عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,701
- ری ایکشن اسکور
- 9,999
- پوائنٹ
- 667
نام کتاب
تنویر الاحوذی اردو شرح جامع ترمذی شریف جلد اول
نام مصنف
امام ابو عیسٰی محمد بن عیسیٰ ترمذی
نام ناشر
مکتبہ محمدیہ، لاہور
جامع ترمذی حدیث کی معروف کتبِ صحاح ستہ میں سے اہم کتاب ہے امام ترمذی نے رحمہ اللہ اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنا دیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہے اس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ ہر حدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یا ضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے امام ترمذی رحمہ اللہ نے مذاہب فقہاء بھی بیان کیے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس قدر اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔مختلف اہل علم نے جامع ترمذی کی متعدد شروحات لکھی ہیں اور محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔نیز بعض اشاعتی اداروں نے کتب ستہ کے تراجم مع فوائد تحقیق و تخریج کے ساتھ اردو زبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کیے ہیں جس سے قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہو گیا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’تنویر الاحوذی اردو شرح جامع ترمذی‘‘معروف اشاعتی ادارہ جامعہ محمدیہ کی کاوش ہے پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر صاحب نے سلیس اردو ترجمہ اور فضیلۃ الشیخ حافظ فاروق الرحمٰن یزدانی حفظہ اللہ نے جامع ترمذی کے تنویر الاحوذی کے نام عام فہم اور سلیس زبان میں فوائد الحدیث تحریر کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔جبکہ حافظ ابوبکر ظفر اور حافظ محمد انور زاہد صاحب نے تخریج و تخریج اور تسہیل کا کام کیا ہے۔ (م۔ا)
لنک جلد اول
تنویر الاحوذی اردو شرح جامع ترمذی شریف جلد اول
نام مصنف
امام ابو عیسٰی محمد بن عیسیٰ ترمذی
نام ناشر
مکتبہ محمدیہ، لاہور
تبصرہ
جامع ترمذی حدیث کی معروف کتبِ صحاح ستہ میں سے اہم کتاب ہے امام ترمذی نے رحمہ اللہ اپنی اس کتاب میں خصوصیت کے ساتھ احادیثِ احکام کا اہتمام کیا ہے جن پر فقہاء کرام کا عمل رہا ہے۔ دوسری طرف اس کو صرف احکام کے لیے مختص نہیں کیا؛ بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ کی طرح تمام ابواب کی احادیث لاکر اس کتاب کو جامع بنا دیا ہے۔ صحاحِ ستہ میں انہی دو کتابوں پر بالاتفاق جامع کا اطلاق کیا جاتا ہے اس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ ہر حدیث کے آخر میں اس کی سند کے بارے میں صحیح، حسن یا ضعیف ہونے کا حکم لگاتے ہیں اور طلبہ حدیث کو مدارجِ حدیث معلوم کرنے میں اس سے بہت مدد ملتی ہے امام ترمذی رحمہ اللہ نے مذاہب فقہاء بھی بیان کیے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ فہم حدیث میں مذاہب فقہاء کو کس قدر اہمیت حاصل تھی اور محدثین بیان ِحدیث میں فقہاء کی آراء بیان کرنے میں کوئی عار نہ سمجھتے تھے۔مختلف اہل علم نے جامع ترمذی کی متعدد شروحات لکھی ہیں اور محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے سنن ترمذی کی صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیا ہے۔نیز بعض اشاعتی اداروں نے کتب ستہ کے تراجم مع فوائد تحقیق و تخریج کے ساتھ اردو زبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کیے ہیں جس سے قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہو گیا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’تنویر الاحوذی اردو شرح جامع ترمذی‘‘معروف اشاعتی ادارہ جامعہ محمدیہ کی کاوش ہے پروفیسر ابو انس محمد سرور گوہر صاحب نے سلیس اردو ترجمہ اور فضیلۃ الشیخ حافظ فاروق الرحمٰن یزدانی حفظہ اللہ نے جامع ترمذی کے تنویر الاحوذی کے نام عام فہم اور سلیس زبان میں فوائد الحدیث تحریر کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔جبکہ حافظ ابوبکر ظفر اور حافظ محمد انور زاہد صاحب نے تخریج و تخریج اور تسہیل کا کام کیا ہے۔ (م۔ا)
لنک جلد اول