• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر عثمانی اور عقائد اہلسنت

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
"حضرت نبی کریم خاتم النبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر وعدہ الٰہی انک میت و انھم میتون کے مطابق حقیقۃ موت وقع ہوئی آپ کی روح اقدس جسد اطہر سے منقطع ہو کر جنت الفردوس میں رفیق اعلی کے ساتھ شامل ہوگئی۔ اور حضرات صحابہ کبار رضی اللہ عنھم نے آپ کے جسدِ اطہر کو واقعی میت سمجھ کر قبر میں دفن کیا۔اور اس عالمِ دنیا سے انتقال کے بعد آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عالمِ برزخ میں مثل شھداء بلکہ شھداء سے اعلی و ارفع حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی وہ حیات ِ دنیویہ نہیں بلکہ اس سے بدرجہا اعلی و ارفع وافضل حیاتِ برزخیہ ہے نہ کہ حیات دنیویہ لیکن اگر کوئی اس(برزخی حیات ناقل) حیات کو دنیوی کے نام سے تعبیر کرے اور آپ کی حیات برزخیہ سے بھی انکار نہ کرے تو اُس کو جماعت اہل السنت سے خارج نہیں کرنا چاہئیے ،حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ و السلام اور خصوصا سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بعد الموت سب سے اعلیٰ وارفع واجمل وافضل حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی ہے یہ جمہور اہل السنت والجماعت کا مسلک ہے اس پر کتاب اللہ احادیث صحیحہ اور ارشادات صحابہ رضوان اللہ علیہم شاہد ہیں"
اسی مسئلے پر تحقیق کرتے ہوئے میں نے عقائد پڑھے تھے اور اوپر مذکور نتیجے تک پہنچا تھا۔
اشاعت والوں کے عقیدے کے سلسلے میں دو خرابیاں ہوئی ہیں:
1۔ ان کا اس حوالے سے عقیدے میں اختلاف ہے۔ ان کے بعض حضرات الگ عقیدہ بیان کرتے ہیں۔ بعض تو اس قدر متشدد ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے لیے کسی بھی قسم کی حیات کا انکار کرتے ہیں، ان میں ایک نام احمد سعید چتروڑی صاحب کا بھی لیا جاتا ہے۔
2۔ ان کا صحیح عقیدہ بھی منقول ہوتے وقت کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔
ان دونوں چیزوں کا اثر ان پر لگنے والے فتاوی پر ہوتا ہے۔ کچھ تعصب بھی بیچ میں آتا ہے اور کچھ نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت بھی معروف عقیدے کے الفاظ تک کو بدلنے کی گنجائش نہیں دیتی۔ ان تمام باتوں کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آپ کے سامنے ہے۔
ہم نے زمانہ طالب علمی میں یہ کوشش کی تھی کہ کسی طرح ہم اس اختلاف کی اصل بنیادوں تک پہنچ کر اسے کم سے کم کر سکیں۔ اس کے لیے ایک کتابچہ ہم نے اشاعت والے حضرات کے پاس پہنچایا تھا۔ ایک عہدیدار کے صاحب زادے ہمارے ہم جماعت تھے۔ لیکن ان حضرات نے غالباً اس پر غور نہیں فرمایا۔ کچھ الیکشن کی ہماہمی بھی تھی اور ان کے اجلاس اسی حوالے سے ہو رہے تھے۔ وہ حضرات وقت کی ضروریات سے زیادہ واقف ہوں گے۔ بہرحال معاملہ ختم ہو گیا۔

