• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَ‌بِّهِ لَكَنُودٌ ﴿٦﴾
یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ (۱)
۱۔٦ یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔ كَنُودٌ بمعنی كَفُور، ناشکرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ ﴿٧﴾
اور یقیناً وہ خود بھی اس پر گواہ ہے۔ (۱)
۷۔۱ یعنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لَشَهِيدٌ کا فاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیوں کہ ما بعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لیے یہاں بھی انسان ہی ہونا زیادہ صحیح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ‌ لَشَدِيدٌ ﴿٨﴾
یہ مال کی محبت میں بھی بڑا سخت ہے۔ (١)
٨۔١ خَيْرٌ سے مراد مال ہے، جیسے ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ﴾ (البقرة: ۱۸۰) میں ہے معنی واضح ہیں۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ‌ مَا فِي الْقُبُورِ‌ ﴿٩﴾
کیا اسے وہ وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا۔ (١)
٩۔١ بُعْثِرَ، نُثِرَ وَبُعِثَ یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کرکے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ‌ ﴿١٠﴾
اور سینوں کی پوشیدہ باتیں ظاہر کر دی جائیں گی۔ (١)
١٠-۱ حُصِّلَ، مُيِّزَ وَبُيِّنَ یعنی سینوں کی باتوں کو ظاہر اور کھول دیا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ رَ‌بَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ‌ ﴿١١﴾
بیشک ان کا رب اس دن ان کے حال سے پورا باخبر ہو گا۔ (۱)
۱۱۔۱ یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا، ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہرکر دے گا، اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہے جو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے، اس کی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة القارعة

(سورہ قارعہ مکی ہے اور اس میں گیارہ آیتیں ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

الْقَارِ‌عَةُ ﴿١﴾
کھڑ کھڑا دینے والی۔

مَا الْقَارِ‌عَةُ ﴿٢﴾
کیا ہے (١) وہ کھڑ کھڑا دینے والی۔
٢۔١ یہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ جیسے اس سے قبل اس کے متعدد نام گزر چکے ہیں، مثلاً، الْحَاقَّةُ، الطَّامَّةُ، الصَّاخَّةُ، الْغَاشِيَةُ، السَّاعَةُ، الْوَاقِعَة وغیرہ۔ الْقَارِعَةُ، اسے اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے دلوں کو بیدار اور اللہ کے دشمنوں کو عذاب سے خبردار کر دے گی، جیسے دروازہ کھٹکھٹانے والا کرتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْقَارِ‌عَةُ ﴿٣﴾
تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑانے والی کیا ہے۔

يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَ‌اشِ الْمَبْثُوثِ ﴿٤﴾
جس دن انسان بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ (١)
٤۔١ فِرَاشٌ، مچھر اور شمع کے گرد منڈلانے والے پرندے وغیرہ۔ مَبْثُوثٌ، منتشر اور بکھرے ہوئے۔ یعنی قیامت والے دن انسان بھی پروانوں کی طرح پراگندہ اور بکھرے ہوئے ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ ﴿٥﴾
اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔ (١)
٥-۱ عِهْنٌ اس اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ساتھ رنگی ہوئی ہو، مَنْفُوشٌ، دھنی ہوئی۔ یہ پہاڑوں کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو قیامت والے دن ان کی ہو گی۔ قرآن کریم میں پہاڑوں کی یہ کیفیت مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے، جس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے۔ اب آگے ان دو فریقوں کا اجمالی ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت والے دن اعمال کے اعتبار سے ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ ﴿٦﴾
پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے۔ (۱)
٦۔۱ مَوَازِينُ، مِيزَانٌ کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر سورۂ اعراف: ۸، سورۂ کہف: ۱۰۵ اور سورۂ انبیاء: ۴۷ میں بھی گزرا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں یہ میزان نہیں، موزون کی جمع ہے یعنی ایسے اعمال جن کی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت اور خاص وزن ہو گا۔ (فتح القدیر) لیکن پہلا مفہوم ہی راجح اور صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی اور وزن اعمال کے وقت ان کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
 
Top