• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّـهُ وَعْدَهُ ۚ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَ‌بِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿٤٧﴾
اور عذاب کو آپ سے جلدی طلب کر رہے ہیں، اللہ ہرگز اپنا وعدہ نہیں ٹالے گا۔ ہاں البتہ آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے۔ (١)
٤٧۔١ اس لئے یہ لوگ تو اپنے حساب سے جلدی کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حساب میں ایک دن بھی ہزار سال کا ہے۔ اس اعتبار سے وہ اگر کسی کو ایک دن (چوبیس گھنٹے) کی مہلت دے تو ہزار سال، نصف یوم کی مہلت تو پانچ سو سال، چھ گھنٹے (جو چوبیس گھنٹے کا چوتھائی ہے) مہلت دے تو ڈھائی سو سال کا عرصہ عذاب کے لئے درکار ہے، وَهَلُمَّ جَرًّا اس طرح اللہ کی طرف سے کسی کو ایک گھنٹے کی مہلت مل جانے کا مطلب کم و بیش چالیس سال کی مہلت ہے، (ایسر التفاسیر) ایک دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت میں ایک دن اور ہزار سال برابر ہیں، اس لیے تقدیم و تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ جلدی مانگتے ہیں وہ دیر کرتا ہے، تاہم یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرکے رہے گا۔ اور بعض نے اسے آخرت پر محمول کیا ہے کہ شدت ہولناکی کی وجہ سے قیامت کا ایک دن ہزار سال بلکہ بعض کو پچاس ہزار سال کا لگے گا۔ اور بعض نے کہا کہ آخرت کا دن واقعی ہزار سال کا ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكَأَيِّن مِّن قَرْ‌يَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ‌ ﴿٤٨﴾
بہت سی ظلم کرنے والی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی پھر آخر انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے (١)
٤٨۔١ اسی لئے یہاں قانون مہلت کو پھر بیان کیا ہے کہ میری طرف سے عذاب میں کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہو جائے، تاہم میری گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا، نہ کہیں فرار ہو سکتا ہے۔ اسے لوٹ کر بالآخر میرے ہی پاس آنا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ‌ مُّبِينٌ ﴿٤٩﴾
اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے والا ہی ہوں۔ (١)
٤٩۔١ یہ کفار و مشرکین کے مطالبہ پر کہا جا رہا ہے کہ میرا کام تو انذار و تبشیر ہے۔ عذاب بھیجنا، یہ اللہ کا کام ہے، وہ جلدی گرفت فرما لے یا اس میں تاخیر کرے، وہ اپنی حسب مشیت و مصلحت یہ کام کرتا ہے۔ جس کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس خطاب کے اصل مخاطب اگرچہ اہل مکہ ہیں لیکن چونکہ آپ پوری نوح انسانی کے لئے رہبر اور رسول بن کر آئے تھے، اس لئے خطاب یَا اَیُّھَا لنَّاسُ! کے الفاظ سے کیا گیا ہے، اس میں قیامت تک ہونے والے وہ کفار و مشرکین آگئے جو اہل مکہ کا سا رویہ اختیار کریں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَرِ‌زْقٌ كَرِ‌يمٌ ﴿٥٠﴾
پس جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان ہی کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی۔

وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ﴿٥١﴾
اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو پست کرنے کے درپے رہتے ہیں (١) وہی دوزخی ہیں۔
٥١۔١ مُعٰجِزِیْنَ کا مطلب ہے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ہمیں عاجز کر دیں گے، تھکا دیں گے اور ہم ان کی گرفت کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے۔ اس لئے کہ وہ بعث بعد الموت اور حساب کتاب کے منکر تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّ‌سُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّـهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّـهُ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٥٢﴾
ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وہ اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا شیطان نے اس کی آرزو میں کچھ ملا دیا، پس شیطان کی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے پھر اپنی باتیں پکی کر دیتا ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ دانا اور باحکمت ہے۔
٥٢۔١ تَمَنَّى کے ایک معنی ہیں آرزو کی یا دل میں خیال کیا۔ دوسرے معنی ہیں پڑھا یا تلاوت کی۔ اسی اعتبار سے أُمْنِيَّتِه کا ترجمہ آرزو، خیال یا تلاوت ہو گا۔ پہلے معنی کے اعتبار سے مفہوم ہو گا، اس کی آرزو میں شیطان نے رکاوٹیں ڈالیں تاکہ وہ پوری نہ ہوں۔ اور رسول و نبی کی آرزو یہی ہوتی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ایمان لے آئیں، شیطان رکاوٹیں ڈال کر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایمان سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مفہوم ہو گا کہ جب بھی اللہ کا رسول یا نبی وحی شدہ کلام پڑھتا اور اس کی تلاوت کرتا ہے تو شیطان اس کی قرأت و تلاوت میں اپنی باتیں ملانے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بابت لوگوں کے دلوں میں شبہے ڈالتا اور مین میخ نکالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیطان کی رکاوٹوں کو دور فرما کر یا تلاوت میں ملاوٹ کی کوشش ناکام فرما کر یا شیطان کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کا ازالہ فرما کر اپنی بات کو یا اپنی آیات کو محکم (پکا) فرما دیتا ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ شیطان کی یہ کارستانیاں صرف آپ ﷺ کے ساتھ ہی نہیں ہیں، آپ ﷺ سے پہلے جو رسول اور نبی آئے، سب کے ساتھ یہی کچھ کرتا آیا ہے۔ تاہم آپ ﷺ گھبرائیں نہیں شیطان کی ان شرارتوں اور سازشوں سے جس طرح ہم پچھلے انبیاء علیہم السلام کو بچاتے رہے ہیں یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی محفوظ رہیں گے اور شیطان کے علی الرغم اللہ تعالیٰ اپنی بات کو پکا کرکے رہے گا۔ یہاں بعض مفسرین نے غرانیق علیٰ کا قصہ بیان کیا ہے جو محققین کے نزدیک ثابت ہی نہیں ہے۔ اس لیے اسے یہاں پیش کرنے کی ضرورت ہی سرے سے نہیں سمجھی کی گئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ﴿٥٣﴾
یہ اس لئے کہ شیطانی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ (١) بیشک ظالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں۔
٥٣۔١ یعنی شیطان یہ حرکتیں اس لئے کرتا ہے کہ لوگوں کو گمراہ کرے اور اس کے جال میں لوگ پھنس جاتے ہیں جن کے دلوں میں کفر و نفاق کا روگ ہوتا ہے یا گناہ کر کے ان کے دل سخت ہو چکے ہوتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ اللَّـهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٥٤﴾
اور اس لئے بھی کہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا ہے وہ یقین کر لیں کہ یہ آپ کے رب ہی کی طرف سے سراسر حق ہی ہے پھر وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں۔ (١) یقیناً اللہ تعالیٰ ایمان داروں کو راہ راست کی طرف رہبری کرنے والا ہی (٢) ہے۔
٥٤۔١ یعنی یہ القائے شیطانی، جو دراصل اغوائے شیطانی ہے، اگر اہل نفاق و شک اور اہل کفر و شرک کے حق میں فتنے کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف جو علم و معرفت کے حامل ہیں، ان کے ایمان و یقین میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ کی نازل کردہ بات یعنی قرآن حق ہے۔ جس سے ان کے دل بارگاہ الٰہی میں جھک جاتے ہیں۔
٥٤۔٢ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس طرح کی ان کی رہنمائی حق کی طرف کر دیتا ہے اور اس کے قبول اور اتباع کی توفیق سے بھی نواز دیتا ہے۔ باطل کی سمجھ بھی ان کو دے دیتا ہے اور اس سے انہیں بچا بھی لیتا ہے اور آخرت میں سیدھے راستے کی رہنمائی یہ ہے کہ انہیں جہنم کے عذاب الیم و عظیم سے بچا کر جنت میں داخل فرمائے گا اور وہاں اپنی نعمتوں اور دیدار سے انہیں نوازے گا۔ اللھم اجعلنا منہم
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فِي مِرْ‌يَةٍ مِّنْهُ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ ﴿٥٥﴾
کافر اس وحی الٰہی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتٰی کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو منحوس ہے۔ (١)
٥٥۔١ یَوْمِ عَقِیْمِ (بانجھ دن) سے مراد بھی قیامت کا دن ہے۔ اسے عقیم اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہو گا، جس طرح عقیم اس کو کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو۔ یا اس لئے کہ کافروں کے لئے اس دن کوئی رحمت نہیں ہو گی، گویا ان کے لئے خیر سے خالی ہو گا۔ جس طرح باد تند کو، جو بطور عذاب کے آتی رہی ہے الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ کہا گیا ہے۔ (اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ) (الذاریات: ۴۱) "جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی" یعنی ایسی ہوا جس میں کوئی خیر تھی نہ بارش کی نوید۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّـهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿٥٦﴾
اس دن صرف اللہ کی بادشاہی ہو گی (١) وہی ان میں فیصلے فرمائے گا۔ ایمان اور نیک عمل والے تو نعمتوں سے بھری جنتوں میں ہوں گے۔
٥٦۔١ یعنی دنیا میں تو عارضی طور پر بطور انعام یا بطور امتحان لوگوں کو بھی بادشاہتیں اور اختیار و اقتدار مل جاتا ہے۔ لیکن آخرت میں کسی کے پاس بھی کوئی بادشاہت اور اختیار نہیں ہو گا۔ صرف ایک اللہ کی بادشاہی اور اس کی فرمان روائی ہو گی، اسی کا مکمل اختیار اور غلبہ ہو گا، (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ ۭ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا)(الفرقان: ۲۶) "بادشاہی اس دن ثابت ہے واسطے رحمان کے اور یہ دن کافروں پر سخت بھاری ہو گا"۔ ﴿لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ (المومن: ۱۶) اللہ تعالیٰ پوچھے گا۔ "آج کس کی بادشاہی ہے؟" پھر خود ہی جواب دے گا "ایک اللہ غالب کی"۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿٥٧﴾
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لئے ذلیل کرنے والے عذاب ہیں۔

وَالَّذِينَ هَاجَرُ‌وا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ثُمَّ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا لَيَرْ‌زُقَنَّهُمُ اللَّـهُ رِ‌زْقًا حَسَنًا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَهُوَ خَيْرُ‌ الرَّ‌ازِقِينَ ﴿٥٨﴾
اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا پھر وہ شہید کر دیئے گئے یا اپنی موت مر گئے (١) اللہ تعالیٰ انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا۔ (٢) اور بیشک اللہ تعالیٰ روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ (٣)
٥٨۔١ یعنی اسی ہجرت کی حالت میں موت آگئی یا شہید ہو گئے۔
٥٨۔٢ یعنی جنت کی نعمتیں جو ختم نہ ہوں گی نہ فنا۔
٥٨۔٣ کیونکہ وہ بغیر حساب کے، بغیر استحقاق کے اور بغیر سوال کے دیتا ہے۔ علاوہ ازیں انسان بھی جو ایک دوسرے کو دیتے ہیں تو اسی کے دیئے ہوئے میں سے دیتے ہیں۔ اس لئے اصل رازق وہی ہے۔
 
Top