ابن انور
رکن
- شمولیت
- نومبر 01، 2022
- پیغامات
- 20
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 35
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
تقنینِ غیر الٰہی و مظاہرِ شرکِ حاکمیت در آئینِ جمہوریت
تقنینِ غیر الٰہی و مظاہرِ شرکِ حاکمیت در آئینِ جمہوریت
جمہوریت، یہ آئینِ مردم فریبی و طاغوتِ مقننہ، دراصل اک صنمِ نوپرداختہ ہے، جس کی پرستش گاہ میں فہمِ قاصر و شہواتِ عوام بہ حیثیتِ اصنامِ متنوّع سجائے جاتے ہیں۔ اس نظامِ مغالطہ خیز کے محراب و منبر، یعنی مجالسِ قانون ساز، درحقیقت وہ مساطبِ افترائے تقنین ہیں، جہاں اصحابِ عقلِ معیوب و وجدانِ مغلوب، خالقِ کائنات کے سُبحانی قوانینِ سرمدی کو ترکِ اعتنا کر کے، اپنے وہمیاتِ نفس و تراشیدہ افکار کو جامۂ تقدیس پہناتے ہیں۔
یہ ارکانِ بے بصر، بزعمِ خویش، مسندِ تشریع پر متمکن ہو کر، صفاتِ الٰہی میں حلول کے مدعی بن بیٹھے ہیں؛ گویا کہ وہ عبدِ حقیر نہیں بلکہ خالقِ تدبیر ہوں۔ ہر قانونِ مبتدع، جو شریعتِ منزّلہ کے خلاف قلمبند کیا جائے، ایک صریح جسارتِ شرک و انکارِ ربوبیت ہے، جس میں مخلوق اپنے خالق کے منصبِ حاکمیت پر دست درازی کی مرتکب ہو جاتی ہے۔
یہ وہ مسندِ تمرد و مرقعِ گستاخی ہے جہاں رِبا جسے خالقِ لم یزل نے اپنے غضبِ جہنم سوز و عتابِ کفر ستیز کا مورد ٹھہرایا اہلِ طغیان کی نگاہ میں نہ فقط مباح و بلا ممانعت، بلکہ معیشتِ مادی کی معراج و محور، و اساسِ ترقیاتِ دنیوی متصور کی جاتی ہے۔
اور زنا، وہ معصیتِ کبریٰ، جس پر شریعتِ صدیقیہ نے سنگ باری کا فرمان صادر فرمایا اور جو حدِ الٰہی کا عَلم بردار جرمِ فاحشہ ہے، آج کے دَورِ تنزیہِ شہوانیات میں، آزادیِ فردی و شخصی اختیارات کا غیر منفک مِلک و لازمہ قرار پا چکا ہے؛ گویا قبحِ ذاتی کو حسنِ تمدن میں ملفوف کر دیا گیا ہو۔
و اما عملِ قومِ لوط، یعنی لواطت و فواحشِ مُمیتہ، جن کے سبب اقوامِ سالفہ، صواعقِ غضبِ ربانی کا ایندھن بنیں، آج کے آستانہ نشینانِ ایوانِ جمہور نے اُسے “حقوقِ اقلیت” کے عنوانِ رنگین و طلسمِ الفاظ کے ساتھ، ایک مزین جامۂ قانون پہنا کر، حلیتِ سیاسیہ کی سند سے مُزین کر دیا ہے؛ گویا کہ حیا و فطرت کی قبر پر ترقی کا کتبہ نصب کر دیا گیا ہو۔
باوجود آنکہ آیاتِ منزّلۂ ربانیہ کا صریح و غیر مؤول ارشادِ قدسی ہے: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (المائدہ: ۴۴)
یعنی جو افراد یا ان کے متشکلہ نظمِ اجتماعی، احکامِ ربانیہ کو بطورِ مصدرِ حَتمی ترک کر کے فیصلۂ امور و تفویضِ تدبیر میں غیرِ الٰہی مراجع کو ترجیح دیں، سو وہی اہلِ کفر و تاریکی ہیں۔
تو اے صاحبِ فہمِ خستہ! غور فرما کہ جس جماعت نے عقلِ معیوب و وجدانِ محجوب کو میزانِ تقنین قرار دے کر، ارشاداتِ ربِ جلیل، جو لوحِ محفوظ سے نازل شدہ اور منبعِ حکمتِ خالصہ ہیں، اُن سے انحراف و تجاہل برتا وہ کس جسارتِ کبریٰ کا ارتکاب نہیں کرتے؟
ایسے مغرورانِ خاکی، جب مسندِ تشریع پر متمکن ہو کر، اپنے فکری سوانح کو شریعتِ سماوی کا بدل ٹھہراتے ہیں، تو وہ درحقیقت تاجِ حاکمیتِ صمدانی کو چرالینے کی جرأتِ بیہودہ میں ملوث ہو جاتے ہیں؛ اور یہ جسارت، دربارِ ربوبیت میں شرکِ جلی بلکہ افحش ترین تمرداتِ عبادی میں شمار ہوتی ہے۔
ایں نوعِ زُہدِ تقنینی دراصل وہی تمردِ فرعونی ہے جو لباسِ جمہوریت و غلافِ عوامی میں مستور ہو کر، معرکۂ توحید و طاغوت میں سب سے عریاں چہرہ رکھتا ہے۔
لہٰذا ہر وہ مجلسِ مشورہ و مجمعِ تقنین، جو احکامِ ربانیہ سے انحراف کی روشِ معصیت پر گامزن ہو، وہ درحقیقت محرابِ شرک و مَعبدِ طاغوت ہے، جہاں وحیِ منزّل کی روشنی کو چراغِ خاموش کر کے آتشدانِ عقلِ مکلّف میں خود ساختہ قوانین کی ہُو بَہُو قربانی دی جاتی ہے۔
اور وہ فردِ پارلیمانی، جو موضعِ تشریع میں قولِ الٰہی پر رائےِ بشری کو راجح جانے، اور ارشاداتِ ربِ علیم کے مقابل خرافاتِ اکثریت کو محلِّ نفاذ میں اولیٰ سمجھے، وہ دراصل نہ صرف مقامِ عبودیت سے فسخِ انتساب کا مرتکب بلکہ تختِ الوہیتِ کبریٰ کا متکبر و متمرد غاصب ہے جس کی جسارت، ہبوطِ ابلیسی کا تسلسل اور انکارِ ربوبیت کا مجسم مظہر ہے۔