• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاسْأَلْ مَنْ أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّ‌سُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّ‌حْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ ﴿٤٥﴾
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم (١) نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟ (٢)
٤٥۔١ پیغمبروں سے یہ سوال یا تو اسرا و معراج کے موقعے پر، بیت المقدس یا آسمان پر کیا گیا، جہاں انبیاء علیہم السلام سے نبی کریم ﷺ کی ملاقاتیں ہوئیں۔ یا أَتْبَاعَ کا لفظ محذوف ہے۔ یعنی ان کے پیروکاروں (اہل کتاب، یہود و نصاریٰ) سے پوچھو، کیونکہ وہ ان کی تعلیمات سے آگاہ ہیں اور ان پر نازل شدہ کتابیں ان کے پاس موجود ہیں۔
٤٥۔٢ جواب یقیناً نفی میں ہے۔ اللہ نے کسی بھی نبی کو یہ حکم نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس ہر نبی کی دعوت توحید ہی کا حکم دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ إِنِّي رَ‌سُولُ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٤٦﴾
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں۔ (١)
٤٦۔١ قریش مکہ نے کہا تھا کہ اگر اللہ کسی کو نبی بنا کر بھیجتا ہی تو مکے اور طائف کے کسی ایسے شخص کو بھیجتا جو صاحب مال و جاہ ہوتا۔ جیسے فرعون نے بھی حضرت موسیٰ عليہ السلام کے مقابلے میں کہا تھا کہ میں موسیٰ سے بہتر ہوں (اور یہ مجھ سے کمتر ہے، یہ تو صاف بول بھی نہیں سکتا) جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ غالباً اسی مشابہت احوال کی وجہ سے یہاں حضرت موسیٰ عليہ السلام و فرعون کا قصہ دہرایا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں حضرت نبی کریم عليہ السلام کے لیے بھی تسلی کا پہلو ہے کہ حضرت موسیٰ عليہ السلام کو بھی بہت سی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، انہوں نے صبر اور عزم سے کام لیا، اسی طرح آپ بھی کفار مکہ کی ایذاؤں اور ناروا رویوں سے دل برداشتہ نہ ہوں، صبر اور حوصلے سے کام لیں۔ حضرت موسیٰ عليہ السلام ہی کی طرح بالآخر فتح و کامرانی آپ ہی کی ہے اور یہ اہل مکہ فرعون ہی کی طرح ناکام و نامراد ہوں گے۔

فَلَمَّا جَاءَهُم بِآيَاتِنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَضْحَكُونَ ﴿٤٧﴾
پس جب وہ ہماری نشانیاں لے کر انکے پاس آئے تو وہ بے ساختہ ان پر ہنسنے لگے۔ (١)
٤٧۔١ یعنی جب حضرت موسیٰ عليہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو دعوت توحید دی تو انہوں نے ان کے رسول ہونے کی دلیل طلب کی، جس پر انہوں نے وہ دلائل و معجزات پیش کیے جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے تھے۔ جنہیں دیکھ کر انہوں نے استہزاء اور مذاق کیا اور کہا کہ یہ کون سی ایسی چیزیں ہیں۔ یہ تو جادو کے ذریعے ہم بھی پیش کر سکتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا نُرِ‌يهِم مِّنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ‌ مِنْ أُخْتِهَا ۖ وَأَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ ﴿٤٨﴾
اور ہم نے انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی (١) اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ باز آ جائیں۔ (٢)
٤٨۔١ ان نشانیوں سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو طوفان ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ کی شکل میں یکے بعد دیگرے انہیں دکھائی گئیں، جن کا تذکرہ سورۂ اعراف: ۱۳۳-۱۳۵ میں گزر چکا ہے۔ بعد میں آنے والی ہر نشانی پہلی نشانی سے بڑی چڑھی ہوتی، جس سے حضرت موسیٰ عليہ السلام کی صداقت واضح سے واضح تر ہو جاتی۔
٤٨۔٢ مقصد ان نشانیوں یا عذاب سے یہ ہوتا تھا کہ شاید وہ تکذیب سے باز آجائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَالُوا يَا أَيُّهَ السَّاحِرُ‌ ادْعُ لَنَا رَ‌بَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ ﴿٤٩﴾
اور انہوں نے کہا اے جادو گر! (١) ہمارے لیے اپنے رب سے (٢) اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کر رکھا ہے، (٣) یقین مان کہ ہم راہ پر لگ جائیں گے۔ (٤)
٤٩۔١ کہتے ہیں اس زمانے میں جادو مذموم چیز نہیں تھی اور عالم فاضل شخص کو جادوگر کے لفظ سے ہی بطور تعظیم خطاب کیا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں معجزات اور نشانیوں کے بارے میں بھی ان کا خیال تھا کہ یہ موسیٰ عليہ السلام کے فن جادوگری کا کمال ہے۔ اس لیے انہوں نے موسیٰ کو جادوگر کے لفظ سے مخاطب کیا۔
٤٩۔٢ (اپنے رب سے) کے الفاظ اپنی مشرکانہ ذہنیت کی وجہ سے کہے کیونکہ مشرکوں میں مختلف رب اور الٰہ ہوتے تھے، موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے یہ کام کر والو!
٤٩۔٣ یعنی ہمارے ایمان لانے پر عذاب ٹالنے کا وعدہ۔
٤٩۔٤ اگر یہ عذاب ٹل گیا تو ہم تجھے اللہ کا سچا رسول مان لیں گے اور تیرے ہی رب کی عبادت کریں گے۔ لیکن ہر دفعہ وہ اپنا یہ عہد توڑ دیتے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور سورۂ اعراف میں بھی گزرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ ﴿٥٠﴾
پھر جب ہم نے وہ عذاب ان سے ہٹا لیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول و قرار توڑ دیا۔

