• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"توقیفی" کسے کہتے ہیں

شمولیت
مارچ 03، 2023
پیغامات
60
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
40
عبادات کا "توقیفی" ہونا: مفہوم، دلائل اور وسعت

اسلامی شریعت میں اصولِ فقہ کا ایک نہایت اہم اور بنیادی قاعدہ ہے: "العبادات توقيفيّة" یعنی "عبادات توقیفی ہیں"۔ اس قاعدے کا فہم دین کی روح کو سمجھنے اور بدعات سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ذیل میں اس اصول کی تفصیلی وضاحت، دلائل اور اس کے ثمرات کا بیان پیش ہے۔

۱. توقیفی کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

لغوی معنی: لفظ "توقیفی" عربی زبان کے لفظ "وقوف" سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "رک جانا" یا "ٹھہر جانا"۔


اصطلاحی معنی: فقہائے کرام کی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت (ہر وہ عمل جو ثواب کی نیت سے کیا جائے) کے معاملے میں ہم صرف وہیں تک محدود رہیں گے جہاں تک اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں بتایا ہے۔ ہم اپنی عقل، پسند یا رائے سے کسی نئے عمل کو "عبادت" قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہی مقررہ عبادات کی ہیئت (طریقہ کار)، وقت، جگہ یا مقدار میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔


سادہ الفاظ میں: عبادت کے لیے دلیل کا ہونا ضروری ہے، جبکہ دنیاوی معاملات کے لیے ممانعت کا ہونا ضروری ہے۔

۲. بنیادی قاعدہ: عبادت اور دنیاوی معاملات میں فرق

فقہاء نے ایک سنہری اصول وضع کیا ہے:


  • عبادات میں اصل "حرمت" ہے: یعنی جب تک اللہ یا اس کے رسول ﷺ سے کسی عمل کا ثبوت نہ مل جائے، وہ عمل عبادت نہیں بن سکتا۔
  • دنیاوی اشیاء میں اصل "اباحت" ہے: یعنی کھانا پینا، لباس اور ٹیکنالوجی وغیرہ میں ہر چیز جائز ہے جب تک کہ شریعت اسے حرام قرار نہ دے دے۔
۳. عقلی و نقلی دلائل

اس اصول کے حق میں قرآن و سنت سے ٹھوس دلائل موجود ہیں:


الف: قرآن کریم سے دلیل


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:


"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا" (سورہ المائدہ: 3)۔


جب دین مکمل ہو گیا، تو اب عبادت کے نام پر کسی بھی نئے اضافے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے کوئی نئی عبادت ایجاد کرتا ہے، تو گویا وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ (نعوذ باللہ) دین میں ابھی کمی تھی جسے اس نے پورا کیا ہے۔


ب: حدیث نبوی ﷺ سے دلیل


رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے:


"جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے" (صحیح بخاری و مسلم)۔


یہ حدیث "توقیفی" ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ہر وہ عمل جو ثواب کی نیت سے کیا جائے لیکن اس کی بنیاد شریعت میں نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں قبول نہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اصول شریعت کے استقرا سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جن عبادات کو اللہ تعالی نے واجب قرار دیا، یا جن عبادات کو پسند فرمایا ہے وہ عبادات شریعت کی رو سے ہی ثابت ہوں گی۔ البتہ عادات یعنی لوگوں کے عمومی زندگی گزارنے کے طور طریقے جن کی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے ان کے بارے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ ان میں ممانعت نہیں ہے، لہذا ان میں سے صرف اسی کام کو منع قرار دیا جائے گا جنہیں اللہ تعالی نے منع قرار دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امر اور نہی دونوں ہی اللہ تعالی کی شریعت ہیں، اور عبادت کے لیے لازمی ہے کہ اس کا حکم موجود ہو، چنانچہ جب تک کسی چیز کے بارے میں شرعی حکم کا علم نہیں ہو گا تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ یہ کام عبادت ہے؟ اور اسی طرح جس رسم یا رواج کے بارے میں ہمیں علم نہ ہو کہ یہ شریعت میں منع ہے تو اس پر کیسے حکم لگایا جائے گا کہ وہ کام منع ہے؟
اسی لیے محدثین فقہائے کرام کہا کرتے تھے کہ: عبادات میں اصل توقیف ہے، اس لیے جس چیز کو اللہ تعالی نے شریعت میں شامل فرمایا وہی شریعت میں شامل ہو گا، وگرنہ ہم بھی اللہ تعالی کے اس فرمان کی زد میں آ جائیں گے: أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنْ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّه ترجمہ: یا ان کے شریک ہیں جو ان کے لیے دین میں ایسی چیزیں شامل کرتے ہیں جن کی اللہ تعالی نے اجازت نہیں دی۔ [الشوری: 21]
جبکہ عادات کے بارے میں اصل یہ ہے کہ زندگی گزارنے کا کوئی بھی طور طریقہ اپنا سکتے ہیں، اس لیے جس کام کو بھی اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے صرف وہی حرام ہے، وگرنہ ہم اللہ تعالی کے اس فرمان کی زد میں آ جائیں گے: قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا
ترجمہ: کہہ دیجیے: تم بتلاؤ کہ جو کچھ اللہ تعالی نے تمہارے لیے نازل کیا ہے تو تم نے ان میں سے حرام اور حلال بنا دیے ہیں![یونس: 59] ا سی لیے اللہ تعالی نے مشرکین کی مذمت فرمائی کہ انہوں نے دین میں ایسی چیزیں شامل کر دیں جن کی اللہ تعالی نے اجازت نہیں دی، اور دنیاوی معاملات میں سے ایسی چیزیں حرام کر ڈالیں جنہیں اللہ تعالی نے حرام قرار نہیں دیا ۔" ختم شد
"مجموع الفتاوى" (29/16-17)

الشیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عبادات توقیفی ہیں، تو جو چیزیں اللہ تعالی اور اس کے رسول نے شریعت میں شامل کی ہیں وہ مطلق طور پر شریعت کا حصہ ہیں، اور جو چیزیں کسی جگہ یا وقت کے ساتھ شریعت میں مقید کی گئی ہیں وہ انہیں جگہوں اور اوقات کے ساتھ مقید کی جائیں گی۔" ختم شد
"فتاوى ورسائل محمد بن إبراهيم" (6/75)

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"عبادات کی بنیاد توقیف پر ہے، اس لیے کسی بھی عمل کے لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ یہ عمل اپنی اصل، عدد، کیفیت، یا جگہ کے اعتبار سے عبادت ہے، جب تک کہ کوئی دلیل نہ ہو۔" ختم شد
"فتاوى اللجنة الدائمة" (3/73)

اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"عبادات میں اصل ممانعت ہے ، اس لیے کسی بھی شخص کے لیے عبادت کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے جو اللہ تعالی نے شریعت میں شامل نہیں کیا، وہ طریقہ کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں ہونا چاہیے، لہذا اگر کسی شخص کو عبادات کے حوالے سے یہ شک پیدا ہو کہ یہ عبادت ہے یا نہیں، تو اصول یہ ہے کہ وہ عمل عبادت نہیں ہے تا آں کہ اس کے عبادت ہونے کی دلیل مل جائے۔" ختم شد

"فتاوى نور على الدرب" (169/1)

اسی طرح الشیخ صالح فوزان حفظہ اللہ کہتے ہیں:
"عبادات توقیفی ہوتی ہیں، کسی بھی وقت یا جگہ، یا کسی عبادت کا طریقہ شارع کے حکم سے ہی اپنایا جائے گا، چنانچہ اگر کوئی شخص عبادات کی جگہ، وقت اور کیفیت کے حوالے سے کوئی چیز ایجاد کرے تو وہ بدعت کہلائے گا۔" ختم شد
المنتقى من فتاوى الفوزان" (16/13)

