- شمولیت
- اگست 28، 2019
- پیغامات
- 81
- ری ایکشن اسکور
- 13
- پوائنٹ
- 56
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تین اعمال،تین افراد اور قیامت کا خوفناک انجام
تین اعمال،تین افراد اور قیامت کا خوفناک انجام
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:
برادران اسلام !آج ہم ہرآئے دن موت وقیامت اور حشرونشرکے بارے میں بارہاتقریریں سنتے ہیں مگرہماری حالت یہ ہے کہ قیامت اور قیامت کی ہولناکیوں کا تذکرہ سننے کے باوجود بھی ہمارے دلوں پر اس کا نہ تو کچھ اثر پڑتا ہے اورنہ ہی ہم نیکیوں کی طرف راغب ہوپاتے ہیں جب کہ ہمارے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ کا حال یہ تھا کہ قیامت کے تذکرہ کو پڑھ کر وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہوگئے تھے جیسا کہ ترمذی شریف کے اندر یہ روایت موجود ہے ، ایک مرتبہ سیدنا ابوبکرؓ نے کہا کہ ’’ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شِبْتَ ‘‘اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ !آپ تو بوڑھے لگنے لگے ہیں!توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَالوَاقِعَةُ وَالمُرْسَلَاتُ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ‘‘ مجھے سورہ ہود،سورہ واقعہ،سورہ مرسلات،سورہ النباء اور سورہ تکویر نے بوڑھا کردیا ہے۔ (ترمذی:3297،الصحیحۃ:955)اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَأَخَوَاتُهَا قَبْلَ الْمَشِيْبِ ‘‘ مجھے سورہ ہود اور اس جیسی اور سورتوں نے وقت سے پہلے ہی بوڑھا کردیا۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:3721)اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ان سورتوں کے اندر ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے آپﷺ نے یہ کہاکہ ان سورتوں نے مجھے تو وقت سے پہلے ہی بوڑھا کردیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان سورتوں کے اندرقیامت کے حالات وواقعات بیان کئے گئے ہیں۔اللہ اکبر کبیرا! ہمارے نبیﷺ کی یہ حالت ! اور ایک ہماری حالت ہے کہ قیامت کے دن کی سختیوں اورحالتوں کو سن کر ہمارا دل بھی نہ پسیجے!
میرے دوستو!قیامت کے دن کی فکر کرو!یہ کوئی معمولی اور آسان دن نہیں ہوگا بلکہ وہ دن تو ایک ایسا دن ہوگا جس دن تمام انبیاء ورسل بھی لرزاں وترساں ہوں گے اوریہی کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ رَبِّ سلِّم رَبِّ سلِّم ‘‘ اے میرے رب ! بس تو مجھے بچالے۔(مسلم:195)ہرکس وناکس حیران وپریشان ہوگا،اور اس حیرانی وپریشانی کے عالم میں ہرانسان یہی چاہے گا کہ وہ اس گھڑی سے جتنا جلد ہوسکے چھٹکارا حاصل کرلےکیونکہ ایک تو سورج بالکل ہی سر کے اوپر صرف ایک میل کے فاصلے پر ہوگا اور لوگ اپنے اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں شرابور ہوں گے۔(مسلم:2846)اور دوسرا یہ کہ وہ دن 12/ گھنٹے کا نہیں بلکہ ’’ خَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃٍ ‘‘ وہ دن تو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔(المعارج:4)اللہ اکبر کبیرا!اب ذرا سوچئے کہ ایسی مشکل گھڑی میں رب ذوالجلال والاکرام کا کسی آدمی پر غضبناک ہونا،اس کی طرف نظر رحمت سے نہ دیکھنا، اس سےبات نہ کرنا اور سخت سے سخت عذاب دینا یہ کتنی بڑی ہلاکت وبربادی اوربدبختی ہوگی،اورآج کے خطبۂ جمعہ کے اندر میں آپ کو یہی بتانے والا ہوں کہ کل بروز قیامت تین قسم کے ایسے بدنصیب وبدبخت لوگ ہوں گے جن سے اللہ رب العزت نہ توبات کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گااور نہ ہی انہیں پاک وصاف کرے گا بلکہ ایسے لوگوں کو اللہ رب العالمین دردناک عذاب سے دوچار بھی کرے گا۔اللہ کی پناہ!اے اللہ تو ہم سب کو بروزقیامت اپنی رحمت عطافرمانا۔آمین
(1)بوڑھا زانی،جھوٹا بادشاہ اور متکبر فقیر:
