• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاعْتَرَ‌فُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ‌ ﴿١١﴾
پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا۔ (١) اب یہ دوزخی دفع ہوں (دور ہوں) (٢)
١١۔١ جس کی بنا پر مستحق عذاب قرار پائے اور وہ ہے کفر اور انبیاء علیہم السلام کی تکذیب۔
١١۔٢ یعنی اب ان کے لئے اللہ اور اس کی رحمت سے دوری ہی دوری ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَ‌بَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَأَجْرٌ‌ كَبِيرٌ‌ ﴿١٢﴾
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ثواب ہے۔ (۱)
۱۲۔۱ یہ اہل کفر و تکذیب کے مقابلے میں اہل ایمان کا اور ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے ہاں ملیں گی۔ بالغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ کےعذاب سے ڈرتے رہے دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَسِرُّ‌وا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُ‌وا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ‌ ﴿١٣﴾
تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ظاہر کرو (١) وہ تو سینوں کی پوشیدگیوں کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ (۲)
١٣۔١ یہ پھر کافروں سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کے بارے میں چھپ کر باتیں کرو یا اعلان یہ سب اللہ کے علم میں ہے، اس سے کوئی بات مخفی نہیں۔
١٣۔۲ یہ سِر و جہر جاننے کی تعلیل ہے کہ وہ تو سینوں کے رازوں اور دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تمہاری باتیں کس طرح اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ‌ ﴿١٤﴾
کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ (١) پھر وہ باریک بین اور باخبر بھی ہو۔ (۲)
١٤۔١ یعنی سینوں اور دلوں اور ان میں پیدا ہونے والے خیالات، سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو کیا وہ اپنی مخلوق سے بےعلم رہ سکتا ہے۔ استفہام انکار کے لیے ہے یعنی نہیں رہ سکتا۔
١٤۔۲ لطیف کے معنی ہی باریک بین کے ہیں یعنی جس کا علم اتنا ہے کہ دلوں میں پرورش پانے والی باتوں کو بھی جانتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّ‌زْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ‌ ﴿١٥﴾
وہ ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست و مطیع کر دیا (١) تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو (۲) اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) (٣) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑے ہونا ہے۔
١٥۔١ ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کر دیا اس کو اس طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا۔
١٥۔۲ مناکب منکب کی جمع ہے۔ جانب یہاں اس سے مراد اس کے راستے اور اطراف و جوانب ہیں۔ امر اباحت کے لیے ہے، یعنی اس کے راستوں میں چلو۔
١٥۔٣ یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْ‌ضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ‌ ﴿١٦﴾
کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ آسمانوں والا تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے۔ (١)
١٦۔١ یعنی اللہ تعالیٰ جو آسمانوں پر یعنی عرش پر جلوہ گر ہے، یہ کافروں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ آسمانوں والی ذات جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو، جو نہایت پر سکون ہے، حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْ‌سِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ‌ ﴿١٧﴾
یا کیا تم اس بات سے نڈر ہو گئے ہو کہ آسمانوں والا تم پر پتھر برسا دے؟ (۱) پھر تو تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔ (۲)
۱۷۔۱ جیسے اس نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر برسائے اور پتھروں کی بارش سے ان کو ہلاک کر دیا۔
١٧۔۲ لیکن اس وقت یہ علم، بے فائدہ ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ‌ ﴿١٨﴾
اور ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا کچھ ہوا؟

أَوَلَمْ يَرَ‌وْا إِلَى الطَّيْرِ‌ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّ‌حْمَـٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ‌ ﴿١٩﴾
کیا یہ اپنے پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے، (١) انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا و فضا میں) تھامے ہوئے ہے۔ (٢) بیشک ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔
١٩۔١ پرندہ جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پر پھیلاتا ہے اور کبھی دوران پرواز پروں کو سمیٹ لیتا ہے۔ یہ پھیلانا، صَف اور سمیٹ لینا قَبْض ہے۔
١٩۔٢ یعنی دوران پرواز ان پرندوں کو تھامے رکھنے والا کون ہے، جو انہیں زمین پر گرنے نہیں دیتا؟ یہ اللہ رحمان ہی کی قدرت کا ایک نمونہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُ‌كُم مِّن دُونِ الرَّ‌حْمَـٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُ‌ونَ إِلَّا فِي غُرُ‌ورٍ‌ ﴿٢٠﴾
سوائے اللہ کے تمہارا وہ کون سا لشکر ہے جو تمہاری مدد کر سکے (١) کافر تو سراسر دھو کے ہی میں ہیں۔ (٢)
٢٠۔١ یہ استفہام تقریع و توبیخ کے لیے ہے۔ جُندٌ کے معنی ہیں لشکر، جتھہ۔ یعنی کوئی لشکر اور جتھہ ایسا نہیں جو تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
٢٠۔٢ جس میں انہیں شیطان نے مبتلا کر رکھا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْ‌زُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِ‌زْقَهُ ۚ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ‌ ﴿٢١﴾
اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا؟ (١) بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑ گئے ہیں۔ (٢)
٢١۔١ یعنی اللہ بارش نہ برسائے، یا زمین ہی کو پیداوار سے روک دے یا تیار شدہ فصلوں کو تباہ کر دے، جیسا کہ بعض دفعہ وہ ایسا کرتا ہے، جس کی وجہ سے تمہاری خوراک کا سلسلہ موقوف ہو جائے، اگر اللہ تعالیٰ ایسا کر دے تو کیا کوئی اور ہے جو اللہ کی مشیت کے برعکس تمہیں روزی مہیا کر دے؟
٢١۔٢ یعنی وعظ و نصیحت کی ان باتوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ حق سے سرکشی اور اعراض و نفور میں ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں عبرت پکڑتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر کرتے ہیں۔
 
Top