درجہ بالا لنک پر سوال کیا گیا کہ " کیا حضرت عمر راضی اللہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث کو قبول نہیں کیا "
صحیح مسلم کی اس حدیث کے متعلق
اس حدیث سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ اس واقعہ کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا اس بات کا علم عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو نہیں تھا یعنی ممکن ہے کہ مذکورہ عمل میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ اورعماربن یاسر رضی اللہ عنہ ساتھ رہے ہوں لیکن جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے متعلق تیمم کی تعلیم دی اس وقت عمرفاروق رضی اللہ عنہ موجود نہ رہے ہوں ۔
یا ممکن ہے کہ تعلیم کے وقت بھی موجود رہے ہوں لیکن بعد میں یہ بات ان کے ذہن سے نکل گئی ہو ۔ کیونکہ بھول چوک کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔
رہی بات یہ ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے عمار کی حدیث قبول نہیں کی تو ایسی کوئی صراحت حدیث میں نہیں ہے۔
شروع میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے گرچہ تعجب کا اظہار کیا لیکن بعد میں جب عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ کہا کہ آپ اگر کہیں تو میں یہ حدیث کسی سے بیان نہ کروں اس پر عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا بلکہ انہیں اس حدیث کو بیان کرنے پرمامور کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت پراعتماد تھا اورخود اپنے آپ ہی کو بھولنے والا سمجھ رہے تھے۔
اس جواب میں فرمایا گیا ہے کہ
حضرت عمر کو حضرت عمار کی حدیث پر اعتماد تھا
لیکن جب ہم اصح کتاب بعد کتاب اللہ یعنی صحیح بخاری کو پڑھتے ہیں تو کتاب تیمم میں ایک روایت ملتی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بیان کی گئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتماد نہیں کیا
صحیح بخاری کی روایت
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا أبي قال، حدثنا الأعمش، قال سمعت شقيق بن سلمة، قال كنت عند عبد الله وأبي موسى فقال له أبو موسى أرأيت يا أبا عبد الرحمن إذا أجنب فلم يجد، ماء كيف يصنع فقال عبد الله لا يصلي حتى يجد الماء. فقال أبو موسى فكيف تصنع بقول عمار حين قال له النبي صلى الله عليه وسلم " كان يكفيك " قال ألم تر عمر لم يقنع بذلك. فقال أبو موسى فدعنا من قول عمار، كيف تصنع بهذه الآية فما درى عبد الله ما يقول فقال إنا لو رخصنا لهم في هذا لأوشك إذا برد على أحدهم الماء أن يدعه ويتيمم. فقلت لشقيق فإنما كره عبد الله لهذا قال نعم.
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد حفص بن غیاث نے، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ میں عبداللہ (بن مسعود) اور ابوموسیٰ اشعری کی خدمت میں تھا، ابوموسیٰ نے پوچھا کہ ابوعبدالرحمن! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کو غسل کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے۔ عبداللہ نے فرمایا کہ اسے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔ جب تک اسے پانی نہ مل جائے۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ پھر عمار کی اس روایت کا کیا ہو گا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں صرف (ہاتھ اور منہ کا تیمم) کافی تھا۔ ابن مسعود نے فرمایا کہ تم عمر کو نہیں دیکھتے کہ وہ عمار کی اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر ابوموسیٰ نے کہا کہ اچھا عمار کی بات کو چھوڑو لیکن اس آیت کا کیا جواب دو گے (جس میں جنابت میں تیمم کرنے کی واضح اجازت موجود ہے) عبداللہ بن مسعود اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف یہ کہا کہ اگر ہم اس کی بھی لوگوں کو اجازت دے دیں تو ان کا حال یہ ہو جائے گا کہ اگر کسی کو پانی ٹھنڈا معلوم ہوا تو اسے چھوڑ دیا کرے گا۔ اور تیمم کر لیا کرے گا۔ (اعمش کہتے ہیں کہ) میں نے شقیق سے کہا کہ گویا عبداللہ نے اس وجہ سے یہ صورت ناپسند کی تھی۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔
