ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
تلوارِ عمرؓ اور سیدنا معاویہؓ کا ادب واحترام!
تدوین وتحقیق: ياسر ماحي
امام ابو عبدالله نافع رحمه الله فرماتے ہیں:
«أُصِيبَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمَ صِفِّينَ، فَاشْتَرَى مُعَاوِيَةُ سَيْفَهُ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ: فَقُلْتُ لِنَافِعٍ هُوَ سَيْفُ عُمَرَ الَّذِي كَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: فَمَا كَانَتْ حِلْيَتُهُ؟ قَالَ: وَجَدُوا فِي نَعْلِهِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا»
’’عبید الله بن عمر جنگِ صفین کے دن شہید ہو گئے، تو سيدنا معاویہ رضي الله عنه نے ان کی تلوار خریدی اور اسے عبدالله بن عمر رضي الله عنه کے پاس بھیجا۔ جُویریہ کہتے ہیں: میں نے نافع سے پوچھا: کیا یہ وہی تلوار تھی جو أمير المؤمنين سيدنا عمر رضي الله عنه کی تھی؟ انہوں نے کہا: ’’ہاں‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’اس کی زیب و زینت کیسی تھی؟‘‘ انہوں نے کہا:’’اس کے دستے میں چالیس درہم کی (چاندی) لگی ہوئی تھی۔‘‘
[ السنن الكبرى – البيهقي – ط العلمية، ج:٤، ص:٢٤٢، رقم:٧٥٧٥، إسناده صحيح، تاريخ دمشق لابن عساكر، ج:٣٨، ص:٧٧، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج:٥، ص:١٠ ]
فائدے:
(۱) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلفاء راشدین رضي الله عنهم کے ذاتی اسلحہ کو بعد میں بھی حفاظت اور قدر سے رکھا جاتا تھا جو ان کی عظمت و مقام کی علامت ہے۔
(۲) سيدنا معاویہ رضي الله عنه کا أمير المؤمنين سيدنا عمر رضي الله عنه کی تلوار خرید کر ان کے بیٹے سيدنا عبدالله بن عمر رضي الله عنهما کو بھیجنا، ان کے ادب و تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
(۳) یہ اثر اُن لوگوں کے باطل نظریے کی صریح تردید ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضي الله عنه خود کو خلافت کے معاملے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ حق دار سمجھتے تھے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عظمت، شان اور مقام کا دل سے معترف کرتے تھے اور ان کی نشانیوں کی بھی انتہائی تعظیم و احترام کرتے تھے، جیسا کہ اس اثر سے بھی بخوبی واضح ہوتا ہے۔
والحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم الأنبياء والمرسلين.