- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾
اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾
وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ (١)
٤۔١ یعنی وہ گمراہ یا بہک کس طرح سکتا ہے، وہ تو وحی الٰہی کے بغیر لب کشائی ہی نہیں کرتا، حتیٰ کہ مزاح اور خوش طبعی کے موقعوں پر بھی آپ (ﷺ) کی زبان مبارک سے حق کے سوا کچھ نہ نکلتا تھا۔ (سنن الترمذی، أبواب البر، باب ما جاء في المزاح) اسی طرح حالت غضب میں، آپ ﷺ کو اپنے جذبات پر اتنا کنٹرول تھا کہ آپ ﷺ کی زبان سے کوئی بات خلاف واقعہ نہ نکلتی (أبو داود، كتاب العلم، باب في كتاب العلم)۔
عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ﴿٥﴾
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے۔
ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ ﴿٦﴾
جو زور آور ہے (١) پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔
٦۔١ اس سے مراد جبرائیل عليہ السلام فرشتہ ہے جو قوی اعضاء کا مالک اور نہایت زور آور ہے، پیغمبر پر وحی لانے اور اسے سکھانے والا یہی فرشتہ ہے۔
وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ﴿٧﴾
اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا۔ (١)
٧۔١ یعنی جبرائیل عليہ السلام یعنی وحی سکھلانے کے بعد آسمان کے کناروں پر جا کھڑے ہوئے۔
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ﴿٨﴾
پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا۔ (١)
٨۔١ یعنی پھر زمین پر اترے اور آہستہ آہستہ نبی ﷺ کے قریب ہوئے۔
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴿٩﴾
پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔ (١)
٩۔١ بعض نے ترجمہ کیا ہے، دو ہاتھوں کے بقدر، یہ نبی ﷺ اور جبرائیل عليہ السلام کی باہمی قربت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ اور نبی ﷺ کی قربت کا اظہار نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ باورکراتے ہیں۔ آیات کے سیاق سے صاف واضح ہے کہ اس میں صرف جبرائیل عليہ السلام اور پیغمبر کا بیان ہے۔ اسی قربت کے موقعے پر نبی ﷺ نے جبرائیل عليہ السلام کو ان کی اصل شکل میں دیکھا اور یہ بعثت کے ابتدائی ادوار کا واقعہ ہے جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا، دوسری مرتبہ اصل شکل میں معراج کی رات دیکھا۔
أَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ﴿١٠﴾
پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی (١) جو بھی پہنچائی۔
١٠۔١ یعنی جبرائیل عليہ السلام، اللہ کے بندے حضرت محمد ﷺ کے لیے جو وحی یا پیغام لے کر آئے تھے، وہ انہوں نے آپ ﷺ تک پہنچایا۔
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ ﴿١١﴾
دل نے جھوٹ نہیں کہا (پیغمبر نے) دیکھا۔ (١)
١١۔١ یعنی نبی ﷺ نے جبرائیل عليہ السلام کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ ﷺ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔
اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾
وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔ (١)
٤۔١ یعنی وہ گمراہ یا بہک کس طرح سکتا ہے، وہ تو وحی الٰہی کے بغیر لب کشائی ہی نہیں کرتا، حتیٰ کہ مزاح اور خوش طبعی کے موقعوں پر بھی آپ (ﷺ) کی زبان مبارک سے حق کے سوا کچھ نہ نکلتا تھا۔ (سنن الترمذی، أبواب البر، باب ما جاء في المزاح) اسی طرح حالت غضب میں، آپ ﷺ کو اپنے جذبات پر اتنا کنٹرول تھا کہ آپ ﷺ کی زبان سے کوئی بات خلاف واقعہ نہ نکلتی (أبو داود، كتاب العلم، باب في كتاب العلم)۔
عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ﴿٥﴾
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے۔
ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ ﴿٦﴾
جو زور آور ہے (١) پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔
٦۔١ اس سے مراد جبرائیل عليہ السلام فرشتہ ہے جو قوی اعضاء کا مالک اور نہایت زور آور ہے، پیغمبر پر وحی لانے اور اسے سکھانے والا یہی فرشتہ ہے۔
وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ﴿٧﴾
اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا۔ (١)
٧۔١ یعنی جبرائیل عليہ السلام یعنی وحی سکھلانے کے بعد آسمان کے کناروں پر جا کھڑے ہوئے۔
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ﴿٨﴾
پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا۔ (١)
٨۔١ یعنی پھر زمین پر اترے اور آہستہ آہستہ نبی ﷺ کے قریب ہوئے۔
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴿٩﴾
پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔ (١)
٩۔١ بعض نے ترجمہ کیا ہے، دو ہاتھوں کے بقدر، یہ نبی ﷺ اور جبرائیل عليہ السلام کی باہمی قربت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ اور نبی ﷺ کی قربت کا اظہار نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ باورکراتے ہیں۔ آیات کے سیاق سے صاف واضح ہے کہ اس میں صرف جبرائیل عليہ السلام اور پیغمبر کا بیان ہے۔ اسی قربت کے موقعے پر نبی ﷺ نے جبرائیل عليہ السلام کو ان کی اصل شکل میں دیکھا اور یہ بعثت کے ابتدائی ادوار کا واقعہ ہے جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا، دوسری مرتبہ اصل شکل میں معراج کی رات دیکھا۔
أَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ﴿١٠﴾
پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی (١) جو بھی پہنچائی۔
١٠۔١ یعنی جبرائیل عليہ السلام، اللہ کے بندے حضرت محمد ﷺ کے لیے جو وحی یا پیغام لے کر آئے تھے، وہ انہوں نے آپ ﷺ تک پہنچایا۔
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ ﴿١١﴾
دل نے جھوٹ نہیں کہا (پیغمبر نے) دیکھا۔ (١)
١١۔١ یعنی نبی ﷺ نے جبرائیل عليہ السلام کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ ﷺ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