ترجمہ داؤد راز
صحیح بخاری حدیث نمبر 346
اس روایت سے تو صاف پتہ چل رہا ہے کہ نہ حضرت عمر نے حضرت عماررضی اللہ عنہ کی بیان کی ہوئی حدیث پر اعتبار اور نہ قرآن کی واضح آیات تیمم کا ان کو علم تھا
یہ وہ اشکال ہیں جو اس جواب سے پیدا ہوئے ہیں امید ہے جلد ہی اس کا جواب دیا جائے گا شکریہ
صحیح مسلم کی اس حدیث کے متعلق
اور یہ جواب آیاأن رجلًا أتى عمرَ فقال : إني أَجْنَبْتُ فلم أَجِدْ ماءً ؟ فقال : لا تُصَلِّ . فقال عمارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يا أميرَ المؤمنين ! إذ أنا وأنت في سَرِيَّةٍ فأَجْنَبْنَا . فلم نَجِدْ ماءً ، فأما أنت فلم تُصَلِّ ، وأما أنا فتَمَعْكْتُ في الترابِ وصَلَّيْتُ ، فقال النبيُّ صلى الله عليه وسلم : إنما كان يَكْفِيكَ أن تَضْرِبَ بيديك الأرضَ ، ثم تَنْفُخَ، ثم تَمْسَحَ بهما وجهَك وكفيَّك . فقال عمرُ : اتقِ اللهَ يا عمارُ ! قال : إن شِئْتَ لم أُحَدِّثْ به . قال الحكمُ : وحدِّثَنيه ابنُ عبدِالرحمن بنُ أَبْزَي عن أبيه ، مثلَ حديثِ ذَرٍّ . قال : وحدَّثَني سَلَمَةُ عن ذَرٍّ في هذا الإسنادِ الذي ذَكَرَ الحَكَمُ . فقال عمرُ : نُولِّيك ما تُولَّيْتَ . وفي روايةٍ : أن رجلًا أتى عمرَ فقال : إني أَجْنَبْتُ فلم أَجِدْ ماءً . وساقَ الحديثَ . وزاد فيه : قال عمارٌ : يا أميرَ المؤمنين ، إن شِئْتَ ، لِمَا جَعَلَ اللهُ عليَّ من حقِّك ، لا أُحُدِّثُ به أحدًا.الراوي: عبدالرحمن بن أبزى المحدث:مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 368
خلاصة حكم المحدث: صحيح
ابزی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا ! میں جنبی ہوگیا ہوں( یعنی مجھے غسل کی حاجت ہے ) اور پانی نہیں مل سکا حضرت عمر نے فرمایا ! نماز مت پڑھ حضرت عمار کہنے لگے اے امیر المومینن ! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے دونوں جنبی ہوگئے تھے اور ہمیں پانی نہیں ملا آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور نماز پڑھ لی ( جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا اور واقعہ عرض کیا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! تمہارے لئے اتنا کافی تھا کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر پھونک مار کر گرد اڑاتے پھر ان کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتے حضرت عمر نے کہا ! اے عمار اللہ سے ڈرو حضرت عمار نے کہا آپ فرماتے ہیں تو میں کسی اور سے یہ حدیث بیان نہ کروں گا
اس حدیث سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ اس واقعہ کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا اس بات کا علم عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو نہیں تھا یعنی ممکن ہے کہ مذکورہ عمل میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ اورعماربن یاسر رضی اللہ عنہ ساتھ رہے ہوں لیکن جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے متعلق تیمم کی تعلیم دی اس وقت عمرفاروق رضی اللہ عنہ موجود نہ رہے ہوں ۔
