• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْلَا أَن يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَن يَكْفُرُ‌ بِالرَّ‌حْمَـٰنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِّن فِضَّةٍ وَمَعَارِ‌جَ عَلَيْهَا يَظْهَرُ‌ونَ ﴿٣٣﴾
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں (١) گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنا دیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے۔
٣٣۔١ یعنی دنیا کے مال و اسباب میں رغبت کرنے کی وجہ سے طالب دنیا ہی ہو جائیں گے اور رضائے الٰہی اور آخرت کی طلب سب فراموش کر دیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَابًا وَسُرُ‌رً‌ا عَلَيْهَا يَتَّكِئُونَ ﴿٣٤﴾
اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے۔

وَزُخْرُ‌فًا ۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَالْآخِرَ‌ةُ عِندَ رَ‌بِّكَ لِلْمُتَّقِينَ ﴿٣٥﴾
اور سونے کے بھی، (١) اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے۔ (٢)
٣٥۔١ یعنی بعض چیزیں چاندی کی اور بعض سونے کی، کیونکہ تنوع میں حسن زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال ہماری نظر میں اتنا بے وقعت ہے کہ اگر مذکورہ خطرہ نہ ہوتا تو اللہ کے سب منکروں کو خوب دولت دی جاتی لیکن اس میں خطرہ یہی تھا کہ پھر سب لوگ ہی دنیا کے پرستار نہ بن جائیں۔ دنیا کی حقارت اس حدیث سے بھی واضح ہے جس میں فرمایا گیا ہے۔ [لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى مِنْهَا كَافِرًا شُرْبَةَ مَاءٍ] (ترمذی، ابن ماجه، كتاب الزهد) ”اگر دنیا کی اللہ کے ہاں اتنی حیثیت بھی ہوتی جتنی ایک مچھر کے پر کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس دنیا سے ایک گھونٹ پانی بھی پینے کو نہ دیتا“۔
٣٥۔٢ جو شرک و معاصی سے اجتناب اور اللہ کی اطاعت کرتے رہے، ان کے لیے آخرت اور جنت کی نعمتیں ہیں جن کو زوال و فنا نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ‌ الرَّ‌حْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِ‌ينٌ ﴿٣٦﴾
اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے (١) ہم اس پر شیطان مقرر کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے۔ (٢)
٣٦۔١ عَشَا يَعْشُو کے معنی ہیں آنکھوں کی بیماری رتوندیا اس کی وجہ سے جو اندھا پن ہوتا ہے۔ یعنی جو اللہ کے ذکر سے اندھا ہو جائے۔
٣٦۔٢ وہ شیطان، اللہ کی یاد سے غافل رہنے والے کا ساتھی بن جاتا ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا اور نیکیوں سے روکتا ہے۔ یا انسان خود اسی شیطان کا ساتھی بن جاتا ہے اور اس سے جدا نہیں ہوتا بلکہ تمام معاملات میں اسی کی پیروی اور اس کے تمام وسوسوں میں اس کی اطاعت کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ ﴿٣٧﴾
اور وہ انہیں راہ سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں۔ (١)
٣٧۔١ یعنی وہ شیطان ان کے حق کے راستے کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں اور اس سے انہیں روکتے ہیں اور انہیں برابر سمجھاتے رہتے ہیں کہ تم حق پر ہو، حتیٰ کہ وہ واقعی اپنے بارے میں یہی گمان کرنے لگ جاتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔ یا کافر شیطانوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہیں اور ان کی اطاعت کرتے رہتے ہیں۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِ‌قَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِ‌ينُ ﴿٣٨﴾
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے۔ (١)
٣٨۔١ مَشْرِقَيْنِ (تثنیہ ہے) مراد مشرق اور مغرب ہیں۔ فَبِئْسَ الْقَرِينُ کا مخصوص بالذم محذوف ہے۔ أَنْتَ أَيُّهَا الشَّيْطَانُ! اے شیطان تو بہت برا ساتھی ہے۔ یہ کافر قیامت والے دن کہے گا۔ لیکن اس دن اس اعتراف کا کیا فائدہ؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَن يَنفَعَكُمُ الْيَوْمَ إِذ ظَّلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِ‌كُونَ ﴿٣٩﴾
اور جب کہ تم ظالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا۔

أَفَأَنتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَن كَانَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٤٠﴾
کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو۔ (١)
٤٠۔١ یعنی جس کے لیے شقاوت ابدی لکھ دی گئی ہے، وہ وعظ و نصیحت کے اعتبار سے بہرہ اور اندھا ہے، تیری دعوت و تبلیغ سے وہ راہ راست پر نہیں آسکتا۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ جس طرح بہرہ سننے سے، نابینا دیکھنے سے محروم ہے، اسی طرح کھلی گمراہی میں مبتلا حق کی طرف آنے سے محروم ہے۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے تاکہ ایسے لوگوں کے کفر سے آپ زیادہ تشویش محسوس نہ کریں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُم مُّنتَقِمُونَ ﴿٤١﴾
پس اگر ہم تجھے یہاں سے (١) لے بھی جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں۔ (٢)
٤١۔١ یعنی تجھے موت آجائے، قبل اس کے کہ ان پر عذاب آئے، یا تجھے مکے سے نکال لے جائیں۔
٤١۔٢ دنیا میں ہی، اگر ہماری مشیت متقاضی ہوئی، بصورت دیگر عذاب اخروی سے تو وہ کسی صورت نہیں بچ سکتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَوْ نُرِ‌يَنَّكَ الَّذِي وَعَدْنَاهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِم مُّقْتَدِرُ‌ونَ ﴿٤٢﴾
یا جو کچھ ان سے وعدہ کیا ہے (١) وہ تجھے دکھا دیں ہم ان پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ (٢)
٤٢۔١ یعنی تیری موت سے قبل ہی، یا مکے میں ہی تیرے رہتے ہوئے ان پر عذاب بھیج دیں۔
٤٢۔٢ یعنی ہم جب چاہیں ان پر عذاب نازل کر سکتے ہیں، کیونکہ ہم ان پر قادر ہیں۔ چنانچہ آپ کی زندگی میں ہی بدر کی جنگ میں کافر عبرت ناک شکست، اور ذلت سے دوچار ہوئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٤٣﴾
پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں (١) بیشک آپ راہ راست پر ہیں۔ (٢)
٤٣۔١ یعنی قرآن کریم کو، چاہے کوئی بھی اسے جھٹلاتا رہے۔
٤٣۔٢ یہ فَاسْتَمْسِكْ کی علت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ‌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ ﴿٤٤﴾
اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ کی (١) قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے۔
٤٤۔١ اس تخصیص کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کے لیے نصیحت نہیں۔ بلکہ اولین مخاطب چونکہ قریش تھے، اس لیے ان کا ذکر فرمایا، ورنہ قرآن تو پورے جہان کے لیے نصیحت ہے۔ ﴿وَمَا هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ﴾ (سورة القلم: ۵۲) جیسے آپ کو حکم دیا گیا کہ ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ﴾ (الشعراء: ۲۱۴) (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کا پیغام صرف رشتے داروں کو ہی پہنچانا ہے۔ بلکہ مطلب ہے تبلیغ کی ابتدا اپنے ہی خاندان سے کریں بعض نے یہاں ذکر بمعنی شرف لیا ہے۔ یعنی یہ قرآن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے شرف و عزت کا باعث ہے کہ یہ ان کی زبان میں اترا، اس کو وہ سب سے زیادہ سمجھنے والے ہیں اور اس کے ذریعے سے وہ پوری دنیا پر فضل و برتری پا سکتے ہیں، اس لیے ان کو چاہئے کہ اس کو اپنائیں اور اس کے مقتضا پر سب سے زیادہ عمل کریں۔
 
Top