• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْفَارِ‌قَاتِ فَرْ‌قًا ﴿٤﴾
پھر حق و باطل کو جدا جدا کر دینے والے۔ (١)
٤۔١ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے احکام لے کر اترتے ہیں۔ یا مراد آیات قرآنیہ ہیں، جن سے حق و باطل اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے یا رسول مراد ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرً‌ا ﴿٥﴾
اور وحی لانے والے فرشتوں کی قسم۔ (۱)
۵۔۱ جو اللہ کا کلام پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں یا رسول مراد ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی، اپنی امتوں کو پہنچاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عُذْرً‌ا أَوْ نُذْرً‌ا ﴿٦﴾
جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاہ کر دینے والی ہوتی ہے۔ (١)
٦۔١ دونوں مفعول لہ ہیں، لأجل العذار والإنذار یعنی فرشتے وحی لے کر آتے ہیں تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہو جائے اور یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس تو کوئی اللہ کا پیغام ہی لے کر نہیں آیا یا مقصد ڈرانا ہے، ان کو جو انکار یا کفر کرنے والے ہوں گے۔ یا معنی ہیں مومنوں کے لیے خوشخبری، اور کافروں کے لیے ڈراوا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ مرسلات، عاصفات، اور ناشرات سے مراد ہوائیں اور فارقات وملقیات سے فرشتے ہیں۔ یہی بات راجح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ ﴿٧﴾
جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے۔ (١)
٧۔١ قسموں سے مراد، مقسم علیہ کی اہمیت سامعین پر واضح کرنا اور اس کی صداقت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ مقسم علیہ (یا جواب قسم) یہ ہے کہ تم سے قیامت کا جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ یقینا واضح ہونے والی ہے، یعنی اس میں شک کرنے کی نہیں بلکہ اس کے لیے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قیامت کب واقع ہو گی؟ اگلی سورت میں اس کو واضح کیا جا رہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ ﴿٨﴾
پس جب ستارے بے نور کر دیئے جائیں گے۔ (١)
٨۔١ طَمْس کے معنی مٹ جانے اور بے نشان ہونے کے ہیں، یعنی جب ستاروں کی روشنی ختم بلکہ ان کا نشان تک مٹ جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِ‌جَتْ ﴿٩﴾
اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔

وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ﴿١٠﴾
اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کرکے اڑا دیئے جائیں گے۔ (۱)
۱۰۔۱ یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار ہو جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الرُّ‌سُلُ أُقِّتَتْ ﴿١١﴾
اور جب رسولوں کو وقت مقررہ پر لایا جائے گا۔ (۱)
۱۱۔۱ یعنی فصل و قضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ ﴿١٢﴾
کس دن کے لیے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ہے؟ (١)
١٢۔١ یہ استفہام تعظیم اور تعجب کے لیے ہے یعنی کیسے عظیم دن کے لیے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لیے سخت تعجب انگیز ہو گی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِيَوْمِ الْفَصْلِ ﴿١٣﴾
فیصلے کے دن کے لیے۔ (۱)
۱۳۔۱ یعنی جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا، کوئی جنت میں اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ ﴿١٤﴾
اور تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٥﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ (۱)
۱۵۔۱ یعنی ہلاکت ہے، بعض کہتے ہیں، وَيْلٌ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہو گا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ (فتح القدیر)
 
Top