ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 838
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
تکفیری کا لقب مرجئہ کا باطل پروپیگنڈا اور شرعی احکام پر طعن
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
ہر دور میں اہل باطل نے حق کو بدنام کرنے کے لیے مختلف حربے اختیار کیے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اہل سنت کے منہج حق سے نفرت رکھنے والے بعض مرجئہ نے بھی ایک مذموم بدعت ایجاد کر رکھی ہے کہ جب اہل سنت والجماعت دلائل کی روشنی میں کسی شخص، جماعت یا عقیدے پر کفر اکبر، شرک اکبر اور نواقض اسلام کا حکم بیان کرتے ہیں تو یہ لوگ فورا "تکفیری، تکفیری" کا شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک اصل جرم شرک و کفر نہیں بلکہ شرک کو شرک اور مشرک کو مشرک یا کافر کو کافر کہنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ طرز عمل صرف اہل سنت پر طعن نہیں بلکہ شریعت اسلامیہ کے ایک عظیم حکم پر حملہ ہے۔ اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے شیخ ابو المنذر الحربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «إن التكفير في ديننا هو حكم شرعي قد يكون مُطلقه محقاً موقعاً له في موقعه» یعنی تکفیر ہمارے دین میں ایک شرعی حکم ہے۔ تکفیر کرنا درست اور حق پر مبنی ہوتا ہے جب اس حکم کو اس کے صحیح محل میں نافذ کیا جاتا ہے۔
پس جب تکفیر بذات خود ایک شرعی حکم ہے تو پھر اسے گالی اور عیب بنا دینا کس قدر سنگین جسارت ہے؟ مرجئہ کا المیہ یہ ہے کہ انہیں کفر و شرک کے مرتکب کو کافر و مشرک کہنے سے تکلیف ہوتی ہے جبکہ شرک کرنے والوں کو مشرک کہنے والے پر "تکفیری" کا لیبل لگانے میں راحت محسوس ہوتی ہے۔ ان کی غیرت توحید کے لیے نہیں بلکہ شرک و کفر کے مرتکبین کے لیے جاگتی ہے۔
اسی لیے شیخ ابو المنذر الحربی رحمہ اللہ نے فرمایا: «فلا يجوز شرعاً ولا عقلاً نسبة قوم أو جماعة من الناس إلى لفظة التكفيريين على وجه الذم والطعن» یعنی کسی قوم یا جماعت کو بطور مذمت و طعن "تکفیری" کہنا نہ شرعا جائز ہے اور نہ عقلا۔
پس جو لوگ نواقض اسلام، شرک اکبر یا کفر بواح کے مرتکبین کی تکفیر کرنے والوں کو "تکفیری" کہہ کر مطعون کرتے ہیں، وہ درحقیقت ایک ناجائز اور باطل روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو توحید سے متنفر کرنا اور شرعی احکام کو مشکوک بنانا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرجئہ کا یہ اسلوب کوئی نئی چیز نہیں۔ قدیم مرجئہ بھی اہل سنت پر یہی اعتراض کرتے تھے کہ وہ کفر اکبر کے مرتکب کو کافر کیوں کہتے ہیں۔ چونکہ مرجئہ نے ایمان کو اس قدر محدود کر دیا کہ اس کے نتیجے میں بہت سے صریح کفریہ اعمال کے بارے میں بھی ان کے دلوں میں نفرت باقی نہ رہی، اس لیے وہ ان اہل سنت کو برا بھلا کہنے لگے جنہوں نے کفار و مشرکین کے بارے میں شرعی احکام کو بیان کیا۔
بہرحال شیخ ابو المنذر الحربی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: «فحينئذ يكون ذمهم بهذا الأمر الشرعي الذي قد أصابوا فيه إنما هو طعن في الحكم نفسه» یعنی اگر انہوں نے صحیح جگہ پر تکفیر کی ہو تو اس شرعی حکم کی وجہ سے ان کی مذمت کرنا دراصل خود اس حکم شرعی پر طعن ہے۔
یہ مرجئہ کے باطل منہج کی حقیقت ہے۔ کیونکہ جب کوئی شخص شرک اکبر، استہزاء بالدین، تعطیل شریعت یا کسی ثابت شدہ ناقض اسلام کی بنا پر کفر کا حکم بیان کرے اور اس کے جواب میں کوئی شخص اسے "تکفیری" کہہ کر بدنام کرے تو اس کا طعن دراصل اس شرعی حکم پر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔
مرجئہ کا ایک اور خطرناک جرم یہ ہے کہ انہوں نے تکفیر کے مقابلے میں ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں ثابت شدہ کفریات کو بھی کفر کہنے سے جھجک محسوس کرنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ ابو المنذر الحربی رحمہ اللہ نے فرمایا: «لأن نسبتهم إلى التكفير على وجه الذم يُنشىء طرفاً مقابلاً يغلو في الإرجاء ولا يتجرأ على تكفير من ثبت كفره بالنصوص» یعنی لوگوں کو بطور مذمت تکفیری کہنا ایک ایسے گروہ کو جنم دیتا ہے جو ارجاء میں غلو کرتا ہے اور ان لوگوں کو بھی کافر کہنے کی جرأت نہیں کرتا جن کا کفر نصوص شرعیہ سے ثابت ہو چکا ہوتا ہے۔
[عون الحكيم الخبير في الرد على كتاب البرهان المنير في دحض شبهات أهل التكفير والتفجير، ص : ٣٥]
آج ہم یہی دیکھ رہے ہیں۔ بہت سے مرجئہ اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ انہیں مشرکین کے شرک پر خاموشی اختیار کرنا آسان لگتا ہے، لیکن اگر کوئی اہل سنت کا عالم نصوص شرعیہ کی روشنی میں کفر کا حکم بیان کر دے تو وہ فورا چیخ اٹھتے ہیں: "یہ تکفیری ہے!" گویا ان کے نزدیک سب سے بڑا خطرہ شرک نہیں بلکہ توحید کی دعوت ہے، سب سے بڑا جرم کفر نہیں بلکہ کفر کے مرتکب کو کافر کہنا ہے۔
اہل سنت والجماعت کا منہج نہ خوارج کا منہج ہے اور نہ مرجئہ کا۔ اہل سنت دلیل کی بنا پر تکفیر کرتے ہیں، جب شریعت نے کسی قول یا فعل کو کفر قرار دیا تو وہ مرجئہ کی چیخ و پکار، طعن و تشنیع اور باطل پروپیگنڈے سے مرعوب ہو کر حق کو نہیں چھپاتے۔
لہٰذا لفظ "تکفیری" کا طعن آمیز استعمال ایک باطل اصطلاح ہے یہ دراصل ایک مرجئانہ ہتھکنڈا اور ایک شرعی حکم کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ اہل سنت کو "تکفیری" کہنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ القابات، بہتان اور شور شرابا حق کو باطل اور باطل کو حق نہیں بنا سکتے۔ حق وہی ہے جو کتاب و سنت اور فہم سلف سے ثابت ہو، خواہ مرجئہ اس پر کتنے ہی طعنے کیوں نہ برسائیں۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين۔