- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ ﴿٤٥﴾
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم (١) نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟ (٢)
٤٥۔١ پیغمبروں سے یہ سوال یا تو اسرا و معراج کے موقعے پر، بیت المقدس یا آسمان پر کیا گیا، جہاں انبیاء علیہم السلام سے نبی کریم ﷺ کی ملاقاتیں ہوئیں۔ یا أَتْبَاعَ کا لفظ محذوف ہے۔ یعنی ان کے پیروکاروں (اہل کتاب، یہود و نصاریٰ) سے پوچھو، کیونکہ وہ ان کی تعلیمات سے آگاہ ہیں اور ان پر نازل شدہ کتابیں ان کے پاس موجود ہیں۔
٤٥۔٢ جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اللہ نے کسی بھی نبی کو یہ حکم نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس ہر نبی کی دعوت توحید ہی کا حکم دیا گیا۔
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم (١) نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟ (٢)
٤٥۔١ پیغمبروں سے یہ سوال یا تو اسرا و معراج کے موقعے پر، بیت المقدس یا آسمان پر کیا گیا، جہاں انبیاء علیہم السلام سے نبی کریم ﷺ کی ملاقاتیں ہوئیں۔ یا أَتْبَاعَ کا لفظ محذوف ہے۔ یعنی ان کے پیروکاروں (اہل کتاب، یہود و نصاریٰ) سے پوچھو، کیونکہ وہ ان کی تعلیمات سے آگاہ ہیں اور ان پر نازل شدہ کتابیں ان کے پاس موجود ہیں۔
٤٥۔٢ جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اللہ نے کسی بھی نبی کو یہ حکم نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس ہر نبی کی دعوت توحید ہی کا حکم دیا گیا۔