• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هُوَ الَّذِي أَرْ‌سَلَ رَ‌سُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَ‌هُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِ‌هَ الْمُشْرِ‌كُونَ ﴿٩﴾
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے (١) اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں۔ (۲)
٩۔١ یہ گزشتہ بات ہی کی تاکید ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے پھر دہرایا گیا ہے۔
٩۔١ تاہم یہ لامحالہ ہو کر رہے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَ‌ةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿١٠﴾
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وہ تجارت بتلا دوں (١) جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے؟
١٠۔١ اس عمل (یعنی ایمان اور جہاد) کو تجارت سے تعبیر کیا، اس لیے کہ اس میں بھی انہیں تجارت کی طرح ہی نفع ہو گا، اور وہ نفع کیا ہے؟ جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات۔ اس سے بڑا نفع اور کیا ہو گا، اور وہ نفع کیا ہے؟ اس بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا:﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ﴾ (التوبہ: ۱۱۱) ’’ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کا سودا جنت کے بدلے میں کرلیا ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَرَ‌سُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿١١﴾
اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے ليے بہتر ہے اگر تم ميں علم ہو۔

يَغْفِرْ‌ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١٢﴾
اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

وَأُخْرَ‌ىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ‌ مِّنَ اللَّـهِ وَفَتْحٌ قَرِ‌يبٌ ۗ وَبَشِّرِ‌ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٣﴾
اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وہ اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے، (١) ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔ (٢)
١٣۔١ یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کرو گے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ ﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ (سورة محمد: ۷) ﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ (الحج: ۴۰) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب، قرار دیا۔ اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔
١٣۔٢ جنت کی بھی، مرنے کے بعد۔ اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں۔ بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ ﴿وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (آل عمران: ۱۳۹) آگے اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنے دین کی نصرت کی مزید ترغیب دے رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنصَارَ‌ اللَّـهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْ‌يَمَ لِلْحَوَارِ‌يِّينَ مَنْ أَنصَارِ‌ي إِلَى اللَّـهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِ‌يُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ‌ اللَّـهِ ۖ فَآمَنَت طَّائِفَةٌ مِّن بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ وَكَفَرَ‌ت طَّائِفَةٌ ۖ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِ‌ينَ ﴿١٤﴾
اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ۔ (۱) جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راہ میں مددگار ہیں، (۲) پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان لائی اور ایک جماعت نے کفر کیا (۱) تو ہم نے مومنوں کی انکے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وہ غالب آگئے۔ (٤)
١٤۔١ تمام حالتوں میں، اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے بھی اور جان و مال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی، جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارے تم فوراً ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ عليہ السلام کی پکار پر لبیک کہا۔
١٤۔۲ یعنی ہم آپ ﷺ کے اس دین کی دعوت و تبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشر و اشاعت کا حکم اللہ نے آپ ﷺ کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ ایام حج میں فرماتے (کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لیے کہ قریش مجھے فریضۂ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے)۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کی اس پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ ﷺ کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی اور آپ ﷺ کی مدد کا وعدہ کیا۔ نیز آپ ﷺ کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آجائیں تو آپ ﷺ کی حفاظت کی ذمے داری ہم قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ جب آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو وعدے کے مطابق انہوں نے آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے تمام ساتھیوں کی پوری مدد کی۔ حتیٰ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کا نام ہی (انصار) رکھ دیا اور اب یہ ان کا علم بن گیا۔ (رضی الله عنہم وَأَرْضَاهُمْ) (ابن کثیر)
١٤۔۳ یہ یہود تھے جنہوں نے نبوت عیسیٰ عليہ السلام ہی کا انکار نہیں کیا بلکہ ان پر اور ان کی ماں پر بہتان تراشی کی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اختلاف و تفرق اس وقت ہوا، جب حضرت عیسیٰ عليہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ایک نے کہا کہ عیسیٰ عليہ السلام کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہی زمین پر ظہور فرمایا تھا، اب وہ پھر آسمان پر چلا گیا ہے، یہ فرقہ یعقوبیہ کہلاتا ہے۔ نسطوریہ فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ تھے، باپ نے بیٹے کو آسمان پر بلا لیا ہے۔ تیسرے فرقے نے کہا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، یہی فرقہ صحیح تھا۔
١٤۔٤ یعنی نبی ﷺ کو مبعوث فرما کر ہم نے اسی آخری جماعت کی، دوسرے باطل گروہوں کے مقابلے میں مدد کی۔ چنانچہ یہ صحیح عقیدے کی حامل جماعت نبی ﷺ پر بھی ایمان لے آئی اور یوں ہم نے ان کو دلائل کے لحاظ سے بھی سب کافروں پر غلبہ عطا فرمایا اور قوت و سلطنت کے اعتبار سے بھی۔ اس غلبے کا آخری ظہور اس وقت پھر ہو گا، جب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ عليہ السلام کا دوبارہ نزول ہو گا، جیسا کہ اس نزول اور غلبے کی صراحت احادیث صحیحہ میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الجمعة

(سوره جمعہ مدنی ہے اور اس میں گیارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھا کرتے تھے، (صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ) تاہم ان کا جمعہ کی رات کو عشا کی نماز میں پڑھنا صحیح روایت سے ثابت نہیں، البتہ ایک ضعیف روایت میں ایسا آتا ہے۔ (لسان المیزان لابن حجر))

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

يُسَبِّحُ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿١﴾
(ساری چیزیں) جو آسمان اور زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاہ نہایت پاک (ہے) غالب و با حکمت ہے۔