مذکورہ بالا عقیدہ مکمل نہیں ہے۔ برزخ کو کون جانتا ہے کہ اس کی شکل کیا ہے اور وہ کہاں واقع ہے؟ کیا معلوم کہ یہ دنیوی قبر ہی برزخ کا حصہ بھی ہو۔انسان جب سوتا ہے تو روحانی طور پر وہ بہت کچھ دیکھ آتا ہے لیکن اس کے جسم سے اس کا ایسا تعلق ہوتا ہے کہ وہ تمام دیکھی ہوئی چیزوں کا اثر محسوس کرتا ہے۔ بسا اوقات مشقت والے خواب دیکھنے کے بعد جب انسان جاگتا ہے تو وہ خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس مذکورہ عقیدے میں اس بات کی وضاحت ہی نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی روح مبارک کا ان کے جسم اطہر سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اور جسد مبارک ان انعامات کو محسوس کرتا ہے جو آپ ﷺ کو عطا ہوتے ہیں یا نہیں؟ آپ ﷺ سلام کو سنتے ہیں یا نہیں اور آپ پر پیش کیا جاتا ہے یا نہیں؟
جتنا عقیدہ مذکور ہے یہ تو تقریباً قائلین حیات اور قائلین ممات کا ایک جیسا ہی ہے، الفاظ اور تعبیر کا فرق ہے۔
آپ نے جو یہ کہا ہے:

لیکن اس کے باوجود انہیں اہل سنت سے خارج ، مماتی، بدعتی ، معتزلہ کہا جاتا ہے کیوں ؟؟؟
اس کا تعلق پورے عقیدے سے ہے۔ اس کے پہلے دو جملوں میں اس طرف خفیف سا اشارہ موجود ہے لیکن وضاحت نہیں ہے۔
 
شمولیت
مئی 05، 2014
پیغامات
201
ری ایکشن اسکور
40
پوائنٹ
81
اسی مسئلے پر تحقیق کرتے ہوئے میں نے عقائد پڑھے تھے اور اوپر مذکور نتیجے تک پہنچا تھا۔
اشاعت والوں کے عقیدے کے سلسلے میں دو خرابیاں ہوئی ہیں:
1۔ ان کا اس حوالے سے عقیدے میں اختلاف ہے۔ ان کے بعض حضرات الگ عقیدہ بیان کرتے ہیں۔ بعض تو اس قدر متشدد ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے لیے کسی بھی قسم کی حیات کا انکار کرتے ہیں، ان میں ایک نام احمد سعید چتروڑی صاحب کا بھی لیا جاتا ہے۔
2۔ ان کا صحیح عقیدہ بھی منقول ہوتے وقت کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔
ان دونوں چیزوں کا اثر ان پر لگنے والے فتاوی پر ہوتا ہے۔ کچھ تعصب بھی بیچ میں آتا ہے اور کچھ نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت بھی معروف عقیدے کے الفاظ تک کو بدلنے کی گنجائش نہیں دیتی۔ ان تمام باتوں کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آپ کے سامنے ہے۔
ہم نے زمانہ طالب علمی میں یہ کوشش کی تھی کہ کسی طرح ہم اس اختلاف کی اصل بنیادوں تک پہنچ کر اسے کم سے کم کر سکیں۔ اس کے لیے ایک کتابچہ ہم نے اشاعت والے حضرات کے پاس پہنچایا تھا۔ ایک عہدیدار کے صاحب زادے ہمارے ہم جماعت تھے۔ لیکن ان حضرات نے غالباً اس پر غور نہیں فرمایا۔ کچھ الیکشن کی ہماہمی بھی تھی اور ان کے اجلاس اسی حوالے سے ہو رہے تھے۔ وہ حضرات وقت کی ضروریات سے زیادہ واقف ہوں گے۔ بہرحال معاملہ ختم ہو گیا۔

مذکورہ بالا عقیدہ مکمل نہیں ہے۔ برزخ کو کون جانتا ہے کہ اس کی شکل کیا ہے اور وہ کہاں واقع ہے؟ کیا معلوم کہ یہ دنیوی قبر ہی برزخ کا حصہ بھی ہو۔انسان جب سوتا ہے تو روحانی طور پر وہ بہت کچھ دیکھ آتا ہے لیکن اس کے جسم سے اس کا ایسا تعلق ہوتا ہے کہ وہ تمام دیکھی ہوئی چیزوں کا اثر محسوس کرتا ہے۔ بسا اوقات مشقت والے خواب دیکھنے کے بعد جب انسان جاگتا ہے تو وہ خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس مذکورہ عقیدے میں اس بات کی وضاحت ہی نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی روح مبارک کا ان کے جسم اطہر سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اور جسد مبارک ان انعامات کو محسوس کرتا ہے جو آپ ﷺ کو عطا ہوتے ہیں یا نہیں؟ آپ ﷺ سلام کو سنتے ہیں یا نہیں اور آپ پر پیش کیا جاتا ہے یا نہیں؟
جتنا عقیدہ مذکور ہے یہ تو تقریباً قائلین حیات اور قائلین ممات کا ایک جیسا ہی ہے، الفاظ اور تعبیر کا فرق ہے۔
آپ نے جو یہ کہا ہے:


