ابن انور
رکن
- شمولیت
- نومبر 01، 2022
- پیغامات
- 20
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 35
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
توحید کی فراموش گُم گشتہ تجلی
توحید کی فراموش گُم گشتہ تجلی
فطرتِ ازلی کی جبینِ تقدیر پر جبروتِ ربّانی کا یہ غیر مبرہن نوشتہ مرتسم و منقوش ہے کہ آئینِ اسلام، جو مظہرِ اکمل و مَطلعِ انور ہے وحیِ ختامی کا، اپنی اساسِ تشریعی و ہیئتِ تکوینی میں بر ستونِ توحید استوار و محکم ہے؛ وہی توحید جو مشعلِ ہدایتِ انبیاء علیہم التحیۃ و الثناء، و نغمۂ مسلسلِ قافلۂ نبوت کی رَوحِ رواں رہی۔
چناں چہ فرمانِ صادقِ ربّانی ہے: "أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ" (النحل: ۳۶)
ترجمہ بمعرضِ تبیین: ’’بس پروردگارِ یکتا کی عبادت و بندگی اختیار کرو، اور مظاہرِ طاغوتیت سے کنارہ کشی اختیار کرو۔‘‘
یہی صدائے حق، کہ عبد صرف معبودِ واحد و قہار کا ہو، اور حکم و فرمان فقط و فقط شارعِ ازلی و ابدی کا، سلسلۂ انبیاء کے دہانِ نور افشاں سے ترنمِ ہدایت بن کر موجزن ہوئی؛ وہی انبیاء، جو مفسرِ فطرت و مترجمِ ارادۂ ربّانی تھے، جن کی ندا صیغۂ وحی میں، اور جن کا کلام لحنِ آسمانی میں ملفوظ ہوا۔
اکابرِ اہلِ سنت والجماعت، جنہوں نے مصابیحِ حکمت سے وحیِ ربانی کی طُرُقِ خَفیہ کو منور کیا، اور جن کی بصیرتِ ایمانی نے اسرارِ معرفت کو زُجاجۂ عقل میں سمو کر امّت کو سیراب کیا، فرماتے ہیں کہ توحید، جو لبِ لبابِ ایمان اور لبریزِ حقیقتِ عرفان ہے، اُسے سہ شعبۂ حکمتِ ربّانی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
(١) توحیدِ ربوبیت: یعنی یہ اعتقادِ جازم کہ خالقیت، رازقیت، اور تدبیرِ امورِ کائنات کا کلی و حتمی استحقاق صرف و صرف ذاتِ قدسی صفات، حضرتِ واجب الوجود کے لیے خاص ہے؛ نہ کہ کوئی مخلوق، خواہ کتنی ہی جلیل القدر ہو، اس فیضانِ ربانی میں شریک ہو سکتی ہے۔
(٢) توحیدِ الوہیت: یعنی جمیع اقسامِ عبادات چاہے وہ قولی ہوں یا فعلی، ظاہری ہوں یا باطنی محض و محض ذاتِ الٰہی کے لئے خاص ہوں؛ اور ہر نوعِ تقرب و بندگی سے غیر اللہ کو منزوی رکھنا، اصلِ اخلاص اور مدارِ نجات ہے۔
(٣) توحیدِ اسماء و صفات: یعنی اس امر کا عقیدہ رکھنا کہ ذاتِ باری تعالیٰ کے جملہ اسماء و صفات، نہ کسی مخلوق سے مماثلت رکھتے ہیں اور نہ ہی تشبیہ و تجسیم کے دائرۂ امکان میں آ سکتے ہیں؛ بلکہ وہ یکتا و یگانہ ہے اپنی صفات میں، منزّہ و مقدّس ہے ہر قیدِ تشبیہ و تمثیل سے۔
تاہم، اس عمارتِ متینِ اصول و عقیدہ میں یک رکنِ مغفول و مستور بھی ایسا وارد ہے، جو اگرچہ مصنفاتِ اکابرِ اہلِ درایت میں بطورِ تلمیح و اشارت مندرج و ملفوظ رہا، مگر طولِ ایام و کسرتِ اعراض و جہالتِ عوام نے اُسے گوشۂ خمول میں دھکیل کر اجنبی و ناآشنا بنا ڈالا۔