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢﴾
وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں (١) میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
٢۔١ أُمِّيِّينَ سے مراد عرب ہیں جن کی اکثریت ان پڑھ تھی۔ ان کے خصوصی ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ کی رسالت دوسروں کے لیے نہیں تھی، لیکن چونکہ اولین مخاطب وہ تھے، اس لیے اللہ کا ان پر یہ زیادہ احسان تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَآخَرِ‌ينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٣﴾
اور دوسروں کے لیے بھی انہی میں سے جو اب تک ان سے نہیں (١) ملے۔ اور وہی غالب باحکمت ہے۔
٣۔١ یہ أُمِّيِّينَ پر عطف ہے یعنی (بَعَثَ فِي آخَرِينَ مِنْهُمْ آخَرِينَ ) سے فارس اور دیگر غیر عرب لوگ ہیں جو قیامت تک آپ ﷺ پر ایمان لانے والے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ عرب و عجم کے وہ تمام لوگ ہیں جو عہد صحابہ رضی الله عنہم کے بعد قیامت تک ہوں گے چنانچہ اس میں فارس، روم، بربر، سوڈان، ترک، مغول، کرد، چینی اور اہل ہند وغیرہ سب آجاتے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کی نبوت سب کے لیے ہے چنانچہ یہ سب ہی آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ اور اسلام لانے کے بعد یہ بھی مِنْهُمْ کا مصداق یعنی اولین اسلام لانے والے أُمِّيِّينَ میں سے ہو گئے کیونکہ تمام مسلمان امت واحدہ ہیں۔ اسی ضمیر کی وجہ سے بعض کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد بعد میں ہونے والے عرب ہیں کیونکہ مِنْهُمْ کی ضمیر کا مرجع أُمِّيِّينَ ہیں۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿٤﴾
یہ اللہ کا فضل ہے (١) جسے چاہے اپنا فضل دے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔
٤۔١ یہ اشارہ نبوت محمدی (عَلَى صَاحِبِهَا الصَّلاةُ وَالتَّحِيَّةُ) کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی طرف بھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَ‌اةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ‌ يَحْمِلُ أَسْفَارً‌ا ۚ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّـهِ ۚ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿٥﴾
جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہو۔ (١) اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسی) ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
٥۔١ أَسْفَارٌ، سِفْرٌ کی جمع ہے۔ معنی ہیں بڑی کتاب۔ کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو انسان اس کے معنوں میں سفر کرتا ہے۔ اس لیے کتاب کو بھی سفر کہا جاتا ہے (فتح القدیر) یہ بےعمل یہودیوں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ جس طرح گدھے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی کمر پر جو کتابیں لدی ہوئی ہیں، ان میں کیا لکھا ہوا ہے؟ یا اس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں یا کوڑا کرکٹ۔ اسی طرح یہ یہودی ہیں یہ تورات کو تو اٹھائے پھرتے ہیں، اس کو پڑھنے اور یاد کرنے کے وعدے بھی کرتے ہیں، لیکن اسے سمجھتے ہیں نہ اس کے مقتضا پر عمل کرتے ہیں، بلکہ اس میں تاویل و تحریف اور تغیر و تبدل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے یہ حقیقت میں گدھے سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ گدھا تو پیدائشی طور پر فہم و شعور سے ہی عاری ہوتا ہے، جب کہ ان کے اندر فہم و شعور ہے لیکن یہ اسے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے۔ اسی لیے آگے فرمایا کہ ان کی بڑی بری مثال ہے۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا، ﴿أُولَئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ﴾ (الأعراف: ۱۷۹) ”یہ چوپائے کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ“۔ یہی مثال مسلمانوں کی اور بالخصوص علما کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں، اسے یاد کرتے ہیں اور اس کے معانی و مطالب کو سمجھتے ہیں، لیکن اس کے مقتضا پر عمل نہیں کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّـهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٦﴾
کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے سوا (١) تو تم موت کی تمنا کرو (٢) اگر تم سچے ہو۔ (۳)
٦۔١ جیسے وہ کہا کرتے تھے کہ (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں)۔ (المائدۃ: ۱۸) اور دعویٰ کرتے تھے کہ (جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی یا نصرانی ہو گا) (البقرۃ: ۱۱۱)
٦۔٢ تاکہ تمہیں وہ اعزاز و اکرام حاصل ہو جو تمہارے زعم کے مطابق تمہارے لیے ہونا چاہیے۔
٦۔۳ اس لیے کہ جس کو یہ علم ہو کہ مرنے کے بعد اس کے لیے جنت ہے، وہ تو وہاں جلد پہنچنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس کی تفسیر دعوت مباہلہ سے کی ہے۔ یعنی اس میں ان سے کہا گیا ہے کہ اگر تم نبوت محمدیہ کے انکار اور اپنے دعوائے ولایت و محبوبیت میں سچے ہو تو مسلمانوں کے ساتھ مباہلہ کر لو۔ یعنی مسلمانوں اور یہودی دونوں مل کر بارگاہ الٰہی میں دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے، اسے موت سے ہمکنار فرما دے۔ (دیکھئے سورۂ بقرۃ آیت ۹۴ کا حاشیہ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۚ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ﴿٧﴾
یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہ کریں گے بوجہ ان اعمال کے جو اپنے آگے اپنے ہاتھوں بھیج رکھے ہیں (١) اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
٧۔١ یعنی کفر و معاصی اور کتاب الٰہی میں تحریف و تغیر کا جو ارتکاب یہ کرتے رہے ہیں، ان کے باعث کبھی بھی یہ موت کی آرزو نہیں کریں گے۔
 
Top