محترم سامعین وسامعات! قیامت کے دن جن بدبختوں کی طرف اللہ رب العالمین نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سیدالاولین والآخرین جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘کہ تین آدمیوں سے اللہ رب العالمین کل بروزقیامت نہ تو بات کرے گا ’’ وَلَا يُزَكِّيهِمْ ‘‘اور نہ ہی ان تینوں کو پاک وصاف کرے گا،’’ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ‘‘اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا ،بلکہ ’’ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‘‘ انہیں دردناک عذاب سے دوچار کرے گا،نمبر ایک ’’ شَيْخٌ زَانٍ ‘‘ بوڑھا زانی، نمبر دو’’ وَمَلِكٌ كَذَّابٌ ‘‘ جھوٹا بادشاہ، اور نمبر تین ’’ وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ ‘‘محتاج اورمغرور گھمنڈی فقیر۔(مسلم:107)میرے دوستو!اسلام میں زناکاری،جھوٹ اور کبروغرور یہ تو سب کے لئے حرام اور سب کے حق میں برا ہے لیکن ان تینوں شخصوں کےحق میں نہایت ہی اقبح اور بے موقع ومحل ہے،کیونکہ بڑھاپے میں جب کہ شہوت کم ہوجاتی ہے زناکرنا یہ سراسر شقاوت اوربدبختی کی علامت ہے،اور بادشاہ ہونے کے باوجود جب کہ بادشاہ کو کسی کا خوف اور ڈر نہیں ہوتا ،جھوٹ بولنا بالکل ہی اللہ کی نافرمانی کی علامت ہے،اور کسی غریب آدمی کاباوجود یہ کہ قلاش،غریب اور فقیر ہے ،گھمنڈ کرنا یہ تو فرعون بے سامان بننے کی علامت ہے جو کہ اللہ کو نہایت ہی ناپسند ہے،یہی وجہ ہے کہ قاضی عیاضؒ ان تینوں کی وجہ تخصیص پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان تینوں کو ان گناہوں کی کوئی حاجت اور ضرورت نہیں تھی پھر بھی اس گناہ کو انجام دینا گویا عمداً اللہ کی نافرمانی،ضد اورہٹ دھرمی ہے اور اللہ کے احکام وفرامین کو ذلیل سمجھنا ہے۔
(2)ٹخنے کے نیچے لباس رکھنے والا،احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم کھاکرمال بیچنے والا:
میرے دوستو!اب جوحدیث میں آپ کو سنانے جارہاہوں اس کو بغورسماعت فرمائیں کیونکہ اس کے اندر تو نمازی وحاجی اورعالم ومولانااور بہت سارے دیندار کہلانے والےلوگ بھی شامل ہیں،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیا ہے جس کے اندر اتنےسارے دیندار لوگ شامل ہیں تو پھر حدیث سن ہی لیجئے،سیدنا ابوذرؓ بیان کرتےہیں کہ آپﷺ نے تین مرتبہ یہ فرمایا ’’ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‘‘ کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے کل بروز قیامت اللہ رب العالمین نہ تو بات کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک وصاف کرے گا اور تو اور ہے ان کے لئے دردناک عذاب بھی ہوگا،سیدنا ابوذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ’’ خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ ‘‘کہ اے اللہ کے رسولﷺ!ایسے لوگوں کا ستیاناس ہوجائے،یہ کون لوگ ہیں؟ توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ أَلْمُسْبِلُ ‘‘ نمبرایک اپنالباس ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا،’’ وَالْمَنَّانُ ‘‘ نمبر دو احسان جتانے والا اور نمبر تین’’وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ‘‘ جھوٹی قسم کھاکر اپنا مال بیچنے والا۔(مسلم:106)اللہ کی پناہ!میرے دوستو!ابھی آپ نے اپنے کانوں سے یہ سنا کہ جو لوگ اپنا کپڑا ٹخنے سے نیچے لٹکائیں گے تو ایسے لوگوں سے کل بروز قیامت اللہ رب العالمین کتنا سخت ناراض ہوگا مگرافسوس کی بات ہے کہ آج یہ گناہ ہم سب بڑے ہی شوق سے انجام دیتے ہیں،لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں اور اپنی شلوار،پینٹ اور لنگی وغیرہ ٹخنے سے نیچے بھی رکھتے ہیں،اور بہت سارے لوگ تو اس کبیرہ گناہ کو انجام دینے کے لئے یہ حیلہ اور جواز پیش کرتے ہیں کہ حدیث شریف میں تو آپﷺ نے تکبر کے ساتھ ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے سے منع کیا ہے،اور ہمارے دلوں میں کوئی تکبر نہیں ہے ،ہم بس ایسے ہی فیشن کے طور پر ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکاتے ہیں،تو جو لوگ بھی ایسا سوچتے ہیں وہ لوگ یہ سن لیں کہ ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانا ہی تکبر کی نشانی ہےاور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ نبیٔ اکرم ومکرمﷺ نے فرمادیا ہے کہ اے لوگو!’’ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَلَا يُحِبُّهَا اللَّهُ ‘‘ ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے سے بچنا کیونکہ یہی تکبر ہے اور اللہ رب العالمین کو یہ حرکت بالکل بھی پسند نہیں ہے۔(الادب المفرد:1182،ابوداؤد:4084،الصحیحۃ:1109)اس لئے اے میرے بھائیو !اس حرکت سے باز آجاؤ ورنہ یہ تمہاری نمازیں،روزے، حج وزکاۃ اور ساری نیکیاں کسی کام کے نہیں ہیں،کیونکہ جو مسلمان مرد بھی یہ حرکت کرے گا اسے دردناک عذاب وسزا سے دوچار کیا جائے گا۔
