• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جامعہ سلفیہ فیصل آباد ، ایک تعارف

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964

تاریخ تاسیس
اپریل 1955 کو جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا سنگ بنیاد رکھا۔
محل وقوع
جامعہ سلفیہ شیخوپورہ روڈ محلہ حاجی آباد ( فیصل آباد ، پاکستان ) میں واقع ہے۔اس کا کل رقبہ ساڑھے چار ایکڑ پر مشتمل ہے۔ ساڑھےتین ایکڑ پر جامع مسجد، دفاتر، کلاس رومز ، طلبہ کی رہائش گاہیں،لائبریری ہال، فیصل ہال ، طعام گاہ ، مہمان خانہ ڈسپنسری ، درجہ تخصص کی عمارت بنی ہوئی ہیں۔ جبکہ ایک ایکڑ رقبہ خالی ہے۔
مؤ سسین جامعہ

مولانا سید محمد داود غز نوی ، شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ، قدوة المساکین میاں محمد باقر، ، امیرالمجاہدین مولانا محمد عبداللہ اور حکیم نور الدین مرحوم ومغفور شامل ہیں۔
مولانا سید محمد داود غزنوی رحمہ اللہ
مولانا سید محمد داود غزنوی 1895 کو امرتسر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی امام سید عبدالجبار غزنوی اور مولانا سید عبدالاول غزنوی سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی جا کر مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری و دیگر اساتذہ سے حصول علم کیا۔قیام پاکستان کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی بنیاد رکھی۔ اور علماءاہل حدیث کو ا یک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں مثالی کردار ادا کیا۔ آپ کی خصوصی کاوش سے قرار داد مقاصد پر تمام مکاتب فکر کے علماءکا اتفاق ہوا۔ پاکستان کی مختلف
سیاسی اور دینی تحریکوں میںبھر پور حصہ لیا۔ خصوصاً 1953 کی قادیانی تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان اہل حدیث کانفرنس کی بنیاد رکھی ۔ جس کے لیے لاہور، سیالکوٹ ، راولپنڈی میں عالی شان کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ آپ کی بلند تر فکر کے نتیجہ میں جامعہ سلفیہ کا قیام ممکن ہوا۔ آپ اس کے پہلے رئیس مقرر ہوئے۔ جامعہ سلفیہ کی تعمیر وترقی میں دن رات کا م کیا۔ اور جماعتی زندگی میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا کیا۔ آپ نے علمی اور سیاسی اعتبار سے بھر پور زندگی بسر کی۔ آپ 16 دسمبر 1963 بروز پیر حرکت قلب بند ہونے سے رحلت فرما گئے۔ اور لاہور میں مدفون ہوئے۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ تعالی
مولانا محمد اسماعیل سلفی موضع ڈھونیکے تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ میں 1897 کو پیدا ہوئے۔آپ کے والد مولانا محمد ابراہیم نہایت صالح اورمتقی بزرگ تھے۔ اپنے بیٹے کی بہترین تربیت کی ۔ ابتدائی تعلیم خود دی۔ وزیرآباد میں مولانا حافظ عبدالمنان رحمہ اللہ کی خدمت میں رہ کر استفادہ کیا۔ اس کے بعد مدرسہ غزنویہ امرتسر تشریف لے گئے۔ اور اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ دہلی کے معروف علماءسے باقاعدہ سند فراغت حاصل کی۔ اور 1921 کو واپس گوجرانوالہ آکر مرکزی جامع مسجداہل حدیث میں خطابت اور درس وتدریس میں مصروف ہوئے۔ آپ نے بھی تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ قیام پاکستان کے بعد مرکزی جمعت کی تاسیس میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اہل حدیث علماءاور عوام کو منظم کرنے میں آپ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ خصوصاً گوجرانوالہ میں کتاب و سنت کی تعلیم کو عام کرنے اور علماءکی جماعت تیار کرنے میں مثالی کام سر انجام دیا۔جامعہ سلفیہ کی تاسیس میں فکری رہنمائی اور علمی اقدام اٹھائے۔ اس کی تعمیروترقی میں ہر ممکن کوشش کی۔ اور تمام بڑےشہروں سے تعاون حاصل کیا۔ آپ 20 فروری 1968 کو سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اور گوجرانوالہ کی تاریخ میں آپ کا جنازہ سب سے بڑا تھا۔ اور بڑے قبرستان میں مدفون ہوئے۔
میاں محمد باقر رحمہ اللہ
میاں محمدباقر 1895 موضع جھوک دادو چک نمبر 427 گ۔ب تحصیل تاندلیانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے حضرت حافظ عبدالمنان وزیر آبادی سے تحصیل علم کیا۔ اور حضرت امام عبدالجبار غزنوی سے خصوصی روحانی فیض پایا۔ علم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کا بہترین نمونہ تھے۔ مستجاب الدعوات تھے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مستغرق رہتے۔ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تعلق کا یہ عالم تھا۔ کہ ہر کام سنت نبوی کے مطابق انجام دیتے ۔ قرآن وحدیث کی تدریس کا بے حدشوق تھا۔ اور پورے خلوص کے ساتھ یہ فریضہ سر انجام دیتے۔ اپنے گاوں میں مدرسہ خادم القرآن والحدیث قائم کیا۔ جہاں طلبہ کے ساتھ طالبات کی تعلیم کا بھی شاندار اہتما م تھا۔ یہ طالبات کی تعلیم کا اولین مدرسہ تھا۔ اور جہاں کی فضلاء خواتین نے ملک بھر تعلیمی ادارے قائم کئے۔ ان کی تعلیمی ، دعوتی خدمات کے نتیجے میں نامور علماء حلقہ بگوش اہل حدیث ہوئے۔ جن میں قابل ذکر مولانا محمد صدیق بلوچ اورمولانا علی محمد حنیف السلفی ہیں۔ آپ نے 11 جون 1977 کو رحلت فرمائی۔ اور آبائی گاوں میں مدفون ہوئے۔
مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ
آپ وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وزیر آباد میں حاصل کی۔ آغاز جوانی میں مولانا فضل الہی کی جہادی سرگرمیوں سے متاثر ہو کر چمر کند کی جامعت مجاہدین سے وابستہ ہو گئے تھے۔ آپ کا اصل نام سلطان تھا۔ لیکن عرفی نام عبداللہ رکھا گیا تھا۔ جو بعد میں صوفی عبداللہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ 1923 کے قریب آپ چک 493 اوڈاں والا میں تشریف لے آئے۔ 1932 میں باقاعدہ مدرسہ تعلیم الاسلا م کے نام سے قائم کیا۔ جہاں سے نامور علماءنے فراغت حاصل کی۔ بعد میں یہ ادارہ ماموں کانجن منتقل کر دیا گیا۔ جس کے لیے وسیع اراضی خرید لی گئی۔ اور نہایت شاندار عمارت تعمیر کی گئی۔ آپ بہت صالح متقی اور ذکر وفکر کرنے والے بزرگ تھے۔ آپ کے مریدین کا وسیع حلقہ تھا۔ سالانہ کانفرنس کے موقعہ پر اس کا بخوبی اندازہ ہو تا تھا۔ آپ نے 28 اپریل 1975 کو ماموں کانجن میں رحلت فرمائی۔ اور اپنے تعلیمی ادارے کے احاطے میں مدفون ہوئے۔
حکیم نورالدین رحمہ اللہ
آپ 1858 کے قریب جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ جب لائل پور (فیصل آباد) کی تعمیر ہوئی۔ تو آپ سرکاری خطیب کی حیثیت سے یہاں متعین ہوئے۔ آپ ایک ماہر طبیب ہونے کے ساتھ پختہ عالم دین بھی تھے۔ اور کتاب وسنت کے علوم سے بہرہ مند تھے۔ جس کی تبلیغ کرتے تھے۔ آپ بہت اچھے منتظم تھے۔ مونسپل کمیٹی میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر آپ کو لائل پور کےنواح چک جھمرہ میں دو مربع اراضی دی گئی۔آپ نے سیاست میں بھی قدم رکھا۔ اور تحریک خلافت کی حمایت کرنے پر جیل یاترا کی۔ آپ پہلے اہل حدیث ہیں۔ جنہوں نےفیصل آباد میں انجمن اہل حدیث کی بنیاد رکھی۔ اور امین پور بازار کی جامع مسجد اہل حدیث کی تعمیر میں آپ کا نمایاں حصہ ہے۔آپ تمام مکاتب فکر کے ہاں یکساں مقبول تھے۔ تحریک پاکستان میں بھی بھر پور حصہ لیا۔ تمام نامور علماءجب لائل پورتشریف لاتے۔ تو آپ ان کی میزبانی کا شرف حاصل کرتے۔ بہت مہمان نواز تھے آپ نے باوقار زندگی گزاری ۔ اور ایک سودو سال عمر پاکر 11 جون 1960 کو رحلت فرماگئے۔
جامعہ سلفیہ کے صدر وناظمین

جامعہ سلفیہ کے قیام کے ساتھ ہی ایک جامعہ سلفیہ کمیٹی بنا دی گئی تھی۔ مولانا محمد داود غزنوی جس کے پہلے صدر مقررہوئے۔جب کہ مولانا محمد اسمعیل سلفی ناظم مقرر ہوئے۔ کمیٹی کے باقی ارکان درج ذیل تھے۔مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا محمد اسحاق چیمہ، مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ، میاں فضل حق ، مولانا محمد صدیق، حاجی محمد اسحاق حنیف، مولانا عبیداللہ احرار اور میاں عبدالمجیدتھے۔ مولانا غزنوی بخیر وخوبی اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔جماعتی مصروفیات اور بعض دیگر عوارض کی وجہ سے آپ نے ازخود یہ منصب میاں فضل حق کے سپرد کر دیا۔
میاں فضل حق رحمہ اللہ
آپ 1961 سے لیکر اپنی رحلت 13 جنوری 1996 تک جامعہ سلفیہ کے صدر رہے۔ میاں فضل حق 1920 کو موضع رعیہ ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میاں حسن محمد علاقے کے متمول لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ اور علماء سے محبت کرتے تھے۔ میاں فضل حق نے ابتدائی تعلیم ویرووال میں شیخ الحدیث مولانا عبداللہ سے حاصل کی۔ اور مشکوة شریف تک کتابیں پڑھیں ۔ آپ کو دین سے گہرا شفف تھا۔ عملی زندگی میں کتاب وسنت پر سختی سے کار بند تھے۔ دینی حمیت وغیرت آپ کا تھا۔ جہاد سے گہری دلچسپی تھی اور یہ آپ کا پسندیدہ موضوع ہوتا تھا۔ تحریکی ذہن تھا۔ جماعتی زندگی کو بڑی اہمیت دیتےتھے۔ قیام پاکستان کے بعد حافظ آباد میں موضوع ہوتا تھا۔ تحریکی ذہن تھا۔ جماعتی زندگی کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد حافظ آباد میں رہائش اختیار کی۔ جامع مسجد مبارک اور مدرسہ دارالحدیث کی بنیاد رکھی۔t۔ علماءاور صلحاءکی محبت اختیار کرتے تھے۔ اسی وجہ سے مولانا سید محمد داود غزنوی اور شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی کا نظر انتخاب ٹھہرے۔ ان بزرگوں کی قربت سے آپ کے مزاج میں بہت تبدیلی آئی۔ ذکر وفکر ، تلاوت قرآن کریم اور شب بیداری کی عادت انبزرگوں سے ورثے میں ملی۔ اور آخر دم تک اس پر قائم رہے۔
میاں نعیم الرحمن طاہررحمہ اللہ
میاں فضل حق کی رحلت کے بعد جامعہ سلفیہ ٹرسٹ نے بالاتفاق ان کے صاحبزادے میاں نعیم الرحمن کو ٹرسٹ کا صدر کا مقرر کیا۔ میاں نعیم الرحمن 1956 کو حافظ آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم طارق ماڈل سکول میں حاصل کی۔ جب کہ دینی تعلیم جامع مسجد مبارک میں معروف عالم دین مولانا حکیم محمد ابراہیم سے حاصل کی۔ آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ اور اپنے والد کے ہمراہ کاروبار میں مصروف ہو گئے۔ اپنے والد کی وجہ سے علماءکرام کی محبت میں بیٹھنے اور استفادہ کا موقعہ ملا۔ بلکہ اپنے گھر میں تمام علماءاور سیاسی عمائدین کی میزبانی خود کرتے ۔ جماعتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے۔ نیز جامعہ سلفیہ کے معلامات کو حل کرنے میں پیش پیش رہتے۔ آپ کے دور صدارت میں جامعہ سلفیہ میں نمایاں تعمیری کام ہوا۔ خستہ حال عمارتوں کو گرا کر نئی جدید عمارتیں تعمیر کی گئی۔ جن میں طلبہ کے لیے ہاسٹل ، کلاس رومز اور دفاتر شامل ہیں۔ جب کہ اب جامع مسجد کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ آپ نے جامعہ سلفیہ سے وابستہ تمام بہی خواہوں معاونین علماءاور مشائخ کے ساتھ نہ صرف مسلسل رابطہ رکھا۔ بلکہ اس میں مزید اضافہ کیا۔ جامعہ کے نظم و نسق کو بہتر بنانے میں آپ نے گہری دلچسپی لی۔ اور ماہانہ اجلاس منعقد کیے۔ اپنی علالت کے باوجود اجلاس میں شریک ہوتے رہے۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
ناظمین تعلیمات

