• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّ‌صَدًا ﴿٩﴾
اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لیے آسمان میں جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے۔ (۱) اب جو بھی کان لگاتا ہے وہ ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے۔ (۲)
۹۔۱ اور آسمانی باتوں کی کچھ گن سن پا کر کاہنوں کو بتلا دیا کرتے تھے جس میں وہ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیا کرتے تھے۔
٩۔۲ لیکن بعثت محمدیہ کے بعد یہ سلسلہ بند کر دیا گیا، اب جو بھی اس نیت سے اوپر جاتا ہے، شعلہ اس کی تاک میں ہوتا ہے اور ٹوٹ کر اس پر گرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّا لَا نَدْرِ‌ي أَشَرٌّ‌ أُرِ‌يدَ بِمَن فِي الْأَرْ‌ضِ أَمْ أَرَ‌ادَ بِهِمْ رَ‌بُّهُمْ رَ‌شَدًا ﴿١٠﴾
ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب کا ارادہ ان کے ساتھ بھلائی کا ہے۔ (١)
١٠۔١ یعنی اس حراست آسمانی سے مقصد اہل زمین کے لیے کسی شر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانا یعنی ان پر عذاب نازل کرنا ہے یا بھلائی کا ارادہ یعنی رسول بھیجنا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَ‌ائِقَ قِدَدًا ﴿١١﴾
اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکوکار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں۔ (١)
١١۔١ قِدَدٌ، چیز کا ٹکڑا، صَارَ القَوْمُ قِدَدًا اس وقت بولتے ہیں جب ان کے احوال ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ یعنی ہم متفرق جماعتوں اور مختلف اصناف میں بٹے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جنات میں بھی مسلمان، کافر، یہودی، عیسائی، مجوسی وغیرہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ان میں بھی مسلمانوں کی طرح قدریہ، مرحبئہ اور رافضہ وغیرہ ہیں۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن نُّعْجِزَ اللَّـهَ فِي الْأَرْ‌ضِ وَلَن نُّعْجِزَهُ هَرَ‌بًا ﴿١٢﴾
اور ہم نے سمجھ لیا (١) کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کر سکتے اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں۔
١٢۔١ ظن، یہاں علم اور یقین کے معنی میں ہے، جیسے اور بھی بعض مقامات پر ہے۔

وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَىٰ آمَنَّا بِهِ ۖ فَمَن يُؤْمِن بِرَ‌بِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَ‌هَقًا ﴿١٣﴾
ہم تو ہدایت کی بات سنتے ہیں اس پر ایمان لا چکے اور جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے نہ ظلم و ستم کا۔ (١)
١٣۔١ یعنی نہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان کی نیکیوں کے اجر و ثواب میں کوئی کمی کر دی جائے گی اور نہ اس بات کا خوف کہ ان کی برائیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَـٰئِكَ تَحَرَّ‌وْا رَ‌شَدًا ﴿١٤﴾
ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بے انصاف ہیں (١) پس جو فرمانبردار ہو گئے انہوں نے تو راہ راست کا قصد کیا۔
١٤۔١ یعنی جو نبوت محمدیہ پر ایمان لائے وہ مسلمان اور اس کے منکر بے انصاف ہیں۔ قاسط، ظالم اور غیر منصف اور مقسط، عادل یعنی ثلاثی مجرد سے ہو تو معنی ظلم کرنے کے اور مزید فیہ سے ہو تو انصاف کرنے کے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ﴿١٥﴾
اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن گئے۔
١٥۔١ اس سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جنات بھی دوزخ اور جنت میں جانے والے ہوں گے۔ ان میں جو کافر ہوں گے وہ جہنم میں اور مسلمان جنت میں جائیں گے۔ یہاں تک جنات کی گفتگو ختم ہو گئی۔ اب آگے پھر اللہ کا کلام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَن لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِ‌يقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقًا ﴿١٦﴾
اور (اے نبی یہ بھی کہہ دو) کہ اگر لوگ راہ راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے۔ (١)
١٦۔١ ﴿أَنْ لَوِ اسْتَقَامُوا﴾، ﴿أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ﴾ پر عطف ہے یعنی یہ بات بھی میری طرف وحی کی گئی ہے کہ۔۔۔۔ الطریقہ سے مراد راہ راست یعنی اسلام ہے۔ غَدَقً کے معنی کثیر۔ وافر پانی سے مطلب دنیوی خوش حالی ہے۔ یعنی دنیا کا مال و اسباب دے کر ہم ان کی آزمائش کرتے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ﴾ (الأعراف: ۹۶) یہی بات اہل کتاب کے ضمن میں بھی فرمائی گئی ہے۔ سورۂ مائدہ: ۶۶۔ بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا تھا جب کفار قریش پر قحط سالی مسلط کر دی گئی تھی۔ الطریقۃ کے دوسرے معنی گمراہی کے راستے کے کیے گئے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ مادی خوش حالی استدراج کے طور پر ہو گی۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ﴾ (الأنعام: ۴۴) ﴿أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ، نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ﴾ (المؤمنون: ۵۵-۵۶) امام ابن کثیر کے نزدیک لنفتنھم کے پیش نظر یہ دوسرا مفہوم زیادہ قرین قیاس ہے جب کہ امام شوکانی کے نزدیک پہلا زیادہ صحیح ہے۔

لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَن يُعْرِ‌ضْ عَن ذِكْرِ‌ رَ‌بِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا ﴿١٧﴾
تاکہ ہم اس میں انہیں آزما لیں اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منہ پھیر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ (١)
١٧۔١ صَعَدًا، أَيْ: عَذَابًا شَاقًّا شَدِيدًا مُوجِعًا مُؤْلِمًا (ابن کثیر) نہایت سخت، الم ناک عذاب۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا ﴿١٨﴾
اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ (۱)
۱۸۔۱ مسجد کے معنی سجدہ گاہ کے ہیں۔ سجدہ بھی ایک رکن نماز ہے، اس لیے نماز پڑھنے کی جگہ مسجد کہا جاتا ہے۔ آیت کا مطلب واضح ہے کہ مسجدوں کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے، اس لیے مسجدوں میں کسی اور کی عبادت، کسی اور سے دعا و مناجات، کسی اور سے استغاثہ و استمداد جائز نہیں۔ یہ امور ویسے تو مطلقا ہی ممنوع ہیں اور کہیں بھی غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے لیکن مسجدوں کا بطور خاص اس لیے ذکر کیا ہے کہ ان کے قیام کا مقصد ہی اللہ کی عبادت ہے۔ اگر یہاں بھی غیر اللہ کو پکارنا شروع کر دیا گیا تو یہ نہایت ہی قبیح اور ظالمانہ حرکت ہو گی۔ لیکن بدقسمتی سے بعض نادان مسلمان اب مسجدوں میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ بلکہ مسجدوں میں ایسے کتبے آویزاں کیے ہوئے ہیں، جن میں اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے استغاثہ کیا گیا ہے۔ آہ! فَلْيَبْكِ عَلَى الإِسْلامِ مَنْ كَانَ بَاكِيًا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّـهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا ﴿١٩﴾
اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں۔ (١)
١٩۔١ عَبْدُ اللّٰہِ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں اور مطلب ہے کہ انس و جن مل کر چاہتے ہیں کہ اللہ کے اس نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ اس کے اور بھی مفہوم بیان کیے گئے ہیں لیکن امام ابن کثیر نے اسے راجح قرار دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَ‌بِّي وَلَا أُشْرِ‌كُ بِهِ أَحَدًا ﴿٢٠﴾
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (۱)
۲۰۔۱ یعنی جب سب آپ کی عداوت پر متحد ہو گئے اور تل گئے ہیں تو آپ فرما دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں، اسی سے پناہ طلب کرتا ہوں اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔
 
Top