• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰ إِذَا خَرَ‌جُوا مِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ﴿١٦﴾
اور ان میں بعض (ایسے بھی ہیں کہ) تیری طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب تیرے پاس سے جاتے ہیں تو اہل علم سے (بوجہ کند ذہنی و لاپرواہی کے) پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا؟ (۱) یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔
١٦۔۱ یہ منافقین کا ذکر ہے، ان کی نیت چونکہ صحیح نہیں ہوتی تھی، اس لیے نبی ﷺ کی باتیں بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ مجلس سے باہر آکر صحابہ رضی الله عنہم سے پوچھتے کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ ﴿١٧﴾
اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیز گاری عطا فرمائی ہے۔ (١)
١٧۔١ یعنی جن کی نیت ہدایت حاصل کرنے کی ہوتی ہے تو اللہ ان کو ہدایت کی توفیق بھی دے دیتا ہے اور ان کو اس پر ثابت قدمی بھی عطا فرماتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَهَلْ يَنظُرُ‌ونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَ‌اطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَ‌اهُمْ ﴿١٨﴾
تو کیا یہ قیامت کا انتطار کر رہے ہیں کہ وہ ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، (۱) پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہو گا؟ (۲)
۱۸۔۱ یعنی نبی ﷺ کی بعثت بجائے خود قرب قیامت کی ایک علامت ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے بھی فرمایا [بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ] (صحيح بخاری تفسير سورة النازعات) ”میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہے“۔ آپ ﷺ نے اشارہ کرکے واضح فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں، اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان فاصلہ نہیں ہے یا یہ کہ جس طرح ایک انگلی دوسری انگلی سے ذرا سا آگے ہے اسی طرح قیامت میرے ذرا سا بعد ہے۔
١٨۔۲ یعنی جب قیامت اچانک آجائے گی تو کافر کس طرح نصیحت حاصل کر سکیں گے؟ مطلب ہے کہ اس وقت اگر وہ توبہ کریں گے بھی تو وہ مقبول نہیں ہو گی۔ اس لیے اگر توبہ کرنی ہے تو یہی وقت ہے۔ ورنہ وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ ان کی توبہ بھی غیر مفید ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَاسْتَغْفِرْ‌ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ ﴿١٩﴾
سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (۱) اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی، (۲) اللہ تم لوگوں کے آمد و رفت کی اور رہنے سہنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔ (۳)
۱۹۔۱ یعنی اس عقیدے پر ثابت اور قائم رہیں، کیونکہ یہی توحید اور اطاعت الٰہی، مدار خیر ہے اور اس سے انحراف یعنی شرک اور معصیت، مدار شر ہے۔
١٩۔۲ اس میں نبی ﷺ کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے، اپنے لیے بھی اور مومنین کے لیے بھی۔ استغفار کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ احادیث میں بھی اس پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا [يَا أَيُّهَا النَّاسُ! تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً] (صحيح بخاری، كتاب الدعوات، باب استغفار النبي في اليوم والليلة) ”لوگو! بارگاہ الٰہی میں توبہ و استغفار کیا کرو، میں بھی اللہ کے حضور روزانہ ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرتا ہوں“۔
۱۹۔۳ یعنی دن کو تم جہاں پھرتے اورجو کچھ کرتے ہو اور رات کو جہاں آرام کرتے اور استقرار پکڑتے ہو، اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ مطلب ہے شب و روز کی کوئی سرگرمی اللہ سے مخفی نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَ‌ةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَ‌ةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ‌ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَ‌أَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ يَنظُرُ‌ونَ إِلَيْكَ نَظَرَ‌ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ ﴿٢٠﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ (۱) پھر جب کوئی صاف مطلب والی سورت (۲) نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے اس شخص کی نظر ہوتی ہے جس پر موت کی بیہوشی طاری ہو، (۳) پس بہت بہتر تھا ان کے لیے۔
