• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الحشر

(سورة الحشر مدنی ہے اور اس میں چوبیس آیتیں اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورت یہود کے ایک قبیلے بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی، اس لیے اسے سورۃ النضیر بھی کہتے ہیں۔ (صحیح بخاری تفسیر سورۃ الحشر))

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

سَبَّحَ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْ‌ضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١﴾
آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہ غالب با حکمت ہے۔

هُوَ الَّذِي أَخْرَ‌جَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن دِيَارِ‌هِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ‌ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُ‌جُوا ۖ وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّـهِ فَأَتَاهُمُ اللَّـهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا ۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّ‌عْبَ ۚ يُخْرِ‌بُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُ‌وا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ‌ ﴿٢﴾
وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا، (١) تمہارا گمان (بھی) نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ خود (بھی) سمجھ رہے تھے کہ ان کے (سنگین) قلعے انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے (٢) پس ان پر اللہ (کا عذاب) ایسی جگہ سے آپڑا کہ انہیں گمان بھی نہ تھا (٣) اور ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا (٤) وہ اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اجاڑ رہے تھے (۵) اور مسلمان کے ہاتھوں (برباد کروا رہے تھے) ( ٦) پس اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو۔ (۷)
٢۔١ مدینے کے اطراف میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے، بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔ ہجرت مدینہ کے بعد نبی ﷺ نے ان سے معاہدہ بھی کیا لیکن یہ لوگ درپردہ سازشیں کرتے رہے اور کفار مکہ سے بھی مسلمانوں کے خلاف رابطہ رکھا، حتیٰ کہ ایک موقعے پر جب کہ آپ ﷺ ان کے پاس گئے ہوئے تھے، بنو نضیر نے رسول اللہ ﷺ پر اوپر سے ایک بھاری پتھر پھینک کر آپ ﷺ کو مار ڈالنے کی سازش تیار کی، جس کی وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو بروقت اطلاع کر دی گئی، اور آپ ﷺ وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ان پر لشکر کشی کی، یہ چند دن اپنے قلعوں میں محصور رہے، بالآخر انہوں نے جان بخشی کی صورت میں جلا وطنی پر آمادگی کا اظہار کیا، جسے رسول اللہ ﷺ نے قبول فرما لیا۔ اسے اول حشر (پہلی بار اجتماع) سے اس لیے تعبیر کیا کہ یہ ان کی پہلی جلا وطنی تھی، جو مدینے سے ہوئی، یہاں سے یہ خیبر میں جا کر مقیم ہو گئے، وہاں سے حضرت عمر رضی الله عنہ، نے اپنے دور میں انہیں دوبارہ جلا وطن کیا اور شام کی طرف دھکیل دیا، جہاں کہتے ہیں کہ تمام انسانوں کا آخری حشر ہو گا۔
٢۔٢ اس لیے کہ انہوں نے نہایت مضبوط قلعے تعمیر کر رکھے تھے جس پر انہیں گھمنڈ تھا اور مسلمان بھی سمجھتے تھے کہ اتنی آسانی سے یہ قلعے فتح نہیں ہو سکیں گے۔
٢۔٣ اور وہ یہی تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا تھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
۲۔٤ اس رعب کی وجہ سے ہی انہوں نے جلا وطنی پر آمادگی کا اظہار کیا، ورنہ عبداللہ بن ابی (رئیس المنافقین) اور دیگر لوگوں نے انہیں پیغامات بھیجے تھے کہ تم مسلمانوں کے سامنے جھکنا نہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ خصوصی وصف عطا فرمایا تھا کہ دشمن ایک مہینے کی مسافت پر آپ ﷺ سے مرعوب ہو جاتا تھا۔ اس لیے سخت دہشت اور گھبراہٹ ان پر طاری ہو گئی۔ اور تمام تر اسباب و وسائل کے باوجود انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور صرف یہ شرط مسلمانوں سے منوائی کہ جتنا سامان وہ لاد کر لے جا سکتے ہیں انہیں لے جانے کی اجازت ہو، چنانچہ اس اجازت کی وجہ سے انہوں نے اپنے گھروں کے دروازے اور شہتیر تک اکھیڑ ڈالے تاکہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں۔
٢۔۵ یعنی جب انہیں یقین ہو گیا کہ اب جلا وطنی ناگزیر ہے تو انہوں نے دوران محاصرہ اندر سے اپنے گھروں کو برباد کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ مسلمانوں کے بھی کام کے نہ رہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ سامان لے جانے کی اجازت سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے وہ اپنے اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لاد کر لے جا سکتے تھے، اپنے گھر ادھیڑ ادھیڑ کر وہ سامان انہوں نے اونٹوں پر رکھ لیا۔
۲۔٦ باہر سے مسلمان ان کے گھروں کو برباد کرتے رہے تاکہ ان پر گرفت آسان ہو جائے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے ادھیڑے ہوئے گھروں سے بقیہ سامان نکالنے اور حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو مزید تخریب سے کام لینا پڑا۔
۲۔۷ کہ کس طرح اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈالا۔ دراں حالیکہ وہ ایک نہایت طاقت ور اور باوسائل قبیلہ تھا، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہو گئی اور اللہ نے اپنے مواخذے کے شکنجے میں کسنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر ان کی اپنی طاقت اور وسائل ان کے کام آئے نہ دیگر اعوان و انصار ان کی کچھ مدد کر سکے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَوْلَا أَن كَتَبَ اللَّـهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ عَذَابُ النَّارِ‌ ﴿٣﴾
اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو مقدر نہ کر دیا ہوتا تو یقیناً انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا، (۱) اور آخرت میں (تو) ان کے لیے آگ کا عذاب ہے ہی۔
۳۔۱ یعنی اللہ کی تقدیر میں پہلے سے ہی اس طرح ان کی جلا وطنی لکھی ہوئی نہ ہوتی تو ان کو دنیا میں ہی سخت عذاب سے دوچار کر دیا جاتا، جیسا کہ بعد میں ان کے بھائی یہود کے ایک دوسرے قبیلے (بنو قریظہ) کو ایسے ہی عذاب میں مبتلا کیا گیا کہ ان کے جو ان مردوں کو قتل کر دیا گیا، دوسروں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کا مال مسلمانوں کے لیے غنیمت بنا دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ ۖ وَمَن يُشَاقِّ اللَّـهَ فَإِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٤﴾
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو بھی اللہ کی مخالفت کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی سخت عذاب کرنے والا ہے۔

مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَ‌كْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّـهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ ﴿٥﴾
تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے۔ (۱)
٥۔١ لِينَةٍ، کھجور کی ایک قسم ہے، جیسے عجوہ، برنی وغیرہ کھجوروں کی قسمیں ہیں۔ یا عام کھجور کا درخت مراد ہے۔ دوران محاصرہ نبی ﷺ کے حکم سے مسلمانوں نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درختوں کو آگ لگا دی، کچھ کاٹ ڈالے اور کچھ چھوڑ دیئے۔ جس سے مقصود دشمن کی آڑ کو ختم کرنا۔ اور یہ واضح کرنا تھا کہ اب مسلمان تم پر غالب ہیں، وہ تمہارے اموال و جائیداد میں جس طرح چاہیں، تصرف کرنے پر قادر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کی اس حکمت عملی کی تصویب فرمائی اور اسے یہود کی رسوائی کا ذریعہ قرار دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَ‌سُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِ‌كَابٍ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُسَلِّطُ رُ‌سُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ ﴿٦﴾
اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے، (١) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
٦۔١ بنو نضیر کا یہ علاقہ، جو مسلمانوں کے قبضے میں آیا، مدینے سے تین چار میل کے فاصلے پر تھا، یعنی مسلمانوں کو اس کے لیے لمبا سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یعنی اس میں مسلمانوں کو اونٹ اور گھوڑے دوڑانے نہیں پڑے۔ اسی طرح لڑنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور صلح کے ذریعے سے یہ علاقہ فتح ہو گیا، یعنی اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بغیر لڑے ان پر غالب فرما دیا۔ اس لیے یہاں سے حاصل ہونے والے مال کو فَيْء قرار دیا گیا، جس کا حکم غنیمت سے مختلف ہے۔ گویا وہ مال فَيْءٌ ہے، جو دشمن بغیر لڑے چھوڑ کر بھاگ جائے یا صلح کے ذریعے سے حاصل ہو۔ اور جو مال باقاعدہ لڑائی اور غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملے، وہ غنیمت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَ‌سُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَ‌ىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّ‌سُولِ وَلِذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٧﴾
بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے۔

لِلْفُقَرَ‌اءِ الْمُهَاجِرِ‌ينَ الَّذِينَ أُخْرِ‌جُوا مِن دِيَارِ‌هِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِ‌ضْوَانًا وَيَنصُرُ‌ونَ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ﴿٨﴾
(فیء کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں۔ (۱)
٨۔١ اس میں مال فیء کا ایک صحیح ترین مصرف بیان کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی مہاجرین کی فضیلت، ان کے اخلاص اور ان کی راست بازی کی وضاحت ہے، جس کے بعد ان کے ایمان میں شک کرنا، گویا قرآن کا انکار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ‌ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ‌ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِ‌هِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُ‌ونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٩﴾
اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے (۱) اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے (۲) بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو (۳) (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور با مراد) ہے۔ (٤)
۹۔۱ ان سے انصار مدینہ مراد ہیں، جو مہاجرین کے مدینہ آنے سے قبل مدینے میں آباد تھے اور مہاجرین کے ہجرت کرکے آنے سے قبل، ایمان بھی ان کے دلوں میں قرار پکڑ چکا تھا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ مہاجرین کے ایمان لانے سے پہلے، یہ انصار ایمان لا چکے تھے، کیونکہ ان کی اکثریت مہاجرین کے ایمان لانے کے بعد ایمان لائی ہے۔ یعنی (مِنْ قَبْلِهِمْ) کا مطلب (مِنْ قَبْلِ هِجْرَتِهِمْ) ہے۔ اور دَارٌ سے دَارُ الْهِجْرَةِ یعنی مدینہ مراد ہے۔
٩۔۲ یعنی مہاجرین کو اللہ کا رسول ﷺ جو کچھ دے، اس پر حسد اور انقباض محسوس نہیں کرتے، جیسے مال فیء کا اولین مستحق بھی ان کو قرار دیا گیا۔ لیکن انصار نے برا نہیں منایا۔
۹۔۳ یعنی اپنے مقابلے میں مہاجرین کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں۔ خود بھوکا رہتے ہیں لیکن مہاجرین کو کھلاتے ہیں۔ جیسے حدیث میں ایک واقعہ آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا، لیکن آپ ﷺ کے گھر میں کچھ نہ تھا، چنانچہ ایک انصاری اسے اپنے گھر لے گیا، گھر جا کر بیوی کو بتلایا تو بیوی نے کہا کہ گھر میں تو صرف بچوں کی خوراک ہے۔ انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بچوں کو تو آج بھوکا سلا دیں اور ہم خود بھی ایسے ہی کچھ کھائے بغیر سو جائیں گے۔ البتہ مہمان کو کھلاتے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ اسے ہماری بابت علم نہ ہو کہ ہم اس کے ساتھ کھانا نہیں کھا رہے ہیں۔ صبح جب وہ صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم دونوں میاں بیوی کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ الآیہ (صحيح بخاری، تفسير سورة الحشر) ان کے ایثار کی یہ بھی ایک نہایت عجیب مثال ہے کہ ایک انصاری کے پاس دو بیویاں تھیں تو اس نے ایک بیوی کو اس لیے طلاق دینے کی پیشکش کی کہ عدت گزرنے کے بعد اس سے اس کا دوسرا مہاجر بھائی نکاح کرلے۔ (صحيح البخاری، كتاب النكاح)
٩۔٤ حدیث میں ہے ”شُح سے بچو، اس حرص نفس نے ہی پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اسی نے انہیں خون ریزی پر آمادہ کیا اور انہوں نے محارم کو حلال کر لیا“۔ (صحيح مسلم، كتاب البر، تحريم الظلم)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا اغْفِرْ‌ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَ‌بَّنَا إِنَّكَ رَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٠﴾
اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں اور جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال، (۱) اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔
۱۰۔۱ یہ مال فیء کے مستحقین کی تیسری قسم ہے، یعنی صحابہ رضی الله عنہم کے بعد آنے والے اور صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے۔ اس میں تابعین اور تبع تابعین اور قیامت تک ہونے والے اہل ایمان و تقویٰ آگئے۔ لیکن شرط یہی ہے کہ وہ انصار و مہاجرین کو مومن ماننے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنے والے ہوں نہ کہ ان کے ایمان میں شک کرنے اور ان پر سب و شتم کرنے اور ان کے خلاف اپنے دلوں میں بغض و عناد رکھنے والے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے یہی بات ارشاد فرمائی ہے (إِنَّ الرَّافِضِيَّ الَّذِي يَسُبُّ الصَّحَابَةَ لَيْسَ لَهُ فِي مَالِ الْفَيْءِ نَصِيبٌ لِعَدَمِ اتِّصَافِهِ بِمَا مَدَحَ اللهُ بِهِ هَؤُلاءِ فِي قُلُوبِهِمْ) ”رافضی کو جو صحابہ کرام (رضی الله عنہم) پر سب و شتم کرتے ہیں مال فیء سے حصہ نہیں ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کی مدح کی ہے اور رافضی ان کی مذمت کرتے ہیں“۔ (ابن کثیر) اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں۔ (أُمِرْتُمْ بِالاسْتِغْفَارِ لأَصْحَابِ النَّبِي ﷺ فَسَبَبْتُمُوهُمْ! سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ يَقُولُ) : [لا تَذْهَبُ هَذِهِ الأمَّةُ حَتَّى يَلْعَنَ آخِرُهَا أَوَّلَهَا .... ] (رواه البغوي) ”تم لوگوں کو اصحاب محمد ﷺ کے لیے استغفار کا حکم دیا گیا۔ مگر تم نے ان پر لعن طعن کی۔ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ امت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ اس کے آخرین اولین پر لعنت نہ کریں“۔ (حوالۂ مذکور)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِ‌جْتُمْ لَنَخْرُ‌جَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَ‌نَّكُمْ وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ﴿١١﴾
کیا تو نے منافقوں کو نہ دیکھا؟ کہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں اگر تم جلا وطن کیے گئے تو ضرور بالضرور ہم تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوں گے اور تمہارے بارے میں ہم کبھی بھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے جنگ کی جائے گی تو بخدا ہم تمہاری مدد کریں گے، (١) لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ قطعًا جھوٹے ہیں۔ (٢)
١١۔١ جیسے پہلے گزر چکا ہے کہ منافقین نے بنو نضیر کو یہ پیغام بھیجا تھا۔
١١۔٢ چنانچہ ان کا جھوٹ واضح ہو کر سامنے آگیا کہ بنو نضیر جلا وطن کر دیئے گئے ، لیکن یہ ان کی مدد کو پہنچے نہ ان کی حمایت میں مدینہ چھوڑنے پر آمادہ ہوئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَئِنْ أُخْرِ‌جُوا لَا يَخْرُ‌جُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُ‌ونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُ‌وهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ‌ ثُمَّ لَا يُنصَرُ‌ونَ ﴿١٢﴾
اگر وہ جلا وطن کیے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ جائیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد بھی نہ کریں گے (١) اور اگر (بالفرض) مدد پر آ بھی گئے (٢) تو پیٹھ پھیر کر (بھاگ کھڑے) ہوں گے (٣) پھر مدد نہ کیے جائیں گے۔ (٤)
١٢۔١ یہ منافقین کے گزشتہ جھوٹے وعدوں ہی کی مزید تفصیل ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، بنو نضیر، جلا وطن اور بنو قریظہ قتل اور اسیر کیے گئے، لیکن منافقین کسی کی مدد کو نہیں پہنچے۔
١٢۔٢ یہ بطور فرض، بات کی جا رہی ہے، ورنہ جس چیز کی نفی اللہ تعالیٰ فرما دے، اس کا وجود کیوں کر ممکن ہے، مطلب ہے کہ اگر یہود کی مدد کرنے کا ارادہ کریں۔
١٢۔٣ یعنی شکست کھا کر۔
١٢۔٤ مراد یہود ہیں، یعنی جب ان کے مددگار منافقین ہی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے تو یہود کس طرح منصور و کامیاب ہوں گے؟ بعض نے اس سے مراد منافقین لیے ہیں کہ وہ مدد نہیں کیے جائیں گے ، بلکہ اللہ ان کو ذلیل کرے گا اور ان کا نفاق ان کے لیے نافع نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَأَنتُمْ أَشَدُّ رَ‌هْبَةً فِي صُدُورِ‌هِم مِّنَ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ﴿١٣﴾
(مسلمانو! یقین مانو) کہ تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں (١) بہ نسبت اللہ کی ہیبت کے بہت زیادہ ہے، یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔ (٢)
١٣۔١ یہود کے یا منافقین کے یا سب کے ہی دلوں میں۔
١٣۔٢ یعنی تمہارا یہ خوف ان کے دلوں میں ان کی ناسمجھی کی وجہ سے ہے، ورنہ اگر یہ سمجھدار ہوتے تو سمجھ جاتے کہ مسلمانوں کا غلبہ و تسلط، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے ڈرنا اللہ تعالیٰ سے چاہیے نہ کہ مسلمانوں سے۔
 
Top