• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُودِ ﴿٣٤﴾
تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

لَهُم مَّا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ ﴿٣٥﴾
یہ وہاں جو چاہیں انہیں ملے گا (بلکہ) ہمارے پاس اور بھی زیادہ ہے۔ (٤)
٣٥۔١ اس سے مراد رب تعالیٰ کا دیدار ہے جو اہل جنت کو نصیب ہو گا، جیسا کہ ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ (يونس: ۲۶) کی تفسیر میں گزرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْ‌نٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ ﴿٣٦﴾
اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے طاقت میں زیادہ تھیں وہ شہروں میں ڈھونڈھتے ہی (١) رہ گئے، کہ کوئی بھا گنے کا ٹھکانا ہے؟
٣٦۔١ ﴿فَنَقَّبُوا فِي الْبِلادِ ﴾(شہروں میں چلے پھرے) کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان اہل مکہ سے زیادہ تجارت و کاروبار کے لیے مختلف شہروں میں پھرتے تھے۔ لیکن ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں پناہ اور راہ فرار نہیں ملی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَ‌ىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ﴿٣٧﴾
اس میں ہر صاحب دل کے لیے عبرت ہے اور اس کے لیے جو دل (١) سے متوجہ ہو کر کان لگائے (٢) اور وہ حاضر ہو۔ (٣)
٣٧۔١ یعنی دل بیدار، جو غور و فکر کرکے حقائق کا ادراک کرلے۔
٣٧۔٢ یعنی توجہ سے وہ وحی الٰہی سنے جس میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
٣٧۔٣ یعنی قلب اور دماغ کے لحاظ سے حاضر ہو۔ اس لیے کہ جو بات کو ہی نہ سمجھے، وہ موجود ہوتے ہوئے بھی ایسے ہے جیسے نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ ﴿٣٨﴾
یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کر دیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں۔

فَاصْبِرْ‌ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُ‌وبِ ﴿٣٩﴾
پس یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں اور اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے بھی۔ (١)
٣٩۔١ یعنی صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرو یا عصر اور فجر کی نماز پڑھنے کی تاکید ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ‌ السُّجُودِ ﴿٤٠﴾
اور رات کے کسی وقت بھی تسبیح کریں (١) اور نماز کے بعد بھی۔ (٢)
٤٠۔١ (من) تبعیض کے لیے ہے۔ یعنی رات کے کچھ حصے میں بھی اللہ کی تسبیح کریں یا رات کی نماز (تہجد) پڑھیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ﴿وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ﴾ (سورة بنی إسرائيل: ۷۹) ”رات کو اٹھ کر نماز تہجد پڑھیں جو آپ کے لیے مزید ثواب کا باعث ہے“ بعض کہتے ہیں کہ معراج سے قبل مسلمانوں کے لیے صرف فجر اور عصر کی نماز اور نبی ﷺ کے لیے تہجد کی نماز بھی فرض تھی۔ معراج کے موقعے پر پانچ نمازیں فرض کر دی گئیں۔ (ابن کثیر)۔
٤٠۔٢ یعنی اللہ کی تسبیح کریں۔ بعض نے اس سے وہ تسبیحات مراد لی ہیں، جن کے پڑھنے کی تاکید نبی ﷺ نے فرض نمازوں کے بعد فرمائی ہے۔ مثلاً ۳۳ مرتبہ (سُبْحَانَ اللهِ) ۳۳ مرتبہ (الْحَمْدُ للهِ) اور ۳۴ مرتبہ (اللهُ أَكْبَرُ) وغیرہ (البخاری كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة كتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلاة - مسلم كتاب المساجد باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته) مگر یہ (تسبیحات اس سورت کے نزول کے بہت عرصہ بعد بتائی گئی تھیں۔ بعض نے کہا کہ یہ ادبار السجود سے مراد مغرب کے بعد دو رکعتیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِ‌يبٍ ﴿٤١﴾
اور سن رکھیں (١) کہ جس دن ایک پکارنے (۲) والا قریب ہی کی جگہ سے پکارے گا۔ (۳)
٤١۔١ یعنی قیامت کے جو احوال وحی کے ذریعے سے بیان کیے جا رہے ہیں، انہیں توجہ سے سنیں۔
٤۱۔۲ یہ پکارنے والا اسرافیل فرشتہ ہو گا یا جبرائیل اور یہ ندا وہ ہو گی جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہو جائیں گے۔ یعنی نفخۂ ثانیہ۔
٤١۔۳ اس سے بعض نے صخرۂ بیت المقدس مراد لیا ہے، کہتے ہیں یہ آسمان کے قریب ترین جگہ ہے اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص یہ آواز اس طرح سنے گا، جیسے اس کے قریب سے ہی آواز آرہی ہے۔ (فتح القدیر) اور یہی درست معلوم ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُ‌وجِ ﴿٤٢﴾
جس روز اس تند و تیز چیخ کو یقین کے ساتھ سن لیں گے، یہ دن ہو گا نکلنے کا۔ (١)
٤٢۔١ یعنی یہ چیخ یعنی نفخۂ قیامت یقیناً ہو گا جس میں یہ دنیا میں شک کرتے تھے۔ اور یہی دن قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کا ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُ‌ ﴿٤٣﴾
ہم ہی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں (١) اور ہماری ہی طرف لوٹ پھر کر آنا ہے۔ (۲)
٤٣۔١ یعنی دنیا میں موت سے ہمکنار کرنا اور آخرت میں زندہ کر دینا، یہ ہمارا ہی کام ہے، اس میں کوئی ہمارا شریک نہیں ہے۔
٤۳۔۲ وہاں ہم ہر شخص کو اس کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔ٍ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْ‌ضُ عَنْهُمْ سِرَ‌اعًا ۚ ذَٰلِكَ حَشْرٌ‌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ‌ ﴿٤٤﴾
جس دن زمین پھٹ جائے گی اور یہ دوڑتے ہوئے (١) (نکل پڑیں گے) یہ جمع کر لینا ہم پر بہت ہی آسان ہے۔
٤٤۔١ یعنی اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے۔ جس نےآواز دی ہو گی۔ مُسْرِعِينَ إِلَى الْمُنَادِي الَّذِي نَادَاهُمْ (فتح القدير) نبی ﷺ نے فرمایا، جب زمین پھٹے گی تو سب سے پہلے زندہ ہو کر نکلنے والا میں ہوں گا [أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ] (صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب تفضيل نبينا ﷺ على جميع الخلائق)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ‌ ۖ فَذَكِّرْ‌ بِالْقُرْ‌آنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ ﴿٤٥﴾
یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہم بخوبی جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں، (١) تو آپ قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے وعید (ڈراوے کے وعدوں) سے ڈرتے ہیں۔ (٢)
٤٥۔١ یعنی آپ ﷺ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بلکہ آپ ﷺ کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، وہ کرتے رہیں۔
٤٥۔٢ یعنی آپ ﷺ کی دعوت و تذکیر سے وہی نصیحت حاصل کرے گا جو اللہ سے اور اس کی وعیدوں سے ڈرتا اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتا ہو گا۔ اسی لیے حضرت قتادہ یہ دعا فرمایا کرتے تھے (اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ يَخَافُ وَعِيدَكَ، وَيَرْجُو مَوْعُودَكَ يَا بَارُّ يَا رَحِيمُ) ”اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے کر جو تیرے وعیدوں سے ڈرتے اور تیرے وعدوں کی امید رکھتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے رحم فرمانے والے“۔
 
Top