میرے دوستو!حدیث شریف کے اندر دوسری چیز یہ ہے کہ جولوگ احسان جتلاتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بھی کل بروزقیامت اللہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ بیماری بھی سماج ومعاشرے کے اندر عام ہے کہ جیسے ہی دوبھائیو ں یاپھر دوخاندانوں کے درمیان کچھ ان بن ہوجاتی ہے لوگ ایک دوسرے کو گننا شروع کردیتے ہیں اور ایک دوسرے پرکئے گئے احسانات کو شمار کرنا شروع کردیتے ہیں کہ میں نے تمہارے ساتھ یہ کیا ،وہ کیا،میں نے تجھے یہ کھلایا،وہ پلایا کیا تو بھول گیا وغیرہ وغیرہ تو جولوگ بھی ایسی حرکت کریں گے وہ اپنی آخرت اپنے ہاتھوں سے خود برباد کریں گے،اور حدیث کے اندر تیسری اورآخری بات یہ ہے کہ جولوگ اپنا مال جھوٹی قسم کے ذریعے بیچیں گے تو ایسے لوگوں کوبھی کل بروزقیامت اللہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا،اس لئے میرے تاجر بھائیو!ایسی حرکت کبھی نہ کرنا ورنہ تمہاری آخرت تباہ و برباد ہوجائےگی اور رب کی ناراضگی کے شکار ہوجاؤ۔
(3)عصر کے بعدجھوٹی قسم کھاکر مال بیچنے اور قبضہ کرنے والا،اورضرورت سے زیادہ پانی سے روکنے والا:
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ جو بھی جھوٹی قسم کے ذریعے اپنامال بیچے گا تو وہ رب کی ناراضگی کا شکار ہوگا ،اب جو حدیث میں سنانے جارہاہوں اس کو ذرا غور سے سنئے ،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ‘‘کہ تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ رب العالمین بروز قیامت نہ تو بات کرےگا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا،’’ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى وَهُوَ كَاذِبٌ ‘‘نمبر ایک وہ انسان جس نے کسی سامان کے متعلق قسم کھائی کہ اس نے اس سامان کو اتنے اور اتنے میں خریدا ہے حالانکہ وہ جھوٹا ہے،’’ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ العَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ‘‘اور دوسراوہ شخص جس نے عصر کے بعد جھوٹی قسم اس لئے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال ناحق مارلے،’’ وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ ‘‘اور تیسرا وہ شخص جس نے ضرورت سے زیادہ فالتو پانی مانگنے والے کو نہیں دیا ’’ فَيَقُولُ اللَّهُ ‘‘توکل بروز قیامت اللہ رب العالمین اس سے کہے گا کہ ’’ اليَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَا لَمْ تَعْمَلْ يَدَاكَ ‘‘جس طرح تونے اس زائد از ضرورت فالتوچیز سے دوسرے کو روکا جسے تیرے ہاتھوں نے بنایابھی نہیں تھا ،میں بھی تجھے آج اپنے فضل وکرم سے نہیں نوازوں گا۔(بخاری:2369)اللہ کی پناہ!کتنی بڑی بدنصیبی ہوگی جس انسان کو اللہ یہ کہہ دے کہ میں تجھے اپنے فضل وکرم سے نہیں نوازوں گا،اس لئے میرے بھائیو اور بہنو!ضرورت سے زیادہ پانی لینے سے لوگوں کو نہ روکو،آئیے اسی سلسلے میں ایک دوسری حدیث بھی سنتے ہیں،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‘‘کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ رب العالمین نہ تو بات کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر اٹھاکے دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک وصاف کرے گا بلکہ انہیں سخت دردناک عذاب سے دوچار بھی کرے گا،نمبر ایک ’’ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِطَرِيقٍ يَمْنَعُ مِنْهُ ابْنَ السَّبِيلِ ‘‘ وہ شخص جوسفر میں ضرورت سے زیادہ پانی لئے جارہاہواور کسی مسافر کو جسے پانی کی ضرورت ہو نہ دے،نمبر دو’’ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا لاَ يُبَايِعُهُ إِلَّا لِلدُّنْيَا ‘‘وہ شخص جو کسی امام یعنی خلیفۃ المسلمین سے بیعت کرےاور اس نے صرف دنیا کے لئے بیعت کی ’’ فَإِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَى لَهُ وَإِلَّا لَمْ يَفِ لَهُ ‘‘کہ جس سے اس نے بیعت کی ہے اگر وہ اس کے مقصد کو پورا کردے تو یہ بھی وفاداری سے کام لے ،ورنہ اس کے ساتھ بیعت وعہد کے خلاف کرے،اور تیسرا وہ شخص ’’ وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ العَصْرِ ‘‘جوکسی سے عصر کے بعد کسی سامان کا بھاؤ کرے ’’ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا كَذَا وَكَذَا فَأَخَذَهَا ‘‘اور اللہ کی قسم کھالے کہ اسے اس سامان کا اتنا اور اتنا روپیہ پیسہ مل رہاتھااور خریدار اس سامان کو اس کی جھوٹی قسم کھانے کی وجہ سے لے لے حالانکہ وہ جھوٹ بول رہاتھا۔ (بخاری:2672،مسلم:108،ابوداؤد:3474)
میرے دوستو!حدیث شریف میں جن تین بدبخت آدمیوں کا تذکرہ ہے ان کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے،نمبر ایک فالتو پانی سے روکنے والا،خاص طور سے پیاسے مسافر کو محروم رکھنے والا،وہ انسانیت کا مجرم،اخلاق کا باغی ،ہمدردی اور انسانیت کا دشمن ہے،او رایسے انسان کا دل تو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہے کہ ایک پیاسے مسافر کو دیکھ کر دل نرم ہونا چاہئے کہ اس کی جان خطرے میں ہے،دوسرا بدبخت وہ انسان ہے جو خلیفۃ المسلین کے ساتھ اپنی ذاتی مفاد کے لئے چپکا ہوا ہے،آج بھی جگہ جگہ پر یہ صورت موجود ہےمگر ہمارے یہاں تو اس کی صورت نہیں مگر آپ اس کی جگہ پر اس حدیث کے تحت جماعت وجمعیت اور اسلامی تنظیموں کو لے سکتے ہیں کہ کچھ لوگ جماعت وجمعیت اور اسلامی تنظیموں کے ساتھ محض اپنی ذاتی مفاد کے لئے گھسے بیٹھے رہتے ہیں،اوروہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خلاف مفاد ذراسی بات بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے،یہی وہ بدترین لوگ ہوتے ہیں جو جماعت وجمعیت کے دشمن ہوتے ہیں اور ایسے غداروں کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہی ہے،دورحاضر میں اسلامی مدارس ومساجد اور دیگرتنظیموں میں بکثرت ایسے ہی لوگ برسراقتدار ہیں جو محض اپنی ذاتی مفاد کے لئے ان سے چمٹے ہوتے ہیں،اگر کسی وقت ان کےذاتی مفاد پر ذرابھی چوٹ پڑتی ہے تو وہ اسی مسجد ومدرسہ اور اسی تنظیم کے انتہائی دشمن بن کر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ومدرسہ الگ سے بنانے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں،تاریخ اسلام میں کتنے ہی ایسے غدار ملتے ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی نقصان کاخیال کرکے اسلامی حکومت کو سازشوں کو آماجگاہ بنا کر آخر میں اس کو تہ وبالا کردیا،اور دورحاضر میں بھی کئی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے محض اپنی ذاتی مفاد کے نہ ملنے پر اپنی ہی جماعت وتنظیم کو بدنام کرنا شروع کردیا اور ایک الگ ہی پارٹی بنالی،جن کا عین مقصد صرف اورصرف یہی ہے کہ کسی طرح سے فلاں شخص یا فلاں تنظیم وجماعت کو لوگوں کی نظروں سے گرادیا جائے،اللہ ایسے شریروں سے جماعت وجمعیت کو محفوظ رکھے۔آمین۔اور تیسرا وہ شخص ہے جو مال بیچنے کے لئے جھوٹ اورفریب کا ہرہتھیار استعمال کرتاہے،خاص طور سے عصر کے بعد جھوٹ بول کر خوب بڑھا چڑھا کر مال حاصل کرتاہے،ویسے تو ہروقت جھوٹی قسم کھاکر مال بیچنا حرام ہےمگر عصر کے بعد کی تخصیص اس وجہ سے معلوم ہوتی ہے کہ عصر کے وقت میں دن اور رات کے فرشتوں کا اجتماع ہوتاہے،یاپھر عصرکے بعد نامۂ اعمال کو اوپر لے جایا جاتاہے،یاپھر یہ کہ انسان دن کے آخری حصے میں بھی جھوٹ بولنے سے پرہیز نہ کیا۔(واللہ اعلم بالصواب)تومیں یہ کہہ رہاتھا کہ جھوٹی قسم کھاکرکسی کے مال کو ہتھیالینا اور ناجائز قبضہ کرلینا یہ حرام ہےچاہےوہ عصر کے بعد کا وقت ہو یاپھر کوئی اور وقت،کسی بھی وقت میں جھوٹی قسم کھاکر خرید وفروخت کرنے کو آپﷺ نےناجائز اور حرام قرار دیا ہے،جیسا کہ سیدنا اشعث بن قیسؓ بیان کرتے ہیں کہ یمن میں میری او رایک شخص کی پارٹنرشپ میں ایک زمین تھی،جس کے بارے میں مجھ سے اور اس آدمی سے آپﷺ کی موجودگی میں جھگڑا ہوگیا،یہ دیکھ کرآپﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تیرے پاس گواہ ہے،میں نے عرض کیا کہ نہیں،توآپﷺ نے فرمایا کہ اچھا تو پھر تم اس سے قسم لے لو،میں نے کہا کہ وہ تو فوراً قسم کھالے گا،تب آپﷺ نے فرمایا کہ’’ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‘‘جوشخص کسی مسلمان کا مال اپنانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غصے میں ہوگا،پھر اسی سلسلے میں اللہ رب العالمین نے یہ آیت بھی نازل کی کہ’’إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَناً قَلِيلاً أُولئِكَ لَا خَلاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ ‘‘بے شک جولوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں،ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں،اللہ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا،نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔(آل عمران:77)۔(مسلم:138،بخاری:2356)اللہ کی پناہ!کتنی سخت وعید ہے مگر لوگ جھوتی قسمیں کھاکر،جھوٹے کاغذات بنواکر اور جھوٹے گواہوں کو پیش کرکے دوسروں کی جگہوں اور مالوں پر قبضہ جمالیتے ہیں تو جولوگ بھی یہ حرکت کرتے ہیں ایسے لوگ ایک اور فرمان مصطفیﷺ سن لیں کہ ’’ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ ‘‘جس نے جھوٹی قسمیں کھاکر کسی مسلمان کاحق مارلیا تو ’’ فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ‘‘ اللہ تعالی اس کے لئے جہنم کی آگ کو واجب اور جنت کو اس پر حرام کردیتاہے،ایک صحابیٔ رسول نے عرض کیا کہ اے میرے آقاﷺ ’’ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا ‘‘ اگر وہ چھوٹی سی چیز ہو تو؟آپﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ ’’ وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ‘‘ گرچہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔(مسلم:137)اللہ اکبرکبیرا! لوگ تو لاکھوں کی چیز ہڑپ کرلیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنت میں چلے جائیں گے یہاں تو آپﷺ نے دس بیس روپئے کی چیز کے بارے میں یہ فرمایا کہ جو ایسا کرے گا اس کا ٹھکانہ سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں!اور تو اورہے جھوٹی قسم کھانے والےکی صرف آخرت ہی برباد نہیں ہوتی ہے بلکہ جھوٹی قسم کھانے والے کی دنیا بھی برباد کردی جاتی ہے،وہ اس طرح سے کہ جو بھی شخص جھوٹی قسم کھاتاہے تو اسے دنیا میں ہی سزا دی جاتی ہے،اللہ کی پناہ!جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ قَطَعَ رَحِمًا أَوْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ رَأَى وَبَالَهُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ ‘‘ کہ جس نے رشتے ناطے کو توڑا یاپھر جھوٹی قسم کھائی تو ایساانسان مرنے سے پہلے پہلے ضرور اس کی سزا کو بھگت لے گا۔ (الصحیحۃ:1121)اس لئے اے میرے بھائیواوربہنو!اگر کسی نے کسی کے ساتھ جھوٹی قسم کے ذریعے کسی بھی قسم کا فراڈ کیا ہے تو وہ آج ہی جیتے جی جتناجلدہوسکے اس کا رفع دفع کرلے کیونکہ وہ بہت جلد اللہ کی سزا سے دوچار ہونے والا ہے۔
(4)قیامت کے دن تین قسم کے سب سے زیادہ بدبخت انسان:
میرے دوستو!قیامت کے دن جن بدبختوں سے اللہ رب العالمین بات نہیں کرے گا اس کے تحت اب جو حدیث میں سنانے جارہاہوں اس کو غور سے سنئے کیونکہ اس حدیث میں ایک،دو ایسی باتوں کا بھی تذکرہ ہے جس کو ہم میں سے بہت سارے لوگ انجام دیتے ہیں،آئیے پہلے حدیث سنتے ہیں،سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا،اللہ تبارک وتعالی کا یہ کہنا ہے کہ ’’ ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ ‘‘تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا،اور ابن ماجہ کے الفاظ ہیں اللہ تعالی کا یہ کہنا ہے کہ ’’ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘ اور جس کے خلاف میں مدعی ہوں گا تو میں اس سے مقدمہ جیت جاؤں گا (لہذا یہ تین افراد ضرور سزا پائیں گے)نمبر ایک ’’ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ ‘‘ وہ شخص جومیرا (اللہ کا )نام لے کر عہدکرے،پھر اس عہد کو توڑدے،نمبر دو’’ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ ‘‘ وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی،اورنمبر تین ’’ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ ‘‘وہ شخص جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا،اس سے پوری طرح کام بھی لیا لیکن اس کی مزدوری بھی نہیں دی۔(بخاری:2227،ابن ماجہ:2442)میرےدوستو!اس حدیث کے اندر جن تین بدبختوں کا ذکرکیاگیا ہے اس میں پہلا وہ شخص ہے جو اللہ کے نام پر کئے ہوئے عہد وپیمان کو توڑڈالے،ویسے تو عہدشکنی ہی کبیرہ گناہ ہےاور عہدشکنی کو آپﷺ نے منافق کی علامت ونشانی قراردیا ہے،مگر اس کی قباحت وشناعت اس وقت زیادہ بڑھ جاتی ہے جب کوئی انسان اللہ کا نام لے کر اور اللہ کا حوالہ دے کرکوئی عہد وپیمان کرے اور پھر اسے توڑدے،ابھی ابھی آپ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 77 کوسنا کہ جو لوگ عہدوپیمان کو توڑیں گے تو ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہےاور ایسے ہی لوگوں پر اللہ رب العالمین سخت غضبناک ہوگا ،اس لئے اے میرے بھائیواوربہنو!جو بھی عہدوپیمان کرو اس کو ضروربالضرورپوری کیاکرو،اسی بات کا حکم دیتے ہوئے باری تعالی نے فرمایا کہ ’’ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا ‘‘اورعهد كي پابندی کرو کیونکہ عہد کے بارے میں تم سے سوال ہوگا۔(الاسراء:34)سنا آپ نے کہ ہم جو بھی عہدوپیمان کرتے ہیں اس بارے میں اللہ رب العزت ہم سے ضروربالضرورپوچھے گا،مگر افسوس کی بات ہے کہ ہم ہرآئے دن ،اپنی اولاد،اپنے والدین اور اپنے اعزہ واقارب کے ساتھ کئی طرح کے وعدے اور عہدوپیمان کرلیتے ہیں مگر جب اس کو پورا کرنے کا وقت آتاہے توہم مُکر جاتے ہیں،توجولوگ بھی عہدوپیمان کو توڑدیتے ہیں ، ایسے لوگ نبیٔ اکرم ومکرمﷺ کا یہ فرمان سن لیں کہ جولوگ بھی عہدوپیمان کو توڑیں گے تو کل بروز قیامت انہیں تمام مخلوق کے سامنے میں بہت ہی بری طرح سے ذلیل ورسوا کیاجائے گا،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے اور کس طرح سے عہدشکنی کرنے والوں کو ذلیل ورسوا کیا جائے گا تو پھر فرمان مصطفیﷺ خود اپنے کانوں سے سن لیں اوراگر کسی کو یقین نہ ہو توپھر وہ بخاری ومسلم حدیث کی کتابوں کو کھول کرخود اپنی آنکھوں سے دیکھ کرکے پڑھ لے،سیدنا ابن عمرؓکہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ إِذَا جَمَعَ اللهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘جب حشر کا میدان ہوگا اور اللہ رب العالمین تمام اول تاآخرانس وجن کو جمع کرچکے گا تو ’’ يُرْفَعُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ ‘‘ قیامت کے دن ہرعہدتوڑنے والے کے لئے ایک جھنڈا ہوگا ،اور پھر یہ اعلان کیا جائے گا کہ اے انسانوں اور جنوں سن لو!’’ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ‘‘یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی اور دھوکا دھڑی اور فراڈ کا یہ نشان ہے۔(مسلم:1735،بخاری:3186)اور ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘ہرعہدتوڑنے والے،فراڈ کرنے والے،دھوکا دینے والےاورلوگوں کو چونا لگانے والوں کے لئے قیامت کے دن اس کی سرین کے پاس ایک جھنڈاہوگا،اور پھر ’’ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ ‘‘اس جھنڈے کو اس کی بدعہدی،دھوکادھڑی اور فراڈ کے تناسب سے بلند کیا جائے گا۔ (مسلم:1738،بخاری:3188)اللہ کی پناہ!ذراسوچئے کہ فراڈکرنے والے،دھوکا دینے والے اور عہدوپیمان کو توڑنے والے لوگوں کی کیسی بدنامی اور رسوائی ہوگی کہ پہچان کے لئے میدان محشر میں جھنڈا ہی لگا دیا جائے گا،اور جھنڈا یہ تودورسے نظرآنے والی چیز ہے،جس کا مطلب یہ ہوا کہ دورسے دیکھ کر ہی لوگ کہنا شروع کردیں گے کہ دنیا میں یہ شخص غدار اور فراڈی تھا،اس حدیث کے تحت حافظ صلاح الدین یوسفؒ ریاض الصالحین میں لکھتے ہیں کہ عربوں میں رواج تھا کہ وہ بدعہدی کرنے والوں کے لئے بازاروں میں جھنڈے گاڑ دیا کرتے تھے،تاکہ وہ بدنام اور ذلیل ہو،اسی رواج کے مطابق اللہ نے ان کی اخروی سزا کا تذکرہ کیا تاکہ اس جرم اور اس کی سزا کی نوعیت لوگ سمجھ سکیں۔
میرے دوستو!حدیث شریف میں دوسرے نمبر پراس بدبخت کا تذکرہ ہے جو کسی آزاد انسان کی تسکری کرتاہے یعنی اس کو بیچ دیتاہے جیسا کہ ہم اورآپ دیکھتے ہیں کہ غنڈے وموالی لوگ بچوں اور لڑکیوں کو اغوا کرکے بیچ دیتے ہیں تو اس طرح کے جتنے بھی لوگ ہوں گے ایسے لوگوں کو کل بروز قیامت دردناک عذاب سے دوچارکیا جائے گا اور سب سے آخر میں حدیث شریف کے اندر جس بدبخت کا تذکرہ ہے ،اس کو ذرا غور سے سنئے ،کل بروزقیامت جس انسان کے طرف سے اللہ رب العالمین مدعی بنے گا ،وہ غریب مزدور ہوگا جس کو کسی نے مزدوری پر رکھا ،دن سارا کام بھی کرا لیا مگر اس کی مزدوری نہیں دی،اللہ کی پناہ!آج یہ بیماری بھی سماج ومعاشرے کے اندر بہت ہی زیادہ عروج پر ہے کہ لوگ مزدور سے مزدوری توکرا لیتے ہیں مگر جب اجرت دینے کی بات آتی ہے تو ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں،یا تووقت پر اجرت دیتے ہی نہیں ہیں یاپھرجتنا معاہدہ ہوارہتاہے اس سے مکر جاتے ہیں،اورمزدور کو ڈرا دھمکاکر یہ کہتے ہیں کہ لینا ہے تولو نہیں تو یہ بھی نہیں دوں گا،اورکتنے لوگ توایسے ہیں جو مزدور کو اجرت ہی نہیں دیتے ہیں جبکہ جناب محمدعربیﷺ کا یہ فرمان ہے کہ ’’ أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ ‘‘ مزدور کو مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے پہلے دے دو۔(ابن ماجہ:2443،اسنادہ صحیح)سنا آپ نے کہ آپﷺ کیا حکم دیا ہے کہ مزدور کی مزدوری فوراً دے دیا کرو مگر لوگ مزدوری دینے میں ٹال مٹول سے کام لیتےہیں تو جولوگ بھی یہ بری حرکت کرتے ہیں وہ لوگ سن لیں کہ آج اس غریب مزدور کا تو کوئی نہیں ہے،وہ تو لاچار ہے،مجبور ہے مگر کل بروز قیامت اس کے طرف سے اللہ خود مدعی بن جائے گا،اور جس کے خلاف اللہ مدعی ہوگا سمجھ لو اس کی ٹھکانہ سوائے جہنم کے او رکچھ نہیں،اس لئے اے لوگو! مزدور کو ہمیشہ اس کی پوری مزدوری دے دیا کرو،ورنہ آخرت میں تمہاری ذلت ورسوائی یقینی ہے۔
(5)قیامت کے دن اللہ کی نظر رحمت سے محروم رہ جانے والے تین اور بدنصیب:
میرے بھائیواوربہنو!قیامت کے دن جن تین قسم کے بدنصیبوں سے اللہ رب العزت بات نہیں کرے گا اس کے تحت اب جو حدیث میں سنانے جارہاہوں اس کو بغورسماعت فرمائیے کیونکہ اس حدیث کے اندرجن تین باتوں کا تذکرہ ہے ،وہ آج سماج ومعاشرے کے اندر بہت ہی عام ہے،یہ تینوں باتیں کبیرہ گناہ ہیں مگر لوگ اس کو معمولی سمجھتے ہیں،آئیے حدیث سنتے ہیں کہ ایسے کون سے تین بدبخت وبدنصیب ہیں جن سے اللہ رب العالمین کل بروز قیامت بات نہیں کرے گا،سیدنا ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘کہ تین قسم کے ایسے بدبخت لوگ ہیں جن کی طرف کل بروز قیامت اللہ رب العالمین دیکھے گا بھی نہیں،نمبر ایک ’’ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ ‘‘ والدین کا نافرمان،اورنمبر دو’’ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ ‘‘مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورت،اور نمبر تین ’’ وَالدَّيُّوثُ ‘‘دیوث یعنی بے غیرت انسان۔(نسائی:2562،الصحیحۃ:674)اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ ثلاثةٌ لا يَنظرُ اللهُ إليهم يومَ القيامةِ ‘‘ تین قسم کےایسے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ رب العالمین نظر رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں،نمبر ایک ’’ العاقُّ لوالديهِ ‘‘ والدین کا نافرمان،اور نمبر دو ’’ ومُدْمِنُ الخَمرِ ‘‘ ہمیشہ شراب پینے والا،اور نمبر تین’’ والمنانُ عطاءهُ ‘‘ احسان جتلانے والا۔(الصحیحۃ:1397)
(أ) والدین کا نافرمان:
میرے دوستو!جن بدبختوں کی طرف اللہ رب العالمین کل بروز قیامت نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا وہ انسان ہےجو اپنے والدین کا نافرمان ہوگا،جو اپنے والدین کا دل دکھانے والا ہوگا،جواپنے والدین کو ستانے والا ہوگا،تو جولوگ بھی اپنے اپنے والدین کو تکلیف دیتے ہیں ایسے لوگ یہ سن لیں اور جان لیں کہ ماں باپ کو تکلیف دینے والا ،ستانے والا،رلانے والا اپنی موت سے پہلے ہی جیتے جی اس کی سزا پائے گا اور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ جناب محمدعربیﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ كُلُّ ذُنُوبٍ يُؤَخِّرُ اللَّهُ مِنْهَا مَا شَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‘‘ تمام گناہوں میں سے جس گناہ کی سزاکو چاہے اللہ تعالی اس کو قیامت تک کے لئے مؤخر کردے ،’’ إِلَّا الْبَغْيَ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ أَوْ قَطِيعَةَ الرَّحِمِ ‘‘سوائے ظلم وسرکشی اوروالدین کی نافرمانی یاقطع رحمی کے،’’ يُعَجِّلُ لِصَاحِبِهَا فِي الدُّنْيَا قَبْلَ الْمَوْتِ ‘‘ان تینوں گناہوں کے مرتکب کو اللہ رب العالمین دنیا میں ہی اس کی موت سے پہلے پہلےبہت جلد سزا دیتاہے۔(الادب المفرد:591،الصحیحۃ:1120،صحیح الجامع للألبانیؒ:137،2810)اے نوجوانو!سنا آپ نے کہ ماں باپ کو تکلیف دینے والا جیتے جی سزاسے دوچار کیا جاتاہےاس لئے میرے نوجوانوں!یہ نصیحت یادرکھنا کہ والدین کی خدمت فرض بھی ہے اور قرض بھی ہے،اگر والدین کی خدمت کروگے اور ان کو خوش رکھوگے تو سیدھے جنت میں جاؤگے اور اگر آج دنیا میں تم ان کو رلاؤگے تو تم خود بھی دنیا میں رلائے جاؤگے اور آخرت میں تو براانجام ہوگا ہی،اس لئےاے نوجوانوں !اپنےماں باپ کو خوش رکھا کرو ورنہ دنیا وآخرت میں رب کی ناراضگی کے شکار ہوجاؤگے۔
(ب) مردوں کی مشابہت اخیتار کرنے والی عورتیں:
میرے دوستو!کل بروز قیامت جن کی طرف اللہ رب العالمین نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا اس میں ایک وہ عورت بھی ہوگی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں،اللہ کی پناہ!میں کیا بتاؤں آپ کو کہ آج سماج ومعاشرے کے اندر اس تعلق سے یہ لڑکیاں اور یہ عورتیں کیا کیا غل کھلارہی ہیں،عورتیں مردوں کی طرح لباس پہننے لگی ہیں،عورتیں مردوں کی طرح اپنے بالوں کو کٹ کرنے لگی ہیں،اور مرد بھی کچھ پیچھے نہیں ہیں ،عورتوں نے مردانہ حلیہ اختیار کرلیا ہے اور مردوں نے زنانہ حلیہ اختیار کرلیا ہے،آج کا نوجوان لڑکیوں کی طرح بالیاں پہن لیتاہے تو کوئی اپنا کان چھیدا لیتاہے تو کوئی عورتوں کی طرح گلے میں ہار ڈال لیتاہے تو کوئی عورتوں کی طرح ٹخنوں سے نیچے اپنا لباس پہنتا ہے الغرض عورتیں مرد بن رہی ہیں اور مرد یہ عورتیں بن رہے ہیں تو جولوگ بھی ایسی حرکتیں کررہے ہیں وہ لوگ یہ سن لیں اور جان لیں ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنتیں برستی ہیں جیسا کہ سیدنا ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ ‘‘کہ آپﷺ نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر اور مردوں سے مشابہت اختیارکرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔(بخاری:5885،ابن ماجہ:1904)
(ج) دیوث:
جن بدبختوں کی طرف اللہ رب العالمین نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا ان میں سے ایک بدنصیب اور بدبخت دیوث ہے،دیوث بے حیا اور بے غیرت انسان کو کہتے ہیں ،اہل لغت دیوث کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ دیوث وہ انسان ہے جو اپنے گھر میں بے حیائی کو دیکھے مگر اس کو برا نہ سمجھے،او ربعض اہل علم نے کہا کہ دیوث وہ بے غیرت انسان ہے جسے اپنے گھروالوں کی بے حیائی پر غیرت نہ آئے،(الصحیحۃ،اردو:1/96)اورآج کل سماج ومعاشرے کے اندر تو یہی ہورہاہے کہ ایک انسان کو معلوم ہے کہ اس کے گھرمیں اور اس کے گھروالوں میں یہ یہ برائیاں موجود ہے مگر پھر بھی وہ انسان ان کو اس سے منع نہیں کررہاہے،میں کیا بتاؤں آپ کو آج سماج ومعاشرے کے اندر لوگوں نے بے شرمی کی تمام حدوں کو پار کردیاہے،دیکھا یہ جارہاہے کہ والدین خود ہی اپنی اپنی بیٹیوں کو لڑکوں سے پیار کرنے اور پھر ان کے ساتھ گھل چھڑے اڑانے میں مدد کررہے ہیں۔استغفراللہ۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین خود ہی اپنی اپنی بیٹیوں کو جینس ،ٹی شرٹ خرید کر لا کردیتے ہیں کہ لو پہنو!تو اس طرح کے جتنے بھی لوگ ہیں وہ سب دیوث ہیں،جودنیا وآخرت میں عذاب الہی سے دوچار کئے جائیں گے۔
(د) شرابی:
جن بدبختوں کی طرف اللہ رب العالمین نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا ان میں سے ایک اوربدنصیب وبدبخت وہ انسان ہے جو شرابی ہے،آج اس شراب نے نہ جانےکتنے خاندانوں اور کتنے گھروں کو تباہ وبرباد کردیا،اس شراب سے جہاں دنیا میں بے شمار بیماریاں ہوتی ہیں وہیں پر شرابی انسان کی آخرت بھی تباہ وبرباد ہے ،جولوگ شراب پیتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں کتنی سخت وعید آپﷺ نے بیان کی ہے ذرا سنئے،سيدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ ‘‘اگرہمیشہ شراب پینے والا اسی عادت پر مرجاتاہے تو بت کی عبادت کرنے والے کی حیثیت سے اللہ تعالی کو ملے گا۔(الصحیحۃ:677)تو میرے دوستو!میدان محشر میں اللہ کی نظر رحمت سے محروم رہ جانے اور اللہ کی غضب کے شکار ہونےوالوں کے بارے میں آپ نے بہت کچھ سنا اور جانامگر صرف سننے اور جاننے سے کچھ بھی فائدہ ہونے والا نہیں ہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے آپ کوہراس عمل اور اس حرکت سے بچائے رکھیں جن سے یہ حرماں نصیبی ہوسکتی ہے،ذرا سوچئے کہ ہمارے گندے کپڑوں سے کیسی بدبو آتی رہتی ہے اور ہم گندے کپڑوں میں انسانوں کا سامنا کرنے سے جی چراتے اورکتراتے رہتے ہیں تو پھر ہم اپنے رب کوگندے کردار واعمال کے ساتھ کیا منہ دکھائیں گے؟؟سوچئے!غوروفکرکیجئے؟اور اپنے اعمال وکردار کو نیک اعمال کے ذریعے خوبصورت اور خوشبودار کیجئے۔
اب آخر میں اللہ رب العالمین سے دعاگوہوں کہ اے بارالہ تو ہمیں قیامت کے دن اپنی رحمتیں عطافرمانا اور ہرطرح کی بدبختی وبدنصیبی اور حرماں نصیبی سے تو ہم سب کو محفوظ رکھنا۔آمین ثم آمین یارب العالمین۔
مرتب
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
اٹیچمنٹس
-
1 MB مناظر: 3