• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَالٌ وَهَـٰذَا حَرَ‌امٌ لِّتَفْتَرُ‌وا عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُ‌ونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ﴿١١٦﴾
کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو، (١) سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں۔
١١٦۔١ یہ اشارہ ہے ان جانوروں کی طرف جو وہ بتوں کے نام وقف کر کے ان کو اپنے لئے حرام کر لیتے تھے، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔ (دیکھئے: المائدہ: ۱۰۳ اور الانعام: ۱۳۹-۱۴۱ کے حواشی)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَتَاعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١١٧﴾
انہیں بہت معمولی فائدہ ملتا ہے اور ان کے لئے ہی دردناک عذاب ہے۔

وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّ‌مْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿١١٨﴾
اور یہودیوں پر جو کچھ ہم نے حرام کیا تھا اسے ہم پہلے ہی سے آپ کو سنا چکے ہیں، (١) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔
١١٨۔١ دیکھئے سورہ الا نعام: ۱۴۶ کا حاشیہ، نیز سورہ نساء: ۱۶۰ میں بھی اس کا ذکر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ إِنَّ رَ‌بَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَ‌بَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١١٩﴾
جو کوئی جہالت سے برے عمل کرلے پھر توبہ کرلے اور اصلاح بھی کرلے تو پھر آپ کا رب بلاشک و شبہ بڑی بخشش کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے۔

إِنَّ إِبْرَ‌اهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ ﴿١٢٠﴾
بیشک ابراہیم پیشوا (١) اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔
١٢٠۔١ أُمَّةٌ کے معنی پیشوا اور قائد کے بھی ہیں۔ جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے اور امت بمعنی امت بھی ہے، اس اعتبار سے حضرت ابرہیم عليہ السلام کا وجود ایک امت کے برابر تھا۔ (امت کے معانی کے لیے: سورۂ ھود: ۸ کا حاشیہ دیکھئے)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
شَاكِرً‌ا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٢١﴾
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔

وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَ‌ةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ﴿١٢٢﴾
ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکو کاروں میں ہیں۔

ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَ‌اهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ ﴿١٢٣﴾
پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں، (١) جو مشرکوں میں سے نہ تھے۔
١٢٣۔١ مِلَّةَ کے معنی ایسا دین جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی نبی کے ذریعے لوگوں کے لئے مشروع اور ضروری قرار دیا ہے۔ نبی ﷺ باوجود اس بات کے کہ آپ تمام انبیاء سمیت اولاد آدم کے سردار ہیں، آپ کو ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، جس سے حضرت ابراہیم عليہ السلام کی امتیازی اور خصوصی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ویسے اصول میں تمام انبیاء کی شریعت اور ملت ایک ہی رہی جس میں رسالت کے ساتھ توحید و معاد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَ‌بَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿١٢٤﴾
ہفتے کے دن کی عظمت تو صرف ان لوگوں کے ذمے ہی ضروری تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، (١) بات یہ ہے کہ آپ کا پروردگار خود ہی ان میں ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا۔
١٢٤۔١ اس اختلاف کی نوعیت کیا ہے؟ اس کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں حضرت موسیٰ عليہ السلام نے ان کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا تھا، لیکن بنو اسرائیل نے اختلاف کیا اور ہفتے کا دن تعظیم و عبادت کے لئے پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسیٰ! انہوں نے جو دن پسند کیا ہے، وہی دن ان کے لئے رہنے دو، بعض کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا تعظیم کے لئے ہفتے میں کوئی ایک دن متعین کر لو۔ جس کے تعین میں ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ پس یہود نے اپنے اجتہاد کی بنیاد پر ہفتے کا دن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن مقرر کر لیا۔ اور جمعہ کے دن کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانون کے لئے مخصوص کر دیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ نصاریٰ نے اتوار کا دن یہودیوں کی مخالفت کے جذبے سے اپنے لئے مقرر کیا تھا، اسی طرح عبادت کے لئے انہوں نے اپنے کو یہودیوں سے الگ رکھنے کے لئے صخرۂ بیت المقدس کی شرقی جانب کو بطور قبلہ اختیار کیا۔ جمعہ کا دن اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے مقرر کئے جانے کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔ (ملاحظہ ہو۔ صحيح بخاری، كتاب الجمعة، باب هداية هذه الأمة ليوم الجمعة - ومسلم كتاب وباب مذكور)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَ‌بِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿١٢٥﴾
اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، (١) یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وہ راہ یافتہ لوگوں سے پورا واقف ہے۔ (٢)
١٢٥۔١ اس میں تبلیغ و دعوت کے اصول بیان کئے گئے ہیں جو حکمت، موعظہ حسنہ اور رفق و ملامت پر مبنی ہیں۔ جدال بالأحسن، درشتی اور تلخی سے بچتے ہوئے نرم و مشفقانہ لب و لہجہ اختیار کرنا ہے۔
١٢٥۔٢ یعنی آپ کا کام مذکورہ اصولوں کے مطابق وعظ و تبلیغ ہے، ہدایت کے راستے پر چلا دینا، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اور وہ جانتا ہے کہ ہدایت قبول کرنے والا کون ہے اور کون نہیں؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ ۖ وَلَئِن صَبَرْ‌تُمْ لَهُوَ خَيْرٌ‌ لِّلصَّابِرِ‌ينَ ﴿١٢٦﴾
اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کر لو تو بیشک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے۔ (١)
١٢٦۔١ اس میں اگرچہ بدلہ لینے کی اجازت ہے بشرطیکہ تجاوز نہ ہو، ورنہ یہ خود ظالم ہو جائے گا، تاہم معاف کر دینے اور صبر اختیار کرنے کو زیادہ بہتر قرار دیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاصْبِرْ‌ وَمَا صَبْرُ‌كَ إِلَّا بِاللَّـهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُ‌ونَ ﴿١٢٧﴾
آپ صبر کریں بغیر توفیق الٰہی کے آپ صبر کر ہی نہیں سکتے اور ان کے حال پر رنجیدہ نہ ہوں اور جو مکر و فریب یہ کرتے رہتے ہیں ان سے تنگ دل نہ ہوں۔ (١)
١٢٧۔١ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے مکروں کے مقابلے میں اہل ایمان و تقویٰ اور محسنین کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے اہل دنیا کی سازشیں نقصان نہیں پہنچا سکتیں، جیسا کہ ما بعد کی آیت میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ ﴿١٢٨﴾
یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورۃ بنی اسرائیل / الإسرَاء

(سورہ بنی اسرائیل مکی ہے اور اس کی ایک سو گیارہ آیتیں اور بارہ رکوع ہیں۔ یہ سورت مکی ہے۔ اسے سورۃ الاسراء بھی کہتے ہیں، اس لیے کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسراء (رات کو مسجد اقصیٰ لے جانے) کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوعا حدیث فرماتے ہیں کہ سورہ کہف، مریم اور بنی اسرائیل یہ عتاق اول میں سے ہیں اور میرے تلاد میں سے ہیں (تفسیر سورۃ بنی اسرائیل) عِتَاق، عتیق، (قدیم) کی جمع ہے اور تِلَاد تَالَد کی جمع ہے۔ تالد بھی قدیم مال کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورتیں ان قدیم سورتوں میں سے ہیں جو مکے میں اول اول نازل ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات کو بنی اسرائیل اور سورہ زمر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (مسند احمد، ترمذی۔ وصححہ الالبانی))
پارہ 15
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بڑے مہربان اور سب سے زیادہ رحم کرنے والے اللہ کے نام سے شروع کر رہا ہوں۔


سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَ‌ىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَ‌كْنَا حَوْلَهُ لِنُرِ‌يَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ‌ ﴿١﴾
پاک ہے (١) وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے (٢) کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ (٣) تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے (٤) رکھی ہے، اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، (٥) یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔
١۔ ١ سُبْحَانَ, سَبَحَ يَسْبَحُ کا مصدر ہے۔ معنی ہیں أُنَزِّهُ اللهَ تَنْزِيهًا یعنی میں اللہ کی ہر نقص سے تنزیہ اور براءت کرتا ہوں۔ عام طور پر اس کا استعمال ایسے موقع پر ہوتا ہے جب کسی عظیم الشان واقعے کا ذکر ہو۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ واقعہ کتنا محال ہو، اللہ کے لئے مشکل نہیں، اس لئے کہ وہ اسباب کا پابند نہیں، وہ لفظ كُنْ سے پلک جھپکنے میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ اسباب تو انسانوں کے لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پابندیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے۔
١۔٢ إِسْرَاءٌ کے معنی ہوتے ہیں، رات کو لے جانا۔ آگے لَيْلا اس لیے ذکر کیا گیا تاکہ رات کی قلت واضح ہو جائے۔ یعنی رات کے ایک حصے یا تھوڑے سے حصے میں۔ یعنی چالیس راتوں کا دور دراز کا سفر، پوری رات میں بھی نہیں بلکہ رات کے ایک قلیل حصے میں طے ہوا۔
١۔٣ أَقْصَىٰ دور کو کہتے ہیں بیت المقدس، جو القدس یا ایلیاء (قدیم نام) شہر میں ہے اور فلسطین میں واقع ہے، مکے سے القدس تک مسافت ”۴۰“ دن کی ہے، اس اعتبار سے مسجد حرام کے مقابلے میں بیت المقدس کو مسجد اقصٰی (دور کی مسجد) کہا گیا ہے۔
١۔٤ یہ علاقہ قدرتی نہروں اور پھلوں کی کثرت اور انبیاء کا مسکن و مدفن ہونے کے لحاظ سے ممتاز ہے، اس لئے اسے بابرکت قرار دیا گیا ہے۔
١۔٥ یہ اس سیر کا مقصد ہے تاکہ ہم اپنے بندے کو عجائبات اور آیات کبریٰ دکھائیں۔ جن میں سے ایک آیت اور معجزہ یہ سفر بھی ہے کہ اتنا لمبا سفر رات کے ایک قلیل حصے میں ہو گیا نبی کریم ﷺ کو جو معراج ہوئی یعنی آسمانوں پر لے جایا گیا، وہاں مختلف آسمانوں پر انبیاء عليہم السلام سے ملاقاتیں ہوئیں اور سدرۃ المنتہٰی پر، جو عرش سے نیچے ساتویں آسمان پر ہے، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے نماز اور دیگر بعض چیزیں عطا کیں۔ جس کی تفصیلات صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہیں اور صحابہ و تابعین سے لے کر آج تک امت کے اکثر علماء فقہاء اس بات کے قائل چلے آ رہے ہیں کہ یہ معراج بِجَسَدِهِ الْعُنْصُرِيِّ‌ حالت بیداری میں ہوئی ہے۔ یہ خواب یا روحانی سیر اور مشاہدہ نہیں ہے، بلکہ عینی مشاہدہ ہے جو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اپنے پیغمبر کو کرایا ہے۔ اس معراج کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ اسراء کہلاتا ہے، جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اور جو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا نام ہے، یہاں پہنچنے کے بعد نبی ﷺ نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ بیت المقدس سے پھر آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا، یہ سفر کا دوسرا حصہ ہے جسے معراج کہا جاتا ہے۔ اس کا تذکرہ سورہ نجم میں کیا گیا ہے اور باقی تفصیلات احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔ عام طور پر اس پورے سفر کو ”معراج“ سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے۔ معراج سیڑھی کو کہتے ہیں یہ نبی ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ (مجھے آسمان پر لے جایا یا چڑھایا گیا) سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اس سفر کا یہ دوسرا حصہ پہلے سے بھی زیادہ اہم اور عظیم الشان ہے، اس لئے معراج کا لفظ ہی زیادہ مشہور ہو گیا۔ اس کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ تاہم اس میں اتفاق ہے کہ یہ ہجرت سے قبل کا واقعہ ہے۔ بعض کہتے ہیں ایک سال قبل اور بعض کہتے ہیں کئی سال قبل یہ واقعہ پیش آیا۔ اسی طرح مہینے اور اس کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ کوئی ربیع الاول کی ۱۷ یا ۲۷، کوئی رجب کی ۲۷ اور بعض کوئی اور مہینہ اس کی تاریخ بتلاتے ہیں۔ (فتح القدیر)
 
Top