وہ رکنِ مہجور، جو درحقیقت تاجِ توحید کا گوہرِ نایاب اور عقدِ شریعت کا لؤلؤِ مکنون ہے، توحیدِ حاکمیت کے اسمِ اجل سے موسوم ہے؛ یعنی یہ کہ مصدرِ احکام و مجریٔ قوانین، مرجعِ اوامر و منبعِ نواہی، اور مبداءِ تشریع و خاتمِ تقنین صرف و فقط ذاتِ واجب الوجود، حضرتِ سبحانہٗ و تعالیٰ کی ذاتِ اقدس و صفاتِ قدسیہ ہو۔
کسی غیر اللہ کو مرتبۂ تشریع و مقامِ حاکمیت میں شریک گرداننا، محض تجاوزِ اعتقادی نہیں بلکہ نقضِ توحید و منہدمِ شریعت ہے؛ اور یہ وہ خطاے کبیرہ ہے، جو قالبِ جمہور و جامۂ تہذیبِ نو میں لپٹی ہوئی، دِل و دماغِ مسلم کو معطل و مغلوب بنا چکی ہے۔
توحیدِ حاکمیت، گویا توحید کی بوقلمونی جبّہ میں وہ رنگِ خفی و مستور ہے، جو نہ صرف اسرارِ توحید کا دقیق ترین پرتُو ہے بلکہ فنِ تشریع و امر و نہی کی سرزمین پر اس کا ظہور، قانونِ ازل کی تابندہ شُعاع ہے؛ اس کا مدار، اصدارِ احکام، تشخیصِ حلت و حرمت، و تصرف در نظامِ حیات کے حقوقِ غیر متنازلہ پر محیط ہے اور ان جملہ خصائص و صلاحیات کا جامع و مستحق وہی ہستی ہے، جس کے قبضۂ قدرت میں نہ صرف کُنہِ ازل بلکہ تمام تر اطرافِ ابد محصور و مسخّر ہیں۔
یعنی حاکمیت کا استحقاق کسی مخلوقِ حادثہ یا ادارۂ مصنوعہ کو زیب نہیں دیتا؛ یہ وہ منصبِ اعلیٰ ہے جو صفاتِ ربوبیت کے جلو میں مندرج، اور مظہرِ اطلاقِ توحید کا انتہائی مرحلہ ہے۔ لسانِ قاطعِ وحیِ ربانی میں صراحتاً ارشاد ہوا:
"إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ" (یوسف: ۴۰)
یعنی اصدارِ حکم و نفاذِ شریعت کا جملہ و کلّی حق صرف و فقط ذاتِ حق جلّ مجدُہٗ کو حاصل ہے؛ غیر اللہ کا حکم و قوانین ناقضِ توحید و مبطلِ اطاعت ہے۔
یہی وہ صیحتِ ازلی و نعرۂ توحیدِ جاوداں ہے، جو نوعِ انسانی کو طُغیانِ جبّارانِ ارضی، تقنینِ بشریہ کے صنم ہائے باطلہ، اور اطاعتِ طاغوتیہ کے اسقامِ مہلکہ سے مبرّا و منزّہ کر کے، اُسے عبدیتِ خالصہ، عبودیتِ مخلَصہ، و بندگیِ محضہ کے نشۂ طہور میں سرشار کرتا ہے؛ یہ وہ نسخۂ نجات ہے جو طوقِ رقیتِ مصنوعہ کو پاش پاش کر کے، گردنِ بشر کو فقط یدِ قدرتِ ربانی کے آگے خم کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
توحیدِ حاکمیت، گویا توحیدِ ربوبیت کا پہلوئے متکلم، اور بُعدِ تنفیذی ہے؛ اس کا مفہوم محض تخلیقِ کائنات یا رزق رسانی کے دائرہ میں محدود نہیں، بلکہ وہ ہستی، جو مخلوقات کی تدبیر فرمائے، احکامِ نافذہ صادر کرے، اور روابطِ حیات کے اصولِ کلیہ مدوّن کرے، وہی بدرجۂ حقیقت و نصِّ برہانی "رب" ہونے کا مستحق و سزاوار ہے۔
پس وہ شخص، جس نے اللہ تعالیٰ کی خالقیت و رازقیت کا اثبات تو کیا، مگر تقنینِ احکام و تصریفِ شریعت کا اختیار غیر اللہ کے سپرد کر بیٹھا، وہ فی الحقیقت ربوبیتِ الٰہی کے ایک رکنِ جوہری، اور اساسِ ایمانی کے عنصرِ مہم کا منکر و عاصی ہوا۔
