• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

توحید کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے توحید سے لاعلمی عذر نہیں

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
215
ری ایکشن اسکور
53
پوائنٹ
41
بسم اللہ الرحمن الرحیم

توحید کا علم:


آج امت مسلمہ جو اپنے آپ کو اہل توحید جانتی ہے کہ وہ زبان سے کلمہ لا اله الا اللہ ادا کرتی ہے انہوں نے توحید واسلام کو صرف زبان کا اقرار جانا ہے جبکہ یہ نہیں جانتے کہ جس طرح اللہ تعالی نے اسلام میں داخلے کیلئے کلمے کی شہادت کو شرط قرار دیا ہے۔

جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

من قال لا اله الا اللہ دخل الجنۃ [صحیح بخاری]
جس نے لا اله الا اللہ کہا جنت میں داخل ہوگا۔


اس کے ساتھ کلمے کے معنی کو جاننا، اس کو سمجھنا، اس کا فہم حاصل کرنا اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنا اسلام میں داخلے کی شرط اور فرض قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے:

الامن شھد بالحق وھم یعملون [الزخرف: ٨٦]
جس نے حق کی گواہی دی اور وہ اس کا علم بھی رکھتے ہیں۔


نیز ارشاد باری تعالٰی ہے:

فاعلم انه لا اله الا اللہ [محمد: ۱۹]
پس جان لو کہ بیشک اللہ تعالی کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔


اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح کلمہ توحید کی گواہی ضروری ہے اس طرح اس کا مفہوم جاننا اور اس کا علم وفہم حاصل کرنا توحید کیلئے لازم ہے۔ خاص کر توحید سے متضاد عمل شرک کا فہم ہونا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اس سے بچ سکے۔ اگرایک مسلمان توحید کی گواہی کے ساتھ اس کا علم رکھے گا اور اس پر عمل کرے گا تب ہی وہ مسلمان کہلائے گا اور جنت میں جانے کا حقدار ٹھرے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے:

من مات وھو یعلم انه لا اله الا اللّٰہ دخل الجنۃ [صحیح مسلم: ٢٦]

جو اس حال میں مرا کہ اس چیز کا علم رکھتا تھا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے توحید کے علم کو جنت میں جانے کی شرط قرار دیا ہے۔ امام نووی نے اس حدیث پر باب باندھا ہے فرماتے ہیں:

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ توحید کلمہ کے معنی میں ثابت ہوتی ہے صرف کلمے کے تلفظ (ادا کرنے) میں نہیں بلکہ اس کے نقض شرک کے اجتناب کرنے پر۔ [شرح صحیح مسلم للامام نووی]

جبکہ لوگوں نے ان احادیث کے غلط معنی سمجھ لئے ہیں جن میں صرف کلمہ کے اقرار کو جنت میں جانے کی شرط قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے:

من قال لا اله الا اللّٰہ دخل الجنۃ.
جس نے لا اله الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔


اس حدیث کے ضمن میں امام نووی فرماتے ہیں:

مزکورہ حدیث مجمل ہے اس کی شرح ضروری ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے حقوق و فرائض ادا کئے۔ [شرح مسلم للامام نووی]

توحید کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اس کے بغیر آدمی مسلمان نہیں رہتا۔

حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جس نے لا اله الا اللہ کہا جنت میں داخل ہوگا فرمانے لگے جس نے لا اله الا اللہ کہا اور اس کے حقوق و فرائض ادا کئے جنت میں داخل ہوگا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم [ابن ماجہ: ٢٢٤]
علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

علمائے سلف فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس قول سے مراد توحید ہے اور بلاشبہ اس توحید کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس کے معنی یہی ہیں۔

اس لئے ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ توحید کا علم وفہم جانے اس کے تقاضوں اور اس کے حقوق وفرائض کا بھی علم حاصل کرے تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوسکے۔ اس طرح ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ شرک کا بھی علم حاصل کرے تاکہ وہ شرک کی تمام انواع واقسام سے بچ سکے۔

توحید سے لاعلمی عزر نہیں:

اگر کوئی مسلمان توحید سے لاعلمی اور بے سمجھی کی وجہ سے شرک کا ارتکاب کر بیٹھے تو وہ مشرک ہوجائے گا کیونکہ اللہ تعالی کی طرف سے اس کے پیغام توحید قرآن کے نزول اور انبیاء کے مبعوث ہونے کے بعد اللہ تعالی نے انسانوں پر حجت تمام کردی ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے:

رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ [النساء: ١٦٥]

اور خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے تاکہ رسول کے بعد لوگوں کیلئے اللّٰہ کو الزام دینے کی کوئی گنجائش نہ رہے۔


شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن ابابطین فرماتے ہیں:

آپ پر توحید کو سمجھنا لازم ہے وہ توحید جس کیلئے اللّٰہ تعالٰی نے جن و انس کو پیدا فرمایا ہے اور یہ بھی انسان پر لازم ہے کہ وہ توحید کے مخالف اور متضاد عمل سے بھی واقفیت حاصل کرے یعنی شرک سے جس کی مغفرت کبھی نہیں ہوسکتی اگر کوئی لاعلمی کی بنا پر شرک کر بیٹھے تو یہ بھی ناقابل معافی ہے۔ اس بارے میں عدم واقفیت کا عزر قبول نہیں ہوگا اس طرح شرک میں کسی کی تقلید و پیروی بھی جائز نہیں جس طرح توحید اسلام کی بنیاد ہے اس طرح شرک اس بنیاد کو ختم کر دینے والا ہے لہذا اس میں کسی قسم کی معزرت قبول نہیں ہوتی اس لئے جو شخص معروف کو جانتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ منکر کو بھی معلوم کرے تاکہ اس سے اجتناب کر سکے خاص کر سب سے اہم معروف اور اہم منکر یعنی توحید اور شرک۔ [الدررسنیہ]
 
Top