محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,099
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ (صحیح مسلم، الصيام: 1163)
’’رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے ’’محرم‘‘ کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔‘‘
صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى (صحيح البخاري، الوتر: 990، صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 749)
’’رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی نماز کو وتر بنا دے گی۔‘‘
مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 755)
’’جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟! مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟! (سنن أبي داود، السنة: 4733) (صحيح)
”ہر رات جب اس کا آخری تہائی حصہ باقی ہوتا ہے تو ہمارا رب تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور ندا دیتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی سنوں اور قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اس کو بخش دوں؟“
والله أعلم بالصواب.
فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ (صحیح مسلم، الصيام: 1163)
’’رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے ’’محرم‘‘ کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔‘‘
- افضل ترين عمل رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور رمضان کے علاوہ دیگر مہینوں میں گیارہ رکعتوں سےزیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔
- تهجد کی کم ازکم رکعتیں دو ہیں۔
صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى (صحيح البخاري، الوتر: 990، صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 749)
’’رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی نماز کو وتر بنا دے گی۔‘‘
- تہجد رات کے آخری پہر میں پڑھنا افضل ہے۔
مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 755)
’’جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟! مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟! (سنن أبي داود، السنة: 4733) (صحيح)
”ہر رات جب اس کا آخری تہائی حصہ باقی ہوتا ہے تو ہمارا رب تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور ندا دیتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی سنوں اور قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اس کو بخش دوں؟“
والله أعلم بالصواب.