• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَبِالْأَسْحَارِ‌ هُمْ يَسْتَغْفِرُ‌ونَ ﴿١٨﴾
اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے۔ (۱)
۱۸۔۱ وقت سحر، قبولیت دعا کے بہترین اوقات میں سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ (جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ندا دیتا ہے کہ کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں، کوئی سائل ہے کہ میں اس کے سوال کو پورا کر دوں۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب الترغيب في الدعاء والذكر في آخر الليل والإجابة فيه)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُ‌ومِ ﴿١٩﴾
اور ان کے مال میں مانگنے والوں اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا۔ (١)
١٩۔١ محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چنانچہ مستحق ہونے کے باوجود لوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی وسماوی میں، تباہ ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَفِي الْأَرْ‌ضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ ﴿٢٠﴾
اور یقین والوں کے لیے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُ‌ونَ ﴿٢١﴾
اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔

وَفِي السَّمَاءِ رِ‌زْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ﴿٢٢﴾
اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے۔ (١)
٢٢۔١ یعنی بارش بھی آسمان سے ہوتی ہے جس سے تمہارا رزق پیدا ہوتا ہے اور جنت دوزخ ثواب و عتاب بھی آسمانوں میں ہے جن کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَوَرَ‌بِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْ‌ضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ ﴿٢٣﴾
آسمانوں و زمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ (١) بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو۔
٢٣۔١ إِنَّهُ میں ضمیر کا مرجع (یہ) وہ امور و آیات ہیں جو مذکور ہوئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَ‌اهِيمَ الْمُكْرَ‌مِينَ ﴿٢٤﴾
کیا تجھے ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟ (١)
٢٤۔١ هَلْ استفہام کے لیے ہے جس میں نبی ﷺ کو یہ تنبیہ ہے کہ اس قصے کا تجھے علم نہیں، بلکہ ہم تجھے وحی کے ذریعے سے مطلع کر رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُ‌ونَ ﴿٢٥﴾
وہ جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا، ابراہیم نے جواب سلام دیا (اور کہا یہ تو) اجنبی لوگ ہیں۔ (١)
٢٥۔١ یہ اپنے جی میں کہا، ان سے خطاب کرکے نہیں کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَرَ‌اغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ ﴿٢٦﴾
پھر (چپ چاپ جلدی جلدی) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت) لائے۔

فَقَرَّ‌بَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ﴿٢٧﴾
اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں؟ (۱)
۲۷۔۱ یعنی سامنے رکھنے کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھایا تو پوچھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُ‌وهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ ﴿٢٨﴾
پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوف زدہ ہو گئے (١) انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ (۲) اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی۔
٢٨۔١ ڈر اس لیے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم عليہ السلام سمجھے، یہ کھانا نہیں کھا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آنے والے کسی خیر کی نیت سے نہیں بلکہ شر کی نیت سے آئے ہیں۔
٢٨۔۲ حضرت ابراہیم عليہ السلام کے چہرے پر خو ف کے آثار دیکھ کر فرشتوں نے کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَقْبَلَتِ امْرَ‌أَتُهُ فِي صَرَّ‌ةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ ﴿٢٩﴾
پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت (۱) میں آکر اپنے منہ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ۔
۲۹۔۱ صَرَّةٍ کے دوسرے معنی ہیں چیخ و پکار، یعنی چیختے ہوئے کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَ‌بُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ ﴿٣٠﴾
انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وہ حکیم و علیم ہے۔ (١)
٣٠۔١ یعنی جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے، یہ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے، بلکہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے جس کی ہم تجھے اطلاع دے رہے ہیں، اس لیے اس پر تعجب کی ضرورت ہے نہ شک کرنے کی، اس لئے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہ لامحالہ ہو کر رہتا ہے۔
 
Top