- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
تیسرا مرحلہ :
بیرون مکہ دعوتِ اسلام
(رسول اللہ ﷺ طائف میں )
شوال ۱۰ نبوت (اواخر مئی یا اوائل جون ۶۱۹ء) میں نبی ﷺ طائف تشریف لے گئے۔ یہ مکہ سے ایک سو تیس کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔ آپ ﷺ نے یہ مسافت آتے جاتے پیدل طے فرمائی تھی۔ آپ ﷺ کے ہمراہ آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ تھے۔ راستے میں جس قبیلے سے گزر ہوتا اسے اسلام کی دعوت دیتے لیکن کسی نے بھی یہ دعوت قبول نہ کی۔ جب طائف پہنچے تو قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں کے پاس تشریف لے گئے جو آپس میں بھائی تھے اور جن کے نام یہ تھے۔ عبد یالیل، مسعود اور حبیب، ان تینوں کے والد کا نام عمرو بن عُمیر ثَقَفی تھا۔ آپ ﷺ نے ان کے پاس بیٹھنے کے بعد انہیں اللہ کی اطاعت اور اسلام کی مدد کی دعوت دی۔ جواب میں ایک نے کہا کہ وہ کعبے کا پردہ پھاڑے اگر اللہ نے تمہیں رسول بنایا ہو۔ (یہ اُردو کے اس محاوے سے ملتا جلتا ہوا ہے کہ ''اگر تم پیغمبر ہو تو اللہ مجھے غارت کرے۔'' مقصود اس یقین کا اظہار ہے کہ تمہارا پیغمبر ہونا ناممکن ہے جیسے کعبے کے پردے پر دست درازی کرنا ناممکن ہے)
دوسرے نے کہا: کیا اللہ کو تمہارے علاوہ کوئی اور نہ ملا ؟ تیسرے نے کہا: میں تم سے ہرگز بات نہ کروں گا۔ اگرتم واقعی پیغمبر ہو تو تمہاری بات رد کرنا میرے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اگر تم نے اللہ پر جھوٹ گھڑ رکھا ہے تو پھر مجھے تم سے بات کرنی ہی نہیں چاہیے۔ یہ جواب سن کر آپ ﷺ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور صرف اتنا فرمایا: تم لوگوں نے جو کچھ کیا کیا، بہرحال اسے پس پردہ ہی رکھنا۔
رسول اللہ ﷺ نے طائف میں دس دن قیام فرمایا۔ اس دوران آپ ﷺ ان کے ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے گفتگو کی لیکن سب کا ایک ہی جواب تھا کہ ہمارے شہر سے نکل جاؤ۔ بلکہ انہوں نے اپنے اوباشوں کو شہ دے دی۔ چنانچہ جب آپ ﷺ نے واپسی کا قصد فرمایا تو یہ اوباش گالیاں دیتے، تالیاں پیٹتے اور شور مچاتے آپ ﷺ کے پیچھے لگ گئے، اور دیکھتے دیکھتے اتنی بھیڑ جمع ہو گئی کہ آپ ﷺ کے راستے کے دونوں جانب لائن لگ گئی۔ پھر گالیوں اور بد زبانیوں کے ساتھ ساتھ پتھر بھی چلنے لگے۔ جس سے آپ ﷺ کی ایڑی پر اتنے زخم آئے کہ دونوں جوتے خون میں تر بتر ہو گئے۔ ادھر حضرت زیدؓ بن حارثہ ڈھال بن کر چلتے ہوئے پتھروں کو روک رہے تھے۔ جس سے ان کے سر میں کئی جگہ چوٹ آئی۔ بد معاشوں نے یہ سلسلہ برابر جاری رکھا یہاں تک کہ آپ کو عتبہ اور شیبہ ابنائے ربیعہ کے ایک باغ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ یہ باغ طائف