ج: ترکِ نبوی ﷺ (نبی ﷺ کا کسی عمل کو نہ کرنا)

کیا نبی ﷺ کا کسی عمل سے منع نہ کرنا اس کے جواز کی دلیل ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ:


اگر کسی عمل کا سبب اور محرک نبی ﷺ کے دور میں موجود تھا، اور اس کے کرنے میں کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی، اس کے باوجود آپ ﷺ نے وہ عمل نہیں کیا (یعنی اسے ترک کر دیا)، تو اب اس عمل کو "عبادت" سمجھ کر کرنا بدعت کہلائے گا۔


مثال: ارکان اسلام، کلمہ، نماز ،زکوۃ، حج روزہ اور اذان وغیرہ کے الفاظ و اسلوب متعین ہیں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ "میں اللہ کی بڑائی بیان کرنے کے لیے اذان یا کلمہ شہادت پہ میں مزید کچھ کلمات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں اور نبی ﷺ نے اس سے منع تو نہیں فرمایا"، تو اس کا یہ استدلال غلط ہوگا، کیونکہ عبادات "توقیفی" ہیں، جو اللہ نے طے کر دیا وہی آخری ہے۔

۴. عبادات کے چار ارکان (جن میں تبدیلی ممکن نہیں)

توقیفی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کی درج ذیل چار چیزوں میں انسان کو اپنی مرضی کرنے کا حق نہیں:


  1. سبب: کسی بھی عبادت کا سبب شریعت نے طے کرنا ہے (مثلاً زوالِ شمس نمازِ ظہر کا سبب ہے)۔
  2. جنس: قربانی کے لیے مخصوص جانور طے ہیں، کوئی شخص مرغی کی قربانی نہیں کر سکتا۔
  3. مقدار: ظہر کی چار رکعات ہیں، کوئی جذبہِ ایمانی میں آ کر پانچ نہیں پڑھ سکتا۔
  4. ہیئت (طریقہ): نماز کا طریقہ وہی رہے گا جو اللہ کے رسول ﷺ نے دکھایا، عقل کی بنیاد پر سجدے کی جگہ رکوع نہیں کیا جا سکتا۔
۵. اس اصول کی اہمیت اور فائدہ

اس قاعدے کا سب سے بڑا فائدہ "دین کی حفاظت" ہے۔ اگر عبادات کو انسانی عقل اور خواہشات پر چھوڑ دیا جاتا، تو ہر دور اور ہر علاقے کے لوگ اپنی پسند کی نئی نئی عبادات ایجاد کر لیتے اور اصل دین مسخ ہو کر رہ جاتا، جیسا کہ سابقہ امتوں (یہود و نصاریٰ) کے ساتھ ہوا۔

خلاصہ کلام

فقہائے کرام کا یہ قول کہ "عبادات توقیفی ہیں" دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں اور بندے کا کام اپنی مرضی کرنا نہیں بلکہ مالک کے حکم کی پیروی کرنا ہے۔ عبادت وہی ہے جو قرآن سے ثابت ہو یا اللہ کے رسول ﷺ نے قولاً، فعلاً یا تقریراً (خاموشی سے تائید) ثابت کی ہو۔ جہاں شریعت خاموش ہے (عبادات کے معاملے میں)، وہاں خاموش رہنا ہی بندگی کا تقاضا ہے۔


حاصلِ مطالعہ: دین کے معاملے میں "اتباع" (پیروی) اصل ہے، "ابتداع" (ایجاد) نہیں۔ جو عمل سنت سے ثابت نہیں، وہ کتنا ہی خوشنما کیوں نہ لگے، وہ بارگاہِ الہی میں مقبول نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی بنیاد "توقیفی" اصول کے خلاف ہے۔
 
Last edited:
Top