• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تمجیدِ تقنینِ طاغوتیہ بہ نامِ شورائے جمہوریت

شمولیت
نومبر 01، 2022
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
35
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

تمجیدِ تقنینِ طاغوتیہ بہ نامِ شورائے جمہوریت

جمہوریت جو در سطحِ ظاہر نقابِ مشاورتِ عوامیہ کی قبا میں ملبوس رعایائے مغرور کے لیے آرائشِ عقلِ اجتماعی کا فریبِ لطیف فراہم کرتی ہے، در حقیقت وہ محرابِ افترائے تقنینِ طاغوتیہ ہے جس میں زمامِ تشریع کو ماوراءِ وحی و بالاتر از ہدایتِ منزّل، اصواتِ غیر معصومہ و آراءِ محجوبہ کے ہاتھ سپرد کر دیا جاتا ہے۔

یہی وہ نظامِ مغالطہ پذیر و مسلکِ تمرد پسند ہے جس میں مجالسِ موسوم بہ "شوریٰ" یا "ایوانِ قانون ساز" دراصل وہ منبرہائے باطلہ ہیں جنہیں اس درجہ استحقاقِ مطلق بخشا گیا ہے کہ وہ نصوصِ محکمات کو معطل، مسلماتِ ربانیہ کو مؤخر، اور منہیاتِ شرعیہ کو منصوصِ قانونیہ بنا ڈالنے کی جسارت پر قادر ہو جاتے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے گویا الواحِ سماوی کی جگہ دفاترِ انسانی کو وحی کا متبادل اور اصواتِ عوام کو قولِ الٰہی کا ناسخ تسلیم کر لیا گیا ہو۔ ایں نظام، تاجِ حاکمیتِ ربانیہ کو اکثریتِ اصواتِ جاہلہ کے سر رکھ کر، عرشِ تشریعِ الٰہی کو فرشِ تمردِ زمینی پر الٹ دینے کا ناپاک فریب ہے۔

پس، یہ جمہوریت جسے نادانانِ وقت "نظامِ شورائی" کے خوش نما الفاظ میں ملفوف کرتے ہیں، در حقیقت شرکِ فی الحاکمیت کا جدید ترین قالب، اور طاغوت پرستی کا قانونی جواز یافتہ معبد ہے۔

ایں نظامِ کفر آفرین و ضلالت افزا، جو ظاہراً آئینِ تنظیمِ تمدن و تدبیرِ مملکت کا خوش نما فریب ہے، درباطن تاریک خانۂ تشریعِ طاغوت ہے، جس کے بطنِ افعی سے مسوّداتِ فتنہ انگیز و ضوابطِ ابلیسیہ اُس طمطراقِ رسمیت کے ساتھ ظہور پذیر ہوتے ہیں، گویا ظلمتِ فکری کو سندِ آفتاب عطا کی جاتی ہے۔

ان ہی اوراقِ ضلالت و سطورِ باطلہ کے تحت ربا جسے ربِّ قدوس نے اعلانِ حرب و غضب کا مصداق ٹھہرایا، فسق و فجور جو احکامِ شریعت میں مستوجبِ حد و تعزیر، خمر نوشی جو عقلِ انسانی کا مغوی و قلبِ ایمانی کا قاتل، ارتدادِ اعتقادی جو فسخِ بیعتِ عبدیت و خروج از دائرۂ اسلام، قادیانیتِ ملفوظہ جو ختمِ نبوت پر کھلا انکار و افتراءِ کفرِ غلیظ ہے سب کو لباسِ مشروعیت و جبّۂ قانونی وقار پہنایا جاتا ہے، اور معاصیِ کبیرہ کو مظاہرِ تمدن و شواہدِ آزادی گردانا جاتا ہے؛ گویا فتنۂ دجّالی کو محرابِ اجتہاد پر بٹھا کر، نصوصِ منزّلہ کی قبر پر قانون کا سنگِ مرمر رکھا جاتا ہے۔

ایں ہمہ، طغیانِ تشریع و جمہوریتِ مشرکہ کا وہ مرقعِ شنیع ہے، جسے خرد کے آئینے میں حق کی تمثال باور کرایا جاتا ہے۔ یہی وہ مقامِ فتنہ و موضعِ ابتلاء ہے، جہاں میزانِ تشریعِ ربانی جو کہ وحیِ منزّلِ غیر متبدَّل کا رشحۂ قدسی و تجلیِ لوحِ ازل ہے مکتوباتِ طاغوتیہ و اسطرلاباتِ نفسانیہ کے خرمست قلّادہ بردوش قوانین سے مبدَّل و مستبدَل کر دی جاتی ہے؛ گویا آیاتِ منزّلہ کو محضرنامۂ کفر میں تحلیل کیا جاتا ہے۔

