• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا أَنْ أَرَ‌ادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِ‌يدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِن تُرِ‌يدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارً‌ا فِي الْأَرْ‌ضِ وَمَا تُرِ‌يدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ ﴿١٩﴾
پھر جب اپنے اور اس کے دشمن کو پکڑنا چاہا (١) وہ فریادی کہنے لگا کہ (٢) موسیٰ (علیہ السلام) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے، تو تو ملک میں ظالم و سرکش ہونا ہی چاہتا ہے اور تیرا یہ ارادہ ہی نہیں کہ ملاپ کرنے والوں میں سے ہو۔
١٩۔١ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چاہا کہ قطبی کو پکڑ لیں، کیونکہ وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا دشمن تھا، تاکہ لڑائی زیادہ نہ بڑھے۔
١٩۔٢ فریادی (اسرائیلی) سمجھا کہ موسیٰ علیہ السلام شاید اسے پکڑنے لگے ہیں تو وہ بول اٹھا کہ اے موسیٰ! ﴿أَتُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَنِي﴾ جس سے قبطی کے علم میں یہ بات آ گئی کہ کل جو قتل ہوا تھا، اس کا قاتل موسیٰ عليہ السلام ہے، اس نے جا کر فرعون کو بتلا دیا جس پر فرعون نے اس کے بدلے میں موسیٰ عليہ السلام کو قتل کرنے کا عزم کرلیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَاءَ رَ‌جُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُ‌ونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُ‌جْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ ﴿٢٠﴾
شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا (١) اور کہنے لگا اے موسٰی! یہاں کے سردار تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں، پس تو بہت جلد چلا جا مجھے اپنا خیر خواہ مان۔
٢٠۔١ یہ آدمی کون تھا؟ بعض کے نزدیک یہ فرعون کی قوم سے تھا جو درپردہ حضرت موسیٰ عليہ السلام کا خیر خواہ تھا۔ اور ظاہر ہے سرداروں کے مشورے کی خبر ایسے ہی آدمی کے ذریعے آنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ بعض کے نزدیک یہ موسیٰ عليہ السلام کا قریبی رشتے دار اور اسرائیلی تھا۔ اور اقصائے شہر سے مراد منف ہے جہاں فرعون کا محل اور دارالحکومت تھا اور یہ شہر کے آخری کنارے پر تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَخَرَ‌جَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَ‌قَّبُ ۖ قَالَ رَ‌بِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿٢١﴾
پس موسیٰ (علیہ السام) وہاں سے خوفزدہ ہو کر دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے، (١) کہنے لگے اے پروردگار! مجھے ظالموں کے گروہ سے بچا لے۔ (۲)
٢١۔١ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علم میں یہ بات آئی تو وہاں سے نکل کھڑے ہوئے تاکہ فرعون کی گرفت میں نہ آ سکیں۔
٢١۔٢ یعنی فرعون اور اس کے درباریوں سے، جنہوں نے باہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا مشورہ کیا تھا، کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوئی علم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے؟ کیونکہ مصر چھوڑنے کا یہ حادثہ بالکل اچانک پیش آیا، پہلے سے کوئی خیال یا منصوبہ نہیں تھا، چنانچہ اللہ نے گھوڑے پر ایک فرشتہ بھیج دیا، جس نے انہیں راستے کی نشان دہی کی۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَ‌بِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ ﴿٢٢﴾
اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ لے چلے گا۔ (١)
٢٢۔١ چنانچہ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ایسے سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی فرما دی جس سے ان کی دنیا بھی سنور گئی اور آخرت بھی یعنی وہ ہادی بھی بن گئے اور مہدی بھی، خود بھی ہدایت یافتہ اور دوسروں کو بھی ہدایت کا راستہ بتلانے والے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَمَّا وَرَ‌دَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَ‌أَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ‌ الرِّ‌عَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ‌ ﴿٢٣﴾
مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے (١) اور دو عورتیں الگ کھڑی اپنے جانوروں کو روکتی دکھائی دیں، پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے، (٢) وہ بولیں کہ جب تک یہ چروا ہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں (۳) اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں (٤)
۲۳۔۱ یعنی جب مدین پہنچے تو اس کے کنویں پر دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہے۔ مدین یہ قبیلے کا نام تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے تھا، جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل سے تھے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے (حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ یوں اہل مدین اور موسیٰ کے درمیان نسبی تعلق بھی تھا (ایسرالتفاسیر) اور یہی حضرت شعیب علیہ السلام کا مسکن و مبعث بھی تھا۔
٢٣۔۲ دو عورتوں کو اپنے جانور روکے، کھڑے دیکھ کر حضرت موسیٰ عليہ السلام کے دل میں رحم آیا اور ان سے پوچھا، کیا بات ہے تم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاتیں؟
٢٣۔۳ تاکہ مردوں سے ہمارا اختلاط نہ ہو۔ رُعَاءٌ، رَاعٍ (چرواہا) کی جمع ہے۔
٢٣۔٤ اس لیے وہ خود گھاٹ پر پانی پلانے کے لیے نہیں آسکتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَ‌بِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ‌ فَقِيرٌ‌ ﴿٢٤﴾
پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔ (١)
٢٤۔١ حضرت موسیٰ عليہ السلام اتنا لمبا سفر کرکے مصر سے مدین پہنچے تھے، کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا، جب کہ سفر کی تکان اور بھوک سے نڈھال تھے۔ چنانچہ جانورو ں کو پانی پلا کر ایک درخت کے سائے تلے آکر مصروف دعا ہو گئے۔ خیر کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، کھانے پر، امور خیر اور عبادات پر، قوت و طاقت پر اور مال پر (ایسر التفاسیر) یہاں اس کا اطلاق کھانے پر ہوا ہے۔ یعنی میں اس وقت کھانے کا ضرورت مند ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ‌ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿٢٥﴾
اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی، (١) کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے (جانوروں) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اجرت دیں، (۲) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا تو وہ کہنے لگے اب نہ ڈر تو نے ظالم قوم سے نجات پائی۔ (۳)
۲۵۔۱ اللہ نے حضرت موسیٰ عليہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور دونوں میں سے ایک لڑکی انہیں بلانے آگئی۔ لڑکی کی شرم و حیا کا قرآن نے بطور خاص ذکر کیا ہے کہ یہ عورت کا اصل زیور ہے۔ اور مردوں کی طرح حیا و حجاب سے بے نیازی اور بے باکی عورت کے لیے شرعاً ناپسندیدہ ہے۔
٢٥۔۲ بچیوں کا باپ کون تھا؟ قرآن کریم نے صراحت سے کسی کا نام نہیں لیا ہے۔ مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد حضرت شعیب عليہ السلام کو لیا ہے جو اہل مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ امام شوکانی نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب عليہ السلام کا زمانہ نبوت، حضرت موسیٰ عليہ السلام سے بہت پہلے کا ہے۔ اس لیے یہاں حضرت شعیب عليہ السلام کا برادر زادہ یا کوئی اور قوم شعیب عليہ السلام کا شخص مراد ہے، واللہ اعلم۔ بہرحال حضرت موسیٰ عليہ السلام نے بچیوں کے ساتھ جو ہمدردی اور احسان کیا، وہ بچیوں نے جا کر بوڑھے باپ کو بتلایا، جس سے باپ کے دل میں بھی داعیہ پیدا ہوا کہ احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دیا جائے یا اس کی محنت کی اجرت ہی ادا کر دی جائے۔
٢٥۔۳ یعنی اپنے مصر کی سرگزشت اور فرعون کے ظلم و ستم کی تفصیل سنائی جس پر انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ فرعون کی حدود حکمرانی سے باہر ہے اس لیے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ نے ظالموں سے نجات عطا فرما دی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْ‌هُ ۖ إِنَّ خَيْرَ‌ مَنِ اسْتَأْجَرْ‌تَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ ﴿٢٦﴾
ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ ابا جی! آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے، کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔ (١)
٢٦۔١ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ باپ نے بچیوں سے پوچھا تمہیں کس طرح معلوم ہے کہ یہ طاقت ور بھی ہے اور امانت دار بھی۔ جس پر بچیوں نے بتلایا کہ جس کنویں سے پانی پلایا، اس پر اتنا بھاری پتھر رکھا ہوتا ہے کہ اسے اٹھانے کے لیے دس آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ اس شخص نے وہ پتھر اکیلے ہی اٹھا لیا اور پھر بعد میں رکھ دیا۔ اسی طرح جب میں اس کو بلا کر اپنے ساتھ لا رہی تھی، تو چونکہ راستے کا علم مجھے ہی تھا، میں آگے آگے چل رہی تھی اور یہ پیچھے پیچھے۔ لیکن ہوا سے میری چادر اڑ جاتی تھی تو اس شخص نے کہا کہ تو پیچھے چل، میں آگے آگے چلتا ہوں تاکہ میری نگاہ تیرے جسم کے کسی حصے پر نہ پڑے۔ راستے کی نشاندہی کے لیے پیچھے سے پتھر، کنکری مار دیا کر، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَالِ صِحَّتِهِ۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ إِنِّي أُرِ‌يدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَن تَأْجُرَ‌نِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرً‌ا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَا أُرِ‌يدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿٢٧﴾
اس بزرگ نے کہا میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں (١) اس (مہر پر) کہ آپ آٹھ سال تک میرا کام کاج کریں۔ (٢) ہاں اگر آپ دس سال پورے کریں تو یہ آپ کی طرف سے بطور احسان کے ہے ميں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ کو کسی مشقت میں ڈالوں، (٣) اللہ کو منظور ہے تو آگے چل کر آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے۔ (٤)
٢٧۔١ ہمارے ملک میں کسی لڑکی والے کی طرف سے نکاح کی خواہش کا اظہار معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن شریعت الٰہیہ میں یہ مذموم نہیں ہے۔ صفات محمودہ کا حامل لڑکا اگر مل جائے تو اس سے یا اس کے گھر والوں سے اپنی لڑکی کے لیے رشتے کی بابت بات چیت کرنا برا نہیں ہے، بلکہ محمود اور پسندیدہ ہے۔ عہد رسالت مآب ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی یہی طریقہ تھا۔
٢٧۔٢ اس سے علما نے اجارے کے جواز پر استدلال کیا ہے یعنی کرائے اور اجرت پر مرد کی خدمات حاصل کرنا جائز ہے۔
٢٧۔٣ یعنی مزید دو سال کی خدمت میں مشقت اور ایذا محسوس کریں تو آٹھ سال کے بعد جانے کی اجازت ہو گی۔
٢٧۔٤ نہ جھگڑا کروں گا نہ اذیت پہنچاؤں گا، نہ سختی سے کام لوں گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ ۖ وَاللَّـهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ﴿٢٨﴾
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا، خیر تو یہ بات میرے اور آپ کے درمیان پختہ ہو گئی، میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے پورا کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو، (١) ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ (گواہ اور) کارساز ہے۔ (٢)
٢٨۔١ یعنی آٹھ سال کے بعد یا دس سال کے بعد جانا چاہوں تو مجھ سے مزید رہنے کا مطالبہ نہ کیا جائے۔
٢٨۔٢ یہ بعض کے نزدیک شعیب عليہ السلام یا برادر زادہ شعیب عليہ السلام کا قول ہے اور بعض کے نزدیک حضرت موسیٰ عليہ السلام کا۔ ممکن ہے دونوں ہی کی طرف سے ہو۔ کیونکہ جمع کا صیغہ ہے گویا دونوں نے اس معاملے پر اللہ کو گواہ ٹھہرایا۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کی لڑکی اور موسیٰ عليہ السلام کے درمیان رشتہ ازدواج قائم ہو گیا۔ باقی تفصیلات اللہ نے ذکر نہیں کی ہیں۔ ویسے اسلام میں طرفین کی رضا مندی کے ساتھ صحت نکاح کے لیے دو عادل گواہ بھی ضروری ہیں۔
 
Top