• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾
اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾
وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ (١)
٤۔١ یعنی وہ گمراہ یا بہک کس طرح سکتا ہے، وہ تو وحی الٰہی کے بغیر لب کشائی ہی نہیں کرتا، حتیٰ کہ مزاح اور خوش طبعی کے موقعوں پر بھی آپ (ﷺ) کی زبان مبارک سے حق کے سوا کچھ نہ نکلتا تھا۔ (سنن الترمذی، أبواب البر، باب ما جاء في المزاح) اسی طرح حالت غضب میں، آپ ﷺ کو اپنے جذبات پر اتنا کنٹرول تھا کہ آپ ﷺ کی زبان سے کوئی بات خلاف واقعہ نہ نکلتی (أبو داود، كتاب العلم، باب في كتاب العلم)۔

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ﴿٥﴾
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے۔

ذُو مِرَّ‌ةٍ فَاسْتَوَىٰ ﴿٦﴾
جو زور آور ہے (١) پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔
٦۔١ اس سے مراد جبرائیل عليہ السلام فرشتہ ہے جو قوی اعضاء کا مالک اور نہایت زور آور ہے، پیغمبر پر وحی لانے اور اسے سکھانے والا یہی فرشتہ ہے۔

وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ﴿٧﴾
اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا۔ (١)
٧۔١ یعنی جبرائیل عليہ السلام یعنی وحی سکھلانے کے بعد آسمان کے کناروں پر جا کھڑے ہوئے۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ﴿٨﴾
پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا۔ (١)
٨۔١ یعنی پھر زمین پر اترے اور آہستہ آہستہ نبی ﷺ کے قریب ہوئے۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴿٩﴾
پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔ (١)
٩۔١ بعض نے ترجمہ کیا ہے، دو ہاتھوں کے بقدر، یہ نبی ﷺ اور جبرائیل عليہ السلام کی باہمی قربت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ اور نبی ﷺ کی قربت کا اظہار نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ باورکراتے ہیں۔ آیات کے سیاق سے صاف واضح ہے کہ اس میں صرف جبرائیل عليہ السلام اور پیغمبر کا بیان ہے۔ اسی قربت کے موقعے پر نبی ﷺ نے جبرائیل عليہ السلام کو ان کی اصل شکل میں دیکھا اور یہ بعثت کے ابتدائی ادوار کا واقعہ ہے جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا، دوسری مرتبہ اصل شکل میں معراج کی رات دیکھا۔

أَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ﴿١٠﴾
پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی (١) جو بھی پہنچائی۔
١٠۔١ یعنی جبرائیل عليہ السلام، اللہ کے بندے حضرت محمد ﷺ کے لیے جو وحی یا پیغام لے کر آئے تھے، وہ انہوں نے آپ ﷺ تک پہنچایا۔

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَ‌أَىٰ ﴿١١﴾
دل نے جھوٹ نہیں کہا (پیغمبر نے) دیکھا۔ (١)
١١۔١ یعنی نبی ﷺ نے جبرائیل عليہ السلام کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ ﷺ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَتُمَارُ‌ونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَ‌ىٰ ﴿١٢﴾
کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں۔

وَلَقَدْ رَ‌آهُ نَزْلَةً أُخْرَ‌ىٰ ﴿١٣﴾
اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا۔

عِندَ سِدْرَ‌ةِ الْمُنتَهَىٰ ﴿١٤﴾
سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ (١)
١٤۔١ یہ لیلۃ المعراج کو جب اصل شکل میں جبرائیل عليہ السلام کو دیکھا، اس کا بیان ہے۔ یہ سدرہ المنتہیٰ، ایک بیری کا درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان پر ہے اور یہ آخری حد ہے، اس سے اوپر کوئی فرشتہ نہیں جا سکتا۔ فرشتے اللہ کے احکام بھی یہیں سے وصول کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ ﴿١٥﴾
اسی کے پاس جنتہ الماویٰ ہے۔ (١)
١٥۔١ اسے جنت الماویٰ، اس لیے کہتے ہیں کہ حضرت آدم عليہ السلام کا ماویٰ و مسکن یہی تھا، بعض کہتےہیں کہ روحیں یہاں آ کر جمع ہوتی ہیں۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَ‌ةَ مَا يَغْشَىٰ ﴿١٦﴾
جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی۔ (۱)
١٦۔١ سدرۃ المنتہیٰ کی اس کیفیت کا بیان ہے جب شب معراج میں آپ ﷺ نے اس کا مشاہدہ کیا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا، اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی تھا۔ (ابن کثیر وغیرہ) اسی مقام پر نبی (ﷺ کو تین چیزوں سے نوازا گیا۔ پانچ وقت کی نمازیں، سورۂ بقرہ کی آخری آیات اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہو۔ (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب ذكر سدرة المنتهى)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا زَاغَ الْبَصَرُ‌ وَمَا طَغَىٰ ﴿١٧﴾
نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی۔ (١)
١٧۔١ یعنی نبی ﷺ کی نگاہیں دائیں بائیں ہوئیں اور نہ اس حد سے بلند اور متجاوز ہوئیں جو آپ ﷺ کے لیے مقرر کر دی گئی تھی۔ (ایسرالتفاسیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَقَدْ رَ‌أَىٰ مِنْ آيَاتِ رَ‌بِّهِ الْكُبْرَ‌ىٰ ﴿١٨﴾
یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں۔ (١)
١٨۔١ جن میں یہ جبرائیل عليہ السلام اور سدرۃ المنتہیٰ کا دیکھنا اور دیگر مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جس کی کچھ تفصیل احادیث معراج میں بیان کی گئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَرَ‌أَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ ﴿١٩﴾
کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔

وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَ‌ىٰ ﴿٢٠﴾
اور منات تیسرے پچھلے کو۔ (١)
٢٠۔١ یہ مشرکین کی توبیخ کے لیے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ تو شان ہے جو مذکور ہوئی کہ جبرائیل عليہ السلام جیسے عظیم فرشتوں کا وہ خالق ہے، محمد ﷺ جیسے اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے آسمانوں پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ بھی کروایا اور وحی بھی ان پر نازل فرماتا ہے۔ کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو، ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں؟ اس ضمن میں عرب کے تین مشہور بتوں کے نام بطور مثال لیے۔ لاَتٌ، بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے، بعض کے نزدیک لاتَ يَلِيتُ سے ہے، جس کے معنی موڑنے کے ہیں، پجاری اپنی گردنیں اس کی طرف موڑتے اور اس کا طواف کرتے تھے۔ اس لیے یہ نام پڑ گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ، لات میں تا مشدد ہے۔ لَتَّ يَلُتُّ سے اسم فاعل (ستو گھولنے والا) یہ ایک نیک آدمی تھا، حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلایا کرتا تھا، جب یہ مر گیا تو لوگوں نے اس کی قبر کو عبادت گاہ بنا لیا، پھر اس کے مجسمے اور بت بن گئے۔ یہ طائف میں بنو ثقیف کا سب سے بڑا بت تھا۔ عُزَّى کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے صفاتی نام عَزِيزٌ سے ماخوذ ہے، اور یہ أَعَزُّ کی تانیث ہے بمعنی عَزِيزَةٍ بعض کہتے ہیں کہ یہ غطفان میں ایک درخت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ شیطاننی (بھوتنی) تھی جو بعض درختوں میں ظاہر ہوتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنگ ابیض تھا جس کو پوجتے تھے۔ یہ قریش اور بنو کنانہ کا خاص معبود تھا۔ مَنَاة مَنَى يَمْنِي سے ہے جس کے معنی صَبَّ (بہانے) کے ہیں اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے لوگ کثرت سے اس کے پاس جانور ذبح کرتے اور ان کا خون بہاتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت تھا (فتح القدیر) یہ قدید کے بالمقابل مشلل جگہ میں تھا، بنو خزاعہ کا یہ خاص بت تھا۔ زمانۂ جاہلیت میں اوس اور خزرج یہیں سے احرام باندھتے تھے اور اس بت کا طواف بھی کرتے تھے۔ (ایسر التفاسیر وابن کثیر) ان کے علاوہ مختلف اطراف میں اور بھی بہت سے بت اور بت خانے پھیلے ہوئے تھے۔ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے بعد اور دیگر مواقع پر ان بتوں اور دیگر تمام بتوں کا خاتمہ فرما دیا۔ ان پر جو قبے عمارتیں بنی ہوئی تھیں۔ وہ مسمار کروا دیں، ان درختوں کو کٹوا دیا، جن کی تعظیم کی جاتی تھی اور وہ تمام آثار و مظاہر مٹا ڈالے گئے جو بت پرستی کی یادگار تھے، اس کام کے لیے آپ ﷺ نے حضرت خالد، حضرت علی، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی وغیرھم (رضی الله عنہم) کو، جہاں جہاں یہ بت تھے، بھیجا اور انہوں نے جا کر ان سب کو ڈھا کر سرزمین عرب سے شرک کا نام مٹا دیا۔ (ابن کثیر) قرون اولی کے بہت بعد ایک مرتبہ پھر عرب میں شرک کے یہ مظاہر عام ہو گئے تھے۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجدد الدعوۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب کو توفیق دی، انہوں نے درعیہ کے حاکم کو اپنے ساتھ ملا کر قوت کے ذریعے سے ان مظاہر شرک کا خاتمہ فرمایا اور اسی دعوت کی تجدید ایک مرتبہ پھر سلطان عبدالعزیز والی نجد و حجاز (موجودہ سعودی حکمرانوں کے والد اور اس مملکت کے بانی) نے کی اور تمام پختہ قبروں اور قبوں کو ڈھا کر سنت نبوی ﷺ کا احیاء فرمایا اور یوں الحمد للہ اب پورے سعودی عرب میں اسلام کے احکام کے مطابق نہ کوئی پختہ قبر ہے اور نہ کوئی مزار۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَكُمُ الذَّكَرُ‌ وَلَهُ الْأُنثَىٰ ﴿٢١﴾
کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں؟ (١)
٢١۔١ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، یہ اس کی تردید ہے، جیسا کہ متعدد جگہ یہ مضمون گزر چکا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ ﴿٢٢﴾
یہ تو اب بڑی بے انصافی کی تقسیم ہے۔ (۱)
٢٢۔١ ضِيزَى حق و صواب سے ہٹی ہوئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّ‌بِّهِمُ الْهُدَىٰ ﴿٢٣﴾
دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔

أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّىٰ ﴿٢٤﴾
کیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے؟ (١)
٢٤۔١ یعنی یہ جو چاہتے ہیں کہ ان کے یہ معبود انہیں فائدہ پہنچائیں اور ان کی سفارش کریں یہ ممکن ہی نہیں ہے۔
 
Top