• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاسْتَكْبَرَ‌ هُوَ وَجُنُودُهُ فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْ‌جَعُونَ ﴿٣٩﴾
اس نے اور اس کے لشکروں نے ناحق طریقے پر ملک میں تکبر کیا (١) اور سمجھ لیا کہ وہ ہماری جانب لوٹائے ہی نہ جائیں گے۔
٣٩۔١ زمین سے مراد ارض مصر ہے جہاں فرعون حکمران تھا اور استکبار کا مطلب، بغیر استحقاق کے اپنے کو بڑا سمجھنا ہے۔ یعنی ان کے پاس کوئی دلیل ایسی نہیں تھی جو موسیٰ عليہ السلام کے دلائل و معجزات کا رد کر سکتی لیکن استکبار بلکہ عدوان کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے ہٹ دھرمی اور انکار کا راستہ اختیار کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ ۖ فَانظُرْ‌ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ ﴿٤٠﴾
بالآخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور دریا برد کر دیا، (١) اب دیکھ لے کہ ان گنہگاروں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟
٤٠۔١ یعنی جب ان کا کفر و طغیان حد سے بڑھ گیا اور کسی طرح بھی وہ ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوئے تو بالآخر ایک صبح ہم نے انہیں دریا میں غرق کر دیا (جس کی تفصیل سورۂ شعراء میں گزر چکی ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ‌ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنصَرُ‌ونَ ﴿٤١﴾
اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں (١) اور روز قیامت مطلق مدد نہ کئے جائیں۔
٤١۔١ یعنی جو بھی ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ کی توحید یا اس کے وجود کے منکر ہوں گے، تو ان کا امام و پیشوا یہی فرعونی سمجھے جائیں گے جو جہنم کے داعی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ ﴿٤٢﴾
اور ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے اپنی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بدحال لوگوں میں سے ہوں گے۔ (١)
٤۲۔١ یعنی دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنی اور آخرت میں بھی وہ بدحال ہوں گے۔ یعنی چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں۔ جیسا کہ جہنمیوں کے تذکرے میں آتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُ‌ونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ‌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَ‌حْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٤٣﴾
اور ان اگلے زمانے والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی کتاب عنایت فرمائی (١) جو لوگوں کے لیے دلیل اور ہدایت و رحمت ہو کر آئی تھی (٢) تاکہ وہ نصیحت حاصل کر لیں۔ (٣)
٤٣۔١ یعنی فرعون اور اس کی قوم یا نوح و عاد و ثمود وغیرہ قوم کی ہلاکت کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو کتاب (تورات) دی۔
٤٣۔٢ جس سے وہ حق کو پہچان لیں اور اسے اختیار کریں اور اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں۔
٤٣۔٣ یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے پیغمبروں کی اطاعت کریں جو انہیں خیر و رشد اور فلاح حقیقی کی طرف بلاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْ‌بِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ‌ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ﴿٤٤﴾
اور طور کے مغرب کی جانب جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو تو موجود تھا اور نہ تو دیکھنے والوں میں سے تھا۔ (١)
٤٤۔١ یعنی کوہ طور پر جب ہم نے موسیٰ عليہ السلام سے کلام کیا اور اسے وحی و رسالت سے نوازا، اے محمد! ﷺ تو نہ وہاں موجود تھا اور نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا۔ بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے سے تجھے بتلا رہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا پیغمبر ہے۔ کیونکہ نہ تو نے یہ باتیں کسی سے سیکھی ہیں نہ خود ہی ان کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ آل عمران: ۴۴، سورہ ھود: ۱۰۰، ۴۹، سورہ یوسف: ۱۰۲، سورہ طہ: ۹۹ وَغَيْرهَا مِنَ الآيَاتِ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَـٰكِنَّا أَنشَأْنَا قُرُ‌ونًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ‌ ۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِي أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْ‌سِلِينَ ﴿٤٥﴾
لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں (١) جن پر لمبی مدتیں گزر گئیں، (٢) اور نہ تو مدین کے رہنے والوں میں سے تھا (٣) کہ ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا بلکہ ہم ہی رسولوں کے بھیجنے والے رہے۔ (٤)
٤٥۔١ قُرُونٌ، قَرْنٌ کی جمع ہے، زمانہ۔ لیکن یہاں امتوں کے معنی میں ہے یعنی اے محمد! ﷺ آپ کے اور موسی عليہ السلام کے درمیان جو زمانہ ہے اس میں ہم نے کئی امتیں پیدا کیں۔
