- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ ﴿٣٢﴾
یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے۔ (١)
٣٢۔١ شَعَائِرُ، شَعِیرَہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں علامت اور نشانی کے ہیں، جیسے جنگ میں ایک شعار (مخصوص لفظ بطور علامت) اختیار کر لیا جاتا ہے، جس سے وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہنچانتے ہیں۔ اس اعتبار سے شعائر اللہ وہ ہیں، جو اسلام کے نمایاں امتیازی احکام ہیں، جن سے ایک مسلمان کا امتیاز اور تشخص قائم ہوتا ہے اور دوسرے اہل مذاہب سے الگ پہچان لیا جاتا ہے۔ صفا، مروہ پہاڑیوں کو بھی اس لئے شعائر اللہ کہا گیا ہے کہ مسلمان حج و عمرے میں ان کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ یہاں حج کے دیگر مناسک، خصوصاً قربانی کے جانوروں کو شعائر اللہ کہا گیا ہے۔ ان کی تعظیم کا مطلب ان کا استحسان اور استسمان ہے یعنی عمدہ اور موٹا تازہ جانور قربان کرنا۔ اس تعظیم کو دل کا تقوٰی قرار دیا گیا ہے یعنی یہ دل کے ان افعال سے ہیں جن کی بنیاد تقوٰی ہے۔
یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے۔ (١)
٣٢۔١ شَعَائِرُ، شَعِیرَہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں علامت اور نشانی کے ہیں، جیسے جنگ میں ایک شعار (مخصوص لفظ بطور علامت) اختیار کر لیا جاتا ہے، جس سے وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہنچانتے ہیں۔ اس اعتبار سے شعائر اللہ وہ ہیں، جو اسلام کے نمایاں امتیازی احکام ہیں، جن سے ایک مسلمان کا امتیاز اور تشخص قائم ہوتا ہے اور دوسرے اہل مذاہب سے الگ پہچان لیا جاتا ہے۔ صفا، مروہ پہاڑیوں کو بھی اس لئے شعائر اللہ کہا گیا ہے کہ مسلمان حج و عمرے میں ان کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ یہاں حج کے دیگر مناسک، خصوصاً قربانی کے جانوروں کو شعائر اللہ کہا گیا ہے۔ ان کی تعظیم کا مطلب ان کا استحسان اور استسمان ہے یعنی عمدہ اور موٹا تازہ جانور قربان کرنا۔ اس تعظیم کو دل کا تقوٰی قرار دیا گیا ہے یعنی یہ دل کے ان افعال سے ہیں جن کی بنیاد تقوٰی ہے۔