اس کا تعلق پورے عقیدے سے ہے۔ اس کے پہلے دو جملوں میں اس طرف خفیف سا اشارہ موجود ہے لیکن وضاحت نہیں ہے۔
میرے انتہائی مکرم و محترم اشماریہ صاحب
غالبا آپ نے توجہ سے اشاعت توحید والوں کا مسلک نہیں پڑھا ؟ آپ ان کے بعض علماء کی بات نہ کریں یہ ان کے اکابریں جماعت کا متفقہ مسلک ہے جس پر اس وقت کے 50 علماء کرام کے دستخط موجود ہیں ۔ صاحب انوارالباری صاحب تسکین الصدور نے اسے ادھورا عقیدہ نہیں کہا خر کیوں ؟؟؟ ان کے مقابلہ میں ایک احمد سعید کی بات یا نظریہ کی کوئی وقعت نہیں ہونی چاہئیے

کیا ان سب علماء کرام نے اپنا مسلک و عقیدہ ادھورا لکھا ہے


مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب کا نظریہ پڑہیں

جو حیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت حاصل ہے وہ دوسری قسم کی حیات ہے جو دنیاوی حیات کی جنس سے نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حیات دنیویہ کے اعتبار سے میت ہیں اوراس برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں جو اس دنیا بھی حیات سے الگ ہے

اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 272

مفتی عبدالکریم گمتھلوی کا نظریہ پڑھیں

انبیاء علیہ السلام کی حیات بعدالموت حیات برزخیہ ہے ۔ جو دوسری اموات کی حیات برزخیہ سے اقوی ا شد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امداد الاحکام جلد 1 صفحہ 250

مفتی مہدی حسن صاحب کا فتوی پڑھیں

محققین اکابر کی تحقیق ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حیات برزخی حاصل ہے ، جو اس حیات دنیاوی سے بدرجہا بڑھ چڑھ

کر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر احادیث سے حیات دنیویہ ثابت ہوتی ہے ، مگر بحالت موجودہ اقوی اور قوی تر ہے ۔
دونوں قول موجود ہے راجح اول ھے (یعنی برخی حیات کا) ۔

ماہنامہ تعلیم القرآن اپریل 1958 صفحہ 41

مولانا محمد اشرف علی تھانوی کا نظریہ پڑھیں

امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص حیات بعد وفات کے بھی بھی مسلم ہے صحابہ رضی اللہ عنہ بھی اس سے واقف تھے گو وہ حیات اس حیات کے مثل نہیں ہے بلکہ حیات برزخیہ ہے

مواعظ اشرفیہ صفحہ 446

مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی کا فتوی

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قسم کی حیات برزخی حاصل ہے جس کی کیفیت خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن حیات دنیوی کہنا خلاف اہلسنت والجماعت ہیں

تسکین الصدور صفحہ 276 طبع دوم

ڈاکٹر خالد محمود صاحب کا نظریہ پڑھیں

ہم شہداء اور انبیاء کو اس عالم (دنیا) میں نہیں اگلے جہان (عالم برزخ) میں زندہ مانتے ہیں ۔ انتقال دارین ہوچکا ہے اور اب یہ حضرات اس عالم کے افراد نہیں ،اس جہان کے رہنے والے ہیں

مقام حیات صفحہ 130

مفتی محمد شفیع صاحب کا نظریہ

حٰیات دنیاوی ظاہری کا تو دنیا میں کوئی بھی قائل نہیں ، قرآن پاک کی اتنی صریح مخالفت کو مسلمان کر سکتا ہے َ؟ جو بھی قائل ہیں حیات برزخی ہی کے قائل ہیں ۔