وَنَادَىٰ فِرْ‌عَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ‌ وَهَـٰذِهِ الْأَنْهَارُ‌ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِي ۖ أَفَلَا تُبْصِرُ‌ونَ ﴿٥١﴾
اور فرعوں نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا (١) اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں, (٢) کیا تم دیکھتے نہیں؟
٥١۔١ جب حضرت موسیٰ عليہ السلام نے ایسی کئی نشانیاں پیش کر دیں جو ایک سے بڑھ کر ایک تھیں تو فرعون کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں میری قوم موسیٰ کی طرف مائل نہ ہو جائے۔ چنانچہ اس نے اپنی ہزیمت کے داغ کو چھپانے اور قوم کو مسلسل دھوکے اور فریب میں مبتلا رکھنے کے لیے یہ نئی چال چلی کہ اپنے اختیار و اقتدار کے حوالے سے موسیٰ عليہ السلام کی بے توقیری اور کمتری کو نمایاں کیا جائے تاکہ قوم میری سلطنت و سطوت سے ہی مرعوب رہے۔
٥١۔٢ اس سے مراد دریائے نیل یا اس کی بعض شاخیں ہیں جو اس کے محل کے نیچے سے گزرتی تھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ أَنَا خَيْرٌ‌ مِّنْ هَـٰذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ ﴿٥٢﴾
بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بے توقیر ہے (١) اور صاف بول بھی نہیں سکتا (٢)۔
٥٢۔١ أَمْ اضراب کے لیے یعنی بَلْ (بلکہ) کے معنی میں ہے، بعض کے نزدیک استفہامیہ ہی ہے۔
٥٢۔٢ یہ حضرت موسیٰ عليہ السلام کی لکنت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سورۂ طہٰ میں گزرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَ‌ةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِ‌نِينَ ﴿٥٣﴾
اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے (١) یا اس کے ساتھ پرا باندھ کر فرشتے ہی آجاتے۔ (٢)
٥٣۔١ اس دور میں مصر اور فارس کے بادشاہ اپنی امتیازی شان اور خصوصی حیثیت کو نمایاں کرنے کے لیے سونے کے کڑے پہنتے تھے، اسی طرح قبیلوں کے سرداروں کے ہاتھوں میں بھی سونے کے کڑے اور گلے میں سونے کے طوق اور زنجیریں ڈال دی جاتی تھیں جو ان کی سرداری کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ اسی اعتبار سے فرعون نے حضرت موسیٰ عليہ السلام کے بارے میں کہا کہ اگر اس کی کوئی حیثیت اور امتیازی شان ہوتی تو اس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے ہونے چاہیے تھے۔
٥٣۔٢ جو اس بات کی تصدیق کرتے کہ یہ اللہ کا رسول ہے یا بادشاہوں کی طرح اس کی شان کو نمایاں کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہوتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ﴿٥٤﴾
اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی، (١) یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے۔
٥٤۔١ یعنی اسْتَخَفَّ عُقُولَهُم (ابن کثیر) اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا سمجھایا کر دیا اور انہیں اپنی جہالت و ضلالت پر قائم رہنے کی تاکید کی، اور قوم اس کے پیچھے لگ گئی۔

فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَ‌قْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٥٥﴾
پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا۔

فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِ‌ينَ ﴿٥٦﴾
پس ہم نے انہیں گیا گزرا کر دیا اور پچھلوں کے لیے مثال بنا دی۔ (١)
٥٦۔١ آسَفُونَا بمعنی أَسْخَطُونَا یا أَغْضَبُونَا، سَلَفٌ سَالِفٌ کی جمع ہے جیسے خَدَمٌ، خَادِمٌ کی اور حَرَسٌ ، حَارِسٌ کی ہے۔ معنی جو اپنے وجود میں دوسرے سے پہلے ہو۔ یعنی ان کو بعد میں آنے والوں کے لیے نصیحت اور مثال بنا دیا۔ کہ وہ اس طرح کفر و ظلم اور علو و فساد نہ کریں جس طرح فرعون نے کیا تاکہ وہ اس جیسے عبرت ناک حشر سے محفوظ رہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَمَّا ضُرِ‌بَ ابْنُ مَرْ‌يَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ ﴿٥٧﴾
اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم (خوشی سے) چیخنے لگی ہے۔

وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ‌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَ‌بُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ﴿٥٨﴾
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (١)
٥٨۔١ شرک کی تردید اور جھوٹے معبودوں کی بے وقعتی کی وضاحت کے لیے جب مشرکین مکہ سے کہا جاتا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم میں جائیں گے تو اس سے مراد وہ پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے، نہ کہ وہ نیک لوگ، جو اپنی زندگیوں میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے انہیں بھی معبود سمجھنا شروع کر دیا۔ ان کی بابت تو قرآن کریم نے ہی واضح کر دیا ہے کہ یہ جہنم سے دور رہیں گے۔ ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ ﴾(الأنبياء: ۱۰۱) کیونکہ اس میں ان کا اپنا کوئی قصور نہیں تھا۔ اسی لیے قرآن نے اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا ہے، وہ لفظ ما ہے جو غیر عاقل کے لیے استعمال ہوتا ہے ﴿إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ﴾ (الأنبياء: ۹۸) اس سے انبیاء علیہم السلام اور وہ صالحین نکل گئے، جن کو لوگوں نے اپنے طور پر معبود بنائے رکھا ہو گا۔ یعنی یہ تو ممکن ہے کہ دیگر مورتیوں کے ساتھ ان کی شکلوں کی بنائی ہوئی مورتیاں بھی اللہ تعالیٰ جہنم میں ڈال دے لیکن یہ شخصیات تو بہرحال جہنم سے دور ہی رہیں گی۔ لیکن مشرکین نبی ﷺ کی زبان مبارک سے حضرت مسیح عليہ السلام کا ذکر خیر سن کر یہ کٹ حجتی اور مجادلہ کرتے کہ جب حضرت عیسیٰ عليہ السلام قابل مدح ہیں دراں حالیکہ عیسائیوں نے انہیں معبود بنایا ہوا ہے، تو پھر ہمارے معبود کیوں برے؟ کیا وہ بھی بہتر نہیں؟ یا اگر ہمارے معبود جہنم میں جائیں گے تو حضرت عیسیٰ عليہ السلام اور حضرت عزیر عليہ السلام بھی پھر جہنم میں جائیں گے۔ اللہ نے یہاں فرمایا، ان کا خوشی سے چلانا، ان کا جدل محض ہے۔ جدل کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ جھگڑنے والا جانتا ہے کہ اس کے پاس دلیل کوئی نہیں ہے لیکن محض اپنی بات کی پچ میں بحث و تکرار سے گریز نہیں کرتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ ﴿٥٩﴾
عیسٰی (علیہ السلام) بھی صرف بندہ ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان قدرت بنایا۔ (١)
٥٩۔١ ایک اس اعتبار سے کہ بغیر باپ کے ان کی ولادت ہوئی، دوسرے، خود انہیں جو معجزات دیئے گئے، احیائے موتی وغیرہ، اس لحاظ سے بھی۔
 
Top