• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جانور ذبح کرنے کی دعا

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,079
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
دعا کے مسنون الفاظ درج ذیل ہیں:
"بسم الله، والله أكبر، اللهم هذا منك ولك، وهذا عني" ( اے اللہ تیرے نام کے ساتھ (میں اسے ذبح کرتا ہوں)، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ تیری ہی عطا ہے اور خالص تیرے ہی لیے ہے ، اور یہ میری طرف سے (قربانی) ہے)۔ (إرواء الغليل: 1152)

مندرجہ بالا الفاظ میں سے "بسم الله، والله أكبر" پڑھنا ضروری ہیں ، اس کے بعد والے الفاظ "اللهم هذا منك ولك، وهذا عني" پڑھنے بہتر ہیں، پڑھنے چاہئیں لیکن ضروری نہیں ہیں۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دو مینڈھے قربانی کے موقع پر ذبح کیے جو کالے اور سفید رنگ کے تھے، ان کے سینگ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا اور تکبیر بھی کہی (یعنی "بسم الله، والله أكبر" کہا)، اور ذبح كرتے وقت اپنے پاؤں کو اس کی گردن پر رکھا۔ (صحيح البخاري، الأضاحي: 5565، صحيح مسلم، الأضاحي: 1966)

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا، اسے لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا گیا تا کہ آپ اسے قربان کر سکیں ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سيده عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو مخاطب کر کے فرمایا کہ: چھری لاؤ ، پھر فرمانے لگے: اسے پتھر پرتیز کرو (سيده عا‏ئشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں ) میں نے ایسا ہی کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چھری لے لی اورمینڈھے کوپکڑ کرلٹایا اور بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ (میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، محمد کی آل اورامت محمدیہ کی جانب سے قبول فرما) پڑھتے ہوئے اللہ کے راستے میں قربان کر دیا۔ (مسلم، الأضاحي: 1967)

والله أعلم بالصواب.
 
Top