مقام حیات صفحہ 236 طبع دوم
کیا ان سب نے اپنا عقیدہ ادھورا لکھا ہے
ابھی کچھ لکھنا باقی ہے




؀릍Ȕᘀ릵ȓ
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
میرے انتہائی مکرم و محترم اشماریہ صاحب
غالبا آپ نے توجہ سے اشاعت توحید والوں کا مسلک نہیں پڑھا ؟ آپ ان کے بعض علماء کی بات نہ کریں یہ ان کے اکابریں جماعت کا متفقہ مسلک ہے جس پر اس وقت کے 50 علماء کرام کے دستخط موجود ہیں ۔ صاحب انوارالباری صاحب تسکین الصدور نے اسے ادھورا عقیدہ نہیں کہا خر کیوں ؟؟؟ ان کے مقابلہ میں ایک احمد سعید کی بات یا نظریہ کی کوئی وقعت نہیں ہونی چاہئیے

کیا ان سب علماء کرام نے اپنا مسلک و عقیدہ ادھورا لکھا ہے


مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب کا نظریہ پڑہیں

جو حیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت حاصل ہے وہ دوسری قسم کی حیات ہے جو دنیاوی حیات کی جنس سے نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حیات دنیویہ کے اعتبار سے میت ہیں اوراس برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں جو اس دنیا بھی حیات سے الگ ہے

اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 272

مفتی عبدالکریم گمتھلوی کا نظریہ پڑھیں

انبیاء علیہ السلام کی حیات بعدالموت حیات برزخیہ ہے ۔ جو دوسری اموات کی حیات برزخیہ سے اقوی ا شد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امداد الاحکام جلد 1 صفحہ 250

مفتی مہدی حسن صاحب کا فتوی پڑھیں

محققین اکابر کی تحقیق ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حیات برزخی حاصل ہے ، جو اس حیات دنیاوی سے بدرجہا بڑھ چڑھ

کر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر احادیث سے حیات دنیویہ ثابت ہوتی ہے ، مگر بحالت موجودہ اقوی اور قوی تر ہے ۔
دونوں قول موجود ہے راجح اول ھے (یعنی برخی حیات کا) ۔

ماہنامہ تعلیم القرآن اپریل 1958 صفحہ 41

مولانا محمد اشرف علی تھانوی کا نظریہ پڑھیں

امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص حیات بعد وفات کے بھی بھی مسلم ہے صحابہ رضی اللہ عنہ بھی اس سے واقف تھے گو وہ حیات اس حیات کے مثل نہیں ہے بلکہ حیات برزخیہ ہے

مواعظ اشرفیہ صفحہ 446

مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی کا فتوی

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قسم کی حیات برزخی حاصل ہے جس کی کیفیت خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن حیات دنیوی کہنا خلاف اہلسنت والجماعت ہیں

تسکین الصدور صفحہ 276 طبع دوم

ڈاکٹر خالد محمود صاحب کا نظریہ پڑھیں

ہم شہداء اور انبیاء کو اس عالم (دنیا) میں نہیں اگلے جہان (عالم برزخ) میں زندہ مانتے ہیں ۔ انتقال دارین ہوچکا ہے اور اب یہ حضرات اس عالم کے افراد نہیں ،اس جہان کے رہنے والے ہیں

مقام حیات صفحہ 130

مفتی محمد شفیع صاحب کا نظریہ

حٰیات دنیاوی ظاہری کا تو دنیا میں کوئی بھی قائل نہیں ، قرآن پاک کی اتنی صریح مخالفت کو مسلمان کر سکتا ہے َ؟ جو بھی قائل ہیں حیات برزخی ہی کے قائل ہیں ۔

مقام حیات صفحہ 236 طبع دوم
کیا ان سب نے اپنا عقیدہ ادھورا لکھا ہے
ابھی کچھ لکھنا باقی ہے




