• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرً‌ا ۖ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا ﴿٢٤﴾
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا (١) (الٰہی) تو ان ظالموں کی گمراہی اور بڑھا۔ (۱)
٢٤۔١ أَضَلُّوا کا فاعل (مرجع) قوم نوح کے رؤسا ہیں۔ یعنی انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہو گا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم عليہ السلام نے بھی کہا تھا۔ ﴿رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ﴾ (ابراھیم: ۳۶)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِ‌قُوا فَأُدْخِلُوا نَارً‌ا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَنصَارً‌ا ﴿٢٥﴾
یہ لوگ بہ سبب (١) اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نہیں پایا۔
٢٥۔١ مِمَّا میں ما زائد ہے، مِنْ خَطِيئَاتِهِمْ، أی:( مِنْ أجْلِها وبِسَبَبِهَا أغْرِقُوا بالطُوفَانِ) (فتح القدیر)

وَقَالَ نُوحٌ رَّ‌بِّ لَا تَذَرْ‌ عَلَى الْأَرْ‌ضِ مِنَ الْكَافِرِ‌ينَ دَيَّارً‌ا ﴿٢٦﴾
اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے والا نہ چھوڑ۔ (١)
٢٦۔١ یہ بد دعا اس وقت کی جب حضرت نوح عليہ السلام ان کے ایمان لانے سے بالکل نا امید ہو گئے اور اللہ نے بھی اطلاع کر دی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ (ھود: ۳۶) دیار، فیعال کے وزن پر دیوار ہے۔ واؤ کو یا سے بدل کر ادغام کر دیا گیا، من یسکن الدیار مطلب ہے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّكَ إِن تَذَرْ‌هُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرً‌ا كَفَّارً‌ا ﴿٢٧﴾
اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراہ کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے۔

رَّ‌بِّ اغْفِرْ‌ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارً‌ا ﴿٢٨﴾
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے (۱) اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا۔ (۲)
۲۸۔۱ کافروں کے لیے بدعا کی تو اپنے لیے اور مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
٢٨۔۲ یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لیے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لیے ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الجن