یا ممکن ہے کہ تعلیم کے وقت بھی موجود رہے ہوں لیکن بعد میں یہ بات ان کے ذہن سے نکل گئی ہو ۔ کیونکہ بھول چوک کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔
رہی بات یہ ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے عمار کی حدیث قبول نہیں کی تو ایسی کوئی صراحت حدیث میں نہیں ہے۔
شروع میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے گرچہ تعجب کا اظہار کیا لیکن بعد میں جب عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ کہا کہ آپ اگر کہیں تو میں یہ حدیث کسی سے بیان نہ کروں اس پر عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا بلکہ انہیں اس حدیث کو بیان کرنے پرمامور کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت پراعتماد تھا اورخود اپنے آپ ہی کو بھولنے والا سمجھ رہے تھے۔
اس جواب میں فرمایا گیا ہے کہ
حضرت عمر کو حضرت عمار کی حدیث پر اعتماد تھا
لیکن جب ہم اصح کتاب بعد کتاب اللہ یعنی صحیح بخاری کو پڑھتے ہیں تو کتاب تیمم میں ایک روایت ملتی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بیان کی گئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتماد نہیں کیا
صحیح بخاری کی روایت
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا أبي قال، حدثنا الأعمش، قال سمعت شقيق بن سلمة، قال كنت عند عبد الله وأبي موسى فقال له أبو موسى أرأيت يا أبا عبد الرحمن إذا أجنب فلم يجد، ماء كيف يصنع فقال عبد الله لا يصلي حتى يجد الماء. فقال أبو موسى فكيف تصنع بقول عمار حين قال له النبي صلى الله عليه وسلم " كان يكفيك " قال ألم تر عمر لم يقنع بذلك. فقال أبو موسى فدعنا من قول عمار، كيف تصنع بهذه الآية فما درى عبد الله ما يقول فقال إنا لو رخصنا لهم في هذا لأوشك إذا برد على أحدهم الماء أن يدعه ويتيمم. فقلت لشقيق فإنما كره عبد الله لهذا قال نعم.
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد حفص بن غیاث نے، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ میں عبداللہ (بن مسعود) اور ابوموسیٰ اشعری کی خدمت میں تھا، ابوموسیٰ نے پوچھا کہ ابوعبدالرحمن! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کو غسل کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے۔ عبداللہ نے فرمایا کہ اسے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔ جب تک اسے پانی نہ مل جائے۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ پھر عمار کی اس روایت کا کیا ہو گا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں صرف (ہاتھ اور منہ کا تیمم) کافی تھا۔ ابن مسعود نے فرمایا کہ تم عمر کو نہیں دیکھتے کہ وہ عمار کی اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر ابوموسیٰ نے کہا کہ اچھا عمار کی بات کو چھوڑو لیکن اس آیت کا کیا جواب دو گے (جس میں جنابت میں تیمم کرنے کی واضح اجازت موجود ہے) عبداللہ بن مسعود اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف یہ کہا کہ اگر ہم اس کی بھی لوگوں کو اجازت دے دیں تو ان کا حال یہ ہو جائے گا کہ اگر کسی کو پانی ٹھنڈا معلوم ہوا تو اسے چھوڑ دیا کرے گا۔ اور تیمم کر لیا کرے گا۔ (اعمش کہتے ہیں کہ) میں نے شقیق سے کہا کہ گویا عبداللہ نے اس وجہ سے یہ صورت ناپسند کی تھی۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔
ترجمہ داؤد راز
صحیح بخاری حدیث نمبر 346
اس روایت سے تو صاف پتہ چل رہا ہے کہ نہ حضرت عمر نے حضرت عماررضی اللہ عنہ کی بیان کی ہوئی حدیث پر اعتبار اور نہ قرآن کی واضح آیات تیمم کا ان کو علم تھا
یہ وہ اشکال ہیں جو اس جواب سے پیدا ہوئے ہیں امید ہے جلد ہی اس کا جواب دیا جائے گا شکریہ