• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تیمم والی حدیث کی تحقیق میں پایا جانے والے اشکال

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
درجہ بالا لنک پر سوال کیا گیا کہ " کیا حضرت عمر راضی اللہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث کو قبول نہیں کیا "
صحیح مسلم کی اس حدیث کے متعلق

أن رجلًا أتى عمرَ فقال : إني أَجْنَبْتُ فلم أَجِدْ ماءً ؟ فقال : لا تُصَلِّ . فقال عمارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يا أميرَ المؤمنين ! إذ أنا وأنت في سَرِيَّةٍ فأَجْنَبْنَا . فلم نَجِدْ ماءً ، فأما أنت فلم تُصَلِّ ، وأما أنا فتَمَعْكْتُ في الترابِ وصَلَّيْتُ ، فقال النبيُّ صلى الله عليه وسلم : إنما كان يَكْفِيكَ أن تَضْرِبَ بيديك الأرضَ ، ثم تَنْفُخَ، ثم تَمْسَحَ بهما وجهَك وكفيَّك . فقال عمرُ : اتقِ اللهَ يا عمارُ ! قال : إن شِئْتَ لم أُحَدِّثْ به . قال الحكمُ : وحدِّثَنيه ابنُ عبدِالرحمن بنُ أَبْزَي عن أبيه ، مثلَ حديثِ ذَرٍّ . قال : وحدَّثَني سَلَمَةُ عن ذَرٍّ في هذا الإسنادِ الذي ذَكَرَ الحَكَمُ . فقال عمرُ : نُولِّيك ما تُولَّيْتَ . وفي روايةٍ : أن رجلًا أتى عمرَ فقال : إني أَجْنَبْتُ فلم أَجِدْ ماءً . وساقَ الحديثَ . وزاد فيه : قال عمارٌ : يا أميرَ المؤمنين ، إن شِئْتَ ، لِمَا جَعَلَ اللهُ عليَّ من حقِّك ، لا أُحُدِّثُ به أحدًا.الراوي: عبدالرحمن بن أبزى المحدث:مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 368
خلاصة حكم المحدث: صحيح

ابزی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا ! میں جنبی ہوگیا ہوں( یعنی مجھے غسل کی حاجت ہے ) اور پانی نہیں مل سکا حضرت عمر نے فرمایا ! نماز مت پڑھ حضرت عمار کہنے لگے اے امیر المومینن ! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے دونوں جنبی ہوگئے تھے اور ہمیں پانی نہیں ملا آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور نماز پڑھ لی ( جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا اور واقعہ عرض کیا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! تمہارے لئے اتنا کافی تھا کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر پھونک مار کر گرد اڑاتے پھر ان کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتے حضرت عمر نے کہا ! اے عمار اللہ سے ڈرو حضرت عمار نے کہا آپ فرماتے ہیں تو میں کسی اور سے یہ حدیث بیان نہ کروں گا
اور یہ جواب آیا
اس حدیث سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ اس واقعہ کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا اس بات کا علم عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو نہیں تھا یعنی ممکن ہے کہ مذکورہ عمل میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ اورعماربن یاسر رضی اللہ عنہ ساتھ رہے ہوں لیکن جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے متعلق تیمم کی تعلیم دی اس وقت عمرفاروق رضی اللہ عنہ موجود نہ رہے ہوں ۔
یا ممکن ہے کہ تعلیم کے وقت بھی موجود رہے ہوں لیکن بعد میں یہ بات ان کے ذہن سے نکل گئی ہو ۔ کیونکہ بھول چوک کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔
رہی بات یہ ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے عمار کی حدیث قبول نہیں کی تو ایسی کوئی صراحت حدیث میں نہیں ہے۔
شروع میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے گرچہ تعجب کا اظہار کیا لیکن بعد میں جب عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ کہا کہ آپ اگر کہیں تو میں یہ حدیث کسی سے بیان نہ کروں اس پر عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا بلکہ انہیں اس حدیث کو بیان کرنے پرمامور کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو عماربن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت پراعتماد تھا اورخود اپنے آپ ہی کو بھولنے والا سمجھ رہے تھے۔
اس جواب میں فرمایا گیا ہے کہ
حضرت عمر کو حضرت عمار کی حدیث پر اعتماد تھا
لیکن جب ہم اصح کتاب بعد کتاب اللہ یعنی صحیح بخاری کو پڑھتے ہیں تو کتاب تیمم میں ایک روایت ملتی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بیان کی گئی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتماد نہیں کیا
صحیح بخاری کی روایت
حدثنا عمر بن حفص،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثنا أبي قال،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا الأعمش،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال سمعت شقيق بن سلمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال كنت عند عبد الله وأبي موسى فقال له أبو موسى أرأيت يا أبا عبد الرحمن إذا أجنب فلم يجد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ماء كيف يصنع فقال عبد الله لا يصلي حتى يجد الماء‏.‏ فقال أبو موسى فكيف تصنع بقول عمار حين قال له النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كان يكفيك ‏"‏ قال ألم تر عمر لم يقنع بذلك‏.‏ فقال أبو موسى فدعنا من قول عمار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كيف تصنع بهذه الآية فما درى عبد الله ما يقول فقال إنا لو رخصنا لهم في هذا لأوشك إذا برد على أحدهم الماء أن يدعه ويتيمم‏.‏ فقلت لشقيق فإنما كره عبد الله لهذا قال نعم‏.‏
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد حفص بن غیاث نے، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، انھوں نے کہا کہ میں عبداللہ (بن مسعود) اور ابوموسیٰ اشعری کی خدمت میں تھا، ابوموسیٰ نے پوچھا کہ ابوعبدالرحمن! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کو غسل کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے۔ عبداللہ نے فرمایا کہ اسے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔ جب تک اسے پانی نہ مل جائے۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ پھر عمار کی اس روایت کا کیا ہو گا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں صرف (ہاتھ اور منہ کا تیمم) کافی تھا۔ ابن مسعود نے فرمایا کہ تم عمر کو نہیں دیکھتے کہ وہ عمار کی اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر ابوموسیٰ نے کہا کہ اچھا عمار کی بات کو چھوڑو لیکن اس آیت کا کیا جواب دو گے (جس میں جنابت میں تیمم کرنے کی واضح اجازت موجود ہے) عبداللہ بن مسعود اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف یہ کہا کہ اگر ہم اس کی بھی لوگوں کو اجازت دے دیں تو ان کا حال یہ ہو جائے گا کہ اگر کسی کو پانی ٹھنڈا معلوم ہوا تو اسے چھوڑ دیا کرے گا۔ اور تیمم کر لیا کرے گا۔ (اعمش کہتے ہیں کہ) میں نے شقیق سے کہا کہ گویا عبداللہ نے اس وجہ سے یہ صورت ناپسند کی تھی۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔
ترجمہ داؤد راز
صحیح بخاری حدیث نمبر 346
اس روایت سے تو صاف پتہ چل رہا ہے کہ نہ حضرت عمر نے حضرت عماررضی اللہ عنہ کی بیان کی ہوئی حدیث پر اعتبار اور نہ قرآن کی واضح آیات تیمم کا ان کو علم تھا
یہ وہ اشکال ہیں جو اس جواب سے پیدا ہوئے ہیں امید ہے جلد ہی اس کا جواب دیا جائے گا شکریہ
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
سب سے پہلے تو یہ واضح کردوں کی آپ نے پچھلی بار بھی حدیث کا ترجمہ ادھورا پیش کیا تھا اور اس بار بھی وہی کیا ہے ۔
میں نے پچھلی بار مجملا وضاحت کردی تھی لیکن اس بار کھل کر وضاحت کرنی ضروری ہے سب سے پہلے ہم مسلم کی پوری روایت کو عربی متن اورمکمل ترجمہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں:

امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
حدثني عبد الله بن هاشم العبدي، حدثنا يحيى يعني ابن سعيد القطان، عن شعبة، قال: حدثني الحكم، عن ذر، عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى، عن أبيه، أن رجلا أتى عمر، فقال: إني أجنبت فلم أجد ماء فقال: لا تصل. فقال عمار: أما تذكر يا أمير المؤمنين، إذ أنا وأنت في سرية فأجنبنا فلم نجد ماء، فأما أنت فلم تصل، وأما أنا فتمعكت في التراب وصليت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إنما كان يكفيك أن تضرب بيديك الأرض، ثم تنفخ، ثم تمسح بهما وجهك، وكفيك» فقال عمر: " اتق الله يا عمار قال: إن شئت لم أحدث به " قال الحكم: وحدثنيه ابن عبد الرحمن بن أبزى، عن أبيه، مثل حديث ذر قال: وحدثني سلمة، عن ذر، في هذا الإسناد الذي ذكر الحكم، فقال عمر: نوليك ما توليت
سعید بن عبدالرحمن ابن ابزی سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں جنبی ہوگیا اور میں نے پانی نہیں پایا آپ نے فرمایا نماز نہ پڑھ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک سریہ میں جنبی ہو گئے اور ہمیں پانی نہ ملا اور آپ نے نماز ادا نہ کی بہر حال میں مٹی میں لیٹا اور نماز ادا کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لئے کافی تھا کہ تو اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارتا پھر پھونک مارتا پھر ان دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمار اللہ سے ڈر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ چاہیں تو میں یہ حدیث نہیں بیان کروں گا حکم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت مذکور ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو ذمہ داری تم نے اٹھائی ہے ہم تم کو وہی ذمہ داری دیتے ہیں۔[صحيح مسلم 1/ 280]

ملون اور نمایاں الفاظ پر غورکیا جائے کہ عمار رضی اللہ عنہ نے ایک واقعہ کی ایک بات نقل کی جس واقعہ میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے مگر عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو وہ بات یاد نہ تھی ۔
پھر جب عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے لاعلمی ظاہر کی اور انہیں نصیحت کی توعمار رضی اللہ عنہ نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ : اگر آپ کہیں تو میں یہ حدیث بیان نہ کروں ؟
لیکن عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر کو یہ حدیث بیان کرنے سے نہیں منع کیا بلکہ انہیں اجازت دی جیساکہ اس کی پوری صراحت حدیث کے ان آخری کلمات میں موجود ہے جس کا ترجمہ آپ نے چھوڑ دیا ہے۔
چنانچہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ جب یہ پوچھا کہ اگر آپ کہیں تو میں یہ حدیث بیان کرنا بند کردوں تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے کہا:
نوليك ما توليت
جو ذمہ داری تم نے اٹھائی ہے ہم تم کو وہی ذمہ داری دیتے ہیں۔[مسلم ، حوالہ مذکور]

یعنی عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرنے سے نہیں روکا بلکہ انہیں اس کی اجازت دی ،حافظ ابن حجررحمہ اللہ عمرفاروق کی طرف سے اس اجازت والے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فقال له عمر نوليك ما توليت أي لا يلزم من كوني لا أتذكره أن لا يكون حقا في نفس الأمر فليس لي منعك من التحديث
عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے کہا: جو ذمہ داری تم نے اٹھائی ہے ہم تم کو وہی ذمہ داری دیتے ہیں۔یعنی میرے بھول جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ بات فی نفسہ سچی نہ ہو ، اس لئے تمہیں روایت کرنے سے منع کرنے کا حق مجھے نہیں ہے[فتح الباري لابن حجر 1/ 457]

اس تفصیل سے یہ بات صاف ہوگئی کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو مذکورہ بات یاد نہیں تھی مگر انہوں نے عمار رضی اللہ عنہ کی تغلیط نہیں کی ہے بلکہ انہیں یہ حدیث بیان کرنے کی اجازت دی ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ان پر اعتماد تھا ۔

آب آگے بخاری کی روایت پر بات کرتے ہیں۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
حدثنا عمر بن حفص، قال: حدثنا أبي، قال: حدثنا الأعمش، قال: سمعت شقيق بن سلمة، قال: كنت عند عبد الله، وأبي موسى، فقال له أبو موسى: أرأيت يا أبا عبد الرحمن إذا أجنب فلم يجد ماء، كيف يصنع؟ فقال عبد الله: لا يصلي حتى يجد الماء، فقال أبو موسى: فكيف تصنع بقول عمار حين قال له النبي صلى الله عليه وسلم: «كان يكفيك» قال: ألم تر عمر لم يقنع بذلك، فقال أبو موسى: فدعنا من قول عمار كيف تصنع بهذه الآية؟ فما درى عبد الله ما يقول، فقال: إنا لو رخصنا لهم في هذا لأوشك إذا برد على أحدهم الماء أن يدعه ويتيمم فقلت لشقيق فإنما كره عبد الله لهذا؟ قال: «نعم»
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد حفص بن غیاث نے، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) اور ابوموسیٰ اشعری کی خدمت میں تھا، ابوموسیٰ نے پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کو غسل کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے۔ عبداللہ نے فرمایا کہ اسے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔ جب تک اسے پانی نہ مل جائے۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ پھر عمار کی اس روایت کا کیا ہو گا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں صرف (ہاتھ اور منہ کا تیمم) کافی تھا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ وہ عمار کی اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر ابوموسیٰ نے کہا کہ اچھا عمار کی بات کو چھوڑو لیکن اس آیت کا کیا جواب دو گے (جس میں جنابت میں تیمم کرنے کی واضح اجازت موجود ہے) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف یہ کہا کہ اگر ہم اس کی بھی لوگوں کو اجازت دے دیں تو ان کا حال یہ ہو جائے گا کہ اگر کسی کو پانی ٹھنڈا معلوم ہوا تو اسے چھوڑ دیا کرے گا۔ اور تیمم کر لیا کرے گا۔ (اعمش کہتے ہیں کہ) میں نے شقیق سے کہا کہ گویا عبداللہ نے اس وجہ سے یہ صورت ناپسند کی تھی۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔[صحيح البخاري 1/ 77 رقم 346]

اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے جو یہ الفاظ ہیں:
ألم تر عمر لم يقنع بذلك
تم عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ وہ عمار کی اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔[بخاری : حوالہ مذکور]

اس سے صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ؟
کیا عمار رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیان کردہ بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ؟ یا اس واقعہ کی موجودگی میں عمار رضی اللہ عنہ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی موجودگی کا جوذکر کیا تھا اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے؟
اوپر مسلم کی جو حدیث مع تشریح پیش کی گئی ہے اسے دو بارہ پڑھیں تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہےکہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ جس بات پر مطمئن نہیں تھے وہ بات صرف یہ تھی کہ اس واقعہ میں ان کی موجودگی کا بھی تذکرہ عمار نے کیا تھا اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی یاد داشت میں یہ بات نہ تھی ۔اسی بات پر عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو محض اطمینان نہ تھا ۔ لیکن اس کے باوجود بھی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس بات کو جھٹلا یا نہیں ہے بلکہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرنے کی اجازت دی ۔یہ اجازت ہی اس بات کی دلیل ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ پر عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو اعتماد تھا ورنہ وہ ہرگز عمار رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرنے کی اجازت نہ دیتے ۔
یاد رہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث پر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اعتماد کی دلیل خود عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ میں موجود ہے ۔ لہٰذا جب عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی اپنی گواہی موجود ہے تو اس کے خلاف کسی بھی دوسرے شخص کی بات قابل قبول نہ ہوگی بلکہ اسے غلط فہمی پر محمول کیا جائے گا۔

رہی بات یہ کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہہ کر اس سے متعلقہ حدیث کو ناقابل استدلال سمجھا ہے ۔
تو اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوسکتا ہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے عمار کی بات پر اعتماد نہیں کیا ہے ۔ لیکن جب خود عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ میں یہ صراحت ملتی ہے کہ انہیں عمار رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث پر اعتماد تھا ۔ تو ان کے اپنے بیان کے خلاف ہم کسی دوسرے صحابی کے بیان کو ترجیح نہیں دے سکتے ۔
علاوہ بریں یہ بھی امکان ہے کہ عدم اطمینان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مراد بھی وہی ہو جس کی ہم نے وضاحت کی ہے ۔ لیکن خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے عدم اطمینان کے اس پہلو کے سبب عمار رضی اللہ عنہ کی روایت میں توقف کیا ہو۔
لیکن ایسی صورت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ طرزعمل ایک اجتہادی معاملہ ہے جو سب کے لئے حجت نہیں ہے ۔بلکہ ممکن ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی بعد میں رجوع کرلیا ہو جیساکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس سلسلے کی ایک منقطع روایت کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔ دیکھئے:[فتح الباري لابن حجر 1/ 457]












 
Top