدہ) باتیں بھی یقیناً سنتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ﴾ (نازل فرمائی،) صحیح بخاری، تفسیر سورۂ حم السجدۃ)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِن يَصْبِرُ‌وا فَالنَّارُ‌ مَثْوًى لَّهُمْ ۖ وَإِن يَسْتَعْتِبُوا فَمَا هُم مِّنَ الْمُعْتَبِينَ ﴿٢٤﴾
اب اگر یہ صبر کریں تو بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ اور اگر یہ (عذر و) معافی کے خواستگار ہوں تو بھی معذور و) معاف نہیں رکھے جائیں گے۔ (١)
٢٤۔١ ایک دوسرے معنی اس کے یہ کیے گئے ہیں کہ اگر وہ منانا چاہیں گے (عُتْبَىٰ رضا طلب کریں گے) تاکہ وہ جنت میں چلے جائیں تو یہ چیز ان کو کبھی حاصل نہ ہو گی۔ (ایسر التفاسیر و فتح القدیر) بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی آرزو کریں گے جو منظور نہیں ہو گی۔ (ابن جریر طبری) مطلب یہ ہے کہ ان کا ابدی ٹھکانا جہنم ہے، اس پر صبر کریں (تب بھی رحم نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ دنیا میں بعض دفعہ صبر کرنے والوں پر ترس آ جاتا ہے) یا کسی اور طریقے سے وہاں نکلنے کی سعی کریں، مگر اس میں انہیں ناکامی ہی ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَ‌نَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِ‌ينَ ﴿٢٥﴾
اور ہم نے ان کے کچھ ہم نشین مقرر کر رکھے تھے جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا رکھے (١) تھے اور ان کے حق میں بھی اللہ کا قول امتوں کے ساتھ پورا ہوا جو ان سے پہلے جنوں اور انسانوں کی گزر چکی ہیں۔ یقیناً وہ زیاں کار ثابت ہوئے۔
٢٥۔١ ان سے مراد وہ شیاطین انس و جن ہیں جو باطل پر اصرارکرنے والوں کے ساتھ لگ جاتے ہیں، جو انہیں کفر و معاصی کو خوبصورت کرکے دکھاتے ہیں، پس وہ اس گمراہی کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں موت آ جاتی ہے اور وہ خسارۂ ابدی کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ ﴿٢٦﴾
اور کافروں نے کہا اس قرآن کی سنو ہی مت (١) (اس کے پڑھے جانے کے وقت) اور بے ہودہ گوئی کرو (٢) کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ۔ (٣)
٢٦۔١ یہ انہوں نے باہم ایک دوسرے کو کہا۔ بعض نے لا تَسْمَعُوا کے معنی کیے ہیں، اس کی اطاعت نہ کرو۔
٢٦۔٢ یعنی شور کرو، تالیاں، سیٹیاں بجاؤ، چیخ چیخ کر باتیں کرو تاکہ حاضرین کے کانوں میں قرآن کی آواز نہ جائے اور ان کے دل قرآن کی بلاغت اور خوبیوں سے متاثر نہ ہوں۔
٢٦۔٣ یعنی ممکن ہے اس طرح شور کرنے کی وجہ سے محمد ﷺ قرآن کی تلاوت ہی نہ کرے جسے سن کر لوگ متاثر ہوتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَنُذِيقَنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا عَذَابًا شَدِيدًا وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٧﴾
پس یقیناً ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ اور انہیں ان کے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے۔ (١)
٢٧۔١ یعنی ان کے بعض اچھے عملوں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی، مثلاً اکرام ضیف، صلہ رحمی وغیرہ۔ کیونکہ ایمان کی دولت سے وہ محروم رہے تھے، البتہ برے عملوں کی جزا انہیں ملے گی، جن میں قرآن کریم سے روکنے کا جرم بھی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ جَزَاءُ أَعْدَاءِ اللَّـهِ النَّارُ‌ ۖ لَهُمْ فِيهَا دَارُ‌ الْخُلْدِ ۖ جَزَاءً بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿٢٨﴾
اللہ کے دشمنوں کی سزا یہی دوزخ کی آگ ہے جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے (یہ) بدلہ ہے ہماری آیتوں سے انکار کرنے کا۔
۲۸۔۱ آیتوں سے مراد جیسا کہ پہلے بھی بتلایا گیا ہے، وہ دلائل و براہین واضحہ ہیں جو اللہ تعالیٰ انبیا پر نازل فرماتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو انہیں عطا کیے جاتے ہیں یا وہ دلائل تکوینیہ ہیں جو کائنات یعنی آفاق و انفس میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کافر ان سب ہی کا انکار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایمان کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔
 
Top