مولانا محی الدین احمد قصوری
جامعہ سلفیہ کے پہلے ناظم تعلیمات مولانا محی الدین احمد قصوری تھے۔ آپ کا انتخاب 1956 کو گوجرانوالہ کانفرنس کے موقعہ پر کیا گیا تھا۔ مولانا اپریل 1889 کو قصور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا عبدالقادر قصوری اپنے وقت کے ممتاز عالم دین اور معروف سیاسی رہنما تھے۔ مولانا محی الدین قصوری نے ایک عرصہ مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ بھی گزارا۔ بہت فاضل اور فہمیدہ تھے۔ آپ نے 82 سال کی عمر میں 24 جنوری 1971 کو لاہور میں رحلت فرمائی۔ اور قصور میں دفن ہوئے۔
مولانا محمد اسمعیل سلفی
آپ مختصر مدت کے لیے ناظم تعلیمات منتخب ہوئے۔ کیونکہ آپ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلی بھی تھے۔ جس کی وجہ سے وہ خود اس عہدے سبکدوش ہوگئے۔
مولانا عبداللہ ثانی
آپ امرتسر میں پیداہوئے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد امرتسر کی مسجد اہل حدیث میں خطیب مقرر ہوئے۔ بہت اچھی گفتگو اور وعظ کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جڑانوالہ منتقل ہو گئے۔ اور مرکزی جامع مسجد غلہ منڈی میں خطیب مقرر ہوئے۔ ساری زندگی اسی مسجد سے وابستہ رہے۔ تمام مکاتب فکر کے لوگ آپ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ جامعہ سلفیہ کے معاملات میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ خصوصاً امتحانات کے انعقاد کے وقت جامعہ میں قیام کرتے تھے۔ آپ نے 7 دسمبر 1983 کو لاہور میں انتقال فرمایا۔
جامعہ سلفیہ کے ناظم عمومی حضرت مولانا عبیداللہ احرار
مولانا عبیداللہ احرار 1900 کے لگ بھگ فیروز پور میں پید اہوئے۔ آپ کا خاندان شروع ہی سے دیندار اور شریعت پر سختی سے کاربند تھا۔ ایسے ماحول میں تعلیم وتربیت کا آغاز ہوا۔ قیام پاکستان تک ہندوستان میں کئی تحریکیں چلیں۔ ایسے حالات میں آپ پر بھی ان کا گہرا اثر ہوا۔ اور خصوصاً مجلس احرار کی فکراورانداز سے بہت متاثر ہوئے۔ اور علمی طور پر مجلس احرارمیں شامل ہوئے۔قیام پاکستان کے بعد لائل پور (فیصل آباد) منتقل ہوئے۔ یہاں آپ کی دینی وسیاسی وابستگی مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ساتھ ہوئی۔ اورتادم مرگ ان کی مجلس عاملہ کے رکن رہے تھے۔ آپکو اکابرین کا بے پناہ اعتماد حاصل تھا۔ خصوصاً مولانا سید محمد داود غزنوی ، مولانا محمد اسماعیل سلفی آپ سے آپ گہرا تعلق رکھتے تھے۔جامعہ سلفیہ کے بانی رکن تھے۔ اس کے قیام میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ چونکہ آپ لائل پور ( فیصل آباد ) میں رہائش پذیر تھے۔ لہذا جامعہ سلفیہ کی تعمیر کی نگرانی آپ کےسپرد کی گئی۔ آپ نے دل وجان سے یہ فریضہ سر انجام دیا۔ خوب بھاگ دوڑ کی۔ دن رات محنت کی لوگوں سے تعاون اکٹھا کیا۔تمام امور کی خود نگرانی فرماتے۔ زیادہ وقت جامعہ میں گزارتے۔ جامعہ کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اوران کے تذکرے کے بغیر جامعہ کا ذکر نا مکمل ہے۔جن حضرات نے ان کو دیکھا اور ان کے کام سے اگاہ ہیں۔ آج بھی بہت اچھے لفظوں میں انہیں یاد کرتے ہیں۔۔مولانا ہردلعزیز تھے۔ تمام مکاتب فکر کے لوگ ان کی بڑی قدر کرتے تھے۔ اور تمام طبقوں میں یکساں مقبول تھے۔ مولانا نےاپنی زندگی دینی کاموں کے لیے وقف کر کر رکھی تھی۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ساتھ گہری وابستگی آخر وقت تک قائم رہی۔ جب کہ جامعہ سلفیہ کی تعمیر و ترقی میں ان کا خون پسینہ شامل ہے۔ خشت اول سے لیکر- پہلے بلاک کی تعمیر تک مسلسل جامعہ سے وابستہ رہے۔ مولانا نے بھر پور زندگی گزار ی۔ اور آخر کار 20 فروری 1975 کو رحلت فرمائی۔ فیصل آباد میں نمازجنازہ مولانا عبداللہ(جھال والے) نے پڑھائی۔ اور بڑے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ اللھم اغفرلہ۔۔۔۔۔حافظ محمد اسمعیل ذبیح
آپ جامعہ سلفیہ کے ناظم تعلیمات مقرر ہوئے۔ بڑی دلچسپی سے کام کی نگرانی کرتے تھے۔ آپ بہت مہمان نواز تھے۔ بہترین مقرر تھے۔ خوش آوازاور خوش اطوار تھے۔ مولانا محمد اسمعیل سلفی کے خاص شاگرد تھے۔ مدرسہ رحمانیہ دہلی میں بھی کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے مغل پورہ میں خطیب مقرر ہوئے۔ اس کے بعد راولپنڈی کی مرکزی جامع مسجد اہل حدیث میں خطیب مقرر ہوئے۔ اور اپنی وفات تک یہ فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ جامعہ سلفیہ کے لیے آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔آپ نے 2 مئی 1975 کو راولپنڈی میں وفات پائی۔ اور پنڈی میں دفن ہوئے۔
حافظ محمدیحییٰ میر محمدی
سید حبیب الرحمن شاہ بخاری
مولانا سید حبیب الرحمن بخاری 1943 کو امکھو ضلع فروز پور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد آپ کے اہل خانہ راجہ جنگ ضلع قصور میں رہے۔ یہی آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد دارالعلوم تقویة الاسلام لاہور ، جامعہ اہل حدیث دال گراں چوکمیں دینی تعلیم مکمل کی۔ آپ مولانا حافظ عبداللہ روپڑی کے تلامذہ میں سے ہیں۔ فراغت کے بعد راولپنڈی موھن پورہ کی جامع مسجد میں بطور خطیب مقرر ہوئے۔ اور تادم مرگ اس کی خطابت کی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔ راولپنڈی میں مسلک اہل حدیث کی ترویج میں ان کا نمایاں حصہ ہے۔ مدرسہ تدریس القرآن ، دارالحدیث راولپنڈی کی نظامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ بعد میں یہ ادارہ اسلام آباد جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے نام سے قائم ہوا۔ جس کی زمین کے حصول میں مولانا معین الدین لکھوی اورمیاں فضل حق کا کردار نمایاں ہے۔مرکزی جمعیت اہل حدیث کے نمایاں رہنماوں میں شمار ہوتے تھے۔ مرکزی جمعیت کے ناظم تعلیمات رہے۔ آپ نے 18 اپریل 2000 کو رحلت فرمائی۔ اور راولپنڈی میں دفن ہوئے۔
مولانا محمد صدیق
آپ بھی جامعہ سلفیہ کے ناظم تعلیمات رہے ہیں۔ ان کا تفصیلی تذکرہ اساتذہ کرام میں آچکا ہے۔
جامعہ سلفیہ کے مدیران تعلیم

مولانا محمد اسحاق چیمہ صاحب مرحوم
جامعہ سلفیہ کے پہلے مدیر التعلیم مولانا محمد اسحاق چیمہ تھے۔ مولانا محمد اسحاق چیمہ صاحب کے آباو اجداد سمٹریال کےقریب گاوں ملکھاں والہ سے لائل پور ( فیصل آباد ) کے قریب چک نمبر 262 میں آکر آباد ہو گئے ۔ ان کی ولادت 15 مئی1921 کو ملکھاں والا ضلع لائل پور میں ہی ہوئی۔ مولانا چیمہ صاحب نے ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے متعدد جید علماءکرام سے استفادہ کیا۔ اور باقاعدہ سند فراغت حاصل کی۔ آپ شروع میں ہی بہت ذہین اور ہوشیارتھے۔ مجلسی گفتگو کے شہسوار تھے۔ معاملہ فہم اور قوت فیصلہ کے مالک تھے۔ فوراً بات کی طے کو پہنچ جاتے۔ اور دوسروں کی بات کا جواب ایسے سلیقے سے دیتے تھے۔ کہ جس میں کام بھی بن جاتا اور بات کرنے والا محسوس بھی نہ کرتا ۔آپ ایک تک عرصہ تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ بہت کامیاب مدرس تھے۔ آپ کے شاگردوں کا بڑا وسیع حلقہ تھا۔ کاروبارمیں بھی وقت دیتے تھے۔ لیکن جماعتی ذمہ داریوں سے کبھی غافل نہ ہوئے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مجلس عاملہ نے جامعہ سلفیہ کے لیے آپ کا انتخاب کیا تھا۔ جامعہ سلفیہ کے ابتدائی دور میں آپ نے احباب کے ساتھ ملکر جامعہ کی تعمیر وترقی کےلیے بہت محنت کی۔ اور طلبہ کے لیے رہائشی کمرے تعمیر کیے۔ آپ بلاناغہ جامعہ میں تشریف لاتے۔ بعض عربی ادب کی کتابیں پڑھاتے۔ اور باقی وقت تعلیمی وانتظامی امور سر انجام دیتے تھے۔مولانا محمد اسحاق چیمہ مرحوم نے بہت متحرک زندگی گزاری ۔ ان کی زندگی کا یادگار کام مرکزی جمعیت اہلحدیث کے دو دھڑوں میں صلح کروانا ہے۔ جس میں ایک طرف ان کی ذات تھی۔ جنہوں نےعلامہ احسان الہی ظہیر گروپ کی نمائندگی کی۔ جب کہ دوسری طرف لکھوی گروپ کی نمائندگی میاں فضل حق نے کی تھی۔ اور ان دونوں شخصیات کی مساعی سے آج تمام اہل حدیث مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مضبوط پلیٹ فارم پر جمع ہےں۔ جو اہل حدیث حضرات کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔ مولانا محمد اسحاق چیمہ نے 23 مارچ 1993 بمطابق 29 رمضان المبار ک نماز تراویح کے بعد حرکت قلب بند ہونے سے رحلت فرما گئے۔ اور اپنے آبائی گاوں میں دفن ہوئے۔
مولانا ابو حفص عثمانی صاحب مرحوم
مولانا ابو حفص عثمانی 1910 میں موضع داجل ضلع ڈیرہ غازیخاں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی بڑی غربت میں گزاری۔ تعلیم کاآغاز علاقے کے مشہور بزرگ سرداراحمد خاں سے حاصل کی۔ بعد ازاں ملتان جا کر مولانا عبدالتواب ملتانی مرحوم سے درسنظامی کی کتابیں پڑھیں۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی بھی شامل ہیں۔ بہت اچھی گفتگو کرتے تھے۔ وعظ اوردرس دیا کرتے تھے۔ سرکاری ملازمت کے سلسلے میں آپ خوشاب میں تھے۔ کہ میاں فضل حق صاحب سے ملاقات ہو گئی۔انہوں نے جامعہ سلفیہ میں مدیر التعلیم کی خدمت سر انجام دینے پر راضی کر لیا۔ لہذا سرکاری ملازمت کو خیر باد کہا۔ اور جامعہ سلفیہ تشریف لے آئے۔کئی سال تک اس منصب پر خدمت سر انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں واپس ڈیر ہ غازیخاں تشریف لے گئے۔اورمرکزی جامع مسجد اہل حدیث کے خطیب مقرر ہو گئے۔آپ دو مرتبہ جامعہ کے مدیر التعلیم رہے۔دوسری مرتبہ1976 میں جب پروفیسر مولانا عبیدا لرحمن صاحب نے مدیر التعلیم کے منصب سے بوجوہ استعفی دے دیا۔ تو میاں فضل حق مرحوم نے انہیں دوبارہ مدیر التعلیم مقرر کر دیا۔ دوسرے دور میں آپ کافی کمزور ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود انتظامات پر کافی گرفت تھی۔ طلبہ نظم ونسق کی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ لیکن کمزوری اور طبیعت کی خرابی کے باعث آپنے استعفیٰ دے دیا۔ اور واپس اپنے گاوں آڑہ دائرہ دین پناہ چلے گئے۔ اور وہیں 29 مارچ 1982 کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کا جنازہ مولانا فضل کریم نے پڑھایا ۔ اور وہیں دفن ہوئے۔
مولاناپروفیسر عبیدالرحمن صاحب
مولانا پروفیسر عبید الرحمن رحمہ اللہ نے کامونکی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اور اعلی تعلیم مدینہ یونیو رسٹی میں مکمل کی۔ایم اے عربی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ میاں فضل حق مرحوم نے جب 1970 میں مدینہ یونیورسٹی کا دورہ کیا۔ تو آپ کی ملاقات پروفیسر مرحوم سے ہوئی۔ جن کی وساطت سے آپ الشیخ ابن باز رئیس الجامعہ الاسلامیہ سے ملے۔ اور جامعہ سلفیہ کا مدینہ یونیورسٹی سے الحاق (معادلہ ہوا۔ اور انہی کی کوششوں سے الشیخ ابن باز رحمہ اللہ نے جامعہ سلفیہ کے لیے دو اساتذہ کا تقرر فرمایا۔ جس کے لیے میاں فضل حق مرحوم نے حضرت مولانا حافظ ثناءاللہ مدنی اور پروفیسر عبیدالرحمن مدنی کے نام تجویز کیے۔ یہ دنوں عالی مرتبت اساتذہ جامعہ میں تشریف لائے۔ تو ان کی کوششوں سے جامعہ سلفیہ کا نظم ونسق ، نصاب تعلیم اور طریقہ کار تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد عرب اساتذہ کرام تشریف لائے۔ جن کوششوں سے جامعہ کے نصاب میں انقلابی تبدیلیاں کی گئی۔ جن کے اثرات پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں پر ہوئے۔پروفیسر عبیدالرحمن منتظم اورعالی ہمت مدیر تعلیم تھے۔ دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علوم پر بھی مہارت رکھتے تھے۔ خصوصاًعالم اسلام سے باخبر تھے۔ اور مسلمانوں کی زبور حالی پر ہمیشہ دل گرفتہ رہتے تھے۔ اور مسلمانوں کی نشاة ثانیہ کے لیےتحریکی جماعتوں کی حمایت کرتے تھے۔ طلبہ کی بھی فکری اور نظریاتی تربیت کرتے۔ اور عالم اسلام کے ممتاز اسلامی قائدین کے احوال اوران کی تحریکی کتابوں کے مطالعہ پر زور دیتے تھے۔جامعہ سلفیہ کے طلبہ کونظم ونسق اور حاضری کا پابند بنانے میں انہوں نے بڑی محنت کی۔ نظام امتحانات میں تبدیلیاں لائے۔ اور جامعہ کا بیرون ملک تعارف کرانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ آپ بہت مخلص ، محنتی اور دیانتدار تھے۔ جامعہ کی تعمیر وترقی کےلیے فکر مند رہتے تھے۔ 1976 میں جامعہ سے استعفیٰ دے کر لاہور منتقل ہو گئے۔ کافی عرصہ تک پنجاب یونیورسٹی سےوابستہ رہے۔ آپ کی رہائش کا مونکی میں تھی۔ خطبہ جمعہ بھی دیتے حرکت قلب بند ہونے سے رحلت فرما گئے۔ مولانا محمداسلم سلیمی نے آپ کا نمازہ جنازہ پڑھایا ۔ اور کامونکی میں دفن ہوئے۔
مولانا ابوحفص عثمانی رحمہ اللہ
مولانا پروفیسر عبید الرحمن مرھوم کے بعد مولانا ابو حفص عثمانی دوبارہ مدیر تعلیم مقرر ہوئے۔ آپ 1976 سے 1978 تک اس منصب پر رہے۔ ان کی تفصیل پہلے گز ر چکی ہے۔
مولانا حافظ ثناءاللہ مدنی صاحب
مولانا ابو حفص عثمانی مرحوم کے بعد 1978 میں حافظ صاحب حفظہ اللہ مدیر تعلیم مقرر ہوئے۔ آپ نے جامعہ سلفیہ کےنظم ونسق میں توازن پیدا کیا۔ آپ کے عہد میں سب سے زیادہ طلبہ مدینہ یونیورسٹی قبول ہوئے۔ آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پرتوجہ دیتے۔ اور قانون شکنی پر شدید مواخذہ کرتے تھے۔ آپ کی شخصیت بہت باوقار اور بارعب تھی۔ جس کے باعث طلبہ آپ کابہت احترام کرتے اور قواعد واضوابط کی پابندی کرتے۔ آپ خود د فترمیں نہیں بیٹھے تھے۔ شروع میں مولانا محمد یاسین ظفرناظم دفتر مقرر ہوئے۔ تمام دفتر امور وہ سر انجام دیتے۔ مگر دستاویزات پر حضرت حافظ صاحب بطور مدیر التعلیم دستخط کرتےتھے۔ مولانا یٰسین ظفر 1978 میں اعلی تعلیم کے لیے سعودی عرب روانہ ہو گئے۔ تو ان کی جگہ مولانا عبدالحنان تشریف لےآئے۔ جو کہ 1982تک اس منصب پر رہے۔حضرت حافظ ثناءاللہ مدنی 1981میں لاہور چلے گئے۔
حضرت مولانا حافظ مسعود عالم صاحب
حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ جماعت اہل حدیث کے ممتاز عالم دین اور روحانی پیشوا مولانا یحییٰ شرقپوری کے بڑے صاحب زادےہیں۔ دینی تعلیم کے لیے آپ نے جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ کا انتخاب کیا۔ جہاں آپ نے اپنے وقت کے ممتاز اساتذہ مولانا ابوالبرکات سے حدیث اور مولانا محمد اعظم صا حب سے ادب کی کتب پڑھیں۔ آپ کے رفقاء میں ممتاز دانشورمولانا محمود احمد میرپوری مرحوم شامل تھے۔ جن کی محبت نے آپ میں کتب بینی کا شوق پیدا کیا۔ بخاری شریف محدث عصر حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی سے پڑھی۔ اس کے بعد آپ جامعہ سلفیہ تشریف لائے۔ اور آخری کلاس میں داخل ہوئے۔ اور آپ کے ہم سبق حضرت عبدالحمید ازھر(خطیب راولپنڈی ) بھی تھے۔ یہاں آپ نے حضرت عبداللہ بڈھیمالوی مرحوم سے اہم درسی کتب اور دوبارہ بخاری شریف پڑھی۔ سالانہ امتحانات میں نمایاں کامیابی پر آپ اور حافظ عبدالحمید ازھر کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی ہوا۔ یہ پہلےطالب علم تھے۔ جو جامعہ سلفیہ سے مدینہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔حافظ صاحب وفقہ اللہ 1981 سے 1985 تک جامعہ میں مدیر التعلیم رہے۔ آپ میں بے پناہ خوبیاں ہیں۔ آپ صالحیت اور صلاحیت کے اوصاف حمیدہ سے بہرہ ور ہیں۔ بہت عمدہ گفتگوکرتے ہیں۔ اور آپ کی تحریر رقع ادب ہوتی ہیں۔ بہت نرم دل اور مشفق ہیں۔ جامعہ سلفیہ کے نظم ونسق کو بہتر بنانے میں آپ نے کلیدی کردار اداکیا ہے۔ اور 1985 کو آپ جامعہ ابی بکر کراچی تشریف لے گئے۔ چند سال بعد دوبارہ بطور شیخ التفسیر جامعہ سلفیہ تشریف لے آئے۔
ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر صاحب
شیوخ الحدیث جامعہ سلفیہ

