• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تہجد کا بہترین وقت

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,099
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَفْضَلُ الصِّيَامِ، بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْفَرِيضَةِ، صَلَاةُ اللَّيْلِ (صحیح مسلم، الصيام: 1163)
’’رمضا ن کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے ’’محرم‘‘ کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔‘‘

  • افضل ترين عمل رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور رمضان کے علاوہ دیگر مہینوں میں گیارہ رکعتوں سےزیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔​
سعید بن ابی سعید مقبری نے ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کیا کہ انھوں نے سيده عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسے ہوتی تھی؟ انھوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ رمضان اور اس کے علاوہ (دوسرے مہینوں) میں (فجر سے پہلے) گیارہ رکعتوں سے زائد نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں پڑھتے، ان کی خوبصورتی اور ان کی طوالت کے بارے میں مت پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپﷺ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔‘‘ (وہ بدستور اللہ کے ذکر میں مشغول ر ہتا ہے۔ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 738)
  • تهجد کی کم ازکم رکعتیں دو ہیں۔​
سيدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:
صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى (صحيح البخاري، الوتر: 990، صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 749)
’’رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی نماز کو وتر بنا دے گی۔‘‘
  • تہجد رات کے آخری پہر میں پڑھنا افضل ہے۔​
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 755)
’’جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے۔ اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
يَنْزِلُ رَبُّنَا كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، حَتَّى يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟! مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟! (سنن أبي داود، السنة: 4733) (صحيح)
”ہر رات جب اس کا آخری تہائی حصہ باقی ہوتا ہے تو ہمارا رب تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور ندا دیتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی سنوں اور قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اس کو بخش دوں؟“

والله أعلم بالصواب.
 
Top