حافظ محمد سعید کے لیے احترام پر مبنی طرز تخاطب اختیار کرنا بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کو مہنگا پڑگیا۔ پاکستانی ہم منصب رحمٰن ملک سے مذاکرات کے بارے میں سشیل کمار شندے نے پیر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو بریفنگ دی۔ لوک سبھا اور راجہ سبھا میں اپنے بیان کے دوران شندے نے حافظ محمد سعید کے لیے انگریزی میں ’’مسٹر‘‘ اور ہندی میں ’’شری‘‘ کے الفاظ استعمال کئے۔ اپوزیشن ارکان نے اس پر ہنگامہ کھڑا کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حافظ سعید پر بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی اور ان میں مرکزی کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں۔ ایسے میں اُنہیں احترام کے ساتھ پکارا نہیں جاسکتا۔ بعض ارکان نے کہا کہ شندے نے حافظ سعید کا ذکر مسٹر اور شری کے سابقے کے ساتھ کرکے مرعوبیت کا تاثر دیا ہے۔ بھارت کے سرکردہ روزنامے ٹائمز آف انڈیا پر قارئین نے شندے کے بیان کے حوالےسے سخت اہانت آمیز ریمارکس دیئے ہیں۔ کسی نے شندے کو کانگریس کا پیدائشی ٹوئٹر قرار دیا، کسی نے یہ بھی لکھا کہ پاکستانی وزیر داخلہ ہمیں بے لباس کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور شندے خود ہی اپنے کپڑے اتارنے کو بے تاب ہو رہے ہیں۔ ایک صاحب نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ دامادوں کی بے عزتی نہیں کی جاسکتی۔
بشکریہ