ابو عکاشہ
مشہور رکن
- شمولیت
- ستمبر 30، 2011
- پیغامات
- 412
- ری ایکشن اسکور
- 1,492
- پوائنٹ
- 150
عن الأسود قال كنا عند عائشة ـ رضى الله عنها ـ
فذكرنا المواظبة على الصلاة والتعظيم لها، قالت لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه، فحضرت الصلاة فأذن، فقال " مروا أبا بكر فليصل بالناس". فقيل له إن أبا بكر رجل أسيف، إذا قام في مقامك لم يستطع أن يصلي بالناس، وأعاد فأعادوا له، فأعاد الثالثة فقال " إنكن صواحب يوسف، مروا أبا بكر فليصل بالناس". فخرج أبو بكر فصلى، فوجد النبي صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة، فخرج يهادى بين رجلين كأني أنظر رجليه تخطان من الوجع، فأراد أبو بكر أن يتأخر، فأومأ إليه النبي صلى الله عليه وسلم أن مكانك، ثم أتي به حتى جلس إلى جنبه. قيل للأعمش وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وأبو بكر يصلي بصلاته، والناس يصلون بصلاة أبي بكر فقال برأسه نعم. رواه أبو داود عن شعبة عن الأعمش بعضه. وزاد أبو معاوية جلس عن يسار أبي بكر فكان أبو بكر يصلي قائما.
حضرت اسود بن یزید نخعی نے کہا کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھے۔ ہم نے نماز میں ہمیشگی اور اس کی تعظیم کا ذکر کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں جب نماز کا وقت آیا اور اذان دی گئی تو فرمایا کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس وقت آپ سے کہا گیا کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) بڑے نرم دل ہیں۔ اگر وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو نماز پڑھانا ان کے لیے مشکل ہو جائے گی۔ آپ نے پھر وہی حکم فرمایا، اور آپ کے سامنے پھر وہی بات دہرا دی گئی۔ تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا کہ تم تو بالکل یوسف کی ساتھ والی عورتوں کی طرح ہو۔ ( کہ دل میں کچھ ہے اور ظاہر کچھ اور کر رہی ہو ) ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ کمی محسوس کی اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر باہر تشریف لے گئے۔ گویا میں اس وقت آپ کے قدموں کو دیکھ رہی ہوں کہ تکلیف کی وجہ سے زمین پر لکیر کرتے جاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انھیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا۔ پھر ان کے قریب آئے اور بازو میں بیٹھ گئے۔ جب اعمش نے یہ حدیث بیان کی، ان سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی اقتدا کی اور لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کی؟ حضرت اعمش نے سر کے اشارہ سے بتلایا کہ ہاں۔ ابوداؤد طیالسی نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا شعبہ سے روایت کیا ہے اور شعبہ نے اعمش سے اور ابومعاویہ نے اس روایت میں یہ زیادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔
تشریح : حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد باب منعقد کرنے اور یہ حدیث لانے سے ظاہر ہے کہ جب تک مریض کسی نہ کسی طرح سے مسجد میں پہنچ سکے حتی کہ کسی دوسرے آدمی کے سہارے سے جاسکے تو جانا ہی چاہئے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس اور سیدناعلی رضی اللہ عنھما کے سہارے مسجد میں تشریف لے گئے۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
و مناسبۃ ذلک من الحدیث خروجہ صلی اللہ علیہ وسلم متوکنا علی غیرہ من شدۃ الضعف فکانہ یشیر الی انہ من بلغ الی تلک الحال لا یستحب لہ تکلف الخروج للجماعۃ الا اذا وجد من یتوکاءعلیہ ( فتح الباری )
یعنی حدیث سے اس کی مناسبت بایں طور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سے نکل کر مسجد میں تشریف لانا شدت ضعف کے باوجود دوسرے کے سہارے ممکن ہوا۔ گویا یہ ا س طرف اشارہ ہے کہ جس مریض کا حال یہاں تک پہنچ جائے اس کے لیے جماعت میں حاضری کا تکلف مناسب نہیں۔ ہاں اگر وہ کوئی ایسا آدمی پالے جو اسے سہارا دے کر پہنچا سکے تو مناسب ہے۔
حدیث سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری وقت میں دیکھ لیا تھا کہ امت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے زیادہ موزوں کوئی دوسرا شخص اس وقت نہیں ہے۔ اس لیے آپ نے بار بار تاکید فرما کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کو مصلے پر بڑھایا۔ خلافت صدیقی کی حقانیت پر اس سے زیادہ واضح اور دلیل نہیں ہو سکتی بلکہ جب ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سلسلے میں کچھ معذرت پیش کی اور اشارہ کیا کہ محترم والد ماجد بے حد رقیق القلب ہیں۔ وہ مصلے پر جا کر رونا شروع کردیں گے لہٰذا آپ سیدناعمر رضی اللہ عنہ کو امامت کا حکم فرمائیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا ایسا خیال بھی نقل کیا گیا ہے کہ اگر والد ماجد مصلے پر تشریف لائے اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو عوام حضرت والد ماجد کے متعلق قسم قسم کی بدگمانیاں پیدا کریں گے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر کہ تم یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیوں جیسی ہو سب کو خاموش کردیا۔ جیسا کہ زلیخا کی سہیلیوں کا حال تھا کہ ظاہر میں کچھ کہتی تھیں اور دل میں کچھ اور ہی تھا۔ یہی حال تمہارا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
کہ اس واقعہ سے بہت سے مسائل ثابت ہوتے ہیں۔
مثلاً
( 1 ) ایسے شخص کی اس کے سامنے تعریف کرنا جس کی طرف سے امن ہو کہ وہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوگا۔
• ( 2 ) اپنی بیویوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا۔
• ( 3 ) چھوٹے آدمی کو حق حاصل ہے کہ کسی اہم امر میں اپنے بڑوں کی طرف مراجعت کرے۔
• ( 4 ) کسی عمومی مسئلہ پر باہمی مشورہ کرنا۔
• ( 5 ) بڑوں کا ادب بہرحال بجا لانا جیسا کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔
• ( 6 ) نماز میں بکثرت رونا۔
• ( 7 ) بعض اوقات محض اشارے کا بولنے کے قائم مقام ہو جانا۔
• ( 8 ) نماز باجماعت کی تاکید شدید وغیرہ وغیرہ۔ ( فتح الباری )
صحیح بخاری کتاب الاذان
باب : بیمار کو کس حد تک جماعت میں آنا چاہیے
حدیث نمبر : 664
(ترجمہ و تشریح مولانا داؤد راز رحمہ اللہ)