(سورہ جن مکی ہے اور اس میں اٹھائیس آیتیں اور دو رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ‌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْ‌آنًا عَجَبًا ﴿١﴾
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت (۲) نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجب قرآن سنا ہے۔ (۲)
١۔١ یہ واقعہ سورۂ احقاف: ۲۹ کے حاشیے میں گزر چکا ہے کہ نبی ﷺ وادی نخلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے آپ ﷺ کا قرآن سنا۔ جس سے وہ متاثر ہوئے۔ یہاں بتلایا جا رہا ہے کہ اس وقت جنوں کا قرآن سننا، آپ کے علم میں نہیں آیا، بلکہ وحی کے ذریعے سے آپ کو اس سے آگاہ فرمایا گیا۔
١۔۲ عَجَبًا، مصدر ہے بطور مبالغہ۔ یا مضاف محذوف ہے۔ ذا عجب یا مصدر، اسم فاعل کے معنی میں ہے معجبا۔ مطلب کہ ہم نے ایسا قرآن سنا ہے جو فصاحت و بلاغت میں بڑا عجیب ہے یا مواعظ کے اعتبار سے عجیب ہے یا برکت کے لحاظ سے نہایت تعجب انگیز ہے۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَهْدِي إِلَى الرُّ‌شْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِ‌كَ بِرَ‌بِّنَا أَحَدًا ﴿٢﴾
جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (١) ہم اس پر ایمان لا چکے (٢) (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے۔ (٣)
٢۔١ یہ قرآن کی دوسری صفت ہے کہ وہ راہ راست یعنی حق و صواب کو واضح کرتا یا اللہ کی معرفت عطا کرتا ہے۔
٢۔٢ یعنی ہم نے تو سن کر اس بات کی تصدیق کر دی کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے، کسی انسان کا نہیں، اس میں کفار کو توبیخ و تنبیہ ہے کہ جن تو ایک مرتبہ سن کر ہی اس قرآن پر ایمان لے آئے‘ تھوڑی سی آیات سن کر ہی ان کی کایا پلٹ گئی اور وہ یہ بھی سمجھ گئے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں ہے لیکن انسانوں کو، خاص طور پر ان کے سرداروں کو اس قرآن سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، دراں حالیکہ نبی ﷺ کی زبان مبارک سے انہوں نے متعدد بار قرآن سنا، علاوہ ازیں خود آپ ﷺ بھی ان ہی میں سے تھے اور ان ہی کی زبان میں آپ ان کو قرآن سناتے تھے۔
٢۔٣ نہ اس کی مخلوق میں سے، نہ کسی اور معبود کو۔ اس لیے کہ وہ اپنی ربوبیت میں متفرد ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَ‌بِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا ﴿٣﴾
اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا۔ (١)
٣۔١ جَدُّ کے معنی عظمت و جلال کے ہیں یعنی ہمارے رب کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی اولاد یا بیوی ہو۔ گویا جنوں نے ان مشرکوں کی غلطی کو واضح کیا جو اللہ کی طرف بیوی یا اولاد کی نسبت کرتے تھے، انہوں نے ان دونوں کمزویوں سے رب کی تنزیہ و تقدیس کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّـهِ شَطَطًا ﴿٤﴾
اور یہ کہ ہم میں کا ایک بیوقوف اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہا کرتا تھا۔ (١)
٤۔١ سَفِيهُنَا (ہمارے بیوقوف) سے بعض نے شیطان مراد لیا ہے اور بعض نے ان کے ساتھی جن اور بعض نے بطور جنس۔ یعنی ہر وہ شخص جو یہ گمان باطل رکھتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ شَطَطًا کے کئی معنی کئے گئے ہیں، ظلم، جھوٹ، باطل، کفر میں مبالغہ وغیرہ۔ مقصد، راہ اعتدال سے دوری اور حد سے تجاوز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات کہ اللہ کی اولاد ہے ان بے وقوفوں کی بات ہے جو راہ اعتدال و صواب سے دور، حد سے متجاوز اور کاذب و افترا پرداز ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن تَقُولَ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ﴿٥﴾
اور ہم تو یہی سمجھتے رہے کہ ناممکن ہے کہ انسان اور جنات اللہ پر جھوٹی باتیں لگائیں۔ (١)
٥۔١ اسی لیے ہم اس کی تصدیق کرتے رہے اور اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے رہے۔ حتٰی کہ ہم نے قرآن سنا تو پھر ہم پر اس عقیدے کا باطل ہونا واضح ہوا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّهُ كَانَ رِ‌جَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِ‌جَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَ‌هَقًا ﴿٦﴾
بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے (١) جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے۔ (٢)
٦۔١ زمانہ جاہلیت میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ وہ سفر پر کہیں جاتےتو جس وادی میں قیام کرتے، وہاں جنات سے پناہ طلب کرتے، جیسے علاقے کے بڑے آدمی اور رئیس سے پناہ طلب کی جاتی ہے۔ اسلام نے اس کو ختم کیا اور صرف ایک اللہ سے پناہ طلب کرنے کی تاکید کی۔
٦۔٢ یعنی جب جنات نے یہ دیکھا کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں اور ہماری پناہ طلب کرتے ہیں تو ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہو گیا۔ رھقا، یہاں سرکشی، طغیانی اور تکبر کے مفہوم میں ہے۔ اس کے اصل معنی ہیں گناہ اور محارم کو ڈھانکنا یعنی ان کا ارتکاب کرنا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ اللَّـهُ أَحَدًا ﴿٧﴾
اور (انسانوں) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا (یا کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا) (١)
٧۔١ بعث کے دونوں مفہوم ہو سکتے ہیں جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے۔

وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَ‌سًا شَدِيدًا وَشُهُبًا ﴿٨﴾
اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا۔ (١)
٨۔١ حَرَسٌ، حَارِسٌ (چوکیدار، نگران) کی اور شُهُبٌ، شِهَابٌ (شعلہ) کی جمع ہے۔ یعنی آسمانوں پر فرشتے چوکیداری کرتے ہیں کہ آسمانوں کی کوئی بات کوئی اور نہ سن لے اور یہ ستارے آسمان پر جانے والے شیاطین پر شعلہ بن کر گرتے ہیں۔
 
Top