• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَفِرْ‌عَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ ﴿١٠﴾
اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔ (١)
١٠۔١ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس خیموں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس سے اس کے ظلم و ستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ﴿١١﴾
ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا۔

فَأَكْثَرُ‌وا فِيهَا الْفَسَادَ ﴿١٢﴾
اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔

فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَ‌بُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ ﴿١٣﴾
آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ (۱)
۱۳۔۱ یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ و برباد یا انہیں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ رَ‌بَّكَ لَبِالْمِرْ‌صَادِ ﴿١٤﴾
یقیناً تیرا رب گھات میں ہے۔ (۱)
۱٤۔۱ یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَ‌بُّهُ فَأَكْرَ‌مَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَ‌بِّي أَكْرَ‌مَنِ ﴿١٥﴾
انسان (کا یہ حال ہے) کہ جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت و نعمت دیتا ہے تو کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا۔ (١)
١٥۔١ یعنی جب اللہ کسی کو رزق و دولت کی فراوانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالاں کہ یہ فراوانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ‌ عَلَيْهِ رِ‌زْقَهُ فَيَقُولُ رَ‌بِّي أَهَانَنِ ﴿١٦﴾
اور جب وہ اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا)۔ (۱)
۱٦۔۱ یعنی وہ تنگی میں مبتلا کر کے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِ‌مُونَ الْيَتِيمَ ﴿١٧﴾
ایسا ہرگز نہیں (١) بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔ (٢)
١٧۔١ یعنی بات اس طرح نہیں ہے جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی، تنگی میں بھی وہ اپنوں اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے۔ جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔
١٧۔٢ یعنی ان کے ساتھ وہ حسن سلوک نہیں کرتے جس کے وہ مستحق ہیں، نبی ﷺ کا فرمان ہے ”وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بد ترین ہے جس میں اس کے ساتھ بد سلوکی کی جائے۔ پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرکے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں“۔ (أبو داود، كتاب الأدب، باب في ضم اليتيم)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿١٨﴾
اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۔

وَتَأْكُلُونَ التُّرَ‌اثَ أَكْلًا لَّمًّا ﴿١٩﴾
اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو۔ (۱)
۱۹۔۱ یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے لَمَّا بمعنی جَمْعًا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿٢٠﴾
اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو۔ (١)
٢٠-۱ جَمًّا بمعنی كَثِيرًا۔

كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْ‌ضُ دَكًّا دَكًّا ﴿٢١﴾
یقیناً جس (١) وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی۔
٢١-۱ یا تمہارا عمل ایسا نہیں ہونا چاہئے جو مذکور ہوا، کیوں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب ۔۔۔

وَجَاءَ رَ‌بُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ﴿٢٢﴾
اور تیرا رب (خود) آ جائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے)۔ (١)
٢٢۔١ کہا جاتا ہے کہ جب فرشتے، قیامت والے دن آسمان سے نیچے اتریں گے تو ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہو گی، اس طرح سات صفیں ہوں گی جو زمین کو گھیر لیں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ‌ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَ‌ىٰ ﴿٢٣﴾
اور جس دن جہنم بھی لائی جائے گی (١) اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اسکے سمجھنے کا فائدہ کہاں؟ (٢)
٢٣۔١ ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہو گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔ (صحيح مسلم، كتاب الجنة، باب في شدة حر نار جهنم وبعد قعرها ترمذی، أبواب صفة جهنم، باب ما جاء في صفة النار) اسے عرش کے بائیں جانب کھڑا کر دیا جائے گا، پس اسے دیکھ کر تمام مقرب اور انبیاء علیہم السلام گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور ”يَا رَبِّ! نَفْسِي نَفْسِي“ پکاریں گے۔ (فتح القدیر)
٢٣۔٢ یعنی یہ ہولناک منظر دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کفر و معاصی پر نادم ہو گا، لیکن اس روز اس ندامت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي ﴿٢٤﴾
وہ کہے گا کاش کہ میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔ (۱)
۲٤۔۱ یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہو گی۔
 
Top