٤٥۔٢ یعنی مرور ایام سے شرائع و احکام بھی متغیر ہو گئے اور لوگ بھی دین کو بھول گئے، جس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے حکموں کو پس پشت ڈال دیا اور اس کے عہد کو فراموش کر دیا اور یوں اس کی ضرورت پیدا ہو گئی کہ ایک نئے نبی کو مبعوث کیا جائے یا یہ مطلب ہے کہ طول زمان کی وجہ سے عرب کے لوگ نبوت و رسالت کو بالکل ہی بھلا بیٹھے، اس لیے آپ کی نبوت پر انہیں تعجب ہو رہا ہے اور اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
٤٥۔٣ جس سے آپ خود اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ ہو جاتے۔
٤٥۔٤ اور اسی اصول سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور پچھلے حالات و واقعات سے آپ کو باخبر کر رہے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الطُّورِ‌ إِذْ نَادَيْنَا وَلَـٰكِن رَّ‌حْمَةً مِّن رَّ‌بِّكَ لِتُنذِرَ‌ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ‌ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ ﴿٤٦﴾
اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی (١) بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے، (٢) اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں پہنچا، (٣) کیا عجب کہ وہ نصیحت حاصل کر لیں۔
٤٦۔١ یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ عليہ السلام کے اس واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔
٤٦۔٢ یعنی آپ کا یہ علم، مشاہدہ و رویت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔
٤٦۔٣ اس سے مراد، اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی ﷺ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم عليہ السلام کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعثت بنی اسرائیل کی طرف ہی ہوتی رہی۔ بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی ﷺ پہلے نبی تھے اور سلسلۂ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیا کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے لیے کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہے گا اور یہ عذر اللہ نے کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْلَا أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَيَقُولُوا رَ‌بَّنَا لَوْلَا أَرْ‌سَلْتَ إِلَيْنَا رَ‌سُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٤٧﴾
اگر یہ بات نہ ہوتی کہ انہیں ان کے اپنے ہاتھوں آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اور ایمان والوں میں سے ہو جاتے۔ (١)
٤٧۔١ یعنی ان کے اسی عذر کو ختم کرنے کے لیے ہم نے آپ کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا ہے۔ کیونکہ طول زمانی کی وجہ سے گزشتہ انبیا کی تعلیمات مسخ اور ان کی دعوت فراموش ہو چکی ہے اور ایسے ہی حالات کسی نئے نبی کی ضرورت کے متقاضی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات (قرآن و حدیث) کو مسخ ہونے اور تغییر و تحریف سے محفوظ رکھا ہے اور ایسا تکوینی انتظام فرما دیا ہے جس سے آپ کی دعوت دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے اور مسلسل پہنچ رہی ہے تاکہ کسی نئے نبی کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ اور جو شخص اس "ضرورت" کا دعویٰ کرکے نبوت کا ڈھونگ رچاتا ہے، وہ جھوٹا اور دجال ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَىٰ ۚ أَوَلَمْ يَكْفُرُ‌وا بِمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۖ قَالُوا سِحْرَ‌انِ تَظَاهَرَ‌ا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُ‌ونَ ﴿٤٨﴾
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ پہنچا تو کہتے ہیں کہ یہ وہ کیوں نہیں دیا گیا جیسے دیئے گئے تھے موسیٰ (علیہ السلام) (١) اچھا تو کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا گیا تھا اس کے ساتھ لوگوں نے کفر نہیں کیا تھا، (٢) صاف کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم تو ان سب کے منکر ہیں۔
٤٨۔١ یعنی حضرت موسیٰ عليہ السلام کے سے معجزات، جیسے لاٹھی کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا چمکنا وغیرہ۔
٤٨۔٢ یعنی مطلوبہ معجزات، اگر دکھا بھی دیئے جائیں تو کیا فائدہ؟ جنہیں ایمان نہیں لانا ہے، وہ ہر طرح کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔ کیا موسیٰ عليہ السلام کے مذکورہ معجزات دیکھ کر فرعونی مسلمان ہو گئے تھے، انہوں نے کفر نہیں کیا؟ یا يَكْفُرُوا کی ضمیر قریش مکہ کی طرف ہے یعنی کیا انہوں نے نبوت محمدیہ سے پہلے موسیٰ عليہ السلام کے ساتھ کفر نہیں کیا؟
٤٨۔٣ پہلے مفہوم کے اعتبار سے دونوں سے مراد حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام ہوں گے اور سِحْرَانِ بمعنی سَاحِرَانِ ہو گا۔ اور دوسرے مفہوم میں اس سے قرآن اور تورات مراد ہوں گے یعنی دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم سب کے یعنی موسیٰ عليہ السلام اور محمد ﷺ کے منکر ہیں۔ (فتح القدیر)
 
Top