و ازاں بعد، احکامِ شریعتِ مطہرہ، جن پر حُسنِ تقدیسِ ازلی کی مہریں ثبت تھیں، اُنہیں عرشِ تقنین سے سرنگوں کر کے، خرافاتِ شریعت ستیز و اوہامِ نفس پرستانہ کو مسندِ حکم و موضعِ نفاذ پر متمکن کر دیا جاتا ہے؛ اور یوں قلمِ قانون کو محررِ باطل اور تختِ تشریع کو مصلّیٔ شیاطین بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

درحقیقت، یہ وہی انقلابِ مصطلحات و ارتدادِ معنوی ہے، جس میں وحیِ ربانی، فتوٰیِ اکثریت کے ہاتھوں مسلوب و مغلوب ہو جاتی ہے، اور قانونِ الٰہی کی تختی پر نفسِ امّارہ کا فرمان لکھا جاتا ہے۔

پس، ایسے دَورِ اضلال و فتنۂ تقنینی میں، وہ شخص کہ جو شرائعِ طاغوتیہ کو بمنزلۂ مسوّداتِ واجب الاطّباع و احکامِ مشروعہ تسلیم کرے، اور بر مسندِ نفاذِ شریعتِ کفر سکوتِ شکر آمیز و رضاے خاموشاں اختیار فرمائے وہ اگرچہ ظاہرِ دعویٰ میں توحیدِ خالصہ کا منشور بردار ہو، مگر حقیقتِ حال میں شرکِ فی الحاکمیت و طاعتِ غیرِ ربِّ ذوالجلال کا مرتکبِ فاحش و مُقترفِ کبیرہ شمار ہوتا ہے۔

گویا اس کا وجود، معبدِ توحید کی محراب میں طاغوت کا صنم نصب کرنا ہے، اور اس کی خاموشی، میدانِ شرک میں قُربانیٔ تسلیم و رضا کی گنگ تلبیہ۔ فرمودۂ ازلی و کلامِ ربانی ہے: ﴿فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ﴾ "پس جو کفر کرے طاغوت سے، اور ایمان لائے اللہ پر۔۔۔" (البقرہ: ۲۵۶)

اس آیۂ منزّلہ میں مبداءِ برائتِ طاغوتیہ کو بمنزلۂ شرطِ متقدّمۂ ایمانِ ربّانی متعین فرمایا گیا، گویا قاعدۂ ایماں کا پہلا زینہ، پہلا زانو، پہلا منزِل، وہی کفرِ صریح بہ مظاہرِ طاغوت و انکارِ جمیعِ مظانِّ غیر اللہ ہے؛ جس کے بغیر قصرِ ایمانِ خالصہ تعمیر نہیں ہو سکتا، اور اگر تعمیر بھی ہو، تو بنیادِ غیرِ ربانی پر ہو کر معبدِ خالی از توحید شمار ہوگا۔

یہی مفہوم توحیدِ منفیہ کا وہ دقیق و لطیف نکتہ ہے، جسے اربابِ عقلِ مجرّد و حُکّامِ مجاز پرست اپنی طلسمی اکثریت میں گُم کر چکے ہیں۔

مہوریت، جو درحقیقت مسلکِ تقنینِ ماوراءِ وحی و منہجِ وضعِ غیرِ منزل کی ملمّع پوش تمثیل ہے، وہ نہ فقط طاغوتِ تقنینی کی تعظیم و توقیر پر مستقر ہے، بلکہ اس کے دامانِ فریب میں تشریعِ نامکتوبِ غیر ربانی کو مدرسۂ قانونِ مروجہ کا عنوانِ فریب دہندہ عطا کیا جاتا ہے۔

یہی وہ تلبیسِ تشریعیہ ہے، جس میں احکامِ نفسانیہ کو جامۂ قانون پہنا کر مصحفِ وحیِ صادقہ کے بالمقابل مسند نشین کر دیا جاتا ہے؛ گویا قانونِ الٰہی کی مسندِ وحدت پر ایک مشارکِ باطل کو زبردستی بٹھا دیا گیا ہو۔

نتیجتاً جمہوریت فی نفسہٖ عقیدۂ توحیدِ صمدانیہ کی ضدّ و نقیض ہے، اس لیے کہ توحیدِ خالصہ کا لوازمِ لازب براءتِ قطعیہ عن الطواغیتِ تشریعیہ ہے، جب کہ جمہوریت کا مقتضائے حتمی مُوالاتِ مقنناتِ غیرِ منزل و مبایعتِ نظمِ طاغوتی پر مرکوز و مستحکم ہے۔

گویا جمہوریت وہ طاغوتِ مزخرفہ ہے، جس کی پیشانی پر قبولِ حکمِ غیر اللہ کا محرّر ثبت ہے، جب کہ توحید، ایک ایسا میثاقِ ایمانی ہے جو نفیِ شراکتِ تقنینی کے بغیر قابلِ انعقاد ہی نہیں۔
 
Top