جامعہ سلفیہ کے قیام سے اب تک جن عالی مرتبت محدثین نے جامعہ سلفیہ میں بطور شیخ الحدیث خدمات سر انجام دیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔
مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ
مولانا عطا ءاللہ حنیف لگ بھگ 1909 میں بھوجیاں ضلع امرتسر میںپیدا ہوئے۔ مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنی بستی کے مدرسہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی ، مولانا شرف الدین دھلوی ،مولانا عطاءاللہ لکھوی ، مولانا حافظ محمد گوندلوی شامل ہیں۔ بڑی محنت اور لگن کے ساتھ تحصیل علم میں مصروف رہے۔
فراغت کے بعد مختلف مقامات پر تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ تدریس کے ساتھ آپ نے بہت عمدہ تصنیفی کام بھی کیا۔جس میں شہرہ آفاق تصنیف نسائی شریف کی شرح التعلیقات السلفیہ ہے۔ جسے عرب وعجم میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔مولانا جامعہ سلفیہ کے اولین شیخ الحدیث تھے۔ جب جامعہ سلفیہ کا آغاز لاہور میں ہوا تھا۔ انہوں نے بڑی محنت اور خلوص کے
ساتھ یہ خدمت سر انجام دی۔ مولانا 2 اور 3 اکتوبر 1987 کی درمیانی شب کو لاہور میں وفات پا گئے۔ اور میانی صاحب کے قبرستان میں سپردخاک کیے گئے۔
حضرت مولانا حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ
حضرت حافظ محمد گوندلوی 1897 کو گوندلاںوالا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی فضل دین بہت صالح اور پرہیز گار تھے۔ آٹھ سال کو پہنچے تو والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد والدہ ماجدہ نے مدرسہ غزنویہ امرتسربھیج دیا۔ اس کے بعد دہلی چلے گئے۔ دینی تعلیم کے ساتھ حکیم اجمل کے طیبہ کالج میں طب کی سند حاصل کی۔علم وفضل میں آپ نے کمال درجہ حاصل کیا۔ اور برصغیر پاک و ہند میں آپ کے پائے کا کوئی محدث نہ تھا ۔تدریس حدیث میں آپکو ممتاز مقام حاصل تھا۔ اور علماءکرام دور دراز سے علم حدیث پڑھنے کے لیے تشریف لاتے۔ آپ کی شہرت عرب ممالک بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ کا قیام عمل میں آیا۔ تو حدیث کی تدریس کے لیے آپ کی خدمات حاصل کی گئی۔ آپ کچھ عرصہ کے لیے یہ خدمت سر انجام دیتے رہے۔آپ جامعہ سلفیہ کے دوسرے شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔ جب جامعہ سلفیہ کو لاہور سے فیصل آباد منتقل کر دیا گیا تھا۔ اکابرین کی خصوصی درخواست پر آپ نے یہ منصب قبول کیا۔ 4 جون 1985 کو رحلت فرمائی۔ اور گوجرانوالہ میں دفن ہوئے۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ۔
حضرت مولانا حافظ عبداللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ
حضرت مولانا محمد عبدہ الفلاح رحمہ اللہ
آپ جولائی 1917 کو موضع وٹواں ضلع فیروز پورمیں پیدا ہوئے۔ وٹو برادری سے تعلق تھا۔ ابتدائی تعلیم جس میں سکول اوردینیات اپنے گاوں میں حاصل کی۔ پھر بڈھیمال میں پڑھتے رہے۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے۔ دہلی کی معروف مسجد فتح پوری میں تحصیل علم کیا۔ اور آخر میں حضرت حافظ محمد گوندلوی مرحوم سے گوجرانوالہ میں بخاری شریف پڑھی۔ فراغت کےبعد تدریس کے میدان میں آگے۔ آپ نے گوجرانوالہ ، اوڈانوالہ ، اوکاڑہ ، فیصل آباد میں تدریسی فرائض سر انجام دیئے۔ خصوصاًجامعہ سلفہ میںبڑی کتب کے علاوہ بخاری شریف پڑھاتے تھے۔آپ کو تفہیم کا ملکہ حاصل تھا۔ مختصر مگر جامع گفتگو کرتے۔ اور تدریس کا حق ادا کردیتے۔ مشکل سے مشکل بحث کو آسانی کے ساتھ سمجھا دیتے۔ تصنیف و تالیف اور ترجمہ کا عمدہ ذوق پایا تھا۔ آپ نے کئی یادگار تصا نیف چھوڑی ہیں۔ جن میں معروف ترین اشرف الحواشی ہے۔ جو کہ قرآن حکیم پر مختصر تفسیر ہے۔آپ دو مرتبہ جامعہ سلفیہ میں بطور شیخ الحدیث رہے ہیں۔ دوسری مرتبہ جب آپ اس منصب پر فائز ہوئے۔ تو آپ گلے کے مریض بن گئے۔ زیادہ بلند آواز میںبات نہ کر سکتے تھے۔ جس سے طلبہ آپ کی گفتگو نہ سن سکتے تھے۔ مائیک کاا نتظام کرنے کےباوجود بات نہ بنی۔ تو پھر خود ہی مستعفی ہوگئے۔ لیکن جامعہ کی انتظامیہ نے آپ کا وظیفہ برابر جاری رکھا ۔حاجی آباد فیصل آباد میں رحلت فرمائی۔ جامعہ سلفیہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ او ر گاوں نز د تاندلیانوالہ میں سپرد خاک کئے گئے۔
حضرت مولانا پیر محمد یعقوب قریشی رحمہ اللہ
آپ 1926 کو چک حافظاں ضلع جہلم میں پید اہوئے۔ ابتدائی تعلیم جہلم میں حاصل کی۔ بعد ازاں گوجرانوالہ اور اوڈانوالہ میں پڑھتے رہے۔ آپ نے اساتذہ میں مولانا حافظ محمد گوندلوی ، مولانا محمد اسماعیل سلفی ، مولانا اسحاق حسینوی شامل ہے۔مختلف مدراس میں تدریسی فرائض سر انجام دیتے رہے۔ عربی ادب سے خاص لگاوتھا۔ جامعہ سلفیہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔ او راس کے ساتھ دیگر کتب بھی پڑھاتے تھے۔ آپ نے 20 جولائی 2003 کو فیصل آباد میں رحلت فرمائی۔ جامعہ سلفیہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ او اپنے آبائی گاوں حافظاں والہ میں سپرد خاک ہوئے۔
حضرت مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ
مولانا محمد صدیق خاں بلوچ تاندلیانوالہ کے قریب کرپالہ گاوں میں 4 فروری 1921 کو پیدا ہوئے۔ آپ کا پہلا نام صادق علی تھا۔لیکن ایک دینی علوم پڑھتے ہوئے آپ نے اپنا نام محمد صدیق رکھ لیا۔ آپ نے بڑی عمر میں دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔مولانا محمد باقر کے مدرسہ جھوک دادو کا رخ کیا۔ ان کی شفقت محبت اور خصوصی توجہ سے آپ نے تعلیم مکمل کی۔ آپ کےاساتذہ میں مولانا حافظ عبداللہ بڈھیمالوی مرحوم بھی شامل ہیں۔آپ بہت جرات مند بہادر اور نڈر تھے۔ آپ لاجواب اورمثالی خطیب تھے۔ بہت مرتب گفتگو کرتے۔ بہت اچھا شعری ذوق رکھتے۔اوراپنی تقریر کو اشعار سے مزین فرماتے تھے۔ شعیت پر وسیع مطالعہ تھا۔ اور اہم امتیازی مسائل میں مناظرہ کرتے تھے۔ جامع مسجد امین پور بازار میں خطیب مقرر ہوئے۔ تو آپ کی علمی اور عوامی گتفگو نےلوگوں کے دل موہ لیے۔ جامع مسجد میں جگہ کم پڑ جاتی ااور اکثر بازار کو بند کر کے صفیں پچھائی جاتی تھیں۔ کتاب وسنت کی دعوت عام دیتے۔ اور آپ کی موثر گفتگو سےمتاثر ہو کر لاتعداد لوگوں نے اپنی فکر اور نظریہ کو تبدیل کیا۔ اور آج فیصل آباد میں اہل حدیث مکتبہ فکر کو اہمیت حاصل ہے۔ یہ مولانا کی کوششوں کا نتیجہ ہے آپ کا جامعہ سلفیہ کے ساتھ بھی بڑا گہرا تعلق رہا۔ ابتداء میں آپ دیگر رفقاء مثلا ولانامحمدرفیق مدن پوری، مولانا محمد اسحاق چیمہ کے ہمراہ دیہاتوں میں بھی جاتے۔ اور جامعہ کے لیے گندم اورتعاون حاصل کرتےتھے۔ بعد میں آپ کو جامعہ کاناظم مقرر کر دیا گیا۔ آپ کاجامعہ سلفیہ میں بطور شیخ الحدیث خدمات سر انجام دیتے رہے۔ آپ کااسلوب تدریس بہت منفرد ہوتا تھا۔ موجودہ حالات پر گہری نظر ہوتی اور جدید مسائل کو کتاب وسنت سے حل کرنے کی بھر پورکوشش کرتے تھے۔آپ سیاست میں بھی حصہ لیتے ۔ 1977 میں آپ نے تاندلیانوالہ سے ممبر قومی اسمبلی کے لیے الیکشن میں حصہ لیا۔ لیکن بھٹو کی دھاندلی کا شکار ہوئے۔ آپ طویل عرصہ بیمار رہے۔ شوگر ، فالج کے حملے نے آپ کو معذور کردیا۔ اس طرح یہ عظیم استاذ مناظر ، خطیب ادیب، سیاستدان اور نڈر قائد زندگی کی بہاریں دیکھ کر جنت الفردوس کو سدھار گیا۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ۔
حضرت مولانا سلطان محمود رحمہ اللہ( جلال پوری)۔
مولانا سلطان محمود 1903 کے قریب پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے وقت کے ممتاز علماءمولانا عبدالحق مہاجر مکی اور مولانا عبدالتواب ملتانی سے کتب حدیث پڑھیں۔ آپ نے زندگی کا بیشتر حصہ جلال پور پیروالا میں گزارا۔ دینی مدرسہ کی بنیادرکھی۔ اور اسے بام عروج پر پہنچایا۔ ادارے کا تعلیمی معیار بہت بلند تھا۔ خصوصاً نحو وصرف پر خصوصی توجہ دی جاتی ۔ آپ کے بے شمار تلامذہ میں جو آج بھی اہم عہدوں پر متمکن ہیں۔آپ نے زندگی کا بیشتر حصہ جلال پور پیروالا میں گزارا۔ دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ اور اسے بام عروج پر پہنچایا۔ ادارے کاتعلیمی معیار بہت بلند تھا۔ خصوصاً نحو وصرف پر خصوصی توجہ دی جاتی ۔ آپ کے بے شمار تلامذہ میں جو آج بھی اہم عہدوں پر متمکن ہیں۔
حضرت مولانا ثناءاللہ مدنی حفظ اللہ
مولانا حافظ ثناءاللہ مدنی فروری 1940 کو ضلع لاہور کے ایک گاوں کلن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرہالی کلاں ضلع قصورمیں حاصل کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے جامع مسجد قدس چوک دالگراں کا رخ کیا۔ جہاں اپنے وقت کے ممتاز محدث اورمفتی مولانا حافظ عبداللہ روپڑی مسند تدریس پر جلوہ افروز تھے۔ آپ نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ اور اپنےاستاذ حافظ عبداللہ روپڑری کی خصوصی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آپ کے رفقاءمیں مولانا عبدالسلام کیلانی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد اعلی تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ جہاں آپ نے الشریعہ میں اعلی ڈگری حاصل کی۔ خصوصاً الشیخ ابن باز سے بھر پور استفادہ کیا۔ آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا حافظ عبداللہ روپڑری ، حضرت مولاناحافظ محمد گوندلوی ، مولانا محمدعبدہ الفلاح ، مولانا عبدالغفار حسن ، الشیخ ابن باز ، علامہ ناصر الدین البانی، الشیخ محمد امین شقیطی ، الشیخ شبیہ الحمد ، الشیخ عبدالمحسن العباد، الشیخ حماد انصاری خصوصی طور پر شامل ہیں۔آپ نے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض سر انجام دیئے۔ لیکن بہترین تدریسی وقت جامعہ سلفیہ میں گزارہ۔ آپ یہاں ابوداود ، بدایة المجتھدجسے اہم اسباق پڑھاتے رہے۔ اور پھر شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے۔ آپ کا اسلوب تدریس بہت منفرداور متاثر کن تھا۔ پڑھنے والوں کے لیے سوالات کی گنجائش نہ رہتی ۔ اور مالہ وما علیہ پر بہترین بحث کرتے اور دلائل ، راجح قول کو بیان کرتے۔آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جن میں بعض ممتاز مناصب پر تعلیمی انتظامی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان میں مولانا حافظ محمد شریف ، مولانا محمد یونس بٹ ، پروفیسر یٰسین ظفر ، مولانا عبدالعلیم یزدانی ، مولانا عبدالرشید مرحوم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپ اب تک تقریباً 45مرتبہ بخاری شریف پڑھا چکے ہیں۔ اور آج کل لاہور میں علماء کی خصوصی تعلیم وتربیت کا اہتمام کرتےہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میںبرکت فرمائے۔ امین۔
مولانا حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ
مولانا حافظ احمد اللہ 19 فروری 1919 کو ضلع فیروز پور کے ایک گاوں بڈھیمال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی۔ پھر دینی تعلیم کے لیے قریبی گاوں لکھوکے میں تشریف لے گئے۔ آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا عطاءاللہ لکھوی ، مولاناحافظ محمد گوندلوی ، مولانا محمد اسماعیل سلفی شامل ہیں قیام پاکستان کے بعد ستیانہ بنگلہ کے قریب چک نمبر 36 گ ۔ب میں سکونت اختیار کی۔ مختلف مقامات پر تدریسی فرائض سرانجام دیئے۔ جس میں دارلحدیث اوکاڑہ ، جامعہ اسلامیہ ڈھلیانہ ، تدریس القرآن راولپنڈی ، مدرسہ دارالقرآن والحدیث جناح کالونی فیصل آباد اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد شامل ہے۔ یہاں آپ نے بطور شیخ الحدیث خدمات سر انجام دیں۔ اور بہترین وقت گزارہ ۔ آپ کی آواز میں خصوصی رعب تھا۔ طلبہ کی تعلیم کے ساتھ تربیت کی۔ اور شفقت ومحبت سے پیش آئے۔ بہت سادہ مگر خودار تھے۔آ پ بہت صالح اور پر ہیز گار تھے۔آپ جھوک دادو کے معروف طالبات کے مدرسہ میں امتحان لینے میں مصروف تھے۔ بخاری شریف سامنے کھلی ہوئی تھی۔ کہاچانک حرکت قلب بن د ہونے سے رحلت فرماگئے۔ آپ کی تاریخ وفات 28 نومبر 1998 ہے۔ نماز جنازہ آبائی گاوں میں آپ کےصاحبزادے شیخ الحدیث مولانا عبد العزیز علوی نے پڑھائی ۔ اور وہیں دفن ہوئے۔
حضرت مولانا حافظ عبدالعزیزعلوی صاحب حفظہ اللہ
جامعہ سلفیہ کے موجودہ شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالعزیزعلوی مولانا حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادےہیں۔ آپ کا 15 فروری 1943 کو بڈھیمال ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز سکول سے کیا۔ بہت ذہین تھے۔میڑک کرنے کے بعد دینی تعلیم کا رخ کیا۔ اور مدرسہ دارالقرآن والحدیث فیصل آباد میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد جامعہ محمدیہ اوکاڑہ اور جامعہ عباسیہ سے اعلی تعلیم حاصل کی۔ آپ کے اساتذ ہ میں مولانا محمد عبدہ الفلاح ، مولانا عبدالرشید نعمانی ،مولانا حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی ، مولانا عبداللہ امجد چھتوی شامل ہیں۔مختلف مقامات پرتدریسی خدمات سر انجام دیں۔ اور آپ 1987 سے جامعہ میں بطور شیخ الحدیث خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔آپ بہت محنتی اور صاحب مطالعہ ہیں۔ بڑے خلوص اور محنت سے پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے کے ساتھ لکھنے کا ذوق بھی پایا جاتا
ہے ۔ صحیح مسلم کی اردوشرح مکمل کر چکے ہیں اور آجکل طبع کے مرحلے میں ہے۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
فضلاءجامعہ سلفیہ