توحیدِ حاکمیت، در پردۂ توحیدِ الوہیت یوں جلوہ گر ہے گویا صورتِ مستورہ میں حقیقتِ آشکارہ؛ کہ اطاعت، جب آستانۂ تعبد کو سُجودِ دل و عمل سے مسّ کرے، تو وہ نہ صرف اطاعت رہتی ہے بلکہ خالص عبادت کی ہیئتِ جوہری اختیار کر لیتی ہے۔ پس جو کوئی غیر اللہ کے منسوجۂ قوانین و مصنوعۂ تقنین کو بمنزلۂ واجب الاطاعت مسلّم ٹھہرائے، اُس نے در حقیقت مقامِ الوہیت کو متعدّد مان کر، توحید کے خمیر میں شرک کی آمیزش کر دی۔
وہ گمانِ فاسد کہ تقنینِ غیر الٰہی کو سندِ اطاعت دیا جائے،
یہی درحقیقت، الوہیتِ غیر اللہ کا لاشعوری اقرار ہے؛ اور یہی وہ باطنی انحراف ہے جو خالص بندگی کو آلودگیِ طاغوت سے داغدار کرتا ہے۔ ربّانی نصِ صاعقہ اثر میں یہ افشاءِ حقیقت بہ صورتِ استفہامِ انکاری یوں مندرج ہے:
"أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ" (الشوریٰ: ۲۱)
یعنی کیا اُن کے کچھ ایسے شرکاءِ باطلہ ہیں، جنہوں نے ان کے لیے دین و شریعت کی ایسی راہیں وضع کیں جن کی نہ تو اجازتِ ربانی تھی، نہ تصریحِ وحیانی؟
یہ آیتِ کریمہ گویا اعلانِ حرب ہے ہر اُس عقل و نظام کے خلاف، جو شارعِ مطلق کی اجازت کے بغیر تقنینِ حیات کا جُرأت آفرین خواب دیکھے۔
توحیدِ حاکمیت، آئینہ دار ہے توحیدِ اسماء و صفات کی اُس جہتِ نہاں کی، جو دربارِ معانی میں گوہرِ مکنون اور خزینۂ عقیدہ میں گنجِ نہفتہ ہے؛ کہ صفاتی اسماء و القابِ ربانیہ میں، جن کی جلالت و رفعت عرشِ معرفت پر چمکتی ہے، از جملہ "الحَکَم" (فیصلہ صادر فرمانے والا) اور "الحَکِیم" (کمالِ حکمت و تدبیر کا مالک) جیسے اسمائے مبارکہ و اسماءِ جلالہ، تو وہ صفاتی تمغے ہیں جو صرف و فقط ذاتِ اقدسِ الٰہی کو سزاوار و مختص ہیں۔
پس جو شخص، کسی غیرِ واجب الوجود کو منصبِ تشریع، مصدرِ تقنین، و مُدبِّرِ اُمورِ حیات کا حامل تسلیم کرے، اُس نے گویا برملا و بے باکانہ اسماءِ صفات میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرا کر، شرکِ صفاتی کی گندھک آمیز دلدل میں قدم رکھ دیا۔
ایسا شخص، جو عقیدتِ فاسدہ کے زیرِ اثر تقنینِ غیر الٰہی کو مشروع جانے، وہ ربوبیت کے جلوۂ حکمی کا منکر اور الوہیت کے آئینے میں عکسِ باطل کا پرستار ہے؛ گویا اُس نے تاجِ "الحَکَم" کسی فانی و محدود جبّار کے سر پر رکھ دیا، اور لقبِ "الحَکِیم" کو مخلوق کے ضعیف و ناقص فہم پر منطبق کر کے، معرفتِ صفات کو مجروح و مضروب کیا۔
الغرض، توحیدِ حاکمیت، جو کہ فروعِ ثلاثۂ توحید یعنی ربوبیت، الوہیت و اسماءِ صفات کا گوہرِ یگانہ اور رکنِ مہمِ مغفول ہے، در حقیقت وہ لبِ لُبابِ عقیدہ ہے جس کے انکار سے شجرِ توحید کا تناور وجود متزلزل و متفكّك ہو جاتا ہے۔
یہ وہ اصلِ اصول ہے جس کے فقدان سے اطاعت، بندگی کی صورت گم کر بیٹھتی ہے، اور تقنینِ بشری، درِ عبودیت کو طاغوتی تصرفات سے آلودہ کر دیتی ہے۔ پس لازم آتا ہے کہ حاکمیتِ مطلقہ فقط و فقط اُس ذاتِ قدسیہ کے لیے تسلیم کی جائے، جو واحدٌ فی الذات، فریدٌ فی الصفات، و منفردٌ فی الحکم و التشریع ہے۔ اسی میں نجاتِ اُمت کا رازِ مستور، اور فلاحِ عبد کا سرِ مکنون مضمر ہے۔