• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"توحید" اساسِ دین و سر چشمۂ حیاتِ ابدی

شمولیت
نومبر 01، 2022
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
35
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

"توحید" اساسِ دین و سر چشمۂ حیاتِ ابدی

توحید، دین مبین اسلام کی بنیادِ اول و اساسِ قطعی ہے۔ تمام معتقداتِ اسلامی کی عمارت اسی صرحِ توحید پر استوار ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جس قدر بنیاد میں صلابت، گہرائی اور استحکام ہوگا، اسی قدر اس عمارتِ دین میں رفعت و دوام آئے گا۔ جس طرح اساسِ محکم کے بغیر کوئی قصرِ عالی مرتبت قائم نہیں رہ سکتا، اور نہ ہی شجرِ تناور، اگر جڑ سے محروم ہو، ثبات پاسکتا ہے، عین اسی طرح، صحتِ توحید کے بغیر اسلام کا قیام ممکن نہیں۔

توحید ہی جملہ عقائد کی اصل و مغز، بلکہ حیاتِ اسلامی کا مرکز و محور ہے۔
ذاتِ باری تعالیٰ نے کل کائنات اور جمیع ذوی العقول کو تخلیق محض اسی غرض سے فرمایا کہ وہ اس کی الوہیت اور یکتائی کا اعتراف کرتے ہوئے سراپا عبادت بن جائیں۔

فرمانِ ربانی ہے:
"وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون"
(الذاریات)
(یعنی ہم نے جنات اور انسانوں کو بجز اپنی عبادت کے کسی اور غرض کے پیدا نہ فرمایا۔)

یہ شہادتِ توحید، جو تخلیقِ جن و انس سے بھی پیشتر لی گئی، ایک ایسا عہدِ ازلی ہے کہ جسے حق سبحانہ نے ارواحِ بنی آدم سے بہ زبانِ قدرت لیا۔ ارشاد ہوا:
"واذ اخذ ربک من بنی آدم من ظہورھم ذریتهم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی شھدنا"
(الاعراف)
(یعنی جب تیرے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کی گواہی لی۔)

مزید براں، پروردگارِ عالم نے فطرتِ انسانی میں نورِ توحید ودیعت فرما دیا۔ اگرچہ احوالِ زمانہ اور حوادثِ دہر انسان کی اس فطری سچائی کو دبانے کی سعی کرتے ہیں، تاہم طبعِ سلیم اپنی اصل پر برقرار رہتی ہے۔

رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
"ہر مولود فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔"
(صحیح بخاری)

ابتدائے آفرینش سے تا بعثتِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، بعثتِ انبیاء کا مقصدِ اوّل و آخر، ترویجِ توحید اور ابطالِ شرک رہا۔ ارشادِ ربانی ہے:
"وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون"
(الانبیاء)
(یعنی ہم نے آپ سے پیشتر جو بھی رسول بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی بندگی کرو۔)

انبیاءِ کرام علیہم السلام کی مساعیِ جمیلہ کا ماحصل یہی فریضۂ عظیم تھا۔ مگر گردشِ ایام کے ساتھ بشر نے توحیدِ خالص کو ترک کر کے شرک و ضلالت کی راہوں پر قدم جما لیے۔
ابلیسِ لعین نے قسم کھا کر کہا کہ وہ اولادِ آدم کو صراطِ مستقیم سے برگشتہ کرے گا، اور بالفعل وہ کثیر انسانوں کو وادیٔ شرک میں غرقاب کر چکا ہے۔

بہ صد جانفشانی، جملہ انبیاء نے دعوتِ توحید کے نفاذ میں اپنی عمریں صرف کیں؛ مصائب کے تھپیڑے کھائے؛ آلام کی بھٹی میں جھلسے؛ اور بعض نے جامِ شہادت نوش کیا۔

یہ سلسلۂ دعوتِ حق حضرت خاتم النبیین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے نقطۂ کمال کو پہنچا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کو تاریکیٔ شرک سے نکال کر نورِ توحید سے مشرف فرمایا۔
قرآنِ کریم جیسا معجزہ آپ پر نازل ہوا، جو سراپا توحید کا ترجمان اور معلمِ یکتائی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"ھذا بلاغ للناس ولینذروا به ولیعلموا انما هو إله واحد وليذكر أولوا الألباب"
(ابراہیم)
(یعنی یہ (قرآن) ایک پیغام ہے تمام انسانوں کے لیے تاکہ وہ تنبیہ حاصل کریں، اور علم پالیں کہ معبود واحد ہے، اور عقلمند عبرت پکڑیں۔)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغِ توحید میں ادنیٰ تساہل نہ فرمایا۔ قریش کی ستم ظریفیوں کو خندہ پیشانی سے جھیلا؛ طائف کے بازاروں میں پتھر کھائے؛ وادیٔ شعب ابی طالب میں تین برس کی سختیاں جھیلیں؛ حتیٰ کہ وطن عزیز کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور جہاد کا علم بلند کیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"قولوا لا إله إلا الله تفلحوا تملکوا العرب والعجم"
(مسند احمد)
(یعنی لا إله إلا اللہ کہو، فلاح پا جاؤ گے اور عرب و عجم پر غالب آ جاؤ گے۔)

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی جماعت تیار کی جو توحید کی عملی تصویر بنی۔
صحابہ کرام نے کلمۂ توحید کو محض زبان کی جنبش تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے اپنی جانوں میں رچا بسا لیا۔ وہ ہر رنگ کے شرک سے منہ موڑ کر سراپا توحید بن گئے۔

تاہم افسوس صد افسوس! کہ آج کی امتِ مسلمہ، کثرتِ تعداد کے باوجود توحید کے فہمِ حقیقی سے نابلد ہے۔ کلمہ کی تکرار تو زباں پر ہے مگر دل و جان میں شرک کی آلودگی موجود ہے۔ قرآنِ مجید، جو توحید کے علوم و معارف سے لبریز ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے ہے مگر بصیرت سے محرومی غالب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عقلی دلائل، سادہ مثالوں اور قدرت کی کھلی نشانیاں بیان کر کے توحید کی حقیقت کو مبرہن فرمایا ہے تاکہ انسانیت شرک کی گمراہی سے بچ کر صراطِ مستقیم پر گامزن ہو۔
 
Top