فضلاء جامعہ سلفیہ فیصل آباد کی فہرست کافی طویل ہے ۔ جس کا ذکر یہاں مقصود نہیں۔لیکن ان میں سے کچھ نام ایسے ضرورہیں۔ جنہوں نے دائمی نیک نامی کمائی۔ اور شہرت کی بلندیوں کو پہنچے ۔اپنا اور اپنے ادارے جامعہ سلفیہ کے ساتھ وطن عزیزکا نام بھی روشن کیا۔ ان میں سے بعض کا تعلق پاکستان سے اوربعض کا تعلق دیگر ممالک سے ہے۔ جن کا تذکرہ خیر ہم غیرملکی طلبہ اور جامعہ سلفیہ کے ضمن میں کریں گے۔ ان شاءاللہ۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے علماء اور مشائخ جنہوں نے علمی دنیا میں بلند مقام حاصل کیا۔ ان میں سے بعض شیوخ الحدیث کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے۔ بعض اعلی پائے کے خطیب اورشعلہ بیان مقرر ہوئے۔ بعض ممتا ز دانشوروں میں شمارہوئے۔بعض نے تصنیفی اور تحقیقی میدان میں نام کمایا ۔ بعض نہایت اعلی منتظم بنے۔ بعض میں قائدانہ صلاحیتیں رنگ لائیں۔ اوربعض نے مجاہدانہ کردار ادا کر کے رب تعالیٰ کو راضی کر لیا۔ جامعہ سلفیہ کے یہ مختلف رنگ اس گلستان کی ماند ہیں۔ جہاں دنیا بھر کے پھول اپنی مختلف بناوٹوں کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے کھلے ہوئے ہیں۔ مگر ان کی مٹی ان کا پانی الگ ہے۔ اوریہی جامعہ سلفیہ کا امتیاز ہے کہ اس کا نظام تعلیم کتاب وسنت پر مبنی ہے۔ اور اس سے تیار ہونے والے علماءاپنے اسلوب میں منفرد اور یکتا ہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اور قیامت تک جاری رہے گا۔ان شاءاللہ۔جامعہ سلفیہ کے فضلاء مین سے اکثر علماءمسند تدریس پر فائز ہوئے۔ جن پر بھر پور اعتماد کیا جاتا ہے۔ یہ علماءاکثر مدارس میں شیوخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان میں وہ اوائل فضلاء خصوصیت کے شامل ہیں۔ جنہوں نے اکابر علماءسے پڑھا۔ان میں سے مولانا قدرت اللہ فوق ، مولانا حافظ بنیامین طور، مولانا عبدالرشید گوھڑوی، مولانا حافظ عزیز الرحمن لکھوی وغیرہ شامل ہیں۔اب بھی پاکستان کے اکثر مدارس میں جامعہ سلفیہ کے فضلاء کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ اور انتظامی امور ، تدریسی خدمت بحسن و خوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ ان میں قاضی محمد اسلم سیف ، مولانا ارشاد الحق اثری، مولانا حافظ عبدالرشیداظہر ، مولانا عبدالرحمن چیمہ ، مولانا عبدالحمید ازھر ، مولانا حافظ مسعود عالم ، مولانا حافظ محمد شریف ، مولانا محمد یونس بٹ ، مفتی عبدالحنان ، مولانا محمد یٰسین ظفر، مولانا زبیر احمد ظہیر، مولانا قاری محمد ابراہیم میر محمدی، مولانا عبدالواحد بلتستانی ،مولانا عبدالرشید مرحوم، مولانا ابراہیم خلیل ، مولانا افتخار احمد الازھری ، مولانا محمد داود سیف مرحوم ، جامعہ سلفیہ کے فضلاء میں دو نام ایسے بھی ہیں۔ جو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی قدر ومنزلت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان میں ایک انتہائی معتبر نام حضرت علامہ احسان الہی ظہیر کا ہے۔ جنہوں نے جامعہ سلفیہ سے فیض پایا۔ اور اس کے بعد مدینہ یونیورسٹی سے اپنی اعلی تعلیم مکمل کی۔ شعلہ نوا خطیب بنے۔ برصغیر میں ان کے پایہ کا کوئی خطیب نہ تھا۔ جن کی گن گرج سے پورا پنڈال دھل جاتا ۔ اور بقول شورش کاشمیر ی کے الفاظ ہاتھ باندھ کر ان کے سامنے کھڑے ہوتے۔ اور علامہ صاحب ان کا استعمال اپنی مرضی سے کرتے۔ انہیں اردو ، فارسی اور عربی پر مکمل عبور حاصل تھا۔ کتاب و سنت کے علوم سے بہرہ مند تھے۔ سیرت ، تاریخ پر گہری نظر تھی ۔حالات حاضرہ اور سیاست سے خصوصی دلچسپی تھی۔ ختم نبوت کا ستیج ہو یا عظمت صحابہ کی کانفرنسیں حق گوئی بے باکی کی لاجواب مثال تھے۔ اور ایسی عالمانہ فاضلانہ ناقدانہ گفتگو کرتے۔ کہ ان کے مدمقابل متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔ دلائل وبراہین کے انبار لگا دیتے۔آپ سیاسی میدان میں قدم رکھتے تھے۔ سیاسی جلسوں میں آپ کا خطاب حرف آخر ہوتا۔ ان کے بعد لوگ کسی کی بات سننا پسند نہ کرتے۔ اور پورے مجمع کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔آپ خطابت کے ساتھ ساتھ تصنیفی میدان میں بھی کام کرتے۔ مذاہب اور فرق باطلہ پر وسیع مطالعہ تھا۔ اور متعدد کتب شائع ہو کرعلمی حلقوں کو متاثر کر چکی ہیں۔ عالمی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ۔ عراق ، ایران جنگ میں متعدد بار عراق گئے۔ اورامت مسلمہ میں اتحاد یکجہتی کی کوشش کرتے رہے۔ جس کی سزا انہیں دی گئی۔ اور آپ 23 مارچ 1987 کو لاہور بم دھماکےمیں شدید زحمی ہوئے۔ اور 7 مارچ کو سعودی عرب میں رحلت فرماگئے۔ اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔اللھم اغفر لہ وارحمہ۔
دوسرا نام مولانا پروفیسر ابو بکر غزنوی کا ہے۔ جو سلسلہ غزنویہ کا روشن چراغ تھے۔ اپنے آناواجداد سے انہیں سلوک کی منزلیں ورثے میں ملی۔ آپ کے والد ماجد مولانا سید محمد داود غزنوی جامعہ سلفیہ کے بانی ہیں۔ انہی سے فیض پایا۔ اور مزیدریاضت اور تحصیل عل م کے لیے جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے۔ فراغت کے بعد یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی۔ اور آپ اپنی صلاحیت دیگر بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انجیئرنگ یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات میں لیکچرا ر منتخب ہوئے۔ اور پھر اسی شعبے کے سربراہ مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد انہیں اسلامک یونیورسٹی بہاولپور کا وائس چانسلر بنا دیا گیا۔ لیکن زندگی نے وفانہ کی اورلندن میں ایک حادثہ میں رحلت فرما گئے۔ لاہور میں نماز جنازہ ہوا۔ اور میانی صاحب کے قبرستان میں اپنے والد کےپہلو میں دفن کیے گئے۔
غیر ملکی طلبہ اور فضلاء
جامعہ سلفیہ کے قیام کے ساتھ ہی غیر ملکی طلبہ نے حصول علم کے لیے رجوع کیا۔ البتہ زیادہ تر طلبہ کا تعلق پاکستان سےتھا۔ اس وقت مشرقی اور مغربی پاکستان موجود تھا مشرقی پاکستان سے کثرت کے ساتھ طلبہ جامعہ میں داخل ہوئے۔ ان میں معروف ترین ڈاکٹر مجیب الرحمن اور مشرف حسین تھے۔ ڈاکٹر مجیب الرحمن ، مولانا معین الدین لکھوی کے ہم زلف تھے۔ پہلےراجستاہی شعبہ اسلامیات کے چیئر مین رہے۔ اور آج کل امریکہ میں مقیم ہیں۔ بنگالی طلبہ کے علاوہ ہندوستان ، نیپال ، سریلنکا ، افغانستان ،اردن ، لیبا ، گھانا کے طلبہ بھی جامعہ سلفیہ میں زیر تعلیم رہے۔ اور سند فراغت حاصل کی۔ ان میں سے ڈاکٹرحسن اردن کے شہر عقبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور یہاں کی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ افغانستان سے ملانصیر اللہ جو کہ کرزئی حکومت میں ممبر اسمبلی رہے۔ اور حالیہ الیکشن میں ایک مضبوط امیدوار بھی ہے۔
مالدیفی طلبہ کی جامعہ آمد
جامعہ سلفیہ کی تاریخ میں سب سے اہم واقعہ مالدیف کے طلبہ کا یہاں آنا ہے۔ یہ 1970 کا ذکر ہے جب صدر جامعہ میاں فضل حق سعودی عرب تشریف لے گئے۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ان کی ملاقات فضیلة الشیخ اسمعیل محمد اور فضیلة الشیخ حسین یوسف سے ہوئی۔ ان کا تعلق مالدیف سے تھا۔ اور یہ مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے اپنی ملاقات میں میاں فضل حق سے مطالبہ کیا کہ وہ مالدیفی طلبہ کو جامعہ سلفیہ میں داخلہ دیں۔ اور ان کی کفالت کے ساتھ بہترین تعلیم کا بندبست کریں۔ میاں فضل حق مرحوم نے ان کی درخواست کوقبول فرمالیا۔ او روعدہ کیا کہ وہ طلبہ کی رہائش ، خوراک ، کتب کے علاوہ ماہانہ وظیفہ بھی دیں گے۔ لہذا سالانہ تعطیلات کے موقعہ پر جب مذکور مشائخ واپس مالدیف گئے ۔ تو انہوں نے طلبہ کو جامعہ سلفیہ لانے کے انتظامات کیے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی۔ کہ اس وقت مالدیف سے ہوائی رابطہ موجود نہ تھا۔سری لنکا سے کراچی بعض کمپنیوں کی فلائٹ دستیاب تھی۔ لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے انہوں نے مالدیف سے سری لنکااور سری لنکا سےکراچی کا سفر بحری جہاز میں کیا۔ اور کئی دن کی مسافت کے بعد تقریباً تیس طلبہ اور مربیوں کا یہ قافلہ حق کراچی سے بذریعہ ٹرین فیصل آباد ( لائل پور ) پہنچا۔اس وقت جامعہ سلفیہ کے مدیر التعلیم مولانا عبید الرحمن مدنی مرحوم تھے۔انہوں نے جامعہ کے وسائل کے مطابق بہترین انتظامات کیے۔ الگ کمروں میں رہائش کا بندوسبت کیا۔ خوراک کے لیے چاول ،مچھلی کا اہتمام کیا۔ اور ان کی تالیف قلوب کے لیے ان کے مزاج کے مطابق سلوک کیا۔ اس طرح آہستہ آہستہ یہ طلبہ جامعہ کےماحول سے آشنا ہو گئے۔ سب سے اہم مسئلہ زبان کا تھا۔ کیونکہ یہ طلبہ عربی اور اردو سے ناآشنا تھے۔ لہذا انگریزی تعلیم کےلیے پروفیسر سلمان اظہر صاحب کی خدمات حاصل کی گئی۔ جنہوں نے انگریزی تعلیم کے ساتھ اردو زبان سکھلائی۔ اس طرح یہ طلبہ پوری محنت لگن کے ساتھ تعلیم میں مشغول ہو گئے۔ ذرائع آمدورفت اور مواسلات نہ ہونے کے باعث کئی کئی ماہ ان کارابطہ اپنے والدین سے نہ ہوتا۔ لیکن یہ طلبہ نہایت صبر وتحمل کے ساتھ جامعہ میں مقیم رہے۔جامعہ میں ثانویہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان طلبہ کا مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ ممکن ہوا۔ اس طرح اپنی ابتدائی اور ثانویہکی تعلیم جامعہ سلفیہ میں مکمل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لیے مدینہ یونیورسٹی چلے جاتے رہے۔ لیکن ان میں سے بعض جامعہ سلفیہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس گئے۔ یو ں تو سبھی فضلاء اور فیض یافتگان کسی نہ کسی مرحلے میں اہم خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے بعض بہت بڑے منصب پر فائز ہےں۔الشیخ احمد فاروق جو کہ سیکرٹری وزارت مذہبی امور رہے ہیں۔ اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ الشیخ ابراہیم زکریا جو کہ معہد اللغة العربیہ کے مدیر اور آج کل بی ایچ ڈی کے لیے ملائشیا میں ہیں۔ ڈاکٹر جعفر آجکل وزیر مذہبی امور ہیں۔ ڈاکٹر جمیل احمد وزیرالعدل رہے۔ ڈاکٹر حسن سعید صدارتی انتخاب میں بھر پور حصہ لیا۔اور آج کل بھی معروف وکیل ہیں۔ الشیخ احمد فائزسپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ اور امید رکھتے ہیں کہ ان میں سے بعض مستقبل قریب میں نہایت اہم عہدوں پر فائز ہو نگے۔انشاءاللہ۔
جامعہ سلفیہ میں تشریف لانے والے ممتاز علماءمشائخ اور عمائدین
جامعہ سلفیہ کو اللہ تعالیٰ نے قومی اور بین الاقوامی شہرت سے نوازا ہے۔ تمام حلقوں میں یکساں مقبول یہ تعلیمی ادارہ اپنی ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ایک معیاری تربیت گاہ بھی ہیں۔ جس کی نیک نامی اور اچھی شہرت کی وجہ سے دنیا بھر سےممتاز علماءمشائخ عظام اور عمائدین کی بڑی تعداد جامعہ میں تشریف لاتے رہے۔ خصوصاً جامعہ میں منعقد ہونے والے پروگرام، سیمنار ، تقریبات اور کانفرنسوں میں اہل علم شریک ہوتے رہے۔ اور جامعہ کے بارے میں اپنے تاثرات زائرین کی کتاب میں لکھتے رہے۔ اس کی تفصیل کافی زیادہ ہے۔ لیکن ہم یہاں صرف ان کے نام لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,458
پوائنٹ
964
جامعہ کے اغراض ومقاصد

٭قرآن وحدیث کی تعلیم کا اہتمام کرنا۔
٭ قرآن وسنت کی روشنی میں جدید علوم کی تدریس کا اہتمام کرنا ۔ اور نئی نسل کو جدید علوم سے بھی آرستہ کرنا۔
٭ عربی زبان وادب کی حفاظت کرنا۔ اور اعلی پیمانے پر اس کی تدریس کرنا ۔ تاکہ براہ راست کتاب وسنت سے استفادہ کر سکیں۔
٭ مذاہب فقہ اربعہ اورا ن کے اصولوں کی تعلیم کا اہتمام کرنا۔
٭ اسلامی علوم کی پوری دنیا میں عموماً اور عالم اسلام میں خصوصاً اشاعت کرنا۔
٭ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے افراد تیار کرنا۔ اور عربی زبان کی طرف لوگوں کو ترغیب دینا۔ الیسے اولوالعزم صالح زہد وتقویٰ سے مزین علماء کرام کی کھیپ تیار کرنا جو بغیرطمع ولالچ کے شرک وبدعت سے پاک دعوة اسلامیہ کی تجدیدمیں سرگرام عمل ہوں۔
٭ ایسے مصنفین تیار کرنا جو راسخ فی العلم ہوں۔ اسلامی تہذیب و ثقافت کے نمونے ہوں۔ اور اپنی تصانیف کے ذریعے عقائد صحیحہ کی نشرواشاعت ، اصلاح نفوس اور مخالفین اسلام کے رد میں قوی دلائل اور پسندیدہ اسلوب کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکیں۔
٭ باطل نظریات اور خلاف اسلام فکر سے نئی نسل کو آگاہ کرنا۔ اور انہیں صحیح اسلامی فکر سے آگاہی دینا۔
٭ مسلمانوں کی صفوں میں وحدت پیدا کرنا۔
جامعہ سلفیہ کے موجودہ اساتذہ کرام:۔

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریسی خدمات سر انجام دینے والے اساتذہ کرام کی کل تعداد 28 ہے ۔ ان میں اکثر اساتذہ جامعہ سلفیہ، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان ، اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ سعودی عرب کے فارغ التحصیل ہیں۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
مولانا حافظ عبدالعزیز علوی شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ
حافظ عبدالعزیز علوی سابق شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی کے فرزند ارجمند ہیں۔ آپ 1943 کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد مکرم سے حاصل کی۔ جامعہ محمدیہ اوکاڑہ ، جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ سے سند فراغت حاصل کی۔ اسکے بعد جامعہ اسلامیہ بہاولپور سے تخصص فی التفسیر والحدیث کیا۔ آپ کے اساتذہ میں فضیلة الشیخ مولانا حافظ محمد گوندلوی مولانا محمد عبدہ الفلاح ، مولانا عبداللہ ویروالوی ، مولانا ہدایت اللہ ندوی مولانا شمس الحق افغانی اور مولانا حافظ احمداللہ مرحوم شامل ہیں۔آپ نے 1968 سے تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ متعدد معروف اداروں میں پڑھاتے رہے۔ جامعہ سلفیہ میں 20 سال سے شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں۔ اور شعبہ دارالافتاءکی مجلس کے سرپرست ہیں۔آپ مستقل خطبہ جمعہ اپنے آبائی گا وں چک نمبر 36 گ ۔ ب میں دے رہے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر ان کے درس قرآن بھی جاری ہیں۔ آپ نے صحیح مسلم کا ترجمہ اور تشریح ، جامع ترمذی کا ترجمہ و تشریح ، الفیہ ابن مالک کا ترجمہ تشریح ، امام نووی اور امام مسلم کے سوانح حیات کا ترجمہ کیا ہے۔ جبکہ بعض کتب پر نظر ثانی کا کام سر انجام دیا ہے۔ قاضی سلیمان منصور پوری کی کتاب " شرح اسماءالحسنیٰ اور مختصر صحیح بخاری کا ترجمہ ہو رہا ہے۔
فضیلة الشیخ حافظ مسعودعالم شیخ التفسیر جامعہ سلفیہ
حافظ مسعود عالم ممتاز روحانی پیشوا مولانا محمد یحییٰ شرق پوری رحمہ اللہ کے بڑے لخت جگر ہیں۔ آپ 1953 میں پیداہوئے۔ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے والد ماجد سے کیا۔ قرآن حکیم حفظ کیا۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے 1973 میں فراغت اور اعلی تعلیم کے لیے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ 1977 میں فراغت کے بعد پاکستان تشریف لائے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی ممتاز پوزیشن میں پاس کیا۔آپ نے اپنی تدریس کا آغاز جامعہ سلفیہ سے کیا۔ اور اس کے بعد 1981 سے 1984 تک مدیر التعلیم کے فرائض سر انجامدیتے رہے۔ اس کے بعد آپ جامعہ ابی بکرکراچی تشریف لے گئے۔ 1991 تک تدریسی فرائض کے ساتھ انتظامی امور کےنگران رہے ۔ 1991 میں آپ دوبارہ جامعہ سلفیہ بطور شیخ التفسیر تشریف لائے۔ اور تاحال اس منصب پر فائز ہیں ۔ امعہ میں دارالافتاءکے بھی رکن ہیں۔آپ کے اساتذہ میں حافظ محمد گوندلوی ، مولانا ابو البرکات ، مولانا محمد اعظم ، مولانا حافظ عبداللہ بڈھیمالویمولاناعبدالغفارح سن ، فضیلة الشیخ امان علی حامی ، فضیلة الشیخ علی شرف العموی ، صاحب المعالی الشیخ عبدالمحسن حماد العباد بطور خاص شامل ہیں۔ آپ جامع مسجد ابو بکر میں خطیب ہیں۔ اور مختلف مقامات پر درس قرآن وحدیث ارشاد فرماتے ہیں۔ قدیم اورجدید پر گہری نظر ہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ خصوصاً سعودی عرب ،عرب امارات،کویت کے تبلیغی اور دعوتی کانفرنسوں میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔آپ کی مولفات میں " اتقو النار وصفة عذاب جہنم ( اردو ) ، صفة الجنة واعمال اہل الجنة ( اردو ) ، آداب صیام رمضان ( اردو )شامل ہیں۔
مولانا محمد یونس محمد یعقوب:
نائب شیخ الحدیث ومدیر وفاق المدارس السلفیہ
مولانا محمد یونس 1956 کو ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ میڑک تک تعلیم ساہیوال میں حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے۔ اور 1977 میں سند فراغت حاصل کی۔ او راعلی تعلیم کے لیے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کیا۔آپ کے اساتذہ میں حافظ ثناءاللہ مدنی حفظہ اللہ ، حافظ احمد اللہ مرحوم ، مولانا عبیدالرحمن مدنی مرحوم ، الشیخ عبدالمحسن العباد ، الشیخ حمود الوائلی بطور خاص شامل ہیں۔ آپ 1981 میں جامعہ سلفیہ تشریف لے آئے۔ اور تدریسی خدمات شروع کی۔ابتدائی کتب سے تدریس کا آغاز کیا۔ اور آہستہ آہستہ ثانویہ سے عالمیہ کے اسباق پڑھانے شروع کیے۔ آپ کو فقہ اور اصول فقہ کی خصوصی مہارت ہے۔ آپ عرصہ دراز تک صحیح مسلم شریف پڑھاتے رہے۔ جبکہ سات سال سے بخاری شریف کی آخری جلد بھی پڑھاتے ہیں۔ اور 2009 سے درجہ تخصص میں بخاری شریف کے منتخب ابواب پڑھاتے ہیں۔ آپ کا اسلوب تدریس بہت عمدہ اورتفہیم کا انداز نہایت پسندیدہ ہے۔ طلبہ بے حد مطمئن ہوتے ہیں۔آپ کے خصوصی شاگردوں میں ڈاکٹر عبدالقادر ، ڈاکٹر طاہر محمود ۔ مولانا عبدالخالق محمد صادق کویت، مولانا عبدالوہاب الغامدی ، پروفیسر عبدالرزاق ساجد ، حافظ سریف اللہ شاہد برطانیہ شامل ہیں ۔ آپ 1986 سے وفاق المدارس السلفیہ کے مدیر ہیں ۔ اور نہایت عمدگی کے ساتھ وفاق کا نظم و نسق چلا رہے ہیں ۔ وفاق کےمعیار کو بہتر بنانے میں ان کی خصوصی کوشش
شامل ہے۔ انتظامی امور میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔آپ 19 سال سے جامعہ سلفیہ کی مسجد میں خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔آپ کی گفتگو بہت مرتب اور مدلل ہوتی ہے۔ علاو ہ ازیں فیصل آبا د کی متعدد مساجد میں ہفتہ وار اور ماہانہ دروس بھی ہوتے ہیں ۔ آپ نے بعض اہم کتابوں کےترجمےکیے ہیں۔ ان میں دعوت حق کے تقاضے اور بعض کتابیں ابھی زیر طبع ہیں۔
مولانا محمد اکرم رحمانی: مدرس جامعہ سلفیہ
مولانا محمد اکرم رحمانی بن محمد فیروز 1953 کو ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم علاقے کے سکول میں حاصل کی۔اس کے بعد جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن اور جامعہ تعلیمات اسلامیہ فیصل آباد سے فراغت پائی۔ اور اعلیٰ تعلیم کے لیےاسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کیا۔ علاوہ ازیں ادارہ علوم اثریہ فیصل آباد سے تخصص کیا۔آپ کے اہم اساتذہ میں حافظ عبداللہ بڈھیمالوی ، پیر محمد یعقوب قریشی ، مولانا محمد صادق خلیل ، حافظ بنیامین طور مرحوم ،
مولاناحافظ عبدالغفور جہلمی ، مولانا محمد عبدہ الفلاح ، مولانا عبدالرشید ہزاروی شامل ہیں۔آپ تقریباً تیس سال سے تدریسی فرائض مختلف مقامات پر سر انجام دیتے رہے۔ جس میں زیادہ عرصہ جامعہ سلفیہ فیصل آبادرہے۔ آپ کے اہم تلامذہ میں قاری محمد شعیب لیکچرار گورنمنٹ کالج ، مولانا عطاءالرحمن ثاقب ، مولانا یعقوب طاہر کراچی،پروفیسر عبدالرزاق ساجد ، مولانا سید عبدالستار شاہ صاحب شامل ہیں۔آپ عرصہ 25 سال سے جامع مسجد کوثر افغان آباد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ علاوہ جامع مسجد امین کوٹ میں مسلسل درس قرآن وحدیث دیتے ہیں۔ آپ کی تصنیفی خدمات میں " الدعا من الکتاب والسنہ ( عربی) کا اردو ترجمہ مقالہ، موضوع حدیث اور اس کے مراجع" ناشر ادارہ علوم اثریہ ہے۔
پروفیسر محمد یٰسین ظفر : پر نسپل جامعہ سلفیہ
محمد یٰسین ظفر 1956 میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک تعلیم اپنے آبائی گاوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ دارالقرآن والحدیث جناح کالونی میں داخل ہوئے۔ جامع ترمذی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے۔ اور 1977 میں فراغت پائی۔اس کے بعد اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ سعودی عرب سے بی اے آرنر کیا پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اعلی نمبروں میں پاس کیا۔ آپ کے خصوصی اساتذہ میں شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی ، مولانا حافظ عبدالرحمن مرحوم ، حافظ احمداللہ مرحوم ، مولانا محمد صدیق بلوچ مرحوم ، مولانا قدرت اللہ فوق ، فضیلة الشیخ عبدالرحمن الحذیفی امام وخطیب مسجد نبوی ، فضیلة الشیخ عبدالمحسن المیحسن شامل ہیں۔
1982میں جامعہ سلفیہ بطور مدرس تشریف لائے ۔ تدریس کے ساتھ آپکو مدیر مکتب جامعہ سلفیہ مقر ر کردیا گیا۔ انتظامی امور میں خاص مہارت کی بدولت تمام دفتری امور سر انجام دینے لگے۔ 1986 میں جامعہ سلفیہ کمیٹی نے انہیں مدیر التعلیم مقرر کر دیا۔اور تاحال اس عہدے پر کامیابی سے کام سر انجام دے رہے ہیں ۔ انتظامی امور کے ساتھ تدریسی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔تاریخ میں خصوصی دلچسپی کی وجہ سے سیرت اور اسلامی تاریخ پڑھاتے ہیں۔ علاوہ ازیں عقیدہ اسلامیہ ، اسلام کا اقتصادینظام بھی پڑھاتے رہے ۔ ان کے لیکچرز خصوصی توجہ سے سنے جاتے ہیں۔آپ کے شاگردوں میں ڈاکٹر جمیل احمد مالدیف کے سابق وزیر قانون، ڈاکٹر حسن سعید احمد فائز مالدیف کے موجود چیف جسٹسآف سپریم کوٹ ، نصیر اللہ ممبر قومی اسمبلی افغانستان ، صعبفرلی سری لنکا ، قاری تاج شاکر ، مولانا سیف اللہ طیب ، مولانامحمد ارشد مدرس جامعہ سلفیہ ، محمد اسحاق مدرس جامعہ لاہوراسلامیہ ۔آپ عرصہ دراز سے جامعہ کے مجلہ ترجمان الحدیث کے چیف ایڈیٹر ہیں ۔ اور حالات حاضرہ پر آپ کے بہت سے مضامین دینی جرائد کی زینت بنتے ہیں ۔ آپ عرصہ دس سال سے جامع مسجد طوبی میں خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں
مختلف مساجد میں درس قرآن وحدیث بھی ہوتے ہیں۔آپ نے متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ جس میں دعوت اسلامی کانفرنس برمنگھم برطانیہ ، بین الاقوامی سیرت کانفرنس اسلام آباد ، دعوت اسلامی کانفرنس مالدیف ، بین المذاہب سیمنار بنکاک تھائی لینڈ ، انٹرنیشنل علماء کانفرنس
اسلام آباد بین المذاہب کانفرنس اسلام آبادشامل ہیں۔آپ نے متعدد ممالک کا دورہ بھی کیا ۔ جن میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، ترکی، مصر ، برطانیہ ، ملایشیاءمالدیف ، سری لنکا ، تھائی لینڈ شامل ہیں ۔ جامعہ سلفیہ کی تعمیر وترقی میں آپ کی خصوصی دلچسپی شامل ہے ۔ علاوہ ازیں اسلامک یونیورسٹی کے قیام میں بھی آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔
پروفیسر نجیب اللہ طارق
پروفیسر نجیب اللہ طارق 1955 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم عبداللہ مرحوم فوج میں ملازم تھے۔ جب کہ ان کےدادا مولانا عبدالحمید معروف عالم دین تھے ۔ مولانا محمد یوسف کلکتوی کا تعلق بھی آپ کے خانوادے سے ہے ۔ آپ نے میٹرک پاس کرنے کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخلہ لیا ۔ اور جامعہ کی تعلیم کے ساتھ ایف اے اور پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا ۔جامعہ سلفیہ سے فراغت کے بعد اعلی تعلیم کے لیے مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔ مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونےکے بعد جامعہ سلفیہ میں بطور استاد مقرر ہوئے ۔ آپ کے معروف اساتذہ میں الشیخ حسن بلتسانی ، مولانا قدرت اللہ فوق ، مولانامحمد اسحاق ، مولانا محمد صدیق ، مولانا عبید اللہ ، پروفیسر عبیدالرحمن مرحوم شامل ہیں۔آپ 1984 میں دبئی تشریف لے گئے ۔ اور عرصہ پندرہ سال دعوتی وتبلیغی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ پھر 1996 میں واپس جامعہ سلفیہ تشریف لے آئے ۔ تاحال جامعہ میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ آپ کے تلامذہ میں مولانا محمد بلال ،مولانا ثناءاللہ ، مولانا تحسین سرور شامل ہیں ۔ آپ بہت ذہین اور حاضر جواب ہیں۔ بہت اچھے مقرر اور ڈپیٹرر ہیں۔ شاعرانہ ذوق رکھتے تھے۔ طلبہ کے ادبی پروگرام کی نگرانی کرتے ہیں ۔ آپ عرصہ دراز سے جامع مسجد مبارک پیپلز کالونی میں خطیب ہیں ۔علاوہ ازیں متعدد کانفرنسوں میں جامعہ سلفیہ کی نمائندگی کا حق ادا کر چکے ہیں
مولانا محمد ادریس سلفی
مولانا محمد ادریس سلفی 1962 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ دارالقرآن والحدیث جناح کالونی سے حاصل کی۔اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے ۔ جامعہ سے فراغت کے بعد اعلی تعلیم کے لیے مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب میں داخل ہوئے ۔ کلیة الحدیث سے سند فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد متعدد تربیتی ورکشاپس میں شرکت کر چکے ہیں۔ آپ کے اساتذہمیں حافظ ثناءاللہ مدنی صاحب ، مولانا قدرت اللہ فوق مرحوم ، مولانا حافظ عبدالعزیز علوی ، مولانا حافظ مسعود عالم شامل ہیں۔آپ عرصہ 24 سال سے تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ زیادہ تر وقت جامعہ سلفیہ میں صرف کیاہے۔ آپ تدریس کے ساتھ عرصہ 15 سال سے مدیر الامتحانات بھی ہیں۔ اور طلبہ کی ہم نصابی سر گرمیوں کےنگران بھی ہے ۔ بہت محنتی اور صاحب ذوق ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں مولانا محمد ارشد ، مولانا امین الرحمن ساجد ، مولانا نذیر احمد شامل ہیں۔
عرصہ دراز سے جامع مسجد اقصی خوشاب میں خطیب ہیں ۔ دعوت و تبلیغ کے کام مین بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ اور متعددمساجد میں آپ کے دروس بھی ہوتے ہیں ۔ نیکی کے کاموں میں پڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ کسی پارسا یا غریب کی دعا کاسہارا ڈھونڈتے رہتے ہیں
مولانا ندیم شہباز
مولانا ندیم شہباز 1969 کو فیصل آباد میں پید اہوئے ۔ ابتدائی تعلیم جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں حاصل کی ۔ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان سے الشہادة العالمیہ کی ڈگری حاصل کی ۔ آپ فاضل مدینہ یونیورسٹی ہیں ۔ عرصہ 14 سال سے تدریسی خدمات جامعہ سلفیہ میں سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے اہم اساتذہ میں مولانا ابو البرکات احمد مرحوم ، مولانا محمد عبدہ الفلاح ، مولاناغلام احمد حریری ، مولانا ثناء اللہ فیروز پوری شامل ہیں ۔ جامعہ سلفیہ میں اہم اسباق پڑھاتے ہیں ۔ جس میں مشکوة المصابیح ہدایہ اولین ، اصول الشاشی وغیرہ شامل ہیں۔ اپ کے اہم تلامذہ میں قاری شعیب احمد ، فرحان امتیاز، عطاءالرحمن، عبداللہ سلفی ہاشم یزمانی اور محمد یوسف ہیں۔آپ عرصہ دراز سے جامع مسجد عمر میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے ہیں ۔ علاوہ ازیں فیصل آباد کی متعدد مساجد میں درس قرآن دیتے ہیں۔آپ نے " سیرت عمر " کا اردو ترجمہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ متعدد مضامین کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا ۔جو کہ ترجمان الحدیث میں شائع ہوئے ہیں۔
مولانا محمد صدیق
مولانا محمد صدیق 1965 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعدجامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادة العالمیہ کی ڈگری حاصل کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ فیصل آباد بورڈ سے فاضل عربی کی سند حاصل کی۔آپ کے اساتذہ میں حافظ عبدالمنان نورپوری، حافظ عبدالسلام بھٹوی اور پروفیسر غلام احمد حریری شامل ہیں۔ آپ عرصہ23 سال سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ آپ کا اسلوب تدریس بہت منفرد ہے ۔ طبہ اس سے بہت مستفید ہوتے ہیں۔ آپ ابو داود شریف ، ترجمہ قرآن حکیم ، حماسہ ، اصول حدیث وغیرہ شامل ہیں۔آپ کے اہم تلامذہ میں پروفیسر عبدالرازق ساجد ، حافظ منیر احمد اظہر، مولانا امین الرحمن ساجد شامل ہیں۔ آپ عرصہ درا سےجامع مسجد اہل حدیث نشاط آباد میں خطیب ہیں ۔ فیصل آباد کی اہم مساجد میں آپ کے درس بھی ہوتے ہیں ۔ آپ کی تفسیر سورالعصر ، اسباب سعادت (ترجمہ) ، منصب نبوت (ترجمہ) تحفہ نحو (ترجمہ) طبع ہو چکی ہیں۔
مولانا عبدالعلیم
مولانا عبدالعلیم 1953 کو چک نمبر 36 گ ۔ ب فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ تعلیمات اسلامیہ سے فراغت پائی ۔ اعلی تعلیم کے لیے مدینہ منورہ سعودی عرب تشریف لے گئے ۔ آپ نے مکہ مکرمہ سے تربیتی کورس برائے آئمہ وخطباء بھی کیا ۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا عبداللہ ویرووالی ، مولانا محمود احمد غضنفر ، مولانا حافظ عبدالعزیز علوی، الشیخ حمود الوائلی شامل ہیں۔آپ نے مختلف مدارس میں تدریسی خدمات سر انجام دیں ۔ اب عرصہ 15 سال سے جامعہ سلفیہ میں پڑھا رہے ہیں ۔ بہت محنتی اور لگن کے ساتھ پڑھاتے ہیں ۔ آپ کے شاگردوں میں قاری حفیظ الرحمن ، مولانا نصراللہ ، قاری شعیب احمد ، مولانا محمد داود
شامل ہیں ۔ آپ نے مختلف مقامات پر خطبات جمعہ ارشاد فرمائے ہیں ۔ اور منھاج المسلم کو اپنے مطالعہ میں ضرو ر شاملرکھتے ہیں
مولانا محمدمنیر اظہر
مولانا محمد منیر اظہر 1972 کو ضلع خانیوال میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے ۔ قرآن حکیم حفظ کیا ۔ اور پھر اسلامی علوم حاصل کرنے لگے ۔ مکمل تعلیم جامعہ میں حاصل کی۔ اسلامی علوم کےساتھ میٹرک ، ایف اے ، بی اے اور ایم اے پاس کیا ۔ اس کے ایم فل اور اب پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ۔ جامعہ سے فراغت کے بعد مرکز تربیہ سے تخصص بھی کیا۔آپ کے اساتذہ میں قاری محمد رمضان ، حافظ عبدالعزیز علوی ، حافظ مسعود عالم، حافظ محمدشریف، مولانا ارشاد الحق اثری،مولانا علی محمد حنیف السلفی شامل ہیں ۔ آپ عرصہ 11 سال سے تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ اور اہم ترین اسباق زیر تدریس ہیں۔ طلبہ آپ کی تدریس سے بے حد متاثر ہیں۔آپ کے تلامذہ میں قاری سعید الرحمن ، قاری فرمان علی، حافظ محمد اسحاق، محمد منشاءطیب ، حافظ خبیب احمد کلیم شامل ہیں۔عرصہ آٹھ سال سے جامع مسجد اہل حدیث ڈھڈی والا میں مستقل خطبہ دے رہے ہیں ۔ جب کہ بعض مساجد میں درس قرآن بھی شامل ہیں۔آپ نے تین عدد عربی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے۔ جب کہ بعض اساتذہ کرام کے مقالات کو کتابی شکل دی ہے۔ جو کہ شائع
ہو چکی ہے۔
مولانا فاروق الرحمن
حافظ فاروق الرحمن یزدانی 1972 کو جید چک ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد جامعہ رحمانیہ فاروق آباد میں داخلہ لیا۔ ثانویہ خاصہ تک تعلیم حاصل کی ۔ پھر جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ تشریف لے گئے ۔ جہاں سے سند فراغت حاصل کی ۔ اس کے بعدوفاق المدارس السلفیہ پاکستان سے الشہادة العالمیہ کی سند حاصل کی ۔آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا عبداللہ امجد چھتوی ، حافظعبدالمنان نور پوری ، مولانا عبدالحمید ہزاروی، مولانا عبدا لعزیز علوی، مولانا محمد عباس انجم شامل ہیں۔آپ عرصہ 16سال سے تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ دس سال سے جامعہ سلفیہ میں تعلیمی سر گرمیاں جاری رکھےہوئے ہیں۔ ترجمہ القرآن ، نسائی شریف، فقہ ، نحواور صرف کے مضامین زیر تدریس ہیں ۔آپ کے تلامذہ میں مولانا محمد اسحاق سلفی، حافظ عبدالرحمن لاہور، قاری منظور احمد مدرس جامعہ سلفیہ ، احسان یوسف ازھر یونیورسٹی مصر شامل ہیں۔ آپ مستقل خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ بہترین مقرر ہیں ۔ اور اپنے موضوع کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہیں ۔ مختلف مقامات پر دعوت و تبلیغ کے پروگرام کرتے ہیں ۔ مجلہ ترجمان الحدیث کے مدیر ہیں ۔ اور مستقل کالم نگار ہیں۔ بہت باصلاحیت اور منتظم ہیں۔ جس کام کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں ۔ پوری لگن اور محنت سے کرتے ہیں ۔ اور اپنی مکمل گرفت رکھتے ہیں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں احناف کا رسول اللہ ﷺ سے اختلاف نے کافی شہرت حاصل کی ۔ جو ہر ہدایت شامل ہیں۔
قاری نوید الحسن لکھوی
قاری نوید الحسن لکھوی 1969 کو فیصل آبا د میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد قاری محمد یوسف مرحوم بہت صالح اور خدام القرآن میں سے تھے ۔ پوری زندگی قرآن حکیم کی تعلیم دیتے رہے۔ انہوں نے اپنے والدسے ابتدائی تعلیم کی۔ قرآن حکیم مکمل حفظ کیا۔ابتدائی تعلیم مدرسہ دارالقرآن و الحدیث جناح کالونی سے حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ سے وابستہ ہوئے۔ اور سند فراغت حاصل کی۔ اس کے ساتھ وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادة العالمیہ کی سند حاصل کی۔آپ کے اساتذہ میں مولانا ثناء اللہ مرحوم ، مولانا حافظ عبدالعزیز علوی ، مولانا علی محمد حنیف السلفی ، پروفیسر غلام احمد حریری شامل ہیں۔ آپ 19 سال سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ کا خاس ذوق قراة و تجوید ہے۔اس میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ آپ کے تلامذہ میں قاری منظور احمد ، قاری عمران ، قاری خبیب الرحمن شامل ہیں ۔ مختلفاسلامی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ جن میں سعودی عرب ، مصراور مالدیپ شامل ہیں۔ خصوصاً مالدیپ میں قومی مقابلہ حفظ القرآن میں بطور ممتحن شرکت کی ہے۔
مولانا محمد ارشد
مولانا محمد ارشد 1980 کو ضلع قصور میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ سےمنسلک ہوئے ۔ الشہادة العالمیہ کی سند وفاق المدارس السلفیہ سےحاصل کی ۔ جب کہ بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرف سے کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا عبدالعزیز علوی ، مولانا محمد یونس ، مولانا حافظ مسعود عالم ، مفتی عبدالحنان شامل ہیں۔ عرصہ 6 سال سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ بہت محنتی اور مخلص ہیں۔ جامعہ کے اغراض و مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مکمل تعاون کرتے ہیں ۔ اداری کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ مستقل خطبہ جمعہ
پڑھاتے ہیں۔ جامعہ کے شعبہ دعوت وتبلیغ میں بھی سر گرم ہیں۔ اور قرب وجوار کے دیہاتوں میں بھر پور شرکت کرتے ہیں
مولانا محمد زبیر
حافظ محمد زبیر 1978 کو فیصل آباد میں پید اہوئے ۔ سب سے پہلے قرآن حکیم حفظ کیا ۔ میٹرک کرنے کے بعد دینی تعلیم کےحصول کا شوق پیدا ہوا۔ جامعہ اسلامیہ غلام محمد آباد سے تعلیم کا آغاز کیا ۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں تعلیم کی تکمیل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادة العالمیہ کی ڈگری حاصل کی ۔ آپ کے اساتذہ میں حافظ عبدالعزیز علوی ، مولانا حافظ مسعودعالم ، مولانا محمد یونس ، قاری نصر اللہ رحیمی ، مولانا اصغر علی شامل ہیں۔آپ شعبہ حفظ القرآن کے کامیاب استاد ہیں ۔ اور کافی عرصہ سے جامع مسجد طوبیٰ میں حفظ القرآن کروا رہے ہیں۔ آج کل جامعہسلفیہ میں بطور مدرس خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ نحو ، صرف کے کامیاب استاد ہیں ۔ اور بڑی محنت اور لگن سے پڑھاتےہیں۔ آپ نے کافیہ کا اردو ترجمہ کیا۔ جو طبع ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں نحو وصرف پر آسان طریقے سے کتب مرتب کرنے کا عزرکھتے ہیں
مولانا نذیر احمد
مولانا نذیر احمد 1979 کو تحصیل ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے۔ وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادة العالمیہ کا امتحان پاس کیا ۔ دوران تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے بی اے بھی کیا۔آپ کے اساتذہ میں حافظ عبدالعزیز علوی ، مولانا محمد یونس ، مفتی عبدالحنان ، مولانا محمد ادریس سلفی شامل ہیں ۔عرصہ 9سال سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ تدریس کے ساتھ لائبریری جامعہ میں بھی وقت دیتے ہیں۔ طلبہکے کھانے کے انچارج ہیں۔ بہت بااخلاق اور دھیمانہ مزاج اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔

 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,453
پوائنٹ
344
جامعہ کے اغراض ومقاصد

٭قرآن وحدیث کی تعلیم کا اہتمام کرنا۔
٭ قرآن وسنت کی روشنی میں جدید علوم کی تدریس کا اہتمام کرنا ۔ اور نئی نسل کو جدید علوم سے بھی آرستہ کرنا۔
٭ عربی زبان وادب کی حفاظت کرنا۔ اور اعلی پیمانے پر اس کی تدریس کرنا ۔ تاکہ براہ راست کتاب وسنت سے استفادہ کر سکیں۔
٭ مذاہب فقہ اربعہ اورا ن کے اصولوں کی تعلیم کا اہتمام کرنا۔
٭ اسلامی علوم کی پوری دنیا میں عموماً اور عالم اسلام میں خصوصاً اشاعت کرنا۔
٭ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے افراد تیار کرنا۔ اور عربی زبان کی طرف لوگوں کو ترغیب دینا۔ الیسے اولوالعزم صالح زہد وتقویٰ سے مزین علماء کرام کی کھیپ تیار کرنا جو بغیرطمع ولالچ کے شرک وبدعت سے پاک دعوة اسلامیہ کی تجدیدمیں سرگرام عمل ہوں۔
٭ ایسے مصنفین تیار کرنا جو راسخ فی العلم ہوں۔ اسلامی تہذیب و ثقافت کے نمونے ہوں۔ اور اپنی تصانیف کے ذریعے عقائد صحیحہ کی نشرواشاعت ، اصلاح نفوس اور مخالفین اسلام کے رد میں قوی دلائل اور پسندیدہ اسلوب کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکیں۔
٭ باطل نظریات اور خلاف اسلام فکر سے نئی نسل کو آگاہ کرنا۔ اور انہیں صحیح اسلامی فکر سے آگاہی دینا۔
٭ مسلمانوں کی صفوں میں وحدت پیدا کرنا۔
جامعہ سلفیہ کے موجودہ اساتذہ کرام:۔

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریسی خدمات سر انجام دینے والے اساتذہ کرام کی کل تعداد 28 ہے ۔ ان میں اکثر اساتذہ جامعہ سلفیہ، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان ، اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ سعودی عرب کے فارغ التحصیل ہیں۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
مولانا حافظ عبدالعزیز علوی شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ
حافظ عبدالعزیز علوی سابق شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی کے فرزند ارجمند ہیں۔ آپ 1943 کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد مکرم سے حاصل کی۔ جامعہ محمدیہ اوکاڑہ ، جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ سے سند فراغت حاصل کی۔ اسکے بعد جامعہ اسلامیہ بہاولپور سے تخصص فی التفسیر والحدیث کیا۔ آپ کے اساتذہ میں فضیلة الشیخ مولانا حافظ محمد گوندلوی مولانا محمد عبدہ الفلاح ، مولانا عبداللہ ویروالوی ، مولانا ہدایت اللہ ندوی مولانا شمس الحق افغانی اور مولانا حافظ احمداللہ مرحوم شامل ہیں۔آپ نے 1968 سے تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ متعدد معروف اداروں میں پڑھاتے رہے۔ جامعہ سلفیہ میں 20 سال سے شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں۔ اور شعبہ دارالافتاءکی مجلس کے سرپرست ہیں۔آپ مستقل خطبہ جمعہ اپنے آبائی گا وں چک نمبر 36 گ ۔ ب میں دے رہے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر ان کے درس قرآن بھی جاری ہیں۔ آپ نے صحیح مسلم کا ترجمہ اور تشریح ، جامع ترمذی کا ترجمہ و تشریح ، الفیہ ابن مالک کا ترجمہ تشریح ، امام نووی اور امام مسلم کے سوانح حیات کا ترجمہ کیا ہے۔ جبکہ بعض کتب پر نظر ثانی کا کام سر انجام دیا ہے۔ قاضی سلیمان منصور پوری کی کتاب " شرح اسماءالحسنیٰ اور مختصر صحیح بخاری کا ترجمہ ہو رہا ہے۔
فضیلة الشیخ حافظ مسعودعالم شیخ التفسیر جامعہ سلفیہ
حافظ مسعود عالم ممتاز روحانی پیشوا مولانا محمد یحییٰ شرق پوری رحمہ اللہ کے بڑے لخت جگر ہیں۔ آپ 1953 میں پیداہوئے۔ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے والد ماجد سے کیا۔ قرآن حکیم حفظ کیا۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے 1973 میں فراغت اور اعلی تعلیم کے لیے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ 1977 میں فراغت کے بعد پاکستان تشریف لائے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی ممتاز پوزیشن میں پاس کیا۔آپ نے اپنی تدریس کا آغاز جامعہ سلفیہ سے کیا۔ اور اس کے بعد 1981 سے 1984 تک مدیر التعلیم کے فرائض سر انجامدیتے رہے۔ اس کے بعد آپ جامعہ ابی بکرکراچی تشریف لے گئے۔ 1991 تک تدریسی فرائض کے ساتھ انتظامی امور کےنگران رہے ۔ 1991 میں آپ دوبارہ جامعہ سلفیہ بطور شیخ التفسیر تشریف لائے۔ اور تاحال اس منصب پر فائز ہیں ۔ امعہ میں دارالافتاءکے بھی رکن ہیں۔آپ کے اساتذہ میں حافظ محمد گوندلوی ، مولانا ابو البرکات ، مولانا محمد اعظم ، مولانا حافظ عبداللہ بڈھیمالویمولاناعبدالغفارح سن ، فضیلة الشیخ امان علی حامی ، فضیلة الشیخ علی شرف العموی ، صاحب المعالی الشیخ عبدالمحسن حماد العباد بطور خاص شامل ہیں۔ آپ جامع مسجد ابو بکر میں خطیب ہیں۔ اور مختلف مقامات پر درس قرآن وحدیث ارشاد فرماتے ہیں۔ قدیم اورجدید پر گہری نظر ہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ خصوصاً سعودی عرب ،عرب امارات،کویت کے تبلیغی اور دعوتی کانفرنسوں میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔آپ کی مولفات میں " اتقو النار وصفة عذاب جہنم ( اردو ) ، صفة الجنة واعمال اہل الجنة ( اردو ) ، آداب صیام رمضان ( اردو )شامل ہیں۔
مولانا محمد یونس محمد یعقوب:
نائب شیخ الحدیث ومدیر وفاق المدارس السلفیہ
مولانا محمد یونس 1956 کو ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ میڑک تک تعلیم ساہیوال میں حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے۔ اور 1977 میں سند فراغت حاصل کی۔ او راعلی تعلیم کے لیے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کیا۔آپ کے اساتذہ میں حافظ ثناءاللہ مدنی حفظہ اللہ ، حافظ احمد اللہ مرحوم ، مولانا عبیدالرحمن مدنی مرحوم ، الشیخ عبدالمحسن العباد ، الشیخ حمود الوائلی بطور خاص شامل ہیں۔ آپ 1981 میں جامعہ سلفیہ تشریف لے آئے۔ اور تدریسی خدمات شروع کی۔ابتدائی کتب سے تدریس کا آغاز کیا۔ اور آہستہ آہستہ ثانویہ سے عالمیہ کے اسباق پڑھانے شروع کیے۔ آپ کو فقہ اور اصول فقہ کی خصوصی مہارت ہے۔ آپ عرصہ دراز تک صحیح مسلم شریف پڑھاتے رہے۔ جبکہ سات سال سے بخاری شریف کی آخری جلد بھی پڑھاتے ہیں۔ اور 2009 سے درجہ تخصص میں بخاری شریف کے منتخب ابواب پڑھاتے ہیں۔ آپ کا اسلوب تدریس بہت عمدہ اورتفہیم کا انداز نہایت پسندیدہ ہے۔ طلبہ بے حد مطمئن ہوتے ہیں۔آپ کے خصوصی شاگردوں میں ڈاکٹر عبدالقادر ، ڈاکٹر طاہر محمود ۔ مولانا عبدالخالق محمد صادق کویت، مولانا عبدالوہاب الغامدی ، پروفیسر عبدالرزاق ساجد ، حافظ سریف اللہ شاہد برطانیہ شامل ہیں ۔ آپ 1986 سے وفاق المدارس السلفیہ کے مدیر ہیں ۔ اور نہایت عمدگی کے ساتھ وفاق کا نظم و نسق چلا رہے ہیں ۔ وفاق کےمعیار کو بہتر بنانے میں ان کی خصوصی کوشش
شامل ہے۔ انتظامی امور میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔آپ 19 سال سے جامعہ سلفیہ کی مسجد میں خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔آپ کی گفتگو بہت مرتب اور مدلل ہوتی ہے۔ علاو ہ ازیں فیصل آبا د کی متعدد مساجد میں ہفتہ وار اور ماہانہ دروس بھی ہوتے ہیں ۔ آپ نے بعض اہم کتابوں کےترجمےکیے ہیں۔ ان میں دعوت حق کے تقاضے اور بعض کتابیں ابھی زیر طبع ہیں۔
مولانا محمد اکرم رحمانی: مدرس جامعہ سلفیہ
مولانا محمد اکرم رحمانی بن محمد فیروز 1953 کو ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم علاقے کے سکول میں حاصل کی۔اس کے بعد جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن اور جامعہ تعلیمات اسلامیہ فیصل آباد سے فراغت پائی۔ اور اعلیٰ تعلیم کے لیےاسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کیا۔ علاوہ ازیں ادارہ علوم اثریہ فیصل آباد سے تخصص کیا۔آپ کے اہم اساتذہ میں حافظ عبداللہ بڈھیمالوی ، پیر محمد یعقوب قریشی ، مولانا محمد صادق خلیل ، حافظ بنیامین طور مرحوم ،
مولاناحافظ عبدالغفور جہلمی ، مولانا محمد عبدہ الفلاح ، مولانا عبدالرشید ہزاروی شامل ہیں۔آپ تقریباً تیس سال سے تدریسی فرائض مختلف مقامات پر سر انجام دیتے رہے۔ جس میں زیادہ عرصہ جامعہ سلفیہ فیصل آبادرہے۔ آپ کے اہم تلامذہ میں قاری محمد شعیب لیکچرار گورنمنٹ کالج ، مولانا عطاءالرحمن ثاقب ، مولانا یعقوب طاہر کراچی،پروفیسر عبدالرزاق ساجد ، مولانا سید عبدالستار شاہ صاحب شامل ہیں۔آپ عرصہ 25 سال سے جامع مسجد کوثر افغان آباد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ علاوہ جامع مسجد امین کوٹ میں مسلسل درس قرآن وحدیث دیتے ہیں۔ آپ کی تصنیفی خدمات میں " الدعا من الکتاب والسنہ ( عربی) کا اردو ترجمہ مقالہ، موضوع حدیث اور اس کے مراجع" ناشر ادارہ علوم اثریہ ہے۔
پروفیسر محمد یٰسین ظفر : پر نسپل جامعہ سلفیہ
محمد یٰسین ظفر 1956 میں پیدا ہوئے۔ مڈل تک تعلیم اپنے آبائی گاوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ دارالقرآن والحدیث جناح کالونی میں داخل ہوئے۔ جامع ترمذی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے۔ اور 1977 میں فراغت پائی۔اس کے بعد اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ سعودی عرب سے بی اے آرنر کیا پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اعلی نمبروں میں پاس کیا۔ آپ کے خصوصی اساتذہ میں شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی ، مولانا حافظ عبدالرحمن مرحوم ، حافظ احمداللہ مرحوم ، مولانا محمد صدیق بلوچ مرحوم ، مولانا قدرت اللہ فوق ، فضیلة الشیخ عبدالرحمن الحذیفی امام وخطیب مسجد نبوی ، فضیلة الشیخ عبدالمحسن المیحسن شامل ہیں۔
1982میں جامعہ سلفیہ بطور مدرس تشریف لائے ۔ تدریس کے ساتھ آپکو مدیر مکتب جامعہ سلفیہ مقر ر کردیا گیا۔ انتظامی امور میں خاص مہارت کی بدولت تمام دفتری امور سر انجام دینے لگے۔ 1986 میں جامعہ سلفیہ کمیٹی نے انہیں مدیر التعلیم مقرر کر دیا۔اور تاحال اس عہدے پر کامیابی سے کام سر انجام دے رہے ہیں ۔ انتظامی امور کے ساتھ تدریسی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔تاریخ میں خصوصی دلچسپی کی وجہ سے سیرت اور اسلامی تاریخ پڑھاتے ہیں۔ علاوہ ازیں عقیدہ اسلامیہ ، اسلام کا اقتصادینظام بھی پڑھاتے رہے ۔ ان کے لیکچرز خصوصی توجہ سے سنے جاتے ہیں۔آپ کے شاگردوں میں ڈاکٹر جمیل احمد مالدیف کے سابق وزیر قانون، ڈاکٹر حسن سعید احمد فائز مالدیف کے موجود چیف جسٹسآف سپریم کوٹ ، نصیر اللہ ممبر قومی اسمبلی افغانستان ، صعبفرلی سری لنکا ، قاری تاج شاکر ، مولانا سیف اللہ طیب ، مولانامحمد ارشد مدرس جامعہ سلفیہ ، محمد اسحاق مدرس جامعہ لاہوراسلامیہ ۔آپ عرصہ دراز سے جامعہ کے مجلہ ترجمان الحدیث کے چیف ایڈیٹر ہیں ۔ اور حالات حاضرہ پر آپ کے بہت سے مضامین دینی جرائد کی زینت بنتے ہیں ۔ آپ عرصہ دس سال سے جامع مسجد طوبی میں خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں
مختلف مساجد میں درس قرآن وحدیث بھی ہوتے ہیں۔آپ نے متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ جس میں دعوت اسلامی کانفرنس برمنگھم برطانیہ ، بین الاقوامی سیرت کانفرنس اسلام آباد ، دعوت اسلامی کانفرنس مالدیف ، بین المذاہب سیمنار بنکاک تھائی لینڈ ، انٹرنیشنل علماء کانفرنس
اسلام آباد بین المذاہب کانفرنس اسلام آبادشامل ہیں۔آپ نے متعدد ممالک کا دورہ بھی کیا ۔ جن میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، ترکی، مصر ، برطانیہ ، ملایشیاءمالدیف ، سری لنکا ، تھائی لینڈ شامل ہیں ۔ جامعہ سلفیہ کی تعمیر وترقی میں آپ کی خصوصی دلچسپی شامل ہے ۔ علاوہ ازیں اسلامک یونیورسٹی کے قیام میں بھی آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔
پروفیسر نجیب اللہ طارق
پروفیسر نجیب اللہ طارق 1955 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم عبداللہ مرحوم فوج میں ملازم تھے۔ جب کہ ان کےدادا مولانا عبدالحمید معروف عالم دین تھے ۔ مولانا محمد یوسف کلکتوی کا تعلق بھی آپ کے خانوادے سے ہے ۔ آپ نے میٹرک پاس کرنے کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخلہ لیا ۔ اور جامعہ کی تعلیم کے ساتھ ایف اے اور پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا ۔جامعہ سلفیہ سے فراغت کے بعد اعلی تعلیم کے لیے مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔ مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونےکے بعد جامعہ سلفیہ میں بطور استاد مقرر ہوئے ۔ آپ کے معروف اساتذہ میں الشیخ حسن بلتسانی ، مولانا قدرت اللہ فوق ، مولانامحمد اسحاق ، مولانا محمد صدیق ، مولانا عبید اللہ ، پروفیسر عبیدالرحمن مرحوم شامل ہیں۔آپ 1984 میں دبئی تشریف لے گئے ۔ اور عرصہ پندرہ سال دعوتی وتبلیغی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ پھر 1996 میں واپس جامعہ سلفیہ تشریف لے آئے ۔ تاحال جامعہ میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ آپ کے تلامذہ میں مولانا محمد بلال ،مولانا ثناءاللہ ، مولانا تحسین سرور شامل ہیں ۔ آپ بہت ذہین اور حاضر جواب ہیں۔ بہت اچھے مقرر اور ڈپیٹرر ہیں۔ شاعرانہ ذوق رکھتے تھے۔ طلبہ کے ادبی پروگرام کی نگرانی کرتے ہیں ۔ آپ عرصہ دراز سے جامع مسجد مبارک پیپلز کالونی میں خطیب ہیں ۔علاوہ ازیں متعدد کانفرنسوں میں جامعہ سلفیہ کی نمائندگی کا حق ادا کر چکے ہیں
مولانا محمد ادریس سلفی
مولانا محمد ادریس سلفی 1962 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ دارالقرآن والحدیث جناح کالونی سے حاصل کی۔اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے ۔ جامعہ سے فراغت کے بعد اعلی تعلیم کے لیے مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب میں داخل ہوئے ۔ کلیة الحدیث سے سند فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد متعدد تربیتی ورکشاپس میں شرکت کر چکے ہیں۔ آپ کے اساتذہمیں حافظ ثناءاللہ مدنی صاحب ، مولانا قدرت اللہ فوق مرحوم ، مولانا حافظ عبدالعزیز علوی ، مولانا حافظ مسعود عالم شامل ہیں۔آپ عرصہ 24 سال سے تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ زیادہ تر وقت جامعہ سلفیہ میں صرف کیاہے۔ آپ تدریس کے ساتھ عرصہ 15 سال سے مدیر الامتحانات بھی ہیں۔ اور طلبہ کی ہم نصابی سر گرمیوں کےنگران بھی ہے ۔ بہت محنتی اور صاحب ذوق ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں مولانا محمد ارشد ، مولانا امین الرحمن ساجد ، مولانا نذیر احمد شامل ہیں۔
عرصہ دراز سے جامع مسجد اقصی خوشاب میں خطیب ہیں ۔ دعوت و تبلیغ کے کام مین بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ اور متعددمساجد میں آپ کے دروس بھی ہوتے ہیں ۔ نیکی کے کاموں میں پڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ کسی پارسا یا غریب کی دعا کاسہارا ڈھونڈتے رہتے ہیں
مولانا ندیم شہباز
مولانا ندیم شہباز 1969 کو فیصل آباد میں پید اہوئے ۔ ابتدائی تعلیم جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں حاصل کی ۔ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان سے الشہادة العالمیہ کی ڈگری حاصل کی ۔ آپ فاضل مدینہ یونیورسٹی ہیں ۔ عرصہ 14 سال سے تدریسی خدمات جامعہ سلفیہ میں سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے اہم اساتذہ میں مولانا ابو البرکات احمد مرحوم ، مولانا محمد عبدہ الفلاح ، مولاناغلام احمد حریری ، مولانا ثناء اللہ فیروز پوری شامل ہیں ۔ جامعہ سلفیہ میں اہم اسباق پڑھاتے ہیں ۔ جس میں مشکوة المصابیح ہدایہ اولین ، اصول الشاشی وغیرہ شامل ہیں۔ اپ کے اہم تلامذہ میں قاری شعیب احمد ، فرحان امتیاز، عطاءالرحمن، عبداللہ سلفی ہاشم یزمانی اور محمد یوسف ہیں۔آپ عرصہ دراز سے جامع مسجد عمر میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمارہے ہیں ۔ علاوہ ازیں فیصل آباد کی متعدد مساجد میں درس قرآن دیتے ہیں۔آپ نے " سیرت عمر " کا اردو ترجمہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ متعدد مضامین کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا ۔جو کہ ترجمان الحدیث میں شائع ہوئے ہیں۔
مولانا محمد صدیق
مولانا محمد صدیق 1965 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعدجامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادة العالمیہ کی ڈگری حاصل کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ فیصل آباد بورڈ سے فاضل عربی کی سند حاصل کی۔آپ کے اساتذہ میں حافظ عبدالمنان نورپوری، حافظ عبدالسلام بھٹوی اور پروفیسر غلام احمد حریری شامل ہیں۔ آپ عرصہ23 سال سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ آپ کا اسلوب تدریس بہت منفرد ہے ۔ طبہ اس سے بہت مستفید ہوتے ہیں۔ آپ ابو داود شریف ، ترجمہ قرآن حکیم ، حماسہ ، اصول حدیث وغیرہ شامل ہیں۔آپ کے اہم تلامذہ میں پروفیسر عبدالرازق ساجد ، حافظ منیر احمد اظہر، مولانا امین الرحمن ساجد شامل ہیں۔ آپ عرصہ درا سےجامع مسجد اہل حدیث نشاط آباد میں خطیب ہیں ۔ فیصل آباد کی اہم مساجد میں آپ کے درس بھی ہوتے ہیں ۔ آپ کی تفسیر سورالعصر ، اسباب سعادت (ترجمہ) ، منصب نبوت (ترجمہ) تحفہ نحو (ترجمہ) طبع ہو چکی ہیں۔
مولانا عبدالعلیم
مولانا عبدالعلیم 1953 کو چک نمبر 36 گ ۔ ب فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ تعلیمات اسلامیہ سے فراغت پائی ۔ اعلی تعلیم کے لیے مدینہ منورہ سعودی عرب تشریف لے گئے ۔ آپ نے مکہ مکرمہ سے تربیتی کورس برائے آئمہ وخطباء بھی کیا ۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا عبداللہ ویرووالی ، مولانا محمود احمد غضنفر ، مولانا حافظ عبدالعزیز علوی، الشیخ حمود الوائلی شامل ہیں۔آپ نے مختلف مدارس میں تدریسی خدمات سر انجام دیں ۔ اب عرصہ 15 سال سے جامعہ سلفیہ میں پڑھا رہے ہیں ۔ بہت محنتی اور لگن کے ساتھ پڑھاتے ہیں ۔ آپ کے شاگردوں میں قاری حفیظ الرحمن ، مولانا نصراللہ ، قاری شعیب احمد ، مولانا محمد داود
شامل ہیں ۔ آپ نے مختلف مقامات پر خطبات جمعہ ارشاد فرمائے ہیں ۔ اور منھاج المسلم کو اپنے مطالعہ میں ضرو ر شاملرکھتے ہیں
مولانا محمدمنیر اظہر
مولانا محمد منیر اظہر 1972 کو ضلع خانیوال میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے ۔ قرآن حکیم حفظ کیا ۔ اور پھر اسلامی علوم حاصل کرنے لگے ۔ مکمل تعلیم جامعہ میں حاصل کی۔ اسلامی علوم کےساتھ میٹرک ، ایف اے ، بی اے اور ایم اے پاس کیا ۔ اس کے ایم فل اور اب پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ۔ جامعہ سے فراغت کے بعد مرکز تربیہ سے تخصص بھی کیا۔آپ کے اساتذہ میں قاری محمد رمضان ، حافظ عبدالعزیز علوی ، حافظ مسعود عالم، حافظ محمدشریف، مولانا ارشاد الحق اثری،مولانا علی محمد حنیف السلفی شامل ہیں ۔ آپ عرصہ 11 سال سے تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ اور اہم ترین اسباق زیر تدریس ہیں۔ طلبہ آپ کی تدریس سے بے حد متاثر ہیں۔آپ کے تلامذہ میں قاری سعید الرحمن ، قاری فرمان علی، حافظ محمد اسحاق، محمد منشاءطیب ، حافظ خبیب احمد کلیم شامل ہیں۔عرصہ آٹھ سال سے جامع مسجد اہل حدیث ڈھڈی والا میں مستقل خطبہ دے رہے ہیں ۔ جب کہ بعض مساجد میں درس قرآن بھی شامل ہیں۔آپ نے تین عدد عربی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے۔ جب کہ بعض اساتذہ کرام کے مقالات کو کتابی شکل دی ہے۔ جو کہ شائع
ہو چکی ہے۔
مولانا فاروق الرحمن
حافظ فاروق الرحمن یزدانی 1972 کو جید چک ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد جامعہ رحمانیہ فاروق آباد میں داخلہ لیا۔ ثانویہ خاصہ تک تعلیم حاصل کی ۔ پھر جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ تشریف لے گئے ۔ جہاں سے سند فراغت حاصل کی ۔ اس کے بعدوفاق المدارس السلفیہ پاکستان سے الشہادة العالمیہ کی سند حاصل کی ۔آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا عبداللہ امجد چھتوی ، حافظعبدالمنان نور پوری ، مولانا عبدالحمید ہزاروی، مولانا عبدا لعزیز علوی، مولانا محمد عباس انجم شامل ہیں۔آپ عرصہ 16سال سے تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ دس سال سے جامعہ سلفیہ میں تعلیمی سر گرمیاں جاری رکھےہوئے ہیں۔ ترجمہ القرآن ، نسائی شریف، فقہ ، نحواور صرف کے مضامین زیر تدریس ہیں ۔آپ کے تلامذہ میں مولانا محمد اسحاق سلفی، حافظ عبدالرحمن لاہور، قاری منظور احمد مدرس جامعہ سلفیہ ، احسان یوسف ازھر یونیورسٹی مصر شامل ہیں۔ آپ مستقل خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ بہترین مقرر ہیں ۔ اور اپنے موضوع کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہیں ۔ مختلف مقامات پر دعوت و تبلیغ کے پروگرام کرتے ہیں ۔ مجلہ ترجمان الحدیث کے مدیر ہیں ۔ اور مستقل کالم نگار ہیں۔ بہت باصلاحیت اور منتظم ہیں۔ جس کام کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں ۔ پوری لگن اور محنت سے کرتے ہیں ۔ اور اپنی مکمل گرفت رکھتے ہیں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں احناف کا رسول اللہ ﷺ سے اختلاف نے کافی شہرت حاصل کی ۔ جو ہر ہدایت شامل ہیں۔
قاری نوید الحسن لکھوی
قاری نوید الحسن لکھوی 1969 کو فیصل آبا د میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد قاری محمد یوسف مرحوم بہت صالح اور خدام القرآن میں سے تھے ۔ پوری زندگی قرآن حکیم کی تعلیم دیتے رہے۔ انہوں نے اپنے والدسے ابتدائی تعلیم کی۔ قرآن حکیم مکمل حفظ کیا۔ابتدائی تعلیم مدرسہ دارالقرآن و الحدیث جناح کالونی سے حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ سے وابستہ ہوئے۔ اور سند فراغت حاصل کی۔ اس کے ساتھ وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادة العالمیہ کی سند حاصل کی۔آپ کے اساتذہ میں مولانا ثناء اللہ مرحوم ، مولانا حافظ عبدالعزیز علوی ، مولانا علی محمد حنیف السلفی ، پروفیسر غلام احمد حریری شامل ہیں۔ آپ 19 سال سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ آپ کا خاس ذوق قراة و تجوید ہے۔اس میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ آپ کے تلامذہ میں قاری منظور احمد ، قاری عمران ، قاری خبیب الرحمن شامل ہیں ۔ مختلفاسلامی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ جن میں سعودی عرب ، مصراور مالدیپ شامل ہیں۔ خصوصاً مالدیپ میں قومی مقابلہ حفظ القرآن میں بطور ممتحن شرکت کی ہے۔
مولانا محمد ارشد
مولانا محمد ارشد 1980 کو ضلع قصور میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ سےمنسلک ہوئے ۔ الشہادة العالمیہ کی سند وفاق المدارس السلفیہ سےحاصل کی ۔ جب کہ بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرف سے کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا عبدالعزیز علوی ، مولانا محمد یونس ، مولانا حافظ مسعود عالم ، مفتی عبدالحنان شامل ہیں۔ عرصہ 6 سال سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ بہت محنتی اور مخلص ہیں۔ جامعہ کے اغراض و مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مکمل تعاون کرتے ہیں ۔ اداری کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ مستقل خطبہ جمعہ
پڑھاتے ہیں۔ جامعہ کے شعبہ دعوت وتبلیغ میں بھی سر گرم ہیں۔ اور قرب وجوار کے دیہاتوں میں بھر پور شرکت کرتے ہیں
مولانا محمد زبیر
حافظ محمد زبیر 1978 کو فیصل آباد میں پید اہوئے ۔ سب سے پہلے قرآن حکیم حفظ کیا ۔ میٹرک کرنے کے بعد دینی تعلیم کےحصول کا شوق پیدا ہوا۔ جامعہ اسلامیہ غلام محمد آباد سے تعلیم کا آغاز کیا ۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں تعلیم کی تکمیل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادة العالمیہ کی ڈگری حاصل کی ۔ آپ کے اساتذہ میں حافظ عبدالعزیز علوی ، مولانا حافظ مسعودعالم ، مولانا محمد یونس ، قاری نصر اللہ رحیمی ، مولانا اصغر علی شامل ہیں۔آپ شعبہ حفظ القرآن کے کامیاب استاد ہیں ۔ اور کافی عرصہ سے جامع مسجد طوبیٰ میں حفظ القرآن کروا رہے ہیں۔ آج کل جامعہسلفیہ میں بطور مدرس خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ نحو ، صرف کے کامیاب استاد ہیں ۔ اور بڑی محنت اور لگن سے پڑھاتےہیں۔ آپ نے کافیہ کا اردو ترجمہ کیا۔ جو طبع ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں نحو وصرف پر آسان طریقے سے کتب مرتب کرنے کا عزرکھتے ہیں
مولانا نذیر احمد
مولانا نذیر احمد 1979 کو تحصیل ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاوں میں حاصل کی ۔ اس کے بعد جامعہ سلفیہ میں داخل ہوئے۔ وفاق المدارس السلفیہ سے الشہادة العالمیہ کا امتحان پاس کیا ۔ دوران تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے بی اے بھی کیا۔آپ کے اساتذہ میں حافظ عبدالعزیز علوی ، مولانا محمد یونس ، مفتی عبدالحنان ، مولانا محمد ادریس سلفی شامل ہیں ۔عرصہ 9سال سے جامعہ سلفیہ میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ تدریس کے ساتھ لائبریری جامعہ میں بھی وقت دیتے ہیں۔ طلبہکے کھانے کے انچارج ہیں۔ بہت بااخلاق اور دھیمانہ مزاج اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔

اللہ تعالی تا قیامت اس کو قائم رکھے آمین
 
Top