۲۰۔۱ جب جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا تو مومنین، جو جذبۂ جہاد سے سرشار تھے جہاد کی اجازت کے خواہش مند تھے اور کہتے تھے کہ اس بارے میں کوئی سورت نازل کیوں نہیں کی جاتی؟ یعنی جس میں جہاد کا حکم ہو۔
۲۰۔۲ یعنی ایسی سورت جو غیر منسوخ ہو۔
٢٠۔۳ یہ ان منافقین کا ذکر ہے جن پر جہاد کا حکم نہایت گراں گزرتا تھا، ان میں بعض کمزور ایمان والے بھی بعض دفعہ شامل ہو جاتے تھے۔ سورۂ نساء، آیت ۷۷ میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُ‌وفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ‌ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّـهَ لَكَانَ خَيْرً‌ا لَّهُمْ ﴿٢١﴾
فرمان کا بجا لانا اور اچھی بات کا کہنا۔ (١) پھر جب کام مقرر ہو جائے (٢) تو اگر اللہ کے ساتھ سچے رہیں (٣) تو ان کے لئے بہتری ہے۔ (٤)
٢١۔١ یعنی حکم جہاد سے گھبرانے کے بجائے ان کے لیے بہتر تھا کہ وہ سمع و طاعت کا مظاہرہ کرتے اور نبی ﷺ کی بابت، گستاخی کے بجائے، اچھی بات کہتے۔ یہ أَوْلَى بمعنی أَجْدَرُ (بہتر) ہے، جسے ابن کثیر نے اختیار کیا ہے۔ بعض نے اولیٰ کو تہدید و وعید کا کلمہ یعنی بددعا قرار دیا ہے۔ ( مَعْنَاهُ قَارَبَهُ مَا يُهْلِكُهُ) (ان کی ہلاکت قریب ہے) مطلب ہے، ان کی بزدلی اور نفاق ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔ اس اعتبار سے ﴿طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ﴾ جملہ مستانفہ ہو گا اور اس کی خبر محذوف ہو گی خَيْرٌ لَّكُمْ (فتح القدیر، ایسر التفاسیر)
٢١۔٢ یعنی جہاد کی تیاری مکمل ہو جائے اور وقت جہاد آجائے۔
٢١۔٣ یعنی اگر اب بھی نفاق چھوڑ کر، اپنی نیت اللہ کے لیے خالص کر لیں، یا رسول کے سامنے رسول ﷺ کے ساتھ لڑنے کا جو عہد کرتے ہیں، اس میں اللہ سے سچے رہیں۔
٢١۔٤ یعنی نفاق اور مخالفت کے مقابلے میں توبہ و اخلاص کا مظاہرہ بہتر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْ‌ضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْ‌حَامَكُمْ ﴿٢٢﴾
اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو (۱) اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔
۲۲۔۱ ایک دوسرے کو قتل کرکے۔ یعنی اختیار و اقتدار کا غلط استعمال کرو۔ امام ابن کثیر نے تَوَلَّيْتُمْ کا ترجمہ کیا ہے (تم جہاد سے پھر جاؤ اور اس سے اعراض کرو) یعنی تم پھر زمانۂ جاہلیت کی طرف لوٹ جاؤ اور باہم خون ریزی اور قطع رحمی کرو۔ اس میں فساد فی الارض کی عموماً اور قطع رحمی کی خصوصاً ممانعت اور اصلاح فی الارض اور صلۂ رحمی کی تاکید ہے، جس کا مطلب ہے کہ رشتے داروں کے ساتھ زبان سے، عمل سے اور بذل اموال کے ذریعے سے اچھا سلوک کرو۔ احادیث میں بھی اس کی بڑی تاکید اور فضیلت آئی ہے۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَ‌هُمْ ﴿٢٣﴾
یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے۔ (١)
٢٣۔١ یعنی ایسے لوگوں کے کانوں کو اللہ نے (حق کے سننے سے) بہرہ اور آنکھوں کو (حق دیکھنے سے) اندھا کر دیا ہے۔ یہ نتیجہ ہے ان کے مذکورہ اعمال سیئہ کا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَفَلَا يَتَدَبَّرُ‌ونَ الْقُرْ‌آنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ﴿٢٤﴾
کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں۔ (١)
٢٤۔١ جس کی وجہ سے قرآن کے معنی و مفاہیم ان کے دلوں کے اندر نہیں جاتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ ارْ‌تَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِ‌هِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَىٰ لَهُمْ ﴿٢٥﴾
جو لوگ اپنی پیٹھ کے بل الٹے پھر گئے اس کے بعد کہ ان کے لیے ہدایت واضح (١) ہو چکی یقیناً شیطان نے ان کے لیے (ان کے فعل کو) مزین کر دیا ہے اور انہیں ڈھیل دے رکھی ہے۔ (۲)
٢٥۔١ اس سے مراد منافقین ہی ہیں جنہوں نے جہاد سے گریز کرکے اپنے کفر و ارتداد کو ظاہر کر دیا۔
۲۵۔۲ اس کا فاعل بھی شیطان ہے۔ یعنی (مَدَّ لَهُمْ فِي الأَمَلِ وَوَعَدَهُمْ طُولَ الْعُمْرِ) یعنی انہیں لمبی آرزوؤں اور اس دھوکے میں مبتلا کر دیا کہ ابھی تو تمہاری بڑی عمر ہے، کیوں لڑائی میں اپنی جان گنواتے ہو؟ یا فاعل اللہ ہے، اللہ نے انہیں ڈھیل دی۔ یعنی فوراً ان کا مواخذہ نہیں فرمایا۔
 
Top