؀릍Ȕᘀ릵ȓ
میرے پیارے بھائی آپ نے مجھ سے یہ پوچھا تھا کہ ان پر اس قسم کے فتوے کیوں لگائے جاتے ہیں؟ تو میں نے اسی تناظر میں آپ کو بتایا ہے کہ یہ عقیدہ یہاں تک مکمل نہیں ہے جس پر فتوی لگتا ہے۔ یہاں تک تو عقیدہ متفقہ ہے اور تعبیر مختلف ہے۔ اس سے اگلے مسائل کی بنیاد پر سب حکم لگائے جاتے ہیں۔
اگر آپ مزید کچھ حوالہ جات بھی نقل فرما دیں گے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس سے بہتر ہے کہ آپ یہ سمجھ لیں کہ ہم کس چیز کی بات کر رہے ہیں۔

اگر کوئی لا الہ الا اللہ کہتا ہے تو بذات خود یہ کوئی ادھورا عقیدہ نہیں ہے۔ لیکن اگر فتوی محمد رسول اللہ کہنے اور نہ کہنے پر لگ رہا ہے تو پھر ہم اس کی بات کریں گے اور صرف لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر فتوی یا فتوے کی وجہ پوچھنے والے کو یہی کہیں گے کہ آگے کی بات کریں۔
 

raisrow

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 09، 2018
پیغامات
2
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
10
میرے پیارے بھائی آپ نے مجھ سے یہ پوچھا تھا کہ ان پر اس قسم کے فتوے کیوں لگائے جاتے ہیں؟ تو میں نے اسی تناظر میں آپ کو بتایا ہے کہ یہ عقیدہ یہاں تک مکمل نہیں ہے جس پر فتوی لگتا ہے۔ یہاں تک تو عقیدہ متفقہ ہے اور تعبیر مختلف ہے۔ اس سے اگلے مسائل کی بنیاد پر سب حکم لگائے جاتے ہیں۔
اگر آپ مزید کچھ حوالہ جات بھی نقل فرما دیں گے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس سے بہتر ہے کہ آپ یہ سمجھ لیں کہ ہم کس چیز کی بات کر رہے ہیں۔

اگر کوئی لا الہ الا اللہ کہتا ہے تو بذات خود یہ کوئی ادھورا عقیدہ نہیں ہے۔ لیکن اگر فتوی محمد رسول اللہ کہنے اور نہ کہنے پر لگ رہا ہے تو پھر ہم اس کی بات کریں گے اور صرف لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر فتوی یا فتوے کی وجہ پوچھنے والے کو یہی کہیں گے کہ آگے کی بات کریں۔
محترم و مکرم اشماریہ صاحب میں آپکی تحقیق سے انتہائی درجہ میں متاثر ہوا.. اللہ آپکو جزائے خیر دے.. جس طرح سے آپنے بات سمجھانے کی کوشش کی ہے شاید پہلے اس طرح کسی سے نہیں سنا ہےاور ماشاءاللہ آپکے جوابات بہت مدلل ہوتے ہیں.. اللہ جزائے خیر دے.. محترم آپ سے گزارش ہے کہ عقیدہ سلف صالحین پر کسی ایسے کتاب کا نام بتائیں جو تشفی بخش ہو آپکی نظر میں.. میں انتہائی مشکور رہوں گا

Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
محترم و مکرم اشماریہ صاحب میں آپکی تحقیق سے انتہائی درجہ میں متاثر ہوا.. اللہ آپکو جزائے خیر دے.. جس طرح سے آپنے بات سمجھانے کی کوشش کی ہے شاید پہلے اس طرح کسی سے نہیں سنا ہےاور ماشاءاللہ آپکے جوابات بہت مدلل ہوتے ہیں.. اللہ جزائے خیر دے.. محترم آپ سے گزارش ہے کہ عقیدہ سلف صالحین پر کسی ایسے کتاب کا نام بتائیں جو تشفی بخش ہو آپکی نظر میں.. میں انتہائی مشکور رہوں گا

Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
جزاک اللہ خیرا۔ اگر مختصراً کوئی رسالہ دیکھنا چاہیں تو امام طحاویؒ کی العقیدۃ الطحاویہ دیکھ لیں۔ ایک عام شخص کو غالباً اس سے زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اگر مزید تفصیل چاہیے ہو تو پھر مختلف